ہند -اسرائیل سمجھوتہ پورا خطہ وار ژون میں بدل سکتا ہے

dami00جب پورا ملک نوٹ بندی کی افرا تفری میں پھنسا ہوا تھا تو اسی بیچ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان تاریخی سمجھوتے ہوئے۔ان سمجھوتوں سے تشویش پیدا ہوتی ہے۔ تشویش کی بات اس لئے ہے کیونکہ اسرائیل کا اسلام اور مسلمانوں کو لے کر جو ورلڈ ویو ہے، جو نظریہ ہے ،وہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک کے لئے ناقابل قبول اور نقصان دہ ہے۔ اسرائیل کی پالیسیوں کو ہندوستان کی ایک بڑی آبادی اچھا نہیں مانتی ہے۔ اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے ہندو، مسلمان ،عیسائی یعنی تمام مذاہب کے لوگ ہیں۔ اس لئے ہند- اسرائیل رشتے کو سرکار خفیہ رکھتی ہے۔یہ اگر اتفاق ہے تو عجیب غریب اتفاق ہے کہ پورا ملک نوٹ بندی کے بعد افراتفری میں پھنس گیا اور اس دوران اسرائیل اور ہندوستان کے بیچ کئی سمجھوتے ہو گئے۔ حیرانی تو اس بات کی ہے کہ ہندوستانی سرکار کے اس کارنامے پر کسی کا دھیان ہی نہیں گیا۔ میڈیا نے بھی سرکار کے اس عمل کو عوام سے چھپا لیا۔ ملک کی وہ سبھی اپوزیشن پارٹیاں جو مسلمانوں کے ووٹ پر حکومت کا مزہ لیتی ہیں، انہوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی۔
وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے پہلے وزیر اعظم ہوں گے جو اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ اسرائیل اب ہندوستان میں کمپنی لگا کر ہندوستانی سرکار کی’ میک ان انڈیا ‘اسکیم کو کامیاب کرے گا۔ اسرائیل اب ہر شہر اور گائوں میں ڈیجیٹل انڈیا نام کی اسکیم کے تحت ہر گھر تک پہنچے گا۔ اسرائیل اب ملک میں بننے والے 100 اسمارٹ سٹیوں میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اسمارٹ سٹی کی تعمیر میں تکنیک کے ساتھ ساتھ گھروں اور شہروں کو بھی بنائے گا۔ اس کے علاوہ اسرائیل اب ملک میں ہتھیار بنائے گا، ساتھ ہی ہندوستان کے کندھے سے کندھا ملا کر دہشت گرد اورنکسلواد کے خلاف لڑے گا۔ یہ سارے فیصلے تب ہوئے جب ملک کے عوام بینکوں کے باہر لائن میں لگے تھے۔ اسی دوران اسرائیل کے صدر روبین ریولین ہندوستان میں ایک ہفتہ کے سرکاری دورے پر تھے۔ اس دوران وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے ۔کئی سمجھوتوں پر دستخط کئے ۔اور تو اور صدر پرنب مکھرجی نے ان کے استقبال میں دعوت بھی کی ۔1996 کے بعد اسرائیلی صدر کا یہ پہلا دورہ تھا۔ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان ہوئے سمجھوتے کو سمجھنے سے پہلے اس دوران دیئے گئے بیانوں کا تجزیہ ضروری ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا کہ دونوں ملکوں نے رشتے کو اور بھی مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اور کتنا مضبوط کرناہے اور کیوں کرنا ہے؟ ہندوستان ویسے ہی اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اسرائیل کا دسواں سب سے بڑا بزنس پارٹنر ہے۔ ہم نے اب تک اسرائیل سے 12بلین ڈالر کے ہتھیار خریدے ہیں اور 4.52 بلین کا سالانہ کارو بار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اگر رشتے کو اور بھی زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تو اس کا مطلب ہے کہ معاملہ کچھ زیادہ ہی سنگین ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آگے کہا کہ رشتے کو مضبوط کرنے کی اس لئے ضرورت ہے تا کہ شدت پسندوں، دہشت گردوں اور انتہا پسندوں جیسے خطرے سے مل کر لڑا جاسکے۔ اب ان بھاری بھرکم لفظوں کا مطلب سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ ان تینوں لفظوں میں سب شامل ہیں جیسے اسلامی شدت پسندوں اور دہشت گردوں ، نکسلی تنظیم، علاحدگی پسندوں ، نظام میں بدلائو کی لڑائی لڑنے والے اور اقتدار سے لڑنے والی ساری طاقتیں شامل ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ ہندوستان کی سرکار اسرائیل کے ساتھ مل کر ان خطروں سے لڑنے کی تیاری کررہی ہے اور دونوں ملک انہیں ختم کرنے پر متفق ہیں۔
اب ذرا صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کے بیانوں پر غور کرتے ہیں۔ انہوں نے تو آزادی کے بعد سے چلی آرہی غیر ملکی پالیسی کو ہی الٹا کر دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں پہلے اسرائیل کے عوام کو انوکھا اور بہترین بتایا اور پھر ہندوستان کے عوام کے ساتھ ان کے اٹوٹ رشتے کا واسطہ دیا اور بتایا کہ دونوں ملک کے عوام کے درمیان کتنی مساوات ہے۔ اتنا ہی نہیں ، صدر ریولین کو گاندھی جی کی سمادھی پر پھول بھی چڑھوایا گیا اور رات کے کھانے کے دوران صدر پرنب مکھرجی نے یہاں تک کہہ دیا کہ اسرائیل کے عوام نے ہمت کے ساتھ اپنی مشکلوں کا سامنا کیا اور اپنی قوت ارادی کی بدولت ایک مضبوط ملک بن کر ابھرا ہے۔ کیا پرنب مکھرجی کے بیان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے ذریعہ فلسطین کے عوام پر ڈھائے سارے ظلم کو مناسب ٹھہرایا؟
لیکن اس سے بھی زیادہ حیرانی کرنے والا بیان صدر پرنب مکھرجی نے یہ دیا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے اسرائیل پر یہودیوں کے حق کو بر حق مانا تھا۔ ساتھ ہی پنڈت نہرو نے بھی اسرائیل پر یہودیوں کے حق کی حمایت کی تھی اور اسے ایک حقیقت مانا تھا۔ اب یہ بات سمجھ کے باہر ہے کہ جب مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو نے اسرائیل پر یہودیوں کے حق کو جائز مان لیاتو پھر 1992 تک اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے رشتے کو خفیہ کیوں رکھا گیا؟کیوں ہندوستان فلسطین کا حامی ہونے کا دعویٰ کرتا رہا؟
اب ذرا دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے معاہدوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ ہندوستان کی سرکار اب اسرائیلیوں کو زراعت، ریسرچ، کارو بار ، سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے کی چھوٹ دے رہی ہے۔ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ ہندوستانی سرکار پہلے سے ہی ہتھیار بنانے کے لئے اسرائیلی کمپنیوں کو ہندوستان میں جوائنٹ وینچر بنا کر ہتھیار بنانے کی اجازت دے چکی ہے۔ اسرائیل کے صدر نے کہا کہ ہندوستان میں جاری لبرلائزیشن اسرائیلی کمپنیوں کے لئے ایک سنہرا موقع ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے سمجھوتے کا لب لباب یہ ہے کہ اسرائیل، مودی سرکار کی ’میک ان انڈیا‘، ’ڈیجیٹل انڈیا‘،’ اسمارٹ سٹی‘ جیسے تمام اسکیموں میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ اسرائیلی کمپنیاں سیدھے ان اسکیموں سے جڑ کر انہیں پورا کرے گی۔ مطلب یہ ہوا کہ میک ان انڈیا کے تحت اسرائیلی کمپنیاں ہندوستان میں سرمایا کاری کرے گی اور الگ الگ قابل استعمال سامانوں کو بنائے گی۔ اسی اسکیم کے تحت ہندوستانی سرکار ملک میں روزگار پیدا کرنے کی بات کہہ رہی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اسرائیلی کمپنیوں میں کیا سبھی مذہب کے لوگوں کو روزگار ملے گا؟یا ان کمپنیوں میں تفریق برتی جائے گی۔ اسی طرح ڈیجیٹل انڈیا کے ذریعہ اسرائیلی کمپنیاں گائوں گائوں تک اپنی پہنچ بنائے گی۔ کیا سرکار نے یہ سوچا ہے کہ اس سے ملک کی اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے بیچ کیا پیغام جائے گا؟اسی طرح اگر اسرائیل کے ذریعہ ملک میں اسمارٹ سٹی بنایا جائے گا یا اسرائیلی کمپنیاں مکان بنائے گی تو کیا ملک کے مسلمان ان شہروں اور گھروں میں رہنے میں راحت محسوس کریں گے؟یہ سوال اٹ پٹا ضرور لگ سکتا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ، اسرائیل کو لے کر بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ان سمجھوتے پر عمل کرنے کے پہلے کیا سرکار کو ملک کیتقریبا ً 20فیصد آبادی کے بارے میں سوچنا نہیں چاہئے تھا؟سرکار نے نہیں سوچا تو کیا ملک کی دوسری پارٹیوں کو اس کے خلاف آواز نہیں اٹھانی چاہئے ۔یہ بات اس لئے بھی کہی جاسکتی ہے کیونکہ صدر ریولین کے ہند دورہ سے ایک عجیب و غریب پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کے پروگرام میں 2008 میں ہوئے ممبئی حملے کی جائے واردات کا دورہ شامل کیا گیا۔ دوسری عالمی جنگ میں شہید ہوئے ہندوستانی جوانوں کی سمادھی پر لے جایا گیا۔ ممبئی کے یہودی طبقے کے لوگوں نے چاباد ہائوس میں ایک خصوصی شردھانجلی پروگرام کا انعقاد کیا ۔ہندوستان کے سینئر افسروں اور یہودی طبقے کے چنیدہ لوگوں سے ملاقات بھی کرائی گئی۔ ہندوستانی سرکار کو سمجھنا پڑے گا کہ ملک کے اندر اب اقلیتوں یا سماج کے پسماندہ طبقوں کے خلاف پُر تشدد واقعات ہوتے ہیں تو لوگ لڑتے ہیں۔ کوٹ، میڈیا اور گلی چوراہوں پر اپنے حق جماتے ہیں اور کچھ دن بعد بھول بھی جاتے ہیں۔ ہندوستان کا اکثریتی سماج پرتشدد واقعات کی مذمت بھی کرتا ہے جس سے اقلیتوں کا حوصلہ کبھی پست نہیں ہوتا ہے۔ گئو مانس کا ایشو ہو یا کامن سول کوڈ کا اس پر مخالفت بھی ہوتی ہے اور وعدو وعید بھی ہوتے ہیں۔ ہر فریق جم کر بحث بھی کرتا ہے۔ بات آئی گئی ہو جاتی ہے لیکن جب معاملہ اسرائیل کو ملک کے اندر کھلی چھوٹ دینے کا ہو تو یہ باقی سارے معاملوں سے زیادہ حساس ہو جاتاہے۔ اسرائیل کی مداخلت سے ملک کی 20فیصد آبادی کے متنفر ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتاہے جسے ختم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کی تاریخ اور پالیسی شروع سے ہی مسلم مخالف رہی ہے۔ یہی ہندوستا ن و اسرائیل سمجھوتے کے بدلے ہوئے بھیس کا اثر بھی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل و ہندوستان بات چیت کے دوران ہر فیصلہ اسلامی دہشت گرد کو دھیان میں رکھ کر لیا گیاہے۔ دونوں ملک کے ذریعہ جاری مشترکہ پریس کانفرنس کو پڑھ کر ایسا لگتاہے کہ دنیا کے سامنے صرف دہشت گرد ہی ایک اہم مسئلہ ہے۔ حالانکہ ریلیز میں اسلامی دہشت گردی کے لفظ کا استعمال نہیں کیا گیا لیکن اندازو بیان سے یہ صاف ہو جاتا ہے۔ اسرائیل کو فلسطین سے پریشانی ہے اور ہندوستان کو پاکستان سے، اس لئے ریلیز میں یہ لکھاگیا ہے کہ وہ ملک یا تنظیم جو دہشت گردی کو تحفظ دیتے ہیں، ان کے خلاف دونوں ملک متحد ہوکر لڑیںگے ،اس اتحاد کا سب سے زیادہ اثر فوج، تکنیک اور سائبر سیکٹر میں ہوگا۔ اب یہ سمجھ کے باہر کی بات ہے کہ نہ میڈیا اور نہ ہی اپوزیشن پارٹیوں نے اس ایشو کو اٹھایا ۔خاص طور پر خود کو سیکولر ہونے کا دم بھرنے والی پارٹیوں اور لیڈروں کو تو سامنے آنا چاہئے۔ کیا وجہ ہے کہ سب کچھ خفیہ طور سے کیا گیا ۔ ہندوستان کا میڈیا ، ٹی وی چینل یا اخبار اسرائیل و ہندوستان رشتے پر مکمل جانکاری نہیں دیتے ہیں ۔لیکن اسرائیل کے اخباروں سے پتہ چلتا ہے کہ ہندو اسرائیل رشتہ پچھلے کچھ سالوں میں کتنا گہرا ہو گیا ہے۔یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ تقریباً 40ہزار یہودی ہر سال ہندوستان آتے ہیں۔ ان میں ایسے کئی لوگ شامل ہوتے ہیں جو اسرائیلی فوج میں کام کر چکے ہیں۔ یہ بات کیوں چھپائی گئی ہے کہ ہندوستان کی اسپیس ایجنسی اسرو نے حال میں ہی اسرائیل کے لئے ایک ملٹری سیٹ لائٹ کو لائونچ کیا تھا۔ ستمبر 2015 میں مودی سرکار نے اسرائیل ایئر اسپیس انڈسٹری سے 10ڈرون خریدنے کی اجازت دی۔ اس کے علاوہ ستمبر 2016 میں ہندوستان کی سرکار نے اسرائیل سے AWACS پلین لینے کی اسکیم کو ہری جھنڈی دی۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور اسرائیل کی فوج کے بیچ ایک جوائنٹ ایکسر سائز کی بھی پوری تیاری کر لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حال میں ہی اسرائیلی اخبار ’’دی ہارٹیز‘‘ نے خبر دی کہ اسرائیلی F-16 لڑاکو طیارہ کے پائلٹوں کا ایک گروپ ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ ایک الگ قسم کی مشق کرے گی۔ نومبر 2015 میں ایک اور عجیب و غریب خبر آئی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ترکی دورے کے دوران ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ہاتھوں تھی۔ مودی جب G-20 کانفرنس کے لئے انگلینڈ جارہے تھے ،اس دوران وہ ترکی میں رکے تھے۔
اسرائیلی اخبار’ جیروسلم پوسٹ‘ نے خبر دی کہ اگست کے مہینے میں ہندوستان کی بارڈر سیکورٹی فورس کی ایک ٹیم اسرائیل پہنچی تھی۔ بی ایس ایف کی ٹیم اسرائیلی راڈار ٹکنالوجی اور ڈیٹکشن سسٹم کو آپریٹ کرنے کی تکنیک کی ٹریننگ کے لئے آئی تھی۔ مطلب یہ کہ ہندوستان نے اسرائیلی راڈار ٹکنالوجی کو ہندوستان لے کر آنے والی ہے۔ اسے کشمیر میں استعمال کیا جائے گا۔ اسے نکسلیوں کے خلاف آپریشن میں بھی استعمال کیا جاسکتاہے۔ اس پورے سسٹم کی خاصیت یہی ہے کہ یہ گھنے جنگل اور پہاڑوں میں بخوبی کام کرتا ہے ۔اس میں اعلیٰ قسم کے سینسر لگے ہوئے ہیں جو انسانوں اور گاڑیوں کو گھنے جنگل میں بھی نشان زد کر سکتا ہے اور ان کا پیچھا کرسکتا ہے۔ اس خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس راڈار سسٹم کو خریدنے کی منظوری سیدھے اجیت ڈوبھال نے دی تھی۔ جانکار بتاتے ہیں کہ یہ راڈار سسٹم کا استعمال اسرائیل نے فلسطین کے کئی لیڈروں اور فسادیوں کو ختم کرنے کے لئے کیا ۔ اس کا نشانہ غلط نہیں ہوتا ہے۔
ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان تاریخی سمجھوتے ہوئے لیکن لوگوں کو پتہ تک نہیں ہے۔ ہندوسان،اسرائیل کے ساتھ کیوں نزدیکیاں بڑھانا چاہتا ہے۔ دونوں ملکوں کی پالیسی کیاہے اور دونوں ملکوں کو اس سے کیا فائدہ ملنے والا ہے۔ لگتا تو یہی ہے کہ اس کٹھ جوڑ کا مقصد اسلامی دہشت گرد ی کا خطرہ دکھاکر جنوبی ایشیا کو وار ژون میں بدلنا چاہتی ہے۔کیا اسرائیل اور ہندوستان کی سرکار پاکستان کی تباہی اور جموں و کشمیر پر دبائو بنانے کی تیاری کررہی ہے۔ کیا اس کٹھ جوڑ کا مقصد صرف اتناہے کہ دونوں ملکوں کا دشمن ایک ہی ہے ،مطلب اسلامی دہشت گرد اور پاکستان۔ کیا ہندوستانی سرکار نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گرد اور پاکستان کے خلاف اسٹرائک اینڈ کرش یعنی حملہ کرنے اور کچلنے کی پالیسی بنائی ہے۔ ایسے کئی سوال ہیں جو آج اہم بن گئے ہیں ،کیونکہ دہشت گرد، نظریاتی انتہا پسند،مذہبی قدامت پسند ی اور تشدد سے ہندوستان کو خطرہ تو ہے لیکن اس کا حل ملک کے اندر ہی نکالنا پڑے گا۔پاکستان کے ساتھ رشتے سدھار کر نکالنا پڑے گا۔اسرائیل کے ساتھ مل کر اس کا کوئی حل نہیں نکل سکتا۔ اس کے بر خلاف یہ پورا علاقہ وار ژون میں بدل جائے گا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *