کعبہ پر حملہ حقیقت یا فسانہ ؟

damiحوثیوں نے یمن کی زمین سے کعبہ پر حملہ کیا ہے۔ یہ دعویٰ سعودی عرب نے کیا ہے۔ جبکہ حوثیوں کی طرف سے جاری پریس نوٹ میں کہا گیاہے کہ اس نے یہ حملہ جدہ کے فوجی اڈے پر کیا ہے۔ سعودی فوج نے بروقت کارروائی کرکے اس بالسٹک میزائل کومکہ سے 65کلو میٹر دور فضا میں ہی مار گرایا۔ اگر سعودی عرب کے دعوے کو سچ مان لیا جائے تو یمن سے حوثیوں کا خانہ کعبہ پر یہ حملہ انتقامی نقطہ نظر سے تھا۔
سرزمین یمن سے کعبہ پر حملہ کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس سے پہلے کئی مرتبہ یمنیوں نے خانہ کعبہ پر حملہ کیا ہے۔البتہ ماضی کے تمام حملے معاشی نقطہ نظر سے ہوا کرتے تھے۔ان حملوں کی وجہ یہ رہی ہے کہ خلیج عدن ملکہ سبا کے دور سے مشرق و مغرب کے درمیان تجارتی راہداری رہی ہے۔ ان کی بندرگاہوں سے چین کا ریشم، مالا بار کے گرم مصالحے، ہندوستان کے کپڑے اور تلواریں، افریقہ سے زنگی غلام،بندر ، شتر مرغ کے پر اور ہاتھی دانت، شام، مصر، روم اور یونان کی منڈیوں میں لے جایا جاتا تھا۔ خود یمن سے لوبان، عود، عنبر اور دیگر خوشبودار چیزیں برآمد کی جاتیں۔اگر حوثیوں کا قبضہ یمن پر ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں تجارت کی بڑی راہداری ان کے قبضے میں آجائے گا۔اسی لئے وہ تسلط کے راستے کا سب سے بڑا روڑہ سعودی عرب کو ہٹانا چاہتا ہے۔
یمن کی طرف سے خانہ کعبہ پر اب تک جو حملے ہوئے ہیں، ان میں سب سے مشہور حملہ ابرہہ کا تھا۔اس کا یہ حملہ بھی معاشی نوعیت کا تھا۔ا برہہ نے سوچا اگر خانہ کعبہ یمن میں ہو تو حج و عمرہ کیلئے آنے والوں کا رخ اس جانب ہونے سے قریش کو حاصل تمام معاشی و اقتصادی فائدے اس کی جھولی میں آ جائیں گے،لیکن وہ اس میں ناکام ہوا۔اس کے بعد 1979 میں یمنکے مسلح افراد نے مل کر خانہ کعبہ پر قبضہ کیا۔ ان کا سرغنہ جو بیمان بن محمد بن سیف بن سیف العتوبی تھا، اس نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ ان کے لیڈر محمد بن عبداللہ القہتانی کی پیروی کریں جو مہدی ہے۔ سعودی فوج نے ان کا بھی صفایا کر دیا تھا ۔
اب یمن کی قدیم تاریخ ایک مرتبہ پھر دوہارئی جارہی ہے اور حوثیوں نے معاشی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لئے کعبہ پر ایک مرتبہ پھر حملہ کردیا ہے۔ کیونکہ یمن پر قبضہ کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ سعودی عرب ہی ہے ،ایسے میں وہ سعودی عرب پر حملہ کرکے اسے خوفزدہ کرنا چاہتا ہے تاکہ یہ اس کے راستے سے ہٹ جائے اور یمن پر اس کا قبضہ مکمل طور پر ہوجائے۔ اگر یمن پر حوثی کا قبضہ ہوجاتا ہے تو یمن کی بندرگاہ عدن اور ایران کی بندرگاہ چاہ بہار مشترکہ تجارتی راہداری بن کر مشرق و مغرب میں تجارتی اجارہ داری کی راہ ہموار کر سکتی ہے اور اس طرح سے معاشی استحکام کی راہ میں اس کے لئے ایک مضبوط سرا ہاتھ لگ جائے گا۔ غرضیکہ ماضی کی طرح یہ نئی کوشش بھی بالواسطہ طور پر معاشی نقطہ نظر سے ہی ہوا ہے۔
بہر کیف حوثیوں کے اس حملے پر پوری دنیا سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ امام کعبہ الشیخ عبدالرحمن السدیس نے بیان دیا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے نہ صرف اہم ترین عبادت گاہ یعنی مکہ کو نشانہ بنایا بلکہ یہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر حملہ کے مترادف ہے۔ایرانی حمایت یمنی شیعہ باغیوں نے میزائل حملہ کر کے ہمارے مذہبی جذبات کو بھی مجروح کیا ہے۔ حوثیوں کا یہ اقدام مکہ معظمہ کے خلاف ننگی جارحیت کی بد ترین مثال ہے۔ہندوستان سے مختلف مکتبہ فکر لوگوں نے اس حملے کی مذمت کی ہے ۔ ریاض میں امریکہ کے سفارت خانے کے ترجمان لیکن فریجر نے اس حملے کو بد بختانہ کہا ہے ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکہ سعودی عرب کی زمین پر کسی طرح کی باہری دخل اندازی کو روکنے میں سعودی عرب کے ساتھ ہے۔دوسری طرف فرانسیسی وزارت خارجہ نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یمن اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی امن بات چیت کو نقصان پہنچے گا۔دوسری جانب یمن کی کابینہ صدر مملکت عبد ربہ منصور ہادی کے اس قرار داد کی تائید کردی ہے کہ وہ اس حملے کے بعد عالمی برادری کے سیاسی حل کی قرارد اد کو تسلیم نہیں کرسکتے ہیں۔دراصل حوثیوں کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی طرف سے جو قرار داد پیش کی گئی ہے اس میں ایک تو حوثیوں کی نمائندگی خاطر خواہ ہو،دوسرے فضائی حملوں اور یمن پر گھیرائو کو پہلے ختم کیا جائے اس کے بعد سیاسی حل کی بات چیت ہو۔ جب تک یہ نہیں ہوتا اس وقت تک حل کی طرف کوئی پیش قدمی کامیاب نہیں ہوسکتی۔
واضح ہوکہ خانہ کعبہ پر حملے کی بات سعودی حکومت کی طرف سے کہی گئی ہے جبکہ حوثیوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے یہ حملہ جدہ کے فوجی ٹھکانے پر کیا ہے۔ اگر حوثی کے پریس نوٹ پر بھروسہ کیا جائے تو سعودی عرب کی طرف سے پھیلائی گئی یہ افواہ عالمی ہمدردی پانے کی غرض سے بھی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ماضی میں بھی ایسا دیکھا جاچکا ہے کہ سعودی عرب یمن کے خلاف گمراہ کن افواہ پھیلا کرحوثیوں کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کرچکاہے۔ ابھی گزشتہ سال سعودی عرب نے آب زمزم میں حوثیوں کی طرف سے زہر ملانے کی افواہ پھیلائی تھی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ پلاسٹک کی بوتل میں لمبے دنوں تک پانی بند رہنے کی وجہ سے زہریلا ہوگیا تھا، جس کا الزام سعودی عرب نے حوثیوں پر ڈال دیا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ آل سعود نے پہلے تو یہ افواہ پھیلائی تھی کہ تحریک انصار اللہ مکے اور مدینے پر حملہ کرنا چاہتی ہے اس کے بعد یہ افواہ پھیلائی گئی کہ حوثیوں نے آب زم زم کی بوتلوں میں زہر ملادیا ہے۔ سعودی میڈیا میں یہ خبر چھپنے لگی کہ آب زمزم میں زہر ملائے جانے کی اطلاعات کے بعد سعودی پولیس نے شہریوں کوعوامی مقامات سے آب زمزم خریدنے سے منع کر دیا ہے۔بہر کیف سرحد پر حوثیوں اور سعودی عرب میں جاری جنگ کے علاوہ اب نفسیاتی طورپر بھی ایک دوسرے کو مات دینے کی کوشش شروع کردی گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *