بھوپال انکائونٹر یہ طریقہ اپنا ناقابل مذمت ہے

damiکشمیر اب بھی بحران میں ہے اور اس بحران کا حل بہت جلد ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ طلباء امتحان نہیں دے پارہے ہیں۔ کم سے کم 500 طلباء جیلوں میں بند ہیں،حالانکہ غیر سرکاری طور پر یہ تعداد کچھ ہزار میں بتائی جارہی ہے اور طلباء کے ایک تعلیمی سال برباد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، خاص طور پر ایک ایسے مسئلے کی وجہ سے جو معلوم نہیں کب تک جاری رہے۔ سول سوسائٹی کے کچھ لوگ وہاں گئے اور گیلانی وغیرہ سے ملے جو اچھی بات ہے،کچھ بات چیت شروع ہونی چاہئے۔ آخر کار ہندوستان ایک سرگرم جمہوریت ہے ۔سول سوسائٹی کو کشمیر پر کچھ پیش قدمی کرنی چاہئے۔ لیکن وہاں جو ماحول ہے وہ (مرکزی سرکار کی رائے کو دھیان میں رکھتے ہوئے ) بہت ہی مایوس کن ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ کچھ اچھا کام ہو۔
ان سب سے بڑھ کر ایک خبر آئی کہ8 انڈر ٹرائل قیدی بھوپال جیل سے فرار ہو گئے اور پولیس کے ذریعہ مارے گئے۔ اب پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ انڈر ٹرائل قیدی تھے (بھلے ہی وہ دہشت گرد کے لئے ہو یاکسی اور چیز کے لئے ) ۔سیکورٹی کی ذمہ داری جیل اہلکاروں کی ہے۔ وہ کیسے فرار ہو سکتے تھے؟35 فٹ دیوار چھلانگ کر بھاگ جا سکے اور انہیں شوٹ کر دیا۔ سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے جو آج بھی ریلیونٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انکائونٹر کو خاص طریقے سے دیکھنا چاہئے۔ آخر سرکار، پولیس ، آئی پی ایس آفیسر (چاہے وہ ریاست کے ڈی جی پی ہوں یا جیل کے ڈی جی) بہت پیسہ خرچ کرتے ہیں، آپ ایسی چیزوں کی منظوری نہیں دے سکتے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ سرکار ملک میں ایک ایسا ماحول تیار کر رہی ہے جس میں آپ کسی آدمی کو دہشت گرد بتا دیجئے اور اسے گولی مار دیجئے اور وہ منصفانہ ہے، یہ بہت خطرناک نظیر بنائی جارہی ہے۔ ایسے ہی جمہوریت کا دم گھونٹا جاتاہے۔کسی کو بد نام کر دیجئے (بھلے ہی وہ بے قصور ہو) اور اسے مار دیجئے۔ یہ کام کرنے کا ٹھیک طریقہ نہیں ہوسکتاہے ۔ اگر وہ واقعی دہشت گرد تھے تو اس کے لئے جو مقررہ ضابطہ ہے وہ پورا ہونا چاہئے تھا اور انہیں قانونی پھانسی ہونی چاہئے تھی۔
اگر انہیں بری کر دیا جاتا، تو یہ ظاہر تھا کہ ان کے خلاف ثبوت کمزور تھے۔ لیکن یہ طریقہ اپنانا قابل مذمت ہے۔ بھلے ہی اندھی قوم پرستی کہتی ہے کہ جو بھی ان لوگوں کے حقوق کی بات کرتاہے وہ پاکستان کے حامی ہیں، ملک کے غدار ہیں، میں یہ کہنے کا جوکھم اٹھا رہا ہوں۔ میں کبھی ملک غدار نہیں ہوسکتا، میں پکا قوم پرست ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میں اس ملک کا حصہ ہوں کیونکہ یہاں قانون کا راج چلتا ہے۔ ہر چیز ایک ضابطے کے حساب سے چلتی ہے۔ تعزیرات ہند ہے،جیل مینول ہے، ہر چیز اپنی جگہ ہے۔یہاں تک کہ ناتھو رام گوڈسے جس نے بابائے قوم کا قتل کیا اور قتل کرنے کے بعد اس نے بھاگنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی اور جس نے خود سپردگی کی تھی۔ اسے پھانسی دینے کے لئے تین روز کا وقت لگا تھاجبکہ وہ پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ ہاں میں نے گاندھی کو مارا ہے۔ اسے پھانسی دینے میں تاخیر کیوں ہوئی،کیونکہ یہاں انصاف کا ایک نظام ہے، جس کی تعمیل کی جانی چاہئے۔ لہٰذا قائم نظام کو توڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔اگر سسٹم میں کسی بدلائو کی ضرورت ہے تو اس کے لئے پارلیمنٹ ہے۔ اس طرح کا کام کرنے والے اور گولی مار کر خوش ہونے والے پولیس افسروں یا جیلروں کو آپ نہیں رکھ سکتے۔ بیشک سول سوسائٹی کے لوگ ہیں جو اس واقعہ کی جانچ کی مانگ کررہے ہیں، جبکہ سرکار نے جانچ کروانے سے انکار کیا ہے،لیکن یہ موضوع یہیں ختم نہیں ہوتا۔ اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے کیونکہ یہ مسئلہ تو پورے ملک میں ہے، تقریباً ہر جیل میں اس طرح کے لوگ بند ہیں۔ تو کیا آپ ان سب کو جیل میں ہی مار دینا چاہتے ہیں؟یہ کسی طرح سے دانشمندانہ قدم نہیں ہے۔
اس کے بعد جو ایشو ہے وہ ہے سرکار اور عدلیہ کے بیچ چل رہی رسہ کشی ۔ بد قسمتی سے اس جھگڑے کی ابتدا (اگر میں غلط نہیں ہوں ) تو جسٹس ورما کے ذریعہ 1993 میںکی گئی تھی، جب انہوں نے یکطرفہ طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ ایک کالیجیئم ہوگی جو فیصلہ کرے گی کہ کون جج ہوگا۔ یہ دنیا میں اپنی طرح کا انوکھا معاملہ ہے جہاں جج ہی جج کی تقرری کرتا ہے۔ دنیاکے کسی بھی حصے میں جج دوسرے جج کی تقرری نہیں کرتا۔ عام طور پر عدلیہ یہ کام کرتی ہے یا کوئی آزاد یونٹ کرتا ہے۔
سرکار نے قومی عدالتی جوابدہی بل لانے کی کوشش کی، جسے سپریم کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔لیکن جو بھی طریقہ کار ہو لیکن ججوں کی تقرری میں سرکار اور عدلیہ کے بیچ مشورہ ہونا چاہئے۔ آج بھی جو آئینی عمل ہے وہ یہ ہے کہ ججوں کی تقرری صدر جمہوریہ ہند کے ذریعہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے مشورہ سے ہوگی۔ کچھ دنوں بعد جب ججوں کو لگا کہ مشورہ محض فارملیٹی رہ گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ مشورہ کافی نہیں، اس میں لازمیت (Concurrence)ہونی چاہئے یعنی چیف جسٹس راضی نہیں ہیں تو آپ تقرری نہیں کرسکتے۔ یہاں تک بھی ٹھیک ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں ک یہ مستحکم نظام ہے اور آپ اس نظام کو بحال کر سکتے ہیں۔لیکن سرکار اور عدلیہ جب متفق ہوں تب ہی کسی جج کی تقرری ہونی چاہئے اور اگر کسی نام پر عدم اتفاق ہے تو وہ تقرری نہیں ہونی چاہئے، بھلے ہی وہ آدمی کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو۔ لیکن جب تک اس مسئلے کو حل نہیں کرلیا جاتا تب تک ایک بار پھر ہم اپنے آئین کے ایک کالم کو کمزور کررہے ہیں۔
عدلیہ کی آزادی ،یہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عدلیہ کے ذریعہ کیا جانے والا ہر کام سمجھداری سے بھرپور نہیں ہوتا۔میں یہاں ذرا کم سنجیدہ موضوع پر آرہا ہوں۔ بی سی سی آئی پر تشکیل کی گئی لوڑھا پینل ایک مذاق ہے۔ یہ کہنے میں کافی اچھا لگتا ہے کہ ایک ریاست کے پاس صرف ایک ووٹ ہونا چاہئے۔ جیسے آج گجرات کے پاس تین ووٹ ہیں، کیونکہ بی سی سی آئی کا قیام 1930 میں آزادی سے پہلے ہوا تھا۔ لہٰذا مہاراجہ جو تھے وہ کرکٹ کو فنڈ مہیا کر رہے تھے۔ن کے اپنے ایسو سی ایشن تھے، آج وہ بہت بڑے ہو گئے ہیں۔ آج جسٹس لوڑھا کیا چاہتے ہیں کہ منی پور، تریپورہ، سکم، ارونا چل کے ووٹ بھی مہاراشٹر، گجرات کے برابر ہوں۔ یہ بہت ہی بھونڈی بات ہے۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ہم ایک راستہ کھول رہے ہیں جس کے ذریعہ کارپوریٹ کا پیسہ بی سی سی آئی کو ہی ہضم کر لے گا۔ اگر ایک ریاست ،ایک ووٹ ہوگا تو کوئی کارپوریٹ آئے گا اور اسے خرید لے گا۔کوئی آٹھ دس ریاستوں کو خرید لے گا جہاں کوئی کرکٹ، نہیں کوئی پیسہ نہیں ہے۔ جہاں کرکٹ کمزور ہے، وہاں کسی بدنیت کارپوریٹ کو آنے سے کون روک سکتا ہے، کہ وہ آئے اور بی سی سی آئی پر قبضہ کر لے اور بی سی سی آئی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔ یہ ایک مسئلہ تو ہے، لیکن اس کا جو حل ہے وہ مسئلے سے بھی خراب ہے۔ مجھے نہیں معلوم جسٹس لوڑھا کون ہیں یا ان کی نفسیات کیا ہیں؟ ان کی توہین کئے بغیر کبھی کبھی یہ شک ہوتا ہے کہ شاید وہ کرکٹ کے متاثر کن لوگوں سے متاثر رہے ہوں، جو بی سی سی آئی میں گھسنے کی خواہش رکھتے ہوں اور جو موجودہ جمہوری ضابطہ میں نہیں کرپا رہے ہوں، اس ادارے کو اور زیادہ جمہوری کرنے کے بجائے آپ سیٹ خریدنے کی گنجائش پیدا کررہے ہیں۔
جسٹس ٹھاکر کی پہچان ایماندار آدمی کی شکل میںہے۔لہٰذا انہیں سوچ سمجھ کر ایک فیصلہ کرنا چاہئے جو کرکٹ کو آگے لے جائے۔ لہٰذا عدلیہ کو بھی اپنا انٹروسپکشن کرنا چاہئے۔ سرکار بھی کمزور وکٹ پر کھڑی ہے کیونکہ دہ ججوں کی تقرری روکنے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتی۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *