اپنے مخالفین کو ملک غدار کہنا بند کیجئے

damiڈونالڈ ٹرمپ امریکی صدرکے عہدہ کا انتخاب جیت گئے ہیں۔ دراصل یہ ہیلری کی اتنی بڑی شکست نہیں ہے جتنی بڑی ان اقدار کی شکست ہے جن پر امریکہ کھڑا ہے۔ ایک ایسے آدمی کو دیکھ کر جو کھلے عام ان اقدار کا مذاق اڑا رہا ہے اور عوام اس کی حمایت کررہے ہیں، ٹامس جیفرسن ضرور اپنی قبر میں کروٹ بدل رہے ہوں گے۔ میں یہاں ٹرمپ کے ذاتی ریمارکس کی بات نہیں کررہا ہوں جو نہ صرف امریکی اقدار کے خلاف ہے بلکہ تہذیب کے بھی خلاف ہے۔ بہر حال ہر ملک کو اس کے معیار کے مطابق ہی لیڈر ملتا ہے اور اگر عوام خود ایسے ہو جائیں تو آپ کیا کرسکتے ہیں؟جہاں تک ہندوستان کا سوال ہے تو اس سے کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑے گا۔کیونکہ ہندوستان-امریکہ رشتہ ذاتی بنیاد پر مبنی نہیں ہے۔یہ زمینی حقیقت پر مبنی ہے،جو موجودہ وقت میں ہندوستان کے حق میں ہے، کیونکہ دنیا مندی کے شکنجے میں ہے۔ ہندوستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں وہ سرمایا کاری کرنا چاہتے ہیں اور جہاں اپنا مینوفیکچرنگ بنیاد بھی بنانا چاہتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ دنیا کے خراب اقتصادی موسم میں ہندوستان ایک پُر امن جگہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہندوستان کی افرادی قوت کو بھی کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا۔ حالانکہ ٹرمپ ویزہ کم کرنے کی بات کرتے ہیں،کیونکہ وہ مقامی لوگوں کو زیادہ نوکری دینا چاہتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت کو وہ نظر انداز نہیں کرسکتے،دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟
اس ہفتے کی دوسری بڑی خبر 1000 اور 500 کی کرنسی نوٹوں کا ڈیمونیٹزیشن ( کرنسی کا رواج بند کرنا) تھا۔ ڈیمونیٹزیشن کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ پہلے بھی ہندوستان میں 1954 میں اور 1978 میں ڈیمونیٹزیشن کیا گیا تھا۔ ان کا اثر بلیک منی کم کرنے پر بہت ہی معمولی تھا۔اس بار یہ کہا جارہا ہے کہ یہ جعلی نوٹوں اور دہشت گردوی پر حملہ ہے۔یہ ممکن ہے،ایسا ہو سکتا ہے کہ سرکار کے پاس کچھ جانکاری ہو۔ اگر جعلی نوٹوں کی کمی ہوتی ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے اور اگر ڈیمونیٹزیشن سے دہشت گرد بری طرح سے متاثر ہوتا ہے تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ لیکن ٹرانزیشن عرصے کے دوران یعنی تین چار دن یا ایک ہفتہ یا دسمبر تک کم اور درمیانی آمدنی والے طبقے کے لوگوں کو زیادہ پریشانی میں ڈال دیا گیا ہے۔ ابھی میں نے سنا ہے کہ کسان فکر مند ہیں اور ان کی فصل سے حاصل پیداوار فروخت نہیں ہو پائے گی،کیونکہ بچولئے جو اسے خریدتے تھے ،وہ کیش میں خریدتے تھے۔ یہاں لین دین بینک کے ذریعہ نہیں ہوتا ہے ، لہٰذا یہ انہیں مشکل میں ڈالے گا۔لیکن میں پُریقین ہوں کہ ہندوستان کا کھوجی دماغ ان پریشانیوں سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لے گا۔ لیکن آگے جاکر ڈیمونیٹزیشن کا کوئی فائدہ ہوگا یا نہیں، میں سمجھتا ہوں اس سلسلے میں سرکار ایک سال یا چھ مہینے میں کوئی اعدادو شمار دے سکتی ہے۔بہر حال ،اگر جعلی نوٹوں پر لگام لگ جاتی ہے تو اسے ایک کامیابی مانا جائے گا۔
جو فکر کا دوسرا موضوع ہے، وہ ہے ایک عام ماحول۔ این ڈی ٹی وی کو ایک دن کے لئے آف ایئر کرنے کی بات چل رہی تھی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ انہوں نے پٹھان کوٹ انکائونٹر کو دکھایا ۔ یہاں یہ خیال رکھنا چاہئے کہ این ڈی ٹی وی نے اس انکائونٹر کو سیدھا نشر نہیں کیا تھا جو ممنوعہ ہے۔آپ این ڈی ٹی وی پر مانیٹری جرمانہ لگا سکتے ہیں، لیکن ایک دن کے لئے آف ایئر کرنا نقصان دہ ہے۔ کچھ قانون ہوں گے جن کے تحت آپ ایسا کرسکتے ہیں،لیکن ویسی چیزوں کے لئے جو ملک مخالف ہوں۔ اب ملک مخالف کی توضیح کیا ہے؟گزشتہ دنوں ہم نے ملک غداری کے کئی معاملے دیکھے جو سپریم کورٹ کے جائزے میں کہیں ٹک نہیں سکتے۔ غداری کا معاملہ تب بنتا ہے جب آپ اسٹیٹ کے خلاف مسلح بغاوت کرنے یا کروانے کی کوشش کررہے ہوں۔ صرف بیان دے دینے سے غداری کا معاملہ نہیں بنتا۔ جیسے جے این یو کے طلباء یا کشمیر کے لیڈروں یا پھر جیساکہ پرشانت بھوشن نے کہا کہ کشمیر کو پاکسان کو دے دینا چاہئے۔یہ معاملے غداری کے معاملے نہیں ہیں۔ یہ نظریہ ہے،بھلے ہی یہ کتنے بھی تکلیف دہ کیوں نہ ہوں۔ دراصل اظہار رائے کی آزادی کا مطلب ہوتاہے وہ بات بولنے کی آزادی جو سرکار پسند نہیں کرتی ہو۔ وہ بات بولنا جو سرکار سننا چاہتی ہے اس کے لئے کسی آزادی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ملک غداری ایک ایسا لفظ ہے جس کا استعمال آج جس طرح ہو رہا ہے، ویسے اس کا استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ برکھا دت یا راج دیپ سردیائی یا کوئی دیگر رپورٹ یا این ڈی ٹی وی جیسا کوئی چینل چونکہ بی جے پی ، آر ایس ایس ، سرکار کے نظریات سے ہم آہنگ نہیں ہیں، اس لئے انہیں ملک غدار بتا دیا جائے۔آپ انٹر نیٹ دیکھ لیجئے، انہیں ملک غدار بتانے والے بہت سارے لوگ مل جائیں گے۔ ایسا فاشزم میں ہوتا ہے جہاں ملک اور حکمراں ایک ہوتے ہیں۔ جمہوریت میں حکمراں بدلتے رہتے ہیں جبکہ ملک قائم رہتاہے۔ اگر کوئی واقعی ملک کے خلاف کچھ کرتا ہے تو وہ ملک غدار ہے۔ آپ ان کے خلاف مناسب کارروائی کیجئے، ان کے خلاف مقدمہ دائر کیجئے تاکہ عدالت اس کا تجزیہ کرسکے اور اگر ان کو عدالت کے ذریعہ قصوروار قراردیا جاتا ہے تو پھر اسے ملک غدار مانا جائے۔لیکن ایسے ماحول سے فاشزم کی بو آتی ہے۔
2014 میں جب نریندر مودی اقتدار میں آئے تھے تو ہم میں سے بہت سارے لوگ فکر مندتھے کہ آر ایس ایس کی فاشزم سوچ لوگوں پر تھوپی جائے گی،لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہم وزیر اعظم کے شکر گزار ہیں، جب انہوں نے کہا تھا کہ’ مقدس گرنتھ صرف ہندوستانی آئین ہے‘۔ وہ اکثر باتوں میں گاندھی جی کا نام لیتے ہیں۔ سردار پٹیل ان کے سب سے نئے سمبل ہیں۔لیکن ستم ظریقی یہ ہے کہ سردار پٹیل اپنی پیدائش سے لے کر موت تک ہمیشہ ہی ایک کانگریسی رہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اس افواہ میں کہ پٹیل اور نہرو کے درمیان کافی اختلاف تھا ،کوئی خاص دم نہیں دکھائی دیتا۔ گاندھی جی کا قتل 30جنوری 1948 کو ہوا تھا جبکہ پٹیل کی موت دسمبر 1950 میں ہوئی تھی۔ گاندھی جی کے بعد نہرو اور پٹیل نے پورے تین سال تک ایک ساتھ کام کیا۔ پٹیل کو اپنی کابینہ سے ہٹانے سے نہرو کو کون روک سکتا تھا؟ اور پٹیل کو کانگریس پارٹی توڑنے سے کون روک سکتا تھا۔لیکن انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا، کیونکہ انکے اختلافات بامقصد تھے،مناسب تھے اور قومی مفاد میں تھے۔ ان کی سیاست قومی مفاد میں تھی۔ اس بات کی سراہنا کرنے کے بجائے،ایک ایسا ماحول تیار کیا جارہا ہے جیسے نہرو غیر ضروری تھے اور پٹیل ضروری تھے۔ میں اس معاملے کا مثبت پہلو بھی دیکھ رہا ہوں۔ اگر اس سے پٹیل کا سیاسی قد بڑھتا ہے تو یہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے اچھی بات ہے۔ حالانکہ وہ (بی جے پی ) پٹیل کا نام ایک مقصد کے لئے استعمال کررہے ہیں، لیکن اگر آپ پٹیل کی پالیسیوں کو دوسرے لفظوں میں توضیح کرنا چاہتے ہیں تو جمہوریت محفوظ ہے،ہندو- مسلم رشتہ محفوظ ہے، ملک کے مسلمان محفوظ ہیں اور کچھ بھی غلط نہیں ہوگا۔
لیکن اس طرح کا ماحول جس میں ہر اس آدمی کو ملک غدار کہنا،جو آپ سے متفق نہ ہو تو میں اسے ایک مذاق کہوں گا،حالانکہ یہ اب بڑی شکل لے رہا ہے۔ وہ کجریوال کے خلاف ہیں، وہ راہل گاندھی کے خلاف ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ راہل گاندھی اور کجریوال کا قد ان کے حملوں کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔راہل گاندھی پر حالیہ حملہ جب وہ کسی سے رام منوہر لوہیا اسپتال میں ملنا چاہتے تھے تو پولیس نے ان کے ساتھ جو کیا، اس نے انہیں لیڈر بنا دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بی جے پی کے حامی کانگریس پارٹی کی ایک طرح سے خدمت کررہے ہیں۔حالانکہ راہل گاندھی بہت ہی نرم طریقے سے کام کررہے ہیں،لیکن ایک بار جب وہ سخت طریقے سے سڑک پر اتر جائیں تو وہ ایک لیڈر بن جائیں گے اور اس کا سہرا اس سرکار کے طریقہ کار کو جائے گا۔ ملک غداری لفظ کا استعمال انہیں روک دینا چاہئے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ کو یا تو کسی دیگر وزارت میں بھیج دینا چاہئے یا انہیں یہ سکھاناچاہئے کہ جو باتیں وہ کہہ رہے ہیں وہ آئین کے مطابق نہیں ہے ، صحیح نہیں ہے ۔ہمیں توقع کرنی چاہئے کہ چیزیں بہتر ہوںگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *