ٹی وی چینلوں سے متعلق قوانین میڈیا کی آزادی پر کوئی قد غن منظور نہیں

damiہندوستان میں ٹی وی چینلوں سے متعلق دو قوانین ہیں۔ایک کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ریگولیشن) ایکٹ 1995 اور دوسرا ہندوستان کے ٹیلی ویژن چینلوں کو جوڑنے سے متعلق پالیسی گائڈ لائنز جو کہ 2000 میں لاگو کیاگیاہے۔ دراصل یہی دو قوانین ہیں جن سے کسی بھی حکومت کو ملک میں کسی بھی چینل کے ٹرانسمشن اور دوبارہ ٹرانسمشن پر روک لگانے کا اختیار ملتا ہے۔
کیبل ٹی وی ایکٹ کا سیکشن20(3) کہتا ہے کہ ’’ جب مرکزی حکومت یہ محسوس کرے کہ کسی بھی چینل کا کوئی بھی پروگرام سیکشن 5 میں حوالہ دیئے گئے اور بتائے گئے پروگرام کوڈ یا سیکشن 6 میں حوالہ دیئے گئے اور بتائے گئے ایڈورٹیزمنٹ سے میل نہیں کھاتے ہیں، ایسے پروگرام کے ترانسمشن یادو بارہ ٹرانسمشن کو وہ ریگولیٹ کرسکتی ہے یا اسے روک سکتی ہے۔
پروگرام اور ایڈورٹیزنگ کوڈز 1994 میں جاری کئے گئے کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس رولز کی جڑ ہیں۔ یہ ضابطے اس بات کو بتاتے ہیں کہ کیا کچھ بروڈکاسٹ نہیں کیا جاسکتا ہے۔یعنی ایسا کچھ جس سے بہتر اور خوشگوار ماحول پر حملہ ہوتا ہو، اور اس سے تشدد بھڑک سکتا ہے، وہ بغیر روک ٹوک کے پبلک ایکرہیشن کے مناسب نہیں ہے اور توہم پرستی کی ہمت افزائی کرتاہے نیز وہ دوست ممالک کی نکتہ چینی ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے یہ پایا کہ این ڈی ٹی وی انڈیا نے پروگرام کوڈ (9) 6(1) کی خلاف ورزی کی ہے۔اس کے مطابق نیوز ٹائم آسام بھی مختلف شوز کے دوران مذکورہ کوڈ کے متعدد سیکشنوں کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا گیا ۔اس کے ایک شو کے بارے میں یہ کہا گیا کہ اس نے مبینہ طور پر نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے ذریعے جاری ایک ہدایت تک کی خلاف ورزی کی ہے۔ لہٰذا چینل کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنے شوز کے لئے معذرت کرتی ہوئی پٹی چلائے مگر مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔
یہاں سوال اٹھتا ہے کہ پروگرام کوڈ کا ضابطہ 6(1)(p) آخر ہے کیا؟دراصل یہ ضابطہ دہشت گردانہ مخالف سرگرمیوں کے کوریج پر روک لگاتا ہے۔ اس کے مطابق، کوئی بھی ایسا پروگرام نہیں دکھایا جانا چاہئے ،جس میں سیکورٹی فورسز کے ذریعے انجام دیئے جارہے کوئی بھی دہشت گردانہ مخالف آپریشن کا لائیو کوریج شامل ہو اور جہاں میڈیا کوریج اس طرح کے آپریشن کے ختم ہونے تک حکومت کے متعین آفیسر کی وقت بوقت بریفنگ کے مطابق ہی کی جانی ہے۔
مذکورہ ضابطہ 6(1)(p) مارچ 2015 میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس ضابطہ کو گزشتہ برس کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس رولز میں ترمیم کے بعد شامل کیا گیا تھا۔ عیاں رہے کہ ممبئی کے 26/11 دہشت گردانہ حملوں کے بعد نومبر 2008 اور مارچ 2015 کے درمیان مرکزی حکومت نے اس طرح کے واقعات کے کوریج کے لئے ٹیلی ویژن چینلوں کو 5 ہدایات بھیجی۔ یہ بات بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ ان 5 ہدایات میں سے 4 کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت کے ذریعے جاری کی گئی تھیں۔یہاں یہ سوال فطری طور پراٹھتا ہے کہ کیا این ڈی ٹی وی انڈیا نے مذکورہ ضابطہ کے پروویژنوں کی واقعی خلاف ورزی کی ہے؟وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق، اس چینل نے 4جنوری 2016 کو ایک بروڈکاسٹ کی جس میں کہا گیا کہ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ کے دوران دو دہشت گرد زندہ تھے اور وہ ہتھیاروں کے ڈپو سے بہت قریب تھے۔ حکومت کا یہ کہنا ہے کہ اس سے حساس اطلاع عام ہوگئی اور اس سے دہشت گردوں کو مدد مل سکتی تھی جبکہ این ڈی ٹی وی نے شو کاز نوٹس کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس طرح کی تمام اطلاعات منظر عام پر پہلے سے موجود تھی اور اس کی رپورٹنگ اخبارات اور دیگر نیز چینلوں کے ذریعے کی جاچکی تھی۔
این ڈی ٹی وی کا یہ بھی کہناہے کہ مختلف اوقات میں میجر جنرل دشیانت سنگھ ، ایئر آفیسر کمانڈنگ جے ایس دھومن اور بریگیڈیئر انو پندر سنگھ کے ذریعے دی گئی بریفنگ اور پہلے سے دستیاب رپورٹوں پر مبنی اطلاعات کے بعد ہی اس نے رپورٹ پیش کی تھی۔ ایک روز کی پابندی جو کہ روبہ عمل نہ ہوسکی، کے حکم دیئے جانے کے بعد این ڈی ٹی وی کا تبصرہ تھا کہ یہ بہت ہی افسوسناک ہے کہ اس معاملہ میں صرف اس کی گرفت کی گئی ہے جبکہ ہر ایک چینل اور اخبار نے اسی طرح کا کوریج دیا ہے۔ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کا کوریج زیادہ متعدل تھا۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ یہ پروگرام کوڈکس پر اپلائی ہوتا ہے اور کیا یہ لازمی قانون ہے؟ظاہر ہے کہ کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ریگولیشن ) آرڈیننس 1994 میں پی وی نرسمہا رائو کی کانگریس حکومت کے زمانے میں آیا۔ اس سے حکومت کو کیبل ٹی وی کے لئے ضابطہ جاری کرنے کے اختیارات حاصل ہوگئے۔ پھر 1994 میں بنائے گئے ضابطوں کو 1995 کے کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ریگولیشن ) ایکٹ نے تمام کیبل نیٹ ورکس، خواہ وہ ڈائون یا اپ لنکڈہوں، پر اسے لازمی قرار دے دیا۔یہ بھی کانگریس کے ہی دور حکومت میں ہوا۔
آخر میں یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ کیا ہندوستان میں میڈیا کی آزادی کے تحفظ کے لئے کوئی مخصوص قوانین موجود ہیں؟البتہ آئین ہند کے ذریعے اظہار خیال کی آزادی کے تعلق سے گارنٹی ضروردی گئی ہے۔ دفعہ 19 ملک کے تمام شہریوں کو تقریراور اظہار خیال کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ویسے یہ الگ بات ہے کہ 1951 میں کی گئی پہلی ترمیم نے ہندوستان کی سلامتی و اتحاد، حفاظت غیر ممالک سے دوستانہ تعلقات ، پبلک آرڈر جیسے مختلف موضوعات کے معاملے میں دفعہ 19 کے استعمال پر کچھ روک لگائی ۔
جہاں تک میڈیا کی آزادی کا معاملہ ہے،1858 میں انگریزوں نے پہلی مرتبہ پریس گینگنگ ایکٹ جاری کیا تھا جس کا مقصد تھا 1857 میں انگریزوں کے خلاف اٹھی بغاوت یا بیداری کی آواز کو روکنا۔ تبھی تو متعدد اخبارات جس میں بیشتر اردو کے تھے، کو ان دنوں بند ہوجانا پڑا تھا اور چند معدودے ہی بچ پائے تھے۔دہلی اخبار کے ایڈیٹر مولوی محمد باقر کو اسی آزاد خیالی اور حب الوطنی کی سزا میں جان سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔
آزادی کے بعد 1950 کی دہائی میں پنڈت جواہر لعل نہرو کے دور حکومت میں بھی پریس پر پابندی سے متعلق قانون بنانے کی بات اٹھی تھی تو خود ان کے داماد اور رکن پارلیمنٹ فیروز گاندھی نے اس کی سختی سے مخالفت کی تھی اور پریس کو جمہوریت کا چوتھا ستون بتایا تھا۔ تب سے پریس کو چوتھا ستون کہتے ہیں۔ اندرا گاندھی کے زمانے میں لگائی گئی ایمرجینسی کے دوران تو پریس سنسر شپ ہی لاگو ہوگئی تھی۔ راجیو گاندھی نے بھی پریس کو قابو میں رکھنے کے لئے کچھ ضابطے کی بات کی تھی مگر زبردست تنقید کے تحت وہ ایسا نہ کرسکے۔
این ڈی ٹی وی پر جو آزمائش آئی تھی،اسے بھی میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے سے جوڑا گیا ،مگر فی الحال یہ آزمائش ملک کے مختلف حصو میں اٹھی مخالفت اور این ڈی ٹی وی کے ذمہ داروں کی حکمت عملی سے ٹل گئی ہے۔ویسے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ میں این ڈی ٹی وی کے ذریعے دائر کی گئی عرضی کی منظوری کا بھی ہاتھ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ این ڈی ٹی وی پر ایک روز کی پابندی پر فی الوقت روک لگاتے وقت مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات وینکیا نائیڈو نے کہا کہ حکومت میں شامل ہم سبھی لوگوں نے ایمرجینسی سے جنگ لڑی ہے اورہم لوگ اظہار خیال کی آزادی پر ہوئے کسی بھی حملہ کو روکیں گے اور ان قوتوں کو شکست دیں گے۔ جو ادارے این ڈی ٹی وی پر آئی اس آزمائش کے وقت سینہ سپر ہوکر سامنے کھڑے ہوگئے وہ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا، انڈین ویمنس پریس کلب ، فیڈریشن آف پریس کلب،دہلی یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب آف انڈیا تھے۔ علاوہ ازیں دیگر سینئر صحافی بھی اس لڑائی میں شامل رہے۔ اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا کی آزادی پرسبھی لوگ فکر مند ہیں اور اس پر کسی قدغن کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *