128ویں یوم پیدائش سادگی اور ایثار و قربانی کا نمونہ تھے ڈاکٹر راجندر پرساد

dami0020ویں صدی کے اوائل کی بات ہے ۔ریاست بہار کے مشہور شہر چھپرا کے دہیاواں محلہ میں سینئر وکیل عبد الماجد کی رہائش گاہ پر دروازہ کھٹکھٹانے پر ان کے صاحبزادہ عبد الحکیم باہر آتے ہیں تو ایک سانولے نوجوان کو بر آمدہ میں بیٹھے ہوئے پاتے ہیں۔دریافت کرنے پر وہ اپنا نام راجندر پرساد بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے بڑے بھیا مہندر پرساد جو کہ چھپرا ڈسٹرکٹ بورڈ کے چیئر مین ہیں نے انہیں بھیجا ہے کہ وہ وکیل صاحب سے ملیں۔ جب عبد الحکیم اس کی اطلاع اپنے والد کو دیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ناشتہ چائے بھجوائو، یہ مہندر بابو کے چھوٹے بھائی ہیں، کلکتہ یونیورسٹی سے وکالت کی پڑھائی مکمل کرکے واپس آئے ہیں اور اب مجھ سے وکالت سیکھیں گے۔ اس طرح مستقبل میں صدر کانگریس اور اولین صدر جمہوریہ ہند کی ذمہ داری سنبھالنے والے دیش رتن ڈاکٹر راجندر پرساد ان سے تقریباً تین برس تک وکالت کی تربیت لیتے ہیں اور پھر 1916 میں موتیہاری میں چمپارن ستیہ گرہ کی قیادت کررہے گاندھی جی کی ٹیم میں شامل ہوجاتے ہیں اور پھر ان کا سیاسی سفر شروع ہوجاتا ہے۔
یہ ہے ہندوستان کے پہلے صدر کی ابتدائی زندگی جن کی ملک اور اس کی آزادی کی تحریک میں خدمات سنہرے حروف میں لکھے جانے کے لائق ہیں۔ انہوں نے 1962 میں صدارت سے سبکدوشی کے بعد پٹنہ کے صداقت آشرم میں آخری ایام گزارے اور وہیں 28 فروری 1963 کو اپنا دم توڑا۔ یہ وہی آشرم ہے جو کہ عظیم مجاہد آزادی اور بیرسٹر مولانا مظہر الحق کا مسکن اور کٹیا رہا ہے اور جسے انہوں نے کانگریس پارٹی کو عطیہ کر دیا تھا۔
مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ آج ان کی زمین پر کانگریس پارٹی کا دمکا شہر ( جھارکھنڈ ) میں قبضہ ہے۔کروڑوں کی اس زمین کو لے کر ضلع کانگریس کمیٹی اور راجندر پرساد میموریل ٹرسٹ کے درمیان ان دنوں عدالتی جنگ جاری ہے۔ اسی طرح کا ان کے تعلق سے ایک اور عجیب و غریب واقعہ ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرساد نے پٹنہ میں ایکز ہیبیشنروڈ پر واقع پنجاب نیشنل بینک برانچ میں 24 اکتوبر 1962 کو ایک کھاتہ کھولا تھا۔ اس کے کچھ دنوں بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس کے بعد ان کا کھاتہ آج تک چالو ہے۔ اس میں آج بھی کل جمع رقم 1813 روپے ہے۔بینک برانچ کے جنرل منیجر ایس ایل گپتا کا کہنا ہے کہ ’’بینک نے راجندر پرساد کے بچت کھاتہ کو پہلے کسٹومر کا درجہ دیا ہے۔یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔مگر آج تک اس رقم کو نکالنے یہاں کوئی نہیں آیا۔ لہٰذا ہر 6 ماہ پر اس کھاتہ میں سود کی رقم جمع کردی جاتی ہے۔ بینک کے اس برانچ میں ڈاکٹر راجندر پرساد کا اکائونٹ نمبر 038000100030687ہے جو کہ ان کی عکسی تصویر کے ساتھ عمومی نمائش کے لئے لگایا گیا ہے۔ اکائونٹ نمبر ان کی تصویر کے نیچے درج ہے۔اب آئیے ، ذرا ڈاکٹر راجندر پرساد کی حیات و خدمات کا تفصیلی جائزہ لیں۔
ڈاکٹر پرساد کی پیدائش 3دسمبر 1884 کو بہار کے ایک چھوٹے سے گائوں جیرادِئی میں ہوئی تھی۔ ان کے آبائی خطہ کے اموڑا نام کی جگہ سے پہلے بلیا اور پھر بعد میں سارن (بہار ) کے جیرادِئی میں آکر بسے تھے۔ والد کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے تھے، جن میں وہ سب سے چھوٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم انہی کے گائوں جیرادِئی میں ہوئی۔ پڑھائی کی طرف ان کا رجحان بچپن سے ہی تھا۔
1896 میں وہ جب پانچویں کلاس میں تھے تب بارہ سال کی عمر میں ان کی شادی دربھنگہ کے بابو برج کشور پرساد کی بیٹی راج ونشی دیوی سے ہوئی۔ آگے پڑھائی کے لئے کلکتہ یونیورسٹی میں درخواست ڈالا جہا ں ان کا داخلہ ہو گیا اور 30روپے مہینے کا وظیفہ ملنے لگا۔ ان کے گائوں سے پہلی بار کسی نوجوان نے کلکتہ یونیورسٹی میں داخلہ پانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جو کہ یقینی طورپر راجندر پرساد اور ان کے خاندان کے لئے فخر کی بات تھی۔
1902میں انہوں نے کلکتہ پریسڈنسی کالج میں داخلہ لیا۔ 1915 میں قانون میں ماسٹر کی ڈگری پوری کی جس کے لئے انہیں گولڈ مدل سے نوازا گیا۔یہیں گولڈ میڈل ان کے استاد وکیل عبد الماجد کو بھی ملا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔اس کے بعد پٹنہ آکر وکالت کرنے لگے جس سے انہیں بہت پیسہ اور نام ملا۔
بہار میں انگریز سرکار کے نیل کے کھیت تھے۔ سرکار اپنے مزدور کو مناسب تنخواہ نہیں دیتی تھی۔ 1916 میں گاندھی جی نے بہار آکر اس مسئلے کو دور کرنے کی پہل کی۔ اسی دوران ڈاکٹر پرساد گاندھی جی سے ملے اور ان کی نظریات متاثر ہوئے۔ 1919 میں پورے ہندوستان میں سول موومنٹ کی لہر تھی۔ گاندھی جی نے سبھی اسکولوں ، سرکاری دفتروں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی جس کے بعد ڈاکٹر پرساد نے اپنی وکالت چھوڑ دی۔
چمپارن تحریک کے دوران راجندر پرساد گاندھی جی کے وفادار ساتھی بن گئے تھے۔ گاندھی جی کے اثر میں آنے کے بعد انہوں نے اپنے پرانے اور قدامت پسند رجحان ترک کردیا اور ایک نئی توانائی کے ساتھ آزادی کی تحریک میں حصہ لیا۔1931 میں کانگریس نے تحریک چھوڑ دی۔ اس دوران ڈاکٹر پرساد کو کئی بار جیل جانا پڑا۔ 1934 میں ان کو بمبئی کانگریس کا صدر بنایا گیا۔ وہ ایک سے زیادہ بار صدر بنائے گئے۔ 1942 میں ہندوستان چھوڑو تحریک میں حصہ لیا۔ اس دوران وہ گرفتار ہوئے اور نظر بند کر دیئے گئے۔
بھلے ہی 15اگست 1947 کو ہندوستان کو آزادی حاصل ہوئی لیکن آئین ساز اسمبلی کی تشکیل اس سے کچھ وقت پہلے ہی کر لی گئی تھی جس کے صدر ڈاکٹر پرساد منتخب ہوئے تھے۔ آئین پر دستخط کرکے ڈاکٹر پرساد نے ہی اسے منظوری دی۔
ہندوستان کے صدر بننے سے پہلے وہ ایک ذہین طالب علم ،جانے مانے وکیل ،تحریک کار، ایڈیٹر، قومی لیڈر،تین بار اکھل بھارتیہ کانگریس کمیٹی کے صدر، ہندوستان کے فوڈ اور اگریکلچر منسٹراور آئین ساز اسمبلی کے صدر رہ چکے تھے۔
26جنوری1950 کو ہندوستان کو ڈاکٹر راجندر پرساد کی شکل میں اولین صدر مل گیا۔ 1962 تک وہ اس اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ 1962 میں ہی اپنے عہدہ کو ترک کرکے وہ پٹنہ چلے گئے اور عوامی خدمت میں زندگی گزار نے لگے۔1962 میں اپنے سیاسی اور سماجی قربانی کے لئے انہیں ہندوستان کے انتہائی باوقار شہری اعزاز’’ بھارت رتن ‘‘ سے نوازا گیا۔
28فروری 1963 کو ڈاکٹر پرساد کی وفات ہو گئی۔ ان کی زندگی سے جڑے کئی ایسے واقعات ہیں جو یہ ثابت کر تے ہیں کہ راجندر پرساد بے حد رحم دل اور نرم مزاج کے آدمی تھے۔ ہندوستانی تاریخ میں ان کی شبیہ ایک عظیم اور مخلص صدر کی ہے۔1921 سے 1946 کے دوران سیاسی سرگرمی کے دنوں میں راجندر پرساد پٹنہ (بہار) ودیاپیٹھ بھون میں رہے تھے۔ بعد از مرگ اسے ’ راجندر پرساد میوزیم ‘بنا دیاگیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *