نوٹ بندی راحت یا زحمت؟

dami00گزشتہ 8نومبر کی رات سے ملک بھر میں افرا تفری کا ماحول ہے۔ بینکوں کے باہر صبح سے رات تک لمبی لمبی قظاریں لگی ہوئی ہیں، سارے کام چھوڑ کر لوگ اپنا پیسہ نکالنے کے لئے جدو جہد کررہے ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کا علاج نہیں ہو پا رہا ہے ، بازار بند پڑے ہیں، مزدوروں کو مزدوری نہیں مل پارہی ہے ، عام لوگ روز مرہ کی ضرورتیں تک پوری نہیں کر پارہے ہیں۔ ملک میں کئی جگہ صدمے سے لوگوں کی موت تک ہو جانے کی خبریں آرہی ہیں۔ ملک کے بڑے سرمایا کاروں، کاروباریوں، افسروں، تانا شاہوں، فلمی اداکاروں میں کالے دھن پر اس نام نہاد سرجیکل اسٹرائک سے کوئی بے چینی یا کھلبلی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے کارندے لائنوں میں لگے نوٹ بھلے ہی بدلوا رہے ہوں، پورے ملک کا منظر یہی ہے۔
ملک کی 90 فیصد پونجی محض 10 فیصد لوگوں کے پاس ہے اور اس میں سے آدھے سے زیادہ پونجی محض ایک فیصد لوگوں کے پاس ہے۔ یہ سب کچھ ملک کے قدرتی وسائل کی بے تحاشہ لوٹ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ کالا دھن صرف وہ نہیں ہوتا جسے بکسوں میں بند کرکے، بستروں کے نیچے دبا کر یا زمین میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ ملک میں کالے دھن کا محض چھہ فیصد نقد کی شکل میں ہے۔ کالے دھن کا زیادہ حصہ ریئل اسٹیٹ، بیرون ملکوں میں جمع پیسہ اور سونے کی خرید وغیرہ میں لگتا ہے۔ کالا دھن بھی سفید دھن کی طرح بازار میں گھومتا رہتا ہے اور اس کا مالک اسے لگاتار بڑھاتا رہتا ہے۔ آج پیسے کی شکل میں جو کالا دھن ہے وہ کُل کالے دھن کا بے حد چھوٹا حصہ ہے اور وہ بھی لوگوں کے گھروں میں نہیں بلکہ بازار میں لگا ہوا ہے۔ آج ملک کے کالے دھن کا زیاد تر حصہ بینکوں کے ذریعہ سے پناما، سوئس اور سنگاپور کے بینکوں میں پہنچ جاتا ہے۔ اصلی بد عنوانی لیبر کی لوٹ کے علاوہ سرکار کے ذریعہ زمینوں اور قدرتی وسائل کو اونے پونے قیمتوں پر سرمایا کاروں کو بیچ کر کیاجاتاہے۔ ساتھ ہی بڑی کمپنیوں کے ذریعہ کم یازیادہ کے فرضی بلوں کے ذریعہ بینکوں کے قرضوں کی ادائیگی نہ دے کر اور اسے بعد میں بینکوں کے ذریعہ نان پرفارمنگ پراپرٹی اعلان کرا لینے اور اس کی ادائیگی عوام کے پیسے سے کرانے ، برے قرض ( بیڈ لون ) کی معافی اور اس کا بینکوں کو ادائیگی عوام کے پیسوں سے کرکے بد عنوانی کی لیپا پوتی کی جاتی ہے۔ سرمایا داروں کے ذریعہ ہڑپ لیا گیا پیسہ غیر ملکی بینکوں میں جمع ہوتا ہے اور پھر وہاں سے ملکی اور غیر ملکی بازاروں میں لگتا ہے۔ اس بد عنوانی میں کالے دھن کا ایک حصہ چھوٹے کاروباریوں اور افسروں کو بھی جاتاہے، لیکن یہ کُل کالے دھن کے تناسب میں بہت چھوٹا ہے۔
مودی سرکار کے کالے دھن پر سرجیکل آپریشن کے اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہئے کہ مئی 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد جون 2014 میں ہی غیر ملکوں میں بھیجے جانے والے پیسے کا تناسب فی کس 55,000ڈالر سے بڑھا کر 1,25,000 ڈالر کر دیا اور جو اَب 2,50,000 ڈالر ہے ۔ مرکزی سرکار کے صرف اس فیصلے سے گزشتہ تقریباً ایک سال میں ، 30,000 کروڑ روپے بیرون ملکوں میں چلے گئے۔ بیرونی ملکوں سے کالا دھن واپس لانے کی بات کرنے اور لوگوں کو دو دن میں جیل بھیجنے والی مودی سرکار کے دو سال گزر جانے کے بعد بھی عالم یہ ہے کہ ایک آدمی بھی جیل نہیں بھیجا گیا۔ کیونکہ اس لسٹ میں کئی ایسے نام بھی ہیں جو مودی کے چہیتے بتائے جاتے ہیں۔ اس میں امبانی ، اڈانی سے لے کر امیت شاہ، اسمرتی ایرانی اور بی جے پی کے کئی لیڈروں کے نام ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یو پی اے کے دور حکومت میں بڑے گھوٹالے ہوئے، لیکن کیا بی جے پی کی موجودہ سرکار کے دور میں فوجی تابوت گھوٹالہ نہیں ہوا تھا؟کیا مدھیہ پردیش کا ویاپم گھوٹالہ، پنکج مونڈے اور وسوندھرا راجے کے گھوٹالے لوگ بھول چکے ہیں؟کیا وجے مالیا اور للت مودی جیسے سرمایا دار ہزاروں کروڑ پیسہ لے کر بی جے پی کے موجودہ دور حکومت میں غیر ملکی نہیں بھاگ گئے؟آج ملک میں99 فیصد کالا دھن اسی شکل میں ہے اور یہ صاف ہے کہ اس میں ملک کے لیڈر،وزیروں اور سرمایا کاروں کی ہی مداخلت ہے۔
آج ملک میں موجودہ کل 500اور 1000 نوٹوں کا ویلیو 14.18 لاکھ کروڑ ہے جو کہ ملک میں موجود کل کالے دھن کا محض تین فیصد ہے جس میں جعلی نوٹوں کی تعداد سرکار اسٹبلشمنٹ نیشنل اسٹیٹسٹک انسٹی ٹیوٹ کے مطابق محض 400 کروڑ ہے۔ اگر ایک بار مان بھی لیا جائے کہ ملک میں موجود ان تمام نوٹوں کا نصف کالا دھن ہے، تب بھی ڈیڑھ فیصد سے زیادہ کالے دھن پر پابندی نہیں لگ سکتی ۔ دوسری طرف جن پاکستانی نقلی نوٹوں کی بات مودی سرکار کررہی ہے، وہ 400کروڑ ہی ہے، جو نصف فیصد بھی نہیں ہے۔ اب تو یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ سرکار نے جو 2000 کے نئے نوٹ نکالے ہیں، اس سے آنے والے دنوں میں بد عنوانی اور کالا دھن 1000کے نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ بڑھے گا۔ اس سے پہلے چاہے1948 یا 1998 میں نوٹوں کو ہٹانے کا فیصلہ ہوا۔ لیکن اتنی بری مار عوام پر کبھی نہیں پڑی۔ حالانکہ آبادی کا دبائو بھی تب اتنا نہیں تھا۔
نوٹ بندی کی وجہ سے مہنگائی، بے روزگاری، کسان ،مزدوروں کی مشکلوں جیسے تمام مسائل پر چرچا بند ہو گئی۔ اب صرف چرچا ہے تو نوٹ بندی کی۔ اسی کے بل بوتے پر بی جے پی اتر پردیش اور پنجاب کے انتخابات میں بازی مار لینا چاہتی ہے۔لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ملک کاسارا کالا دھن 5,000 سے 15,000 روپے کمانے والے عام مزدوروں کے پاس ہے؟رکشہ چلانے والا مزدور، دیہاڑی مزدور، ریہڑی خومچہ لگانے والے لوگ، چھوٹی موٹی نوکری کر کے زندگی گزارنے والے عام آدمی بینکوں کے سامنے لائن میں لگے ہیں۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کے پاس بینک کھاتے نہیں ہیں۔ شناختی کارڈ نہیں ہیں۔ آنے جانے کے پیسے نہیں ہیں۔ راشن کے پیسے نہیں ہیں۔ دلال اس افرا تفری کا بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ افواہیں اڑ رہی ہیں، کہیں نمک مہنگے دام پر فروخت ہورہے ہیں تو کہیں 500 کے نوٹ 300 اور 400 روپے میں لئے جارہے ہیں۔کوئی بیٹی کی شادی کو لے کر پریشان ہے تو کوئی اسپتال میں پریشان ہے۔
ملک میں مندی اور سرمایا داروں کے ذریعہ بینکوں کے قرضے کو ہڑپ جانے کے بعد ملک کے پاس کرنسی نہیں بچی تھی۔ کیش کرنچ (نقدی کے اثرات ) کی وجہ سے سرمایا داروں کو نیا قرض ملنے میں مشکلیں پیش آرہی تھیں۔عوام کی گاڑھی ایماندار کمائی کی جو رقم بینکوں میں جمع ہوگی، اس سے سرمایا داروں کو پھر سے منافع لوٹنے کے لئے قرض کی شکل میں پیسہ دیاجاسکے گا۔ سرمایا داروں کے ذریعہ تمام بڑے لون بینکوں سے لئے گئے ہیں اور ان کو چکایا نہیں گیا ہے۔ آج عوامی شعبے کے بینک 6,00,000 کروڑ روپے کی بھیانک کمی کا سامنا کررہے ہیں۔ سرمایا داروں کو پھر قرض چاہئے اور سرکار اب عوام کے پیسے بینکوں میں بھروا رہی ہے جس سے پیسہ والوں کو قرض دیا جاسکے۔ ریلائنس، ویدانتا سمیت کئی بڑے سرمایا دار گھرانے قرض کے لئے قطار میں کھڑے ہیں۔
یو پی کے کسانوں کو کیوں ڈالا مشکل میں
سماج وادی پارٹی کے اتر پردیش کے صدر شیو پال یادو کا کہناہے کہ مرکزی سرکار نے اتر پردیش کے کو آپریٹیو بینکوں پر پرانے 500 اور 1000 کے نوٹوں کو بدلنے اور نکالنے کی منظوری نہ دے کر کوآپریٹیوبینکوں کا وجود ہی خطرے میں ڈال دیاہے۔ اس سے کسانوں کو بھیانک مشکل کا سامناکرناپڑ رہا ہے۔ خطے کے کسانوں کا کھاتہ زیادہ تر گائوں دیہات کے کو آپریٹیو بینکوں میں ہی ہوتاہے، لیکن وہ بینک نوٹ نہیں بدل سکتے۔ گائوں سے دور شہروں میں جاکر بڑے بینکوں میں پیسہ جمع کرانا کسانوں کے لئے بڑا جوکھم بھرا کام ہوتا ہے۔ کو آپریٹیو بینکوں کی تشکیل ہی کسانوں و دیہی عوام کی سہولت کے لئے کیا گیا تھا، لیکن مرکزی سرکار کے اس فیصلے سے ان دیہی بینکوں کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ گیاہے۔ابھی ربیع کی فصل بوائی کا وقت ہے۔ کسان کو فصل لگانے کے لئے بیج و کھاد وغیرہ کے لئے پیسوں کی ضرور ت ہے،لیکن مرکزی سرکار کے پیسے نکالنے پر روک لگانے سے کسان کے سامنے یہ بحران کھڑا ہو گیاہے کہ وہ آخر وہ فصل کی بوائی بغیر بیج اور کھاد کیسے کرے۔ شیو پال نے کہا کہ ہریانہ کے کوآپریٹیو بینکوں کو پرانے نوٹوں کو جمع کرنے اور نئے نوٹ نکالنے کی منظوری دی گئی کیونکہ وہاں بی جے پی کی سرکار ہے۔ لیکن یو پی کے کو آپریٹیو بینکوں کو منع کر دیا گیا۔ مرکز نے سیاسی اختلاف میں اتر پردیش کے کسانوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے۔ مرکزی سرکار کا یہ فیصلہ یو پی کے کسانوں پر سخت حملہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *