گلوکار اعظم محمد رفیع

damiبرصغیر ہند و پاک کی دو عظیم شخصیتیں جولائی 1980 میں داغِ مفارقت دے گئیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ دونوں کا تعلق موجودہ ہندوستان سے ہے، یہیں پیدا ہوئے، یہیں تعلیم حاصل کی، لیکن دونوں کے والدین بغرض ملازمت یا تجارت لاہور اور کراچی میں بود و باش اختیار کرلی۔ محمد رفیع (پ: 24 ستمبر 1924) امرتسر (پنجاب) کے ایک گائوں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے۔ اسی گائوں میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد 1935 میں وہ اپنے والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہوگئے۔ ان کو بچپن ہی سے گیت اور موسیقی کا شوق تھا جبکہ ان کی عمر 11، 12 سال تھی۔ لاہور میں وہ بڑے غلام علی کی تربیت میں رہے۔ 14، 15سال کی عمر میں معروف گلوکار کے ایل سہگل سے متاثر ہوئے۔ والد موسیقی کے خلاف تھے لیکن اپنے بڑے بھائی کی حوصلہ افزائی 1941-42 میںممبئی آگئے۔ ان کے ساتھ بڑے بھائی بھی تھے۔ جولائی 1980 میں انتقال کرنے والی دوسری شخصیت ابن صفی کی تھی۔ ان کا انتقال محمد رفیع سے چار دن قبل 26 جولائی کو ہوا اور محمد رفیع 31 جولائی 1980 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ابن صفی (پ: اپریل 1928) الٰہ آباد کے قصبہ نارہ میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کی تکمیل الٰہ آباد اور آگرہ یونیورسٹی میں ہوئی۔ جس طرح محمد رفیع برصغیر کے لاثانی گلوکار تھے اسی طرح اردو ادب میں ابن صفی کا کوئی ثانی پیدا نہیں ہوا۔ محمد رفیع لاہور (موجودہ پاکستان) سے بمبئی آگئے۔ ان کے ہم عصروں میں نورجہاں، فیروز نظامی اور نثار بزمی جیسی فلمی شخصیتیں پاکستان چلی گئیں لیکن رفیع نے ہندوستان چھوڑنے کی نہیں سوچی۔ ابن صفی اپنے والدین کی خاطر الٰہ آباد (ہندوستان) سے کراچی (موجودہ پاکستان) ہجرت کرگئے۔ دونوں اپنے اپنے فن کے ماہر اور ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے۔ دونوں کا تعلق اردو کے عوام سے تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ دونوں کو خواص سے پذیرائی نہیں ملی لیکن عوام کے دلوں میں دھڑکتے رہے۔
ان پر ایک معرکۃ الآراکتاب ’گلوکار اعظم محمد رفیع‘ آئی ہے جس کو تخلیق کار پبلیشرز دہلی نے چھاپی ہے۔ اس کے مصنف ونود وپلو ہیں جو کہ ہندی میں ’میری آواز سنو‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ اس کا ترجمہ ڈاکٹر سید تنویر حسین نے کیا اور اردو ایڈیشن میں اضافہ کرتے ہوئے کتاب کو ایڈٹ بھی کیا جس کا اعتراف خود مصنف نے بھی کیا ہے۔
چار ہزار نو سو پچیس فلمی گیتوں کے گلوکار محمد رفیع کے فلمی کریئر کا باضابطہ آغاز اگرچہ 1941 میں ہوا لیکن 1951 سے ان کی شہرت کا ڈنکا بجنے لگا۔ 1949 میں محمد رفیع کے مقابلے میں صرف طلعت محمود اور مکیش تھے لیکن 1951 سے اپنی ہمہ گیر گلوکاری کے سبب وہ عروج کی طرف بڑھنے لگے۔ اس طرح وہ 1955 سے 1970 تک اپنے فلمی کریئر کی بلندی پر فائز تھے۔ ہرمندر سنگھ ہمراز نے ’گیت کوش‘ کے نام سے پانچ جلدوں 1931 سے 1980 تک کے فلمی گیتوں کا انسائیکلو پیڈیا تیار کیا اس میں محمد رفیع کے تمام گیت (فلمی و غیر فلمی گیت) کی تعداد 4925 ہے۔ انہوں نے مختلف راگوں میں گیت گائے۔ دیش بھکتی گیت ہی نہیں بلکہ بھجن میں بھی وہ اپنے زمانے کے لاثانی گلوکار تھے۔ ان کا شمار ان گلوکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے فلم انڈسٹری کو سب سے زیادہ مقبول قوالیاں بھی عطا کیں۔ وہ ایک نیک اور ملنسار انسان تھے۔ کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا حتیٰ کہ سگریٹ نوشی سے بھی دور رہے۔ ابن صفی بھی کبھی نشہ آور اشیا کے قریب نہیں پھٹکے۔ البتہ موسیقی سے انہیں خاص لگائو تھا۔ انہوں نے اپنے ایک کردار پر فلم بھی بنائی تھی۔
کتاب کے مصنف محمد رفیع کی سحر انگیز آواز کی خصوصیات کو کچھ اس طرح اجاگر کرتے ہیں:
’’ہر آدمی چاہے وہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی حالت میں ہو، اپنے دل کے سکون کے لیے محمد رفیع کے گیتوں میں پناہ لے سکتا ہے۔ رفیع کے گیت بڑے برگد کی ٹھنڈی چھائوں کی طرح ہیں، جہاں غریبی، بدحالی، تنگی، بے اعتنائی، دھوکہ، فریب، ناامیدی اور ذہنی پراگندگی کی تمتماتی دھوپ سے پریشان اور سارے جہاں سے ٹھکرایا اور دھتکارا گیا انسان راحت پاتا ہے۔ ان کی آواز مامتا سے لبریز اور پیار بھرے دامن والی ماں کی گود، سہارا دینے کو آمادہ باپ کے کندھے اور تجربہ کار استاد کی سیکھ کی طرح راحت بخشتی ہے۔‘‘ (ص: 54، 55)
1948 میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد حسن لال بھگت رام کے میوزک ڈائرکشن میں راجندر کرشن کا تحریر کردہ گیت ’سنو سنو اے دنیا والو، باپو کی یہ امرکہانی، سن کر جواہر لعل نہرو کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ اس کے باوجود محمد رفیع کو ان کی حیات میں اور نہ ہی مرنے کے بعد ’بھارت رتن‘ سے نوازا گیا۔ انہیں تو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی نہیں دیا گیا۔ حالانکہ فلم انڈسٹری میں ان سے زیادہ سیکولر، غیر متعصب اور قومی یک جہتی کا حامل انسان ابھی تک کوئی دوسرا نظر نہیں آیا۔ اردو دنیا کے عظیم فکشن نگار ابن صفی کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔ حکومت پاکستان ہی نہیں وہاں کے دانشور طبقہ نے بھی کوئی ادبی مقام عطا نہیں کیا۔ البتہ رفیع کے انتقال کے بعد معروف گلوکارہ لتا منگیشکر کا ردعمل کچھ اس طرح تھا: ’’فلم سنگیت کا ایک دور سہگل کے ساتھ ختم ہوا اور رفیع کے ساتھ دوسرا دور بھی ختم ہوگیا۔‘‘
چھ ابواب پر مشتمل اس کتاب میں فاضل مصنف نے بڑی تحقیق و جستجو کے بعد محمد رفیع کی ہمہ جہت شخصیت کو اجاگر کیا ہے۔ باب سوم میں نایاب تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔ باب چہارم میں نوشاد، لتا منگیشکر، شنکر جے کشن، لکشمی کانت پیارے لال، مناڈے، طلعت محمود اور شمی کپور کی یادوں پر مشتمل مضامین ہیں۔ حیرت ہے کہ اس میں دلیپ کمار (یوسف خان) کا کوئی تاثراتی مضمون نہیں۔ اسی باب میں انعامات و اعزازات کا بھی ذکر ہے۔ باب پنجم ضمیمہ کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے جس میں معروف ناقد تنویر احمد علوی، کنور مہندر سنگھ بیدی، استاد فیاض احمد خاں، انیس امروہوی، مسعود مرزا نیازی اور ادارہ فلمی ستارے، دہلی سے ماخوذ مضامین ہیں۔ باب ششم میں منظوم خراج عقیدت پیش کی گئی ہے جس میں ایک نام قیصرالجعفری کا بھی ہے۔ یہ کتاب مجموعی طور پر محمد رفیع کی شخصیت اور خدمات کا سیر حاصل احاطہ کرتی ہے۔ سرورق، کاغذ اور طباعت بھی عمدہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *