پیارے باپو

damiآنند بھون ، الٰہ آباد
9 اکتوبر 1945
پیارے باپو،
اختصار میں کہوں، تو میرا ماننا ہے کہ ہمارے سامنے سوال سچ بنام جھوٹ اور عدم تشدد بنام تشدد کا نہیںہے۔ سبھی کی کوشش ہونی چاہیے کہ تعاون اور پُرامن راستہ ہمارا مقصد ہو اور ایک ایسے سماج کی تعمیر کرناہمارا مقصد، جو اس راستے پر لے جانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہو۔سوال یہ ہے کہ ایسے سماج کی تعمیر کیسے ہو اور اس کے اجزاء کیسے ہوں؟ مجھے سمجھ نہیںآتا کہ کسی گاؤں میں سچائی اور عدم تشدد پراتنا زور کیوں دیا جاتاہے؟ عام طور مانا جاتا ہے کہ گاؤوں میں رہنے والے لوگ حکمت اور ثقافتی طور پر پچھڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک پچھڑے ہوئے ماحول میں کوئی ترقی نہیںہوسکتی، بلکہ تنگ خیالات والے لوگوںکے جھوٹے اور تشدد آمیز ہونے کا امکان زیادہ رہتا ہے۔
اس کے علاوہ ہمیں اپنے کچھ اہداف بھی طے کرنے ہیں، مثلاً غذائی تحفظ، کپڑے، رہائش، تعلیم، حفظان صحت وغیرہ۔ یہ وہ کم از کم اہداف ہیں، جو کسی بھی ملک یا شخص کے لیے لازمی ہیں۔ ان مقاصد کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم کتنی تیزی سے انھیںحاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹریفک کے جدید وسائل اور دوسری جدید سرگرمیوں کی ترقی اور ان کی مسلسل ترقی بھی مجھے ناگزیر لگتے ہیں۔
اس کے علاوہ مجھے کوئی اور راستہ نہیںدکھائی دیتا۔ بھاری صنعتیں بھی آج کی ضرورت ہیں اور کیا یہ سب خالصتاً دیہی ماحول میں ممکن ہے؟ ذاتی طور پر میرا ماننا ہے کہ بھاری اور ہلکی صنعتوں کی جتنی ممکن ہو ، لامرکزیت ہونی چاہیے اور بجلی کا نیٹ ورک بن جانے کے بعد یہ ممکن بھی ہے۔ ملک میںاگر دو طرح کی معیشت کام کرے گی تو یا تو دونوںکے درمیان کھینچاؤ ہوگا یا ایک، دوسرے پر حاوی ہوجائے گی۔
لاکھوں کروڑوں لوگوںکے لیے محل بنانے کا سوال نہیں ہے۔ لیکن اس کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان سبھی کو ایسے آرام دہ اور جدید گھرمل سکیں، جہاںوہ ایک اچھی مہذب زندگی جی سکیں۔ اس میں کوئی شک نہیںہے کہ کئی بھاری بھرکم شہروںمیںبہت سی برائیاں گھر کرگئی ہیں۔ ان کی مذمت کی جانی چاہیے۔ شاید ہمیں ایک حد سے زیادہ شہروں کی ترقی پر روک لگانی ہوگی، لیکن ساتھ ہی گاؤںوالوں کو اس بات کے لییراغب کرناہوگا کہ وہ شہروں کی ثقافت میںخود کو ڈھال سکیں۔
اس بات کو کئی سال ہوگئے ہیں، جب میںنے ہندسوراج پڑھی تھی۔ آج میرے دماغ میں اس کی کچھ دھندلی سی یادیں ہیں، لیکن جب میںنے اسے 20یا زیادہ سال پہلے پڑھا تھا، تب بھی وہ مجھے ناقابل عمل لگی تھی۔ اس کے بعد کے آپ کے مضامین و تقاریر سے مجھے لگا ہے کہ آپ بھی اس وقت سے کافی آگے نکل چکے ہیں اور جدید ماحول کو سمجھنے لگے ہیں۔
اس لیے مجھے تب تعجب ہوا ، جب آپ نے کہا کہ وہ پرانی تصویر آج بھی آپ کے دماغ میںبسی ہوئی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ کانگریس نے اس تصویر پر کبھی غور نہیںکیا ۔ اسے قبول کرنے کی بات تو چھوڑ ہی دیجئے۔آپ نے خود بھی کبھی اس کے لیے زور نہیںدیا،سوائے ایکاد معمولی سی شکایت کو چھوڑ کر۔
یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ اس طرح کے بنیادی، لیکن فلسفیانہ سوالوں پر کانگریس کو غور بھی کرنا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ کانگریس جیسی تنظیم کو اس طرح کی کسی بحث میں نہیں الجھنا چاہیے، جس سے لوگوںکے دماغ میںالجھن پیدا ہو او روہ حال میں کام کرنے میں قاصر ہو جائیں۔ اس سے کانگریس اور ملک کے دوسرے لوگوں کے بیچ ایک دیوار بھی کھڑی ہوسکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *