کون ہیں پونہ کے این جی او اور مالیاتی تھیورسٹ؟

dami00گزشتہ شمارہ میں ’’چوتھی دنیا‘‘کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے اپنے اداریہ ’جب توپ مقابل ہو‘ میں اشارہ کیاتھا کہ پونہ کے ایک این جی او کی صلاح پر نوٹوں کو رد کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے اس این جی او کے بارے میں بتایا تھا کہ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کا رشتہ آر ایس ایس سے ہے اور اس نے ملک کی معیشت کی سدھار کے لئے اپنے ایک انجینئر ساتھی کی مدد سے ملک کی معیشت کے تمام منظر نامے بدل دیئے۔ ان کے اس اشارے پر پورا ملک چونک گیا ہے اور یہ تجسس ہو چلا ہے کہ کون ہے پونہ کا یہ این جی او اور اس انجینئر ساتھی کی چوہدّی کیا ہے؟
ملک کا چونکنا ہونا فطری ہے۔کیونکہ اس ایک فیصلہ نے ہندوستان کی معیشت کی تاریخ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کوئی محمد بن تغلق کے ذریعہ 14ویں عیسوی صدی کے پہلے نصف میں سونے اور چاندی سے بدل کر تانبے اور پیتل میں سکہ کو منتقل کرنے کی ناکام پالیسی کو یاد کررہا ہے تو کوئی آزاد ہندوستان میں سکہ ؍کرنسی کے سابقہ فیصلوں کا ذکر کررہا ہے جس کے تحت روپیہ کے 16 آنے کو ختم کرکے نئے پیسے کا سلسلہ شروع کیا گیاتھا اور پھر بعد میں اس میں سے ’نیا‘ لفظ بھی ہٹا لیا گیا تھا۔اسی ضمن میں آزادی سے ایک برس قبل کا وہ فیصلہ بھی ذہن میں آتا ہے جب 1946 میں اس وقت کی حکومت نے 1000اور0 1000 روپے کے نوٹ بند کئے تھے۔حالانکہ اس کے بعد 1954 میں ان نوٹوں کو دوبارہ جاری کردیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ پانچ سو روپے نوٹ بھی جاری ہوا تھا جو کہ 1980 کی دہائی تک چلتے رہے۔ 1978 میں مرار جی دیسائی کی قیادت میں جنتا پارٹی حکومت نے بھی کالا دھن پر لگام لگانے کے مقصد سے ان نوٹوں کو بند کردیا تھا۔
جہاں تک پونہ کے مذکورہ این جی او کی بات ہے، اس کا نام ’ارتھ کرانتی سنستھان ‘ہے اور انجینئر ساتھی کوئی اور نہیں بلکہ انیل بوکل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بوکل اور ان کا گروپ ملک میں مالیاتی اصلاحات کی بات کرتا ہے ۔انگریزی روزنامہ ’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق 2015 میں بوکل کے وزیر اعظم نریندر مودی سے دو گھنٹے کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے دوران بوکل نے ’ارتھ کرانتی سنستھان‘ کی جانب سے مالیاتی اصلاح کے لئے تجویز پیش کی تھی۔ بوکل کا دعویٰ ہے کہ دراصل ارتھ کرانتی سنستھان کی یہ وہ تجویز ہے جن سے وزیر اعظم کا نوٹوں کے تعلق سے حالیہ فیصلہ ماخوذ ہے۔
انل بوکل، جو کہ فی الوقت 60برس کے آس پاس ہیں، نے میکنکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی مگر بعد میں ان کی دلچسپی مالیاتی امور میں ہوگئی اور وہ پھر مالیاتی تھیورسٹ بن گئے۔ بوکل نے اپنے ’ارتھ کرانتی سنستھان‘ کے تحت جو مالیاتی تھیوری پیش کی ہے، اس میں ایک پانچ نکاتی پلان پیش کیا ہے۔ اس پلان میں بد عنوانی کو ختم کرنے، افراط زر کو کم کرنے اور ملک کی جی ڈی پی کو بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔ دیگر نکات میں اونچی ڈینومیٹیشن والی کرنسی کو واپس کرنا اور تمام ٹیکسوں کو ختم کرکے سبھی لین دین پر دو فیصد ٹیکس صرف بینکوں کے ذریعے نافذ کرنا شامل ہے۔
یہ مالیاتی تھیورسٹ مہاراشٹر کے لاتور کے رہنے والے ہیں۔ اپنی انجینئرنگ کی تعلیم کے بعد یہ مراٹھواڑا کے صنعتی شہر اورنگ آباد منتقل کرگئے تھے۔چند مقامات پر کام کرنے کے بعد انہوں نے ایک کو آپریٹیو ورکرس سوسائٹی شروع کی تھی۔ 2008 میں یہ پونہ آگئے تھے جہاں سے انہوں نے مالیات سے متعلق ایک ماہنامہ نکالا تھا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مرکزی حکومت کے جس فیصلہ پرپورا ملک پریشان ہے اور پوری دنیا کی نگاہ اس ملک پر لگی ہوئی ہے(دیکھئے عربی پریس کا ردعمل صفحہ 8 پر)، انل بوکل بالکل پُرسکون ہیں اور بڑے ہی اطمینان سے کہتے ہیں کہ ’’ یہ سب عارضی مرحلہ ہے۔جو لوگ واقعی پریشانی میں ہیں، وہ دراصل وہ لوگ ہیں جنہوں نے کالے دھن کو فروغ دیا ہے‘‘۔
انل بوکل کے اس انداز پر تو ملک ہی کو فیصلہ کرنا ہے کہ اگر واقعی موجودہ فیصلہ ان کی مذکورہ تھیوری سے متاثر ہو کر لیاگیاہے تو ان کا فیصلہ کیسا ہے اور اس پر ان کا کیا رد عمل ہے؟کیونکہ اس فیصلہ سے ایک ایسا وقت پہلی بار آیا ہے جب ملک کا ہر ایک شخص خواہ وہ سماج کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہے، متاثر ہوا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ آزمائش بھرا مرحلہ کب ختم ہوتا ہے اور کیا رنگ لاتا ہے؟یہ واقعی لمحہ فکریہ ہے پورے ملک کے لئے ۔
انل بوکل کے اس دعوے کی تحقیق میں جب یہ کالم نویس قومی راجدھانی کے مختلف بینکوں میں گیا تو ایسا لگا کہ واقعی ملک کے عوام لائن میں لگے ہیں اور ان لوگوں میں مزدور ، پیشہ ور، ملازمین،طلبائ، طالبات اور سروس کرنے والی کے ساتھ گھریلو عورتیں بھی شامل ہیں۔یونین بینک کے اوکھلا ہیڈ برانچ میں لگی قطار میں تقریباً ایک ہزار افراد تھے۔ ان میں سے 32سالہ احمد مجتبیٰ نے کہا کہ ’’میں ایک بجے رات سے ایک بجے دن تک کھڑا رہا۔ پانچ بجے صبح تک یہاں 18افراد تھے اور اس کے بعد تعداد بڑھتی گئی۔ جب دس بجے بینک کھلا تو ایک ہزار لوگ قطار میں آچکے تھے جن میں عورتوں اور مردوں کی الگ الگ لائن تھی‘‘۔ شیریں نے کہا کہ بغیر کھائے پیئے ہم لوگ یہاں لائن میں لگے ہیں اور تب جاکر ہم روپے بدلوا سکے ہیں، بڑی مشقتوں سے اکائونٹ سے روپے نکالتے ہیں یا اکائونٹ میں روپے رکھتے ہیں۔ فرحان کا کہنا ہے کہ کالا دھن والے تو متاثر ہوئے نہیں ہوئے مگر عام آدمی متاثر ہوگیا ہے اور محنت کرنے والے افراد لائن میں لگا دیئے گئے ہیں۔
مجموعی طور پر صورت حال یہ ہے کہ بینکوں میں قطاروں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہوا ہے کہ متعدد بازار بند ہیں، دکانیں بند ہیں اور تھری وہیلر کے ساتھ ٹیکسیاں بے کار کھڑی ہیں۔ تھری وہیلر چلانے والے آنند نے بتایا کہ مختلف پیشوں میں کام متاثر ہوا ہے اور 25لاکھ ٹرک بے کار کھڑے ہیں۔اس حالت میں اگر انل بوکل واقعی ذمہ دار ہیں اس نوٹ بندی پر تو یقینا یہ سوال ان سے ہے کہ یہ مالیاتی اصلاح کی کیسی تھیوری ہے جس سے عام آدمی بری طرح متاثر ہوگیا ہے۔ متعدد شادیاں انجام نہیں دی جاسکی ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے تقریبا ڈیڑھ کروڑ شادیاں متاثر ہوئی ہیں کیونکہ ان کے پاس نیا نوٹ نہیں ہے۔ کچھ شادیاں انجام دی جارہی بھی ہیں تو ڈھیر ساری پریشانیوں کے ساتھ۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محمد بن تغلق کے تقریبا 800 برس بعد ہندوستان کے عوام ایک بار پھر پریشانی میں ہیں۔ محمد بن تغلق نے تو اپنے فیصلہ کو واپس لے لیا تھا۔سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حکومت بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی یا کوئی اور حل تلاش کرے گی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *