معاشی اصلاحات کے منفی پہلو بڑے خطرناک

dami1991 میں معاشی لبرلائزیشن یا ریفارمز کا اعلان کیا گیا تو ہندوستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا استقبال ایک نئے انقلاب کے بطور کیا گیا۔ اس کے بعد انٹرنیٹ اور موبائل فون نے ہندوستان کو پوری دنیا سے جوڑ دیا۔ یہ معیشت کے گلوبلائزیشن کی ابتدا تھی۔ پھر جب کثیر قومی کمپنیوں نے ایف ڈی آئی کے سہارے ہندوستانی بازاروں پر قبضہ کرنا شروع کیا اور اس کے نتیجہ میں ہندوستانی شہروں میں دولت ابلنے لگی تو ہمارے حکمراں اور پالیسی ساز حیرت کے مارے ساکت و صامت رہ گئے۔ دولت کی غیر متوقع چکا چوند نے انھیں اس بات سے بھی غافل کردیا کہ وہ صاف پانی، بجلی نیز کمزور طبقات کے لیے سستی رہائشوں کی فراہمی اور دیگر رفاہی کاموں کو حکومت کی ترجیحات میں شامل کرسکیں۔ گلوبلائزیشن کے اخلاقی و سماجی عواقب پر بھی غور کرنا توگویا غیر ضروری سمجھا گیا۔
یوں بھی گلوبلائزیشن تو مغربی ماڈل کے مطابق ہے جس میں فی کس آمدنی، قومی پیداوار، معاشی شرح نمو اور طلب و رسد پر توخوب زور دیا جاتا ہے لیکن ان کے ثمرات کی منصفانہ تقسیم، معاشی عدم مساوات او رسماجی، معاشی، نفسیاتی اور اخلاقی صحت کے مسائل کو نظر انداز کرنے کی پوری کوشش بھی کی جاتی ہے۔ گلوبلائزیشن کا سب سے بڑا فائدہ یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے سرمایہ فراہم ہوتا ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو سرمایہ کاری بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے البتہ یہ بات ایک مسئلہ ضرور ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں کے پس پردہ کارفرما قوتیں اپنی مغربی مادی تہذیب کو فروغ دینے والی شرائط ضرور لگاتی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گلوبلائزیشن کا اصل ہدف یہ ہے کہ ترقی کا مغربی ماڈل ساری دنیا میںعام کیا جائے۔
اس کی ایک نمائندہ مثال بی پی اوز اور کال سینٹرز کی ہیں جو گلوبلائزیشن ہی کی دین ہیں۔ حالانکہ وہ متعدد سماجی اور اخلاقی مسائل کی جڑ بن چکے ہیں۔ سروس انڈسٹری کے ملازمین عام طور پر نوجوان ہی ہوتے ہیں۔ انھیں اکثر رات کے اوقات میںمخلوط ماحول میںدیر تک تنہا کام کرنا ہوتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اپنے بزرگوںاور عزیزوںسے بھی ان کا ملنا جلنا بس علیک سلیک تک محدود ہوجاتا ہے۔ ایسے میں کمزور اور غریبوں کے مسائل کو سمجھنے اور ان کی مدد کرنے کے لیے ان کے پاس وقت ہی کہاں ہے؟ کچھ لمحات فارغ ہوتے ہیں تو وہ انٹرنیٹ کیفے، شاپنگ مالز اور ریستوراں میں’کول کول‘ اشیائے صارفہ کی نذر ہوجاتے ہیں۔
یہ نوجوان اپنے دفتر کے ایئر کنڈیشنڈ آرام دہ ماحول میں زندگی گزارتے ہیں اور گھر پر خودکار مشینیں ان کا کام نمٹا دیتی ہیں۔ ایسا پہلے کی نسلوں میں نہیں ہوتا تھا۔ اس تفاوت کو جنریشن گیپ کا پرفریب نام دیا گیا ہے۔ لیکن سچ بات یہ ہے کہ ہمارے نوجوان کو ان کی تہذیبی جڑوں سے کاٹا جارہا ہے۔
چنانچہ جیسے جیسے معاشرے میں مادہ پرستی کا نفوذ بڑھ رہا ہے، ہندوستانیوںکا نظام اقدار بھی متغیرہورہا ہے۔ اس میںشک نہیں کہ معاشی مادہ پرستی نے آرائش و زیبائش ،لذیز و نفس خوردنوش، تفریح و تعیش اور آرام دہ خوش سلیقہ رہائشوں کاا ہتمام توکیا ہے لیکن ایک انسان اور اس کے دوسرے ساتھیوں کے بیچ کی خلاء کو بہت وسیع بھی کردیا ہے۔ معاشی مادہ پرستی نے جہاںپر کذب و دجل ، غرور و فریب، خود غرضی و منافرت ،حرص وحسد، غبن و رشوت،عریانیت و اباحیت اور ظلم و ناانصافی کو دانستہ طور پر یا معاشی ضرورت کے نام پر طرح سے کر ڈسپلن شکنی، نشہ خوری، سود خوری اور قمار کا عادی بنا دیا ہے، وہیں دیانت و ایمانداری، عصمت و عفت، صلاحیت و کردار و ایفائے عہد، انس و الفت اور باہمی احترام و غم خواری کو ایک اضافی قدر کی سطح پر گرادیا ہے۔
یہ بات مذکورہ انڈسٹری تک محدود نہیںہے۔ ابھرتی ہوئی مادی تہذیب کے زیر اثر انگریزی تعلیم یافتہ نئی ہندوستانی نسل اپنی روایتی تہذیبی اقدار سے وابستگی کی بجائے اپنے کریئر میں خودرفتگی کے ساتھ ساتھ لذتیت ، اباحیت اور مغرب کی نقالی کی خوگر ہوتی جارہی ہے۔ چونکہ سروس انڈسٹری کے ملازمین کو شاندار مشاہرے اور دیگر سہولیات مہیا ہوتی ہیں، لہٰذا عام تاثر یہ پیدا ہوتا ہورہا ہے کہ کارپوریٹ ٹریننگ ہی تعلیم کی اصل ہے۔ لہٰذا تعلیم کا مقصد حق اور ہدایت کی تلاش کے بجائے ایسی کارپوریٹ ٹریننگ بنتا جارہا ہے جس سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ملازمت جلد اوربآسانی مل جائے۔ یہ رجحان ہمارے تعلیمی نظام کے لیے خوش آئند نہیںہے۔ یہ رجحان جہاں طلبہ میں حرص و آز اور تکاثر کے جذبات پیدا کرتا ہے،وہیںمعلمین اور مربیوں میںاستحصال کی سرمایہ دارانہ ذہنیت پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ تعلیم کے مشمولات اب علم و تحقیق کے تقاضوں سے نہیں بلکہ بازاری قوتوں سے طے ہوتے ہیں۔ تعلیم میںکاروباری ذہنیت کے دوررس نتائج معیشت پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ جن میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ مادہ پرستانہ ذہنیت ایک قسم کا مصنوعی قحط الرجال پیدا کررہی ہے۔
ایک طرف تو گلابلائزیشن نے ایسی تجارتوں او رصنعتوں کو بڑھاوا دیا ہے جن میںچوتھے درجہ کے ملازمین یعنی روایتی محنت کشوں کی ضرورت کم سے کم تر ہوتی ہے، دوسری طرف پیشہ وارانہ کاموں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر آج کے طلبہ انسانی علوم کی اعلیٰ تعلیم کی بجائے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بیک آفس کلرک او رمحرر کی تربیت حاصل کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں، جس سے سائنس، تحقیق، ادب اور سول سروسز کے میدانوں میں قحط الرجال جیسی صورت پیدا ہورہی ہے۔
گلوبلائزیشن کے دور تک آتے آتے ہندوستانی صنعت کاری نے ویسے بھی کوئی تسلی بخش ماحول نہیں بنایا ہے۔ بنگلور کے بارے میںبتایا گیا ہے کہ وہاںآبادی کا ایک بڑا حصہ دمہ کا مریض ہے۔بجلی کا بحران پورے ہندوستان کے لیے ایک مسئلہ ہے۔ کسی طرح پیسہ بٹورنے کی دھن میںاجناس تو کیا دوائیں تک نقلی رکھی جاتی ہیں۔ جراثیم کش دوائیں اس حدتک استعمال کی جاتی ہیں کہ پھل او رسبزیاں بھی ان کے مہلک اثرات سے مبرا نہیں رہ جاتی ہیں۔ مصنوعی خوردنی اشیاء ایک نیا مسئلہ ہیں۔ مغربی مادہ پرست تہذیب اس حد تک ہندوستانی معاشرے میں سرایت کرتی جارہی ہے کہ ایک ہی مغربی برانڈ کے مشروبات،ایک ہی تراش خراش کے ہیئر ڈیزائن اور ملبوسات، ایک ہی طرح کے اخبار و جرائد اور ایک ہی طرح کی تفریح شہری زندگی کا لازمہ بن چکے ہیں۔
نجی اور ذاتی اقدار کی گراوٹ نے خاندان ، سماج اور عالمی برادری کی سطح پر بھی ہمیںمتاثر کیا ہے۔ مادہ پرستی نے جہاںشخصی اخلاق سے بے اعتنائی برتی ہے، وہیںاس نے فرد کو بے مصرف ’ضروریات ‘ کے جال میںاس طرح الجھادیا ہے کہ اس کے اخوت و ہم نفسی کے جذبات اس حد تک سرد پڑنے لگے ہیں کہ خونی رشتوں اور خاندنی اداروںکا احترام بھی بوجھ لگنے لگا ہے۔
اسی طرح سماجی سطح پر فرض شناسی اور ایثار وقربانی کے اسپرٹ ماند پڑجانے سے عدل و انصاف ،حقوق انسانی ، سماجی خدمت اور صنف نازک نیز ماحولیات کے تئیںبے حسی پیدا ہوئی ہے۔ یہ آثار اشارہ کرتے ہیں کہ مادہ پرستی جس نہج پر انسان دوستی کا دعویٰ کرتی ہے وہ بین ثقافتی امن و آہنگی اور بین انسان اخوت و مودت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیںہے بلکہ مادہ پرستی خود اپنا جدلیاتی حریف ثابت ہوئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *