بلوچستان کی فریاد

01بلوچ لیڈر نائلہ قدیر بلوچ گزشتہ دنوں ہندوستان کے دورے پر تھیں۔ اس دوران دہلی میں’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے ان سے بلوچستان تحریک سے متعلق ہر ایک پہلو پر تفصیل سے بات چیت کی۔ نائلہ قدیر بلوچ نے اس انٹرویو میں کشمیر سے لے کر بلوچستان، پاکستان اور اپنی نجی زندگی کے بارے میںبے باکی کے ساتھ اپنی باتیںرکھیں ۔
نائلہ قدیر
کشمیر کو لے کر کچھ کہنا چاہیں گی؟
پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ کشمیر کی جو پہچان ہے، وہ مذہبی ہے یا قومی۔ اگر مذہبی ہے یعنی مسلمان کو یہ چاہئے، مسلمان کو وہ چاہئے، تو مسلمان تو پوری دنیا میں رہتے ہیں اورہندوستان میں دنیا بھر سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ جتنے ٹکڑوں میں آپ مسلمانوں کو کاٹوگے وہ اتنے ہی مائنارٹی میں ہوتے چلے جائیںگے۔ پاکستان جب ہندوستان سے الگ ہوا، تو صرف انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے اور انگریزوں کاپراکسی بننے کے لئے انہوں نے اپنی بھارت ماں سے غداری کی۔
ہم کشمیری لوگوں کے حق کے حامی ہیں۔ ہم ایسا نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں اپنا حق چاہئے اور کشمیری کو حق نہیں دیا جانا چاہئے، لیکن کیا کشمیر کبھی ایک الگ ملک تھا؟ہندوستان میں تنوع ہے، زبانوں کی اور جو 50سے زیادہ اسٹیٹس رہی ہیں یہاں، وہ سبھی ہندوستان کا حصہ رہی ہیں۔ کشمیر اگر اپنی بھارتیہ پہچان اور کشمیری پہچان دونوں کو رکھیں، تو اس صورت میں کشمیری، چین اور پاکستان کا شکار بننے سے بچ سکتے ہیں۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پہچان مسلم کی ہے، تو جو ہندو کشمیری ہیں، وہ کہاں جائیں؟اگر وہ سمجھتے ہیں کہ مسلم پہچان کی بنیاد پر ملک بنا سکتے ہیں تو اس کا تجربہ پاکستان نے کیا اور یہ ناکام تجربہ رہا ۔
سب سے پہلے پورے بر صغیر میں ہندو۔ مسلم کے نام پر جو بٹوارہ ہوا، وہ بنگال کا ہوا۔ بنگال نے اس کے کیا نتائج دیکھے، سب جانتے ہیں۔ پہلے انگریزوں نے اس کے دو ٹکڑے کئے، پھر پاکستان کے ظلم میں پاکستانی فوجوں کے ہاتھوں 30 لاکھ لوگ مارے گئے۔ ایک لاکھ عورتیں ریپ کے سبب پرگنینٹ (حاملہ) ہوئیں۔ 30لاکھ بنگالیوں کے بعد 40 لاکھ افغانیوں کو پاکستانی فوجیوں نے مارا۔ اس کے علاوہ افغانی عورتوں کا ریپ، ان کا ٹریڈ، یہ سب کچھ ہوا۔ جتنی آثار قدیمہ کی املاک تھیں افغانستان میں، وہ سب پاکستانی لوٹ کر لے گئے اور بیچے، کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ اب تک وہ افغانستان کو جینے نہیں دے رہے ،تو کیا افغان مسلمان نہیں ہیں؟ آج بلوچوں پر جو ظلم پاکستان کر رہا ہے، تو کیا بلوچ مسلمان نہیں ہیں؟ اس پورے بر صغیر میں سب سے پہلے اگر کوئی مسلمان تھا ، تو وہ بلوچ تھے۔ تو آپ ان بلوچوں کو مار رہے ہو، جن سے آپ نے اسلام سیکھا تھا۔ اتنا سب ہونے کے بعد بھی کیا کشمیریوں کو پاکستان پر بھروسہ کرنا چاہئے؟میں ایک بہت ہی سیریس ایڈوائز یہ دوں گی کہ پاکستان کو کشمیر، کشمیریوں کے اسلام یا کشمیریوں کے انسان ہونے سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ پاکستان کو کشمیر کا پانی چاہئے۔اسے کشمیر کی اسٹریٹجک پوزیشن چاہئے اور یہ سب پاکستان سے زیادہ چین کو چاہئے۔ آج جو پاکستان کے قبضے والے کشمیر کا حال ہے، کیا وہ آزاد ہے، کیا وہاں پر لوگوں پر ظلم نہیں ہورہے ہیں؟کیا وہاں پر پاکستان نے ملی ٹینٹ، خود کش حملہ آور اور مذہبی شدت پسندی نہیں بھر دیئے ہیں؟کیا وہاں پر پاکستانی آرمی کی موجودگی نہیں ہے؟کشمیر، گلگت اور بلوچستان میں آج صرف پاکستان آرمی ہی نہیں، چین کی آرمی بھی موجود ہے۔
کشمیریوں کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ اپنی آزادی کس سے مانگ رہے ہیں،پاکستان سے، ہندوستان سے یا چین سے؟ یو این کا ڈکلیئریشن تھا کہ ریفرنڈم سے پہلے کشمیر کو ملٹری فری کیا جائے گا، لیکن پاکستان نے تو اس کو ملیٹرائز کر دیا۔ کشمیری یہ دیکھیں کہ وہ کس کھیل کا حصہ بن رہے ہیں؟میں ہندوستان سرکار سے بھی کہنا چاہوں گی کہ کشمیریوں کو اور اسپیس دیں۔ اگر یہ گمراہ ہیں یا کسی غلط فہمی کے شکار ہیں یا ظلم کے شکار ہیں،تو آپ انہیں گلے لگائیں، ان کے مسئلے حل کریں۔ جس طرح سے آپ سب ہندوستان پر حق رکھتے ہیں، کشمیریوں کا بھی اسی طرح سے ہندوستان پر حق ہے۔ کشمیریوں سے میں یہ کہوں گی کہ آپ پاکستان کے ہاتھوں گمراہ مت ہوں۔پاکستان کا اسلام سے اتنا ہی تعلق ہے، جتنا کہ کسی قصائی کا بکری سے، کیونکہ جتنے مسلمان دنیا میں پاکستان نے مارے ہیں، اتنے کسی نے نہیں مارے۔ بنگال، افغانستان ،بلوچستان یا فلسطین میں جتنی مسلمان عورتوں کا پاکستان نے ریپ کیا ہے اور جتنی لوٹ مار مسلمانوں کے وسائل کی کی ہے اور کسی نے نہیں کی۔ یہ تاریخ کشمیریوں کے سامنے ہے، وہ اسے دیکھ لیں اور اس کے بعد بھی اگر وہ پاکستان پر یقین کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔
اپنے بارے میں بتائیے۔ کہاں پیدا ہوئیں۔ماں ،باپ ،بھائی و بہن کے بارے میں بتائیے۔ عام بلوچ عورتیں تو سیاست میں نہیں آتیں، پھر آپ کیسے آئیں؟
میرا تعلق بنیادی طور پر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے ہے۔ میرے فادر اور میرے انکل بلوچستان کے موومنٹ میں شامل رہے ہیں۔ وہ دونوں آزاد بلوچستان کو بنانے کے باکو میں ہوئے سائینٹفک فیصلے کے بعد سے ایکٹیو تھے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او )کی بنیاد رکھنے اور نیشنل عوامی پارٹی کو بنانے میں میری فیملی کا رول رہا ہے۔
میں جب پیدا ہوئی ،اس وقت جنگ کا ماحول تھا اور ملٹری آپریشن جاری تھا۔ جب مجھے کچھ ہوش ہوا، اس وقت بھٹو کا ملٹری آپریشن چل رہا تھا۔ چاروں طرف آگ، دھواں اور بارود تھا۔ جو فریڈم فائٹرس تھے، وہ اکثر میرے گھر آیا کرتے تھے۔ بی ایس او کے لوگوں کو بیڑیاں اور زنجیریں پہنا کر کورٹ میں لایا جاتا تھا ۔ میرے پاپا وکیل ہیں، وہ ان کا کیس فری میں لڑتے تھے، انہیں لیگل ایڈ دیتے تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی کے لیڈر جیسے خیر بخش مری ، گل خان نصیر ، اونکھا صاحب ، بابو سورس، میر عبد العزیز کرد جیسوں کی لیگل سپورٹ میرے فادر اور انکل کے آفس سے ہی ہوتی تھی۔ بچپن سے ہی میں ایک ایسے ماحول میں پلی بڑھی، جو بلوچ نیشنلزم کا گڑھ تھا۔ بھلے ہی اس وقت مجھے ان سب کی باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھی، لیکن اس وقت سے ہی میرے اندر بہت گہرا جذبہ تھا۔ وہ لوگ بھی مجھے ایک چھوٹے بچے کی طرح نہیں ،بلکہ ایک ساتھی کی طرح ڈیل کرتے تھے۔میری والدہ بھی بہت اسٹرانگ تھیں، وہ ویمن رائٹس کے لئے کام کرتی تھیں۔ شاید وہ اسٹرانگنیس ہمارے جین(سرشت) میں ہی ہے۔ بچپن سے ہی میرے فادر اور میر ی مدر نے مجھے بہت پرائڈ اسٹرینتھ اور کنفیڈینس دیا۔ پہلا جو گرلس آرگنائزیشن بنا بلوچ اسٹوڈنٹس کا، وہ میں نے ہی اسکول میں بنایا ۔ اس وقت میں پانچویں میں پڑھتی تھی۔ بی ایس او بلوچوںکے لئے ایک ایسٹ (سرمایہ )ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے ہمارے پاس، جو ہمارے یوتھ کی ٹریننگ کرتا ہے، ہمیں ہماری ہسٹری بتاتا ہے، ہمیں آرگنائزیشن بنانا بتاتا ہے۔ ہمیں بی ایس او کے ذریعہ سے وہ ساری ٹریننگ دی جاتی ہے، جو ہمیں اپنی قومی جذبہ اور بلوچ پہچان کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔
جب میں کالج میں پہنچی، تو پوئٹری بھی کرتی تھی، لکھتی بھی تھی۔ اس وقت حمید بلوچ ہمارے بی ایس او کے لیڈر تھے۔ اس وقت ضیا ء الحق کا مارشل لاء تھا اور حمید بلوچ کو ڈیتھ سنٹینس (موت کی سزا )سنائی گئی۔ ان لوگوں کی کوشش تھی کہ حمید بلوچ کو ایک قاتل کے طور پر پیش کیا جائے۔ حالانکہ ان کو کورٹ نے بری کر دیا تھا،انہوں نے کسی کا مڈر نہیں کیا تھا۔ جس کے مڈر کا ان پر الزام تھا، وہ آدمی خود کورٹ میں آکر بول چکا تھا کہ میں تو زندہ ہوں، لیکن وہ کسی بھی طرح حمید کو پھانسی دینا چاہتے تھے۔ اس وقت ان سب کے خلاف ایک عجیب طرح کی خاموشی تھی۔ اس خاموشی کو بھی میں نے توڑا۔ ہمارا گرلس کالج کوئٹا کینٹ کے اندر تھا۔ وہاں پر ہم نے بی ایس او کا اپنا یونٹ اسٹرانگ کیا تھا۔ ہم کالج کی دیواریں پھاند کر بی ایس او کے جلسے جلوسوں میں جایا کرتے تھے۔ ہم نے اس وقت کلاسیز کا بائیکاٹ کیا۔ ہم گرلس کالج سے سڑکوں پر باہر آ گئے۔ ہم نے پروٹسٹ کیا اور حمید بلوچ کو ایک نیشنل ہیرو کے طور پر پیش کیا، جنہیں وہ لوگ کرمنلائز کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت بولان میڈیکل کالج میں بی ایس او کے بوائز کی میٹنگ ہو رہی تھی۔ اس میں لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جارہی تھی،لیکن جب انہیں یہ خبر ملی کہ گرلس کالج کی لڑکیاں سڑکوں پر آگئی ہیں، تو یہ لوگ بھی باہر آکر پروٹیسٹ کرنے لگے۔ اس کے بعد حمید بلوچ کی حمایت میں ایسا پروٹیسٹ ہوا کہ اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔ حمید کو تو ہم بچا نہیں سکے، اسے ان لوگوں نے پھانسی دے دی، لیکن جو وہ ڈیزرو کرتا تھا، جو ہیرو کی سلامی اور سیلوٹ وہ ڈیزرو کرتا تھا، وہ ہم نے اسے دیا۔ اس کے بعد مجھے گرلس کالج سے نکال دیا گیا۔ میری پڑھائی بہت ڈسٹرب ہوئی۔
میں جب یونیورسٹی میں آئی، اس وقت بھی میں بی ایس او کی لیڈر تھی۔ ہم نے اس وقت ویمن ایکٹویزم بھی شروع کر دیا تھا۔ اس وقت میری زیادہ مخالفت آنر کلیننگ کے خلاف تھی۔اسے سیاہ کاری بھی کہا جاتا تھا۔ اسے روکنے کے لئے ہم نے مہم چلائی ۔میرے جو ساتھی تھے، وہ میری اس مہم سے پریشان ہو گئے، کیونکہ اس وقت تک یہ ٹیرر تھا کہ اچھی لڑکیاں سیاہ کاری کا لفظ اپنے منہ سے نہیں نکالتی تھیں۔ ہم نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ہمیں اس لئے یہ لفظ نہیں بولنے دیا جاتاکہ اس کا ٹیرر قائم رہے۔ ہم اسے اتنا بولیںگے، اتنا بولیں گے کہ اس کا ٹیرر توڑ دیں۔ اس موومنٹ میں میں نے پالیٹیکل پارٹیز اور مذہبی لیڈروںکے ساتھ لابنگ کی۔بلوچستان کے ہائی کورٹ سے ’’ نو مور کرائم آف پیشن‘‘ کا فیصلہ آیا۔ اس میں کہا گیا کہ اسے مرڈر کی طرح ڈیل کیا جائے گا۔ اسے لاگو کرانے اور اس کی حامی عورتوں اور مردوں کو بھی بچانے کے لئے ہم نے کوشش کی۔ اس ایشو کو ہم نے یو این میں بھی پہنچایا ۔وہاں ہم نے مانگ کی کہ اسے پرائیوریٹی (ترجیحی) ایشو میں رکھا جائے اور اسے عورتوں کے خلاف تشدد کی شکل میں دیکھا جائے۔ اس میں ہم کامیاب بھی ہوئے۔
1995 میں بیجنگ میں، جو فورتھ ورلڈ ویمن کانفرنس ہوئی تھی، اس میں بھی ہم نے اس ایشو کو اٹھایا۔ وہ ایک مہینے کی کانفرنس تھی اور اس میں پوری دنیا سے 40ہزار عورتیں جمع ہوئی تھیں۔ اس میں اس پر بات ہوئی کہ پوری دنیا میں عورتوں کے جو مسائل ہیں، ان کا حل کیسے کیا جائے؟اس میں ہر ریجن کے اپنے اپنے کیمپس تھے۔ ایک سائوتھ ایشین کیمپ بھی تھا، جس میں ہندوستان، پاکستان،افغانستان ،سعودی عرب سبھی کے کیمپس تھے،لیکن بلوچستان کا کیمپ نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت دھکا لگا کہ اس میں میرا ملک کیوں نہیں۔ میں اسی وقت واپس ہوٹل گئی اور اپنا سب سامان لاکر میں نے بلوچستان کا کیمپ لگا دیا۔ یہ دیکھ کر پاکستانی عورتیں غصہ ہو گئیں۔ وہ سب پاکستانی کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ تمہیں تو پاکستانی کپڑے پہننے چاہئے۔ میں نے کہا کہ نہیں ،میں تو بلوچ ہوں۔وہ مجھ سے لڑنے بھڑنے پر آگئیں۔ اسی وقت وسیمہ کرمانی آئیں،جو وہاں ڈانس کے ذریعہ ایکٹویزم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا، دیکھو ، ہم سب موہن جوداڑو کی تہذیب کے لوگ ہیں اور ہم سب کو ایک ہونا چاہئے۔ تم بھی آجائو اور پاکستان کے ساتھ ایک اسٹال کر لو، بلوچستان کا کیمپ چھوڑ دو۔ میں نے کہا کہ اگر موہن جوداڑو کی تہذیب ہے، تو اس سے 7000 سال پہلے کی تو میر گڑھ کی تہذیب ہے۔ میں اپنی میر گڑھ کی تہذیب پر کھڑی ہوں۔ موہن جوداڑو تو میر گڑھ کی گرینڈ ڈائوٹر(پوتی) ہیں۔ اگر یہی کرنا ہے، آپ کو تہذیب کی بنیاد پر ہی رہنا ہے تو پھر آپ نے پاکستان کا کیمپ کیوں لگایا ہے، آپ ہندوستان کے کیمپ میںشامل ہو جائیے۔ میں نے اپنا کیمپ بنائے رکھا۔ اس وقت ہماری جو یہ انڈیپنڈنٹ موومنٹ ہے، وہ نہیں تھی۔ اس وقت پاکستان کی پوری سول سوسائٹی میرے خلاف ہو گئی۔ وہ خود کو لبرل کہتے ہیں، فیمنسٹ کہتے ہیں،لیکن بلوچستان کو آزاد دیکھنا نہیں چاہتے۔
پاکستان کی سول سوسائٹی کبھی بھی ہمارے ساتھ نہیںکھڑی ہوئی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ بھی حصہ دار ہیں پاکستانی آرمی کی اس لوٹ مار میں، جو وہ بلوچستان میں کرتے ہیں۔ جب پاکستان آرمی بلوچستان سے گیس لوٹ کر لے جاتی ہے، یا سونا لوٹ کر لے جاتی ہے، اس میں سب حصہ دار ہوتے ہیں۔ اگر یہ اس میں حصہ دار نہیں ہیں تو اعلان کریں کہ بلوچوں کے خون کی قیمت پر یہ جو بلڈ گیس آرہی ہے، اسے ہم استعمال نہیں کریںگے۔لیکن یہ ایسا نہیں کریںگے۔یہ چاہتے ہیںکہ بلوچ لٹتے رہیں اور ہم فیشن کرکے دنیا کے سامنے فیمنسٹ بنی رہیں۔ ایک جبین محمود ہیں۔ جن کو ہم کہہ سکتے ہیںکہ انہوں نے جرأت کی اور بلوچ مسنگ پرسنس (بلوچ کے غائب لوگ)کے اوپر اسٹینڈ لیا اور ایک پروگرام کیا ۔لیکن اس کے بعد آئی ایس آئی نے ان کا مرڈر کر دیا۔
میر اجو لائف اسٹائل ہے، وہ بلوچ رائٹس رہا ہے۔میں یونیورسٹی میں گئی، تو اس وقت جو بلوچ لڑکیاں وہاں پڑھتی تھیں، وہ پاکستانی ڈریس پہنتی تھیں، بلوچ ڈریس نہیںپہنتی تھیں۔ہم نے بلوچ ڈریسیز پہننی شروع کی۔ یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ، آفسیز میں، پرزنٹیشن میں یا دنیا میں جہاں کہیں بھی گئی، بلوچ ڈریسیز میں ہی گئی۔ ہمارا بلوچ ڈریس ہے، خود ہمارا ایک جھنڈا ہے۔ ہم جہاں کہیں بھی جائیں، ساتھ میں بلوچستان کی پہچان ہونی چاہئے۔ ہماری آزادی کی لڑائی 2000 کے بعد شروع ہوئی۔ ہماری اس لڑائی میں، جو ہمارا ہیرو تھا،ہے اور رہے گا،وہ ہے، بالاچ مری۔ فریڈم کے لئے بالاچ کے اعلان نے ہمیںبھی جگایا۔ اس کے اعلان میں اتنی جرأت تھی اور اتنی ایمانداری تھی کہ ہم سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم سب کے اندر بھی آزادی کے لئے لڑنے کی چاہ تھی، لیکن ہم سمجھ نہیں پارہے تھے کہ کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے؟ بالاچ کی باتوںسے ہمیں سمجھ میں آیا کہ اگر ہم نہیں اٹھے، تو تاریخ میں دفن ہو جائیں گے۔ اب جس طرح سے ہم پر ظلم ہو رہا ہے، جو گوادر میگا پروجیکٹ کے بعد سے اور بڑھا ہے، ہمیں اس کے خلاف ہونا پڑے گا ورنہ ہم ختم ہو جائیںگے۔ بالاچ جنگ لڑتے ہوئے سرلٹ کے قریب شہید ہو گئے۔ ان کی کمی پوری نہیں ہو پائے گی، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہر بلوچ جو فریڈم فائٹر ہے ،وہ بالاچ ہی ہے۔ میرا پلان ہے کہ بالاچ کے نام پر ہم ایک فلم بنائیں۔ پچھلی بار جب میں اپریل 2016 میں ہندوستان آئی تھی، تو ممبئی کے کئی فلم پروڈیوسرس سے میں نے بات کی تھی۔ اس فلم کا نام ’’بالاچ ‘‘ ہوگا ،لیکن فلم کا ہیرو صرف بالاچ نہیں ہے، بلکہ ہماری جو موومنٹ ہے، وہ ہیرو ہے۔ ابھی میرا پلان ہے گجرات جانے کا، گجرات کے بعد ممبئی جانے کا، تو ہو سکتا ہے کہ ہم اس فلم کو لانچ کریں۔
ابھی کل ملا کر آپ دنیا سے کیا امید کر رہی ہیں؟ہندوستان کے علاوہ کون سے ملک ہیں، جو بلوچوں کی حمایت میں آئے ہیں؟
ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش ہماری حمایت میں آیا ہے۔ افغانستان کے سابق صدر نے ہماری حمایت کی ہے،لیکن ابھی تک وہاں کی موجودہ سرکار نے کچھ اعلان نہیں کیا ہے۔ میں نے کابل میں پریس کانفرنس کی تھی، وہاں رہنے والے 4ملین بلوچوںکی تنظیم کے جو ہیڈ ہیں، ریٹائرڈ جنرل کریم براہوی، وہ میرے ساتھ تھے۔ ساتھ ہی افغانستان کے یوتھ لیڈرس بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ان سب نے سپورٹ کیا بلوچستان کی آزاد سرکار کے ایشو کا۔ ہم نے افغانستان کی سرکار سے ریکویسٹ کیا کہ جس طرح سے ہندوستان کی سرکار نے اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی جی نے بلوچوںکی حمایت میں آواز اٹھائی ہے، ویسے ہی افغانستان کی سرکار کو بھی ہمارے لئے آواز اٹھانی چاہئے۔ ہمیں سارک کے اور ملکوں سے بھی حمایت کی امید ہے۔ یوروپ کے ملکوں ،امریکہ اور عرب ملکوں سے بھی ہم حمایت کی مانگ کررہے ہیں۔ یو این میں بھی ہمارے نمائندے ہیں۔ باقی سب جگہوں پرکانگریس مین ہیں،پارلیمنٹیرئنس ہیں۔سرکار کے اندر ایسے لوگ ہیں جو ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں یا ہماری حمایت میں بولتے ہیں، لیکن ابھی تک ہندوستان اور بنگلہ دیش کے علاوہ کسی بھی اسٹیٹ کی طرف سے ہماری حمایت کا ڈیسیزن (فیصلہ) نہیں آیا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *