کیوں نہیں کوئی حملہ 90 فیصد بلیک منی چلانے والوں پر

damiاگر یہ خبر صحیح ہے کہ پونہ کے ایک این جی او کی صلاح پر، جو ایک انجینئر چلاتے ہیں، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کی معیشت کو سنبھال رہے نوٹوںکو رد کرنے کا فیصلہ لیا ہے تو اس کے لیے مودی جی کا بہت بہت شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انھوں نے کئی کہاوتوںکو ثابت کردیا۔ محمد بن تغلق کا نام تاریخ میں بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کالی داس کا نام بھی تاریخ میں بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ میری دعا ہے کہ وزیر اعظم مودی کا نام تاریخ میں اُس احترام سے نہ لیا جائے ، لیکن کچھ سوال تو ہیں، جو سوال آج وزیر اعظم سمیت ساری سرکار سے پوچھنا ضروری ہوگیا ہے۔ کیا ملک کے سارے ماہر اقتصادیات،ملک یا دنیا کی معیشت کو جاننے والے لوگ ناسمجھ ہوگئے، جوپونہ کے ایک این جی او،جس کا دعویٰ ہے کہ اس کا رشتہ آر ایس ایس سے ہے اوراس نے ملک کی معیشت کے سدھار کے لیے اپنے ایک انجینئر ساتھی کی مدد سے ملک کی معیشت کے تمام منظر نامے کو بدل دیا۔
کیا وہ ماہر اقتصادیات جو وزارت مالیات سے جڑے ہیں یا ملک کے عظیم وکیل جو سپریم کورٹ میں اکثر مقدمے جیتتے ہیں، ارون جیٹلی جو آج ملک کے سب سے بڑے ماہر اقتصادیات ہیں، وزارت مالیات کا بار سنبھالتے ہیں، کیا انھوںنے وزیر اعظم کویہ نہیں بتایا کہ ملک کی 90 فیصد بلیک منی شیئرس، سونے کے بزنس اور ریئل اسٹیٹ کے بزنس میںانوالو(ملوث) ہے۔ صرف 10 فیصد بلیک منی کیش کی شکل میںملک میںچل رہی ہے، جس میںزیادہ تر چھوٹے اور درمیانی درجہ کے تاجر اور وہ سارے لوگ جو اس ملک میںاپنے سلامتی کے لیے پچاس ہزار، ایک لاکھ روپے تاکہ وقت ضرورت ان کے کام آسکیں، اسے رکھتے ہیں۔ مودی جی کے اس قدم سے وہ سارے لوگ بچ گئے، جو بلیک منی آپریٹ کرتے ہیں، جو متوازی معیشتآپریٹ کرتے ہیں۔ معیشت آپریٹ کرنے والوںکا پیسہ بے نام کمپنیوں کے اکاؤنٹس میںبینک میں محفوظ ہیں اور جو اس سے بڑے ہیں، ان کا سارا پیسہ سویٹزرلینڈ، پناما، ماریشس جیسے ٹیکس ہیو ن اور کالے دھن کے لیے جنت مانے جانے والے افریقی ممالک اور ان مقامات پر جو ساری دنیا کے بلیک منیز آپریٹ کرنے والوں کے لیے جنت ہے، وہاں ،محفوظ ہے۔ ملک کی بلیک منی یا متوازی معیشت چلانے والے ڈالر اور پاؤنڈ میںڈیل کرتے ہیں، ہندوستانی کرنسی میںڈیل نہیںکرتے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ مودی جی نے ان لوگوں کے اوپر ہاتھ کیوں نہیںڈالا؟کیا یہ پیسہ جو ملک کے کالے دھن کے 90 فیصد کو کنٹرول کرتا ہے، صرف اس لیے نہیں ڈالا کہ اس کی مدد آنے والے انتخاب میں کوئی ایک سیاسی جماعت لینا چاہتی ہے؟ کیا اس کا اندازہ وزارت مالیات نے لگایا ہے کہ دو ہزار روپے کا نوٹ، جو اب ہندوستانی بازار میںسرکار کے ذریعہ لایا گیا ہے، وہ اگلے پانچ سے دس سال میں کس طرح کی معیشت کی بنیاد بنے گا؟
کیا ہم ایک نئے انفلیشن کے دور میں داخل ہوگئے ہیںکیونکہ انفلیشن کا سیدھا رشتہ پرنٹنگ آف ہائر اِنومنیشن نوٹس اور انفلیشن کے بیچ ہے۔ اور ہائپر انفلیشن بلکہ کہیںکہ ملک انفلیشن اور ہائپر انفلیشن کے دور میںداخل ہوگیا ہے۔ اب تک ہم جس عالمگیر اقتصادی کساد بازاری سے بچتے آئے ہیں، کیا اس فیصلے نے ہمیں اس عالمگیر کساد بازاری کے دور کا لیڈر تو نہیں بنا دیا ہے۔ ایک جانکاری کے مطابق، امریکہ ہماری معیشت کو توڑنے کی بہت دنوںسے کوشش کررہا تھا اور اس کے لیے حیرت کا موضوع تھا کہ کیسے ہندوستان کی معیشت عالمگیر اقتصادی کساد بازاری کا شکار ہونے سے بچ گئی اور اس نے اس بار ہمیں سمجھداری کے ساتھ توڑ دیا۔ اب تک بچنے کا یک ہی بڑا سبب تھا کہ ہم اپنی معیشت کو یعنی ہندوستان کے لوگ اپنی معیشت کو اپنی طاقت کے ساتھ، اپنی سیلف گورننس کے طریقے سے سنبھال لیتے تھے۔ اس فیصلے سے ہم ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ذریعہ ہدایت کردہ معیشت کے ایک پچھلگو اگوا بن گئے ہیں۔ ہماری معیشت بھی اب عالمگیر معیشت کا ایک گھٹیا حصہ بن گئی ہے۔ ہم اس کسادبازاری کے سب سے مضبوط حصہ دار بن کر ابھرنے والے ہیں۔ اگر ہم نے فوری طور پر کریکٹو میزرس نہیںاٹھائے یا بھول کو سدھارنے کی کوشش نہیںکی، تو ہم امریکہ یا یوروپ جیسی اقتصادی کسادبازاری کا شکار ہونے سے بچ نہیںپائیںگے۔
ہندوستان میںکاغذ کے نوٹوں پر مبنی جس بلیک منی کی بات یا ٹیریرسٹ کو جانے والے پیسے کی بات حکومت ہند یا وزیر اعظم کررہے ہیں، صرف ہم اتنا سمجھنا چاہتے ہیںکہ اگر یہ پیسہ بند ہو جائے گا، تو کیا ٹیریرسٹوں کے پاس باہر سے پیسہ آنا رک جائے گا؟ کیا ہمارے یہاں حملے رک جائیںگے؟ کیا ہمارے یہاں ہتھیار بنٹنے بند ہوجائیںگے؟ میںجانتا ہوںکہ اس کا جواب سرکار ہمیںنہیںدے گی، لیکن میںاس کا جواب دینا چاہتا ہوں کہ ایسا نہیںہوگا کیونکہ دہشت گردوں کی معیشت ہمارے نوٹوں سے نہیںچلتی۔ آپ جو بھی نوٹ لائیںگے،ان سے ہتھیار نہیںخریدے جاتے۔ ہتھیار آتے ہیں، آپ ان ہتھیاروں کو روک نہیںپاتے کیونکہ ان ہتھیاروںکو لینے میںہمارے ہی انتظامات کے کچھ لوگ شامل ہیں۔ سرکار کو جن چیزوں پر چاق و چوبند ہونا چاہیے، ان میںسرکار نہیںہے۔ سرکار صرف ان سوالوں سے لوگوں کا دھیان ہٹانے کی کوشش کررہی ہے،جو سوال ہندوستان کے لوگوںمیںترقی کو لے کر ہیں، ترقی کے ماڈل کو لے کر ہیں، نوکریوںکو لے کر ہیںیا جمہوری نظام کو بدلنے کی کوششوں کو لے کر ہیں، کشمیر کے لوگوںکو لے کر ہیں، بے روزگاری، تعلیم،صحت کو لے کر ہیں۔ جن وعدوں کے اوپر موجودہ سرکار آئی تھی،ان میںسے کتنے وعدے پورئے ہوئے، اس کا کوئی حساب کتاب نہ سرکار کے پاس ہے اور نہ ہی ان ماہر اقتصادیات کے پاس، جو سرکار سے جڑے ہیں۔ ڈھنڈورچی میڈیا کے پاس ان سوالوں کے جواب تو ہیں ہی نہیں۔ ہم رفتہ رفتہ ملک میںافراتفری کا ماحول پیدا کرنے کے حصہ دار بنتے جارہے ہیں۔
کہیںایسا نہ ہو کہ اس فیصلے سے ملک میںشادی، انڈسٹری، کھانے پینے کی صنعت، جس میںکسان کا سامان بیچا جاتا ہے، جس میںچھوٹی سطح کے کام کرنے والے، جن میںسبزی والے ہیں، رکشے والے ہیں، ٹیکسی والے ہیں، درمیانی اور چھوٹے تاجر ہیں، ان کا کام دو سال کے اندر ختم ہوجائے۔ جس مال کلچر کو لانے کی ہندوستان میںکوشش ملٹی نیشنل کمپنیاںسالوں سے کررہی تھیں، اسے ایک جھٹکے میںلے آیا گیا ہے۔ اس مال کلچر کے آنے سے ہمارے ملک میں کروڑوں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے اور اس کا نتیجہ کہیںبگڑی ہوئے نظام قانون کی شکل میںہمیںنہ دیکھنے کو ملے۔
آج سب سے زیادہ پریشان وہ لوگ ہیں، جن کا اس بلیک منی کی سلطنت سے کوئی لینا دینا نہیںہے، جو اپنی مصیبت کے وقت 5000-10000-20000-40000یا ایک لاکھ روپے تک اپنے گھر میں رکھتے ہیں بڑے نوٹوں کے ر وپ میںکیونکہ چھوٹے نوٹ جگہ زیادہ گھیرتے ہیں،ان پر سرکار نے یہ حملہ کیا ہے۔ لیکن90 فیصد بلیک منی چلانے والے جو کچھ لوگ ہیں، ان کے اوپر سرکار کا کوئی حملہ نہیںہوا۔ وہ محفوظ ہوگئے اور اس وقت مسکراتے ہوئے اس ملک کی سیاست کو سو فیصد اپنے قبضے میں لینے کا منصوبہ بناتے ہوئے شراب کی پارٹیاں کررہے ہوںگے۔ اگر کہیںایشور ہے تو میری اس سے دعا ہے کہ میرے یہ سارے خدشات بے بنیاد ثابت ہوں اور یہ تنبیہات کوڑے کے ڈھیر میںچلی جائیں۔ لیکن افسوس ایسا نہیںہونے والا ہے اور زیادہ سے زیادہ صرف کچھ مہینے چاہئیں اور ان دو مہینوں کے اندر ان تنبیہوںکے سچ ثابت ہونے کی شروعات ہو جائے گی، جو بہت ہی بدقسمتی ہوگی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *