نوٹ بندی سے کالا دھن ختم نہیں ہوگا

damiپانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں کو بند کرنے کا اعلان ملک کے سامنے اچانک آیا۔ بغیر اس تضاد کے ڈر کے کہ یہ قدم کامیاب ہوتا ہے یا ناکام ۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہ بغیر کسی تیاری کے اٹھایا گیاقدم تھا۔ 19جولائی 1969 کو شریمتی اندرا گاندھی نے بینکوں کو قومیایہ تھا۔ظاہر ہے اس کے لئے کچھ قدم اٹھائے گئے ہوں گے، جس نے ہر کسی کو حیران کیا ہوگا۔ اس میں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔لیکن اندرونی طور پر سرکار کو تیار رہنا چاہئے۔ شریمتی گاندھی نے بہت ہوشیاری کے ساتھ یہ کام کیا۔ جس دن بینکوں کو قومیایہ گیا ،پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعہ مقرر کئے گئے موجودہ چیئر مین کو اسی دن سرکار کی طرف سے بینکوں کا سرپرست بنا دیا گیا۔ لہٰذا بینکوں کے کاموں میں ایک دن کی بھی بد نظمی نہیں ہوئی، صرف آنر شپ بدلی، باقی سب کچھ وہی رہا جو تھا۔ گاہکوں کو کسی طرح کی پریشانی میں نہیں ڈالا گیا ۔ بیشک اس پر بحث کی جاسکتی ہے کہ بینکوں کا قومیانہ ٹھیک نہیں تھا۔
اسی طرح نوٹ بندی پر بھی بحث کی جاسکتی ہے کہ یہ قدم کامیاب ہوگا،ناکام ہوگا یااس کے نتائج کیا ہوں گے۔لیکن جو بنیادی نکتہ ہے، وہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نے اس سلسلے میں تین چیزوں پر نشانہ لگانے کی بات کیہے۔ یہ تین چیزیں ہیں، دہشت گردی، جعلی نوٹ اور کالا دھن۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سے دہشت گردی اور جعلی نوٹوں پر نشانہ لگایا جاسکتا ہے،لیکن کالا دھن اس چھوٹے سے قدم سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ کالا دھن اس ملک کا ایسا مسئلہ ہے ، جس سے ملک کی ہر سرکار نمٹنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔یہ قدم زیادہ سے زیادہ کالے دھن کے اسٹاک کو (اگر کوئی اسٹاک ہے یا جہاں کہیں بھی ہے) فریز کرسکتا ہے۔ لیکن یہ بہت معمولی ہے۔ ملک میں کالے دھن کا اصل اسٹاک ریئل اسٹیٹ اور سونے میں ہے، کالے دھن کے جو دوسرے ذرائع ہیں، وہ یہ ہیں کہ جن لوگوں کے پاس بہت زیادہ کالا دھن ہے، وہاں ایک بہائو ہے۔ روزانہ کالا سفید ہوتا ہے اور سفید کالا۔ایسے لوگ ہیں، جن کے پاس کالا دھن نہیں ہے،لیکن انہیں بلیک منی میں ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ وہ اپنے وہائٹ کو بلیک میں تبدیل کرنے کے بعد ادائیگی کرتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے بلیک کو وہائٹ میں بدل کر ادائیگی کرتے ہیں۔ یہ لگاتار چلنے والا سلسلہ ہے، جس کے لئے مکمل دانشمندانہ سوچ اور ٹیکس حکام کے ذریعہ کارگر نظم کی ضرورت ہے۔ نوٹ بندی (جس نے ٹیکس افسروں کو بھی حیران کردیا ) کالے دھن کے مسئلہ کا صرف دس فیصد حل ہے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا، ہمیں آنے والے مہینوں اور سالوں میں پتہ چلے گا۔ بغیر کسی تنازع کے فی الحال یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ڈرامائی لیکن کم موثر قدم ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ انہوں نے ملک کو بدل دیا ہے یا بہت انقلابی کام کیا ہے تو یہ ایک دم غلط ہے۔
یہ سچ ہے کہ انہوں نے ملک کو حیران کیا ہے، شاید ان کی خود کی پارٹی کو بھی اس کی خبر نہیں تھی، حالانکہ کچھ الزام ہیں،جو اس کے برعکس ہیں۔لیکن اس طرح کے واحد قدم سے مسئلے کا حل کر لینا ممکن نہیں ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ چھوٹے، درمیانی، لوور مڈل کلاس کو پوری طرح سے پریشانی میںڈال دیاگیا ہے۔کیونکہ آج کل ایک ہزار روپے بہت بڑی رقم نہیں ہے اور پانچ سو روپے تو کچھ بھی نہیں ہے۔ہر کسی کے پاس پانچ سو روپے کا نوٹ ہے ۔ خود سرکاری اعدادوشمار کہتے ہیں کہ ملک کا 86فیصد ویلیوکا رو پیہ 500اور 1000 روپے کے نوٹ کی شکل میں ہے۔ آپ نے اپنے قدم سے کیا کیا ہے؟آپ نے 85 فیصد کرنسی کو ملک سے باہر کر دیا ہے۔یہ بہت ہی ناسمجھی بھرا قدم ہے۔ اگر آپ کو یہ کرنا ہی تھا تو اسے صرف 1000 تک محدود رکھا جاتا اور پھر اس کا نتیجہ دیکھنا چاہئے تھا۔اگر نتیجہ اچھا ہوتا تو آگے 500 روپے کے نوٹ کے ساتھ کرتے، کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ آپ کے قدم سے کم آمدنی والا آدمی جو لائن میں کھڑا ہے غصے میں ہے۔ وہ قطار میں کوئی سرکاری فائدہ لینے کے لئے نہیں کھڑا ہے۔وہ اپنا پیسہ بدلنے کے لئے گھنٹوں تک قطار میں کھڑا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ ان کی انگلی پر سیاہی لگائی جائے گی، تاکہ وہ دوبارہ قطار میں نہ کھڑے ہو سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنا پیسہ صرف ایک بار ہی نکال سکتاہے یا بالکل ہی نہیں نکال سکتا ۔یہ کس طرح کی ناسمجھی والا ، بیوقوفانہ فیصلہ ہے؟
میں سرکار کے اس قدم سے حیران ہوں ،کیونکہ وہ بے ڈھنگے ہیں۔ ڈھائی سال کے دوران انہوں نے ایسے قدم اٹھائے جو زیادہ ڈرامائی تھے اور ان میں دور رس نتائج کے بارے میں نہیں سوچا گیا ہے۔ وزیر دفاع جس طرح کی باتیں کررہے ہیں، وہ مثال ہے اس بات کی کہ اس سطح پر بھی مسخرہ پن چل رہا ہے۔ فی الحال انہوں نے یہ کہا ہے کہ ہمیں ایٹمی ہتھیار کے فرسٹ یوز آپشن کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔ جبکہ ہر مہذب ملک نے اپنے فرسٹ یوز آپشن کو ترک کردیا ہے۔ اس کے فوراً بعد وزارت دفاع کو ایک سرکولر جاری کر کے یہ کہنا پڑا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے،یہ سرکار کی رائے نہیں۔کیا آپ یقین کرسکتے ہیں، اگر کوئی آفیسر ذاتی طور پر ایسی بات کرے تو اسے سمجھا جاسکتا ہے، لیکن اگر وزیر کہے اور پھر کہا جائے کہ یہ سرکار کا موقف نہیں ہے، تو پھر سرکار کون ہے؟وزیر ہی سرکار ہے۔
اپنے اصل موضوع نوٹ بندی کی طرف واپس آتے ہیں۔ اس کے اصلی نتائج کو پتہ لگانے میںوقت لگے گا، لیکن فی الحال غصہ ہے۔ یہ غصہ عام لوگوں میں ہے اور یہاںتک کہ بی جے پی کے حامیوں میں ہے، بی جے پی کے کارکنوں میں ہے، مودی کے پکے حامیوںمیں ہے۔ وزیر اعظم خود کہہ رہے ہیں کہ عام آدمی چین کی نیند سورہا ہے اور جو بدعنوان ہیں، وہ ڈرے ہوئے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے معاملہ ٹھیک اس کے برعکس ہے۔ بدعنوان او رکالابازاری کرنے والے آرام سے سورہے ہیں، یہ سوچتے ہوئے کہ یہ ایک مذاق ہے، انھیں اس کی کوئی فکر ہی نہیں ۔ دراصل جو کم آمدنی والے لوگ ہیں، جن کا کالادھن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے،وہ نہیں سو پارہے ہیں۔
بے شک اسے بدلا نہیںجاسکتاہے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ دراصل انھیں500 کے پرانے نوٹوں کو پھر سے چلانے کے بارے میںسوچنا چاہیے۔ لیکن اس طرح کا قدم اٹھانا مشکل کام ہے۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ یہ قدم مودی کو آگے لے جاتا ہے یا یہ چال ان پر الٹی پڑ جائے گی۔ بہت سارے لوگ کہہ رہے ہیں کہ چال الٹی پڑ جائے گی۔ بہت سارے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ مودی نے پہلا غلط فیصلہ کیا ہے۔ لیکن ہمیںیہ دیکھنے کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔
تازہ اطلاع کے مطابق اب 4500کی جگہ صرف 2000 روپے کے نوٹ بدلے جاسکتے ہیں۔ اس نظر سے انھیںاس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کیا 500روپے کے نوٹ کو ایک بار پھر چلن میں لاناچاہیے یا نہیں۔ کم آمدنی کے لوگوں کے مسائل کے حل کا یہ ایک طریقہ ہوسکتا ہے۔
یہ خبر آئی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے کئی قرضوں کو رائٹ آف کردیا ہے۔ ان میں سے 1200 کروڑ کے لون وجے مالیا کے بھی ہیں۔ اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ اس طرح کی چیزیں اخباروں میںکیسے رپورٹ ہوتی ہیں۔ بینکنگ ایک خفیہ معاملہ ہے، کھاتے سے رائٹ آف کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اسے معاف کردیا گیا۔ رائٹ آف کا مطلب ہوتا ہے، بیلنس شیٹ پر ایک زیادہ ایماندار اعدادو شمار درج کرنا۔ وہ اپنے شیئر ہولڈروں کو یہ بتا رہے ہیں کہ دیکھئے ہو سکتا ہے، یہ پیسہ واپس نہ آئے۔ رائٹ آف کے بجائے یہ کہا جانا چاہیے تھا کہ شاید یہ پیسہ واپس نہیں آئے گا۔ لیکن یہ جو نتیجہ نکالا گیا ہے کہ قرض معاف کردیا گیا ہے، صحیح نہیں ہے۔ بہرحال یہ سرکار مالیا کی حمایت میں نہیں ہے، لیکن جو دوسرے نام ہیں، ان کو فائدہ پہنچانے کے لیے وجے مالیا کا نام سب سے اوپر کردیا گیا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں، یہ ہمیں دیکھنے کے لیے انتظار کرنا چاہیے۔
کچھ لوگ اقتصادی ایمرجنسی کی بات کررہے ہیں۔ لیکن میںنہیںسمجھتا کہ وہ دور ابھی آیا ہے۔ یہ قدم اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی رات کے بعد یہ نوٹ کاغذ کے ٹکڑے بن جائیں گے۔ یہ خود ایک خطرناک بیان تھا۔ کم آمدنی والا شخص سرکار میںیقین رکھتا ہے اور اگر سرکار خود یہ کہے کہ یہ نوٹ کسی کام کے نہیں، تو سرکاری بانڈ کا کیا، سرکاری گارنٹی کا کیا، پروویڈنٹ فنڈ کا کیا یا سارا پیسہ سرکار کا پیسہ ہے۔ کوئی کام کرنے کے لیے سرکار کا اسٹیک ہٹا دینا عقل مندی کا کام نہیں ہے۔ بہرحال یہ ایک چنی ہوئی سرکا ہے، اس کو حکومت کرنے کااختیار ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں بے شک اپنی آواز اٹھارہی ہیں، لیکن میںامید کرتا ہوںکہ لوگ چاق و چوبند رہیںگے۔ اترپردیش کے انتخابات پر اس کا کیا اثر پڑے گا، یہ ابھی کہنا بڑا مشکل ہے۔لیکن جو اطلاعیں آرہی ہیں ، اس لحاظ سے کسان بہت دکھی ہیں، کیونکہ ان کے کھیت کی پیداوار فروخت نہیں ہوسکتی۔ ہمیںامید کرنی چاہیے کہ ملک کے مفاد میں چیزیںٹھیک ہوجائیںگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *