مرکزی اور یوپی حکومت

damiسماجوادی پارٹی کا تنظیمی خیمہ ریاستی صدر شیو پال یادو کی قیادت میں قومی ایکتا دل جیسی سخت گیر مسلم تنظیم کے ساتھ تعلق بنا رہا ہے تو سماجوادی پارٹی کاحکومتی خیمہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی قیادت میںبھگوان رام سے ناتہ جوڑ رہا ہے۔یہ انتخابی کردار کی تبدیلی سماجوادی پارٹی میں تقسیم کی لائن کھنچنے کے بعد تیار ہوئی ہے۔ رام سے ابدی تعلق کے بی جے پی کے متک کو اکھلیش یادو توڑ رہے ہیں۔ ادھر کانگریس کے راہل بھی رام دربار میں ماتھا ٹیک رہے ہیں،لیکن جنتا دربار میں اسے منظوری نہیں مل پارہی ہے۔ یوپی کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے پچھلی کابینہ میٹنگ میںاجودھیا کے رام لیلا پیکیج میںتھیم پارک کے قیام کے پروجیکٹ کو باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

اب اجودھیا میں یوپی کی ایس پی سرکار رام لیلا تھیم کی تعمیر کرے گی تو مرکز کی بی جے پی سرکار رامائن میوزیم بنائے گی۔ اب عوام طے کریں گے کہ تھیم پارک کو دھیان میں رکھ کر ووٹ دینا ہے یا رامائن میوزیم کو دھیان میں رکھ کریا ایسے ووٹ کرنا ہے کہ تھیم پارک اور رامائن میوزیم کے ’ملن‘ کی تھیم سرکار ہو جائے،یہ وقت بتائے گا۔
رام جی اچانک اتنے’ ریلیونٹ‘ ہواٹھے کہ مرکزی سرکار کے وزیر برائے ثقافت و سیاحت مہیش شرما 18 اکتوبر بروز منگل کو اجودھیا پہنچ گئے اور مجوزہ رامائن میوزیم بنانے کی جگہ کا معائنہ کیا اور بتایا کہ 151 کروڑ روپے کی لاگت سے 25 ایکڑ زمین پر رامائن میوزیم کی تعمیر ہوگی۔ شرما بولے،’ہم ایسا میوزیم بنانا چاہتے ہیںجہاںآکر پوری دنیا کو رام جی کی زندگی اور رامائن کے بارے میں مکمل جانکاری مل سکے۔‘
رامائن میوزیم مرکزی وزارت برائے سیاحت کے ذریعہ بنائے جا رہے رامائن سرکٹ کا حصہ ہوگا۔ مرکزی سرکار اس کے علاوہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کرشن سرکٹ اور بدھ سرکٹ کی بھی تعمیر کررہی ہے۔ مرکز نے رامائن سرکٹ کے لیے 225 کروڑ روپے منظور کیے ہیں، جس میں 151 کروڑ روپے اجودھیا پرخرچ کیے جائیں گے۔ رامائن میوزیم کے لیے مجوزہ زمین متنازع رام جنم بھومی بابری مسجد احاطے سے کچھ کلومیٹر دور ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ اجودھیا کے ساتھ ساتھ نندی گرام، شرنگیشورپور، چترکوٹ، بہار کے سیتا مڑھی، بکسر، دربھنگہ، چھتیس گڑھ کے جگدل پور، تلنگانہ کے بھدراچلم، مہاراشٹر کے ناسک، ناگپور، اوڈیشہ کے مہندر گری، کرناٹک کے ہمپی اور تمل ناڈو کے رامیشورم میںبھی رامائن سرکٹ بنانے کے منصوبے پر کام چل رہا ہے۔
دوسری طرف اترپردیش کی ایس پی سرکار اجودھیا میں سریو ندی کے کنارے بین الاقوامی رام لیلا تھیم پارک بنانے جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ ریاست میں سیاحت، روزگار اور ہندوستانی ثقافت کو فروغ دینے کے مقصد سے تھیم پارک کی تعمیر کا فیصلہ لیا گیا۔ تھیم پارک میں رامائن سے متعلق چیزوں کو اینی میشن کے ذریعہ دکھایا جائے گا اور رامائن سے متعلق تصاویر بھی لگیں گی۔ یہاں رامائن سے جڑی کہانیوں کی فلمیں بھی دکھائی جائیں گی۔ اسے بنانے میں قریب 22 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ رام لیلا تھیم پارک انٹر نیشنل رام لیلا سینٹر میں بنایا جائے گا۔ اس پروجیکٹ کے لیے لال ریتیلے پتھر اور دیگر اعلیٰ قسم کے میٹریل کا استعمال کیا جائے گا۔ اس میں لائبریری، مورتیاں اور جھرنے و فوارے بھی لگیںگے۔
بی جے پی کا رامائن میوزیم ہو یا ایس پی کا رام لیلا تھیم پارک، اجودھیا کے ذریعہ پورے ملک میں سماں باندھنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن اجودھیا ان سب سیاسی سرگرمیوں سے اچھوتا اور بے اثر ہے۔ یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے ، ’ایسی سرگرمیاں دیکھتے دیکھتے ہم پک چکے ہیں۔‘ کوئی کچھ کرتا نہیں ہے۔ مذہبی مقامات والی اجودھیا میں حکومت و انتظامیہ کی کوئی شناخت نہیںہے۔ مذہبی مقامات پر گندگی کا انبار ہے۔ رام کی پیڑی میں بھی گندگی کا راج ہے۔ لوگ کہتے ہیں ، ’بس رام جی ہیںکہ اجودھیا چل رہا ہے۔‘ جہاں تک فیض آباد پارلیمانی حلقے کی اسمبلی سیٹوں کو ہتھیانے کی قواعد کا سوال ہے، بی جے پی کے ہاتھ میںموجودہ وقت میں صرف ایک سیٹ ہے۔ دیگر چاروں اسمبلی سیٹوںپر سماجوادی پارٹی کا ہی قبضہ ہے۔
لوگ کہتے ہیںکہ بی جے پی والے جب اجودھیا میں ہی ’امپیکٹ‘ نہیں بنا پارہے تو پوری ریاست میں اجودھیا کے نام پر اثر کیسے بنائیں گے؟ یہ سیٹیںحاصل کرنے کی ہی بے چینی ہے کہ راہل گاندھی بھی گزشتہ دنوں ہنومان گڑھی میں ماتھا ٹھیک گئے۔ اترپردیش میںکسان یاترا پر نکلے کانگریس کے نائب صدر رال گاندھی پچھلے دنوں اجودھیا پہنچے تھے اور انھوں نے ہنومان گڑھی مندر میںماتھا ٹیکا۔ راہل کی رام بھکت ہنومان کی پناہ میں جانے کی سیاسی چرچائیں بھی خوب ہوئیں۔ بابری مسجد گرائے جانے کے بعد پہلی بار نہرو گاندھی کے خاندان کا کوئی نما ئندہ اجودھیا آیا۔ اس سے پہلے 1990 میں راجیو گاندھی اپنی’ سدبھاؤنا یاترا‘ کے دوران اجودھیا آئے تھے، لیکن ہنومان گڑھی مندر میںدرشن کا پروگرام ہونے کے باوجود درشن نہیںکرپائے تھے۔
پوروانچل میں اعظم گڑھ چھوڑ کر باقی کی ساری لوک سبھا سیٹیں بی جے پی کے پاس ہیں، جبکہ اسمبلی کی زیادہ تر سیٹیں سماجوادی پارٹی کے پاس ہیں۔ سیٹوںکی چھین جھپٹ کا منظر قائم ہونا فطری ہے۔ اکھلیش یادو چاہتے ہیںکہ اسمبلی انتخابات میںان کی سیٹیں بڑھیں اور نہ بڑھیںتو برقرار ضرور رہیں، بی جے پی اسے چھین نہ پائے۔ جبکہ بی جے پی لوک سبھا انتخابات میںحاصل ہوئی جیت کا اثر آزمانا چاہتی ہے۔ رام کی نگری اجودھیا کی اسمبلی سیٹ بھی ایس پی کے پاس ہے۔ اجودھیا کے آس پاس ملکی پور، بیکا پور، گوسائیں گنج، کٹیہری، ٹانڈہ،اعلیٰ پور جلال پور،اکبر پور،اعظم گڑھ،نظام آباد ، اترولیا، سگڑی،پھول پور پوئی،دیدار گنج اورلال گنج کی اسمبلی سیٹوںپر ایس پی کا قبضہ ہے۔ بی جے پی کے لیے یہ واقعی وقار اورآزمائش کی گھڑی ہے۔
بی ایس پی لیڈر مایاوتی کی بوکھلاہٹ کی بھی اصلی وجہ یہی ہے ۔ رام الگ الگ اینگل سے ساری سیاسی پارٹیوں کے لیے ایک ذریعہ ہیں یا بہانہ ہیں۔ رامائن میوزیم اور رام لیلا تھیم پارک پر بوکھلائی مایاوتی نے کہا کہ یہ فیصلہ ٹھیک اسمبلی انتخابات سے پہلے لیا گیا،یہ پہلے کیوں نہیںکیا گیا؟ بی جے پی اور ایس پی انتخابی فائدے کے لیے مذہب کا استعمال کررہی ہے۔ یہ قابل مذمت ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ ایس پی اور بی جے پی دونوں نے عوام کو چھلا ہے عوام اب دونوں کو جان گئے ہیں۔دونوں کو باہر کا راستہ دکھائیںگے۔ مایاوتی نے بھی اس کے ساتھ اپنا نیا مسلم پرست کارڈ کھیلنے سے پرہیز نہیںکیا۔ انھوںنے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور ایس پی دونوں ہی سرکاروںکو یہ سختی سے دھیان میںرکھنا ہوگا کہ ایسی تعمیروںسے اجودھیا کا متنازع رام جنم بھومی- بابری مسجد احاطہ متاثر نہ ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *