سروائیکل کینسر لقمہ اجل بنتی ہے ایک خاتون ہر 8منٹ میں

dami00ہندوستان کی خواتین میں کینسر بہت عام ہے۔ بریسٹ کینسر کا مقام پہلا ہے تو سروائیکل کینسر کا دوسرا۔جہاں تک سرائیکل کینسر کا تعلق ہے، تقریباً 80 فیصد یہ مرض ہیومن پیلوما وائرس ( ایچ پی وی ) کے انفیکشن سے ہوتا ہے۔ اس انفیکشن کی روک تھام کے لئے ایسا ویکسن یا ٹیکہ ایجاد ہو گیا ہے جس سے خواتین کو اس کینسر سے محفوظ رکھا جاسکتاہے۔ اس کالم میں تفصیل سے جائزہ لے رہے ہیںاس مرض اور ٹیکے کا دہلی اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ کے جوائنٹ ڈائریکٹر (ایڈمنسٹریشن) اور دہلی حکومت کے سابق ڈپٹی سکریٹری ،ہیلتھ عبد المنان جو کہ صحت اور علاج و معالجہ میں سماجی طور پر مسیحا گردانے جاتے ہیں۔

ہمارے ملک میں 30سے 35سال کی عمر کی خواتین میں بچے دانی کے مہانے کا کینسر جسے سروکس کا کینسر یا سروائیکل کینسر کہا جاتا ہے ، بہت عام ہے اور عورتوں میں ہونے والے کینسر میں اس کا دوسرا مقام ہے ۔ ہمارے ملک میں اوسطاً ہر سال سوا لاکھ عورتیں سروائیکل کینسر میں مبتلا ہو جاتی ہیں اور ان میں سے لگ بھگ 70ہزار موت کا شکار بن جاتی ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر 8منٹ میں ایک خاتون سروائیکل کینسر کی وجہ سے لقمئہ اجل بن جاتی ہے۔کسی بھی عورت کیلئے عمر کا یہ حصہ بہت ہی اہم ہوتا ہے کیونکہ اس وقت بچے چھوٹے ہوتے ہیں اور خاندان کی بھی ان کی ذمہ داریاں ادھوری رہتی ہیں۔ ایسے میں انکی موت سے خاندان کا توازن بالکل بگڑ جاتا ہے۔
سروائیکل کینسر ہونے کی ایک اہم وجہ ہیومن پپلوما وائرس ( (ایچ پی وی)کا انفیکشن ہے۔ ہمارے ملک کی عورتوںمیں تقریباً 80فیصد کینسر اسی انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس وائرس کا انفیکشن غلط جنسی تعلقات اور صاف صفائی میں لا پرواہی سے ہوتاہے ۔ چھوٹی عمر میں شادی، زیادہ بچے پیدا کرنا ، خراب حفظان صحت ،ناقص غذائیت اور کئی لوگوں سے جسمانی رشتہ قائم کرنا بھی سروائیکل کینسر کے ذمہ دار عناصر ہیں۔ کچھ خواتین کو انفیکشن ہونے اور کینسر کی حالت تک پہنچنے میں تقریباً 25سے 30سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ ایچ پی وی انفیکشن سے ایک بار متاثر ہونے کے بعد آج کی تاریخ میں دنیا میں اسکاکوئی علاج موجود نہیںہے۔
ایچ پی وی کے ممکنہ خطرناک اثرات سے بچنے کیلئے اس کو روکنا بہت ضروری ہے۔ خوش قسمتی سے آج اس انفیکشن کے روک تھام کیلئے بالکل محفوظ اور با اثر ویکسن (ٹیکے) دستیاب ہیں جو کہ خواتین کو اس کینسر سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ایچ پی وی کی کئی قسمیں ہیں ۔ان میں سے کچھ وائرس سروائیکل کینسر یا عضو تناسل میں مسّے کی خاص وجہ ہوتی ہے۔ عورتوں میں اکثر ایچ پی وی18 اور ایچ پی وی 16کے وائرس زیادہ پائے جاتے ہیں ۔ ان دنوں ملنے والے دو مخصوص ٹیکے ان دونوں وائئرس سے بچائو کیلئے ہی بنائے گئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تازہ ہدایات کے مطابق ایچ پی وی انفیکشن سے بچائو کے ویکسن (ٹیکے) لگوانے کا صحیح وقت لڑکیوں میں 9سے 14سال کی عمر کے دوران ہے۔ یہاں یہ خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ لڑکیوں میں جسمانی تعلقات قائم کرنے کے پہلے ہی لگانے سے یہ ٹیکہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔بعد میں لگائے جانے پر اس ٹیکے کی کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے۔ اس ٹیکے کو انٹرا مسکولر انجیکشن کے ذریعہ دو خوراکوں میں دیا جاتا ہے اور جیسا اوپر بتایا گیا ہے دونوں خوراکوں کے درمیان6 ماہ کا فاصلہ ہونا لازمی ہے۔ یہ دونوں طرح کے ٹیکے پوری طرح سے محفوظ اور اثر دار ہیں۔ ان میں سے کسی بھی ٹیکے سے کسی قسم کا فوری یا بعد میں برے اثرات یاجان کو خطرہ نہیں ہے۔کچھ ملکوں میں یہ ٹیکے تو اب لڑکوں میں کینسر اور مسّوں سے بچائو کیلئے بھی لگائے جاتے ہیں۔ان ٹیکوں کے محفوظ ہونے اور ان کے معیار اور اثرات کی پوری جانچ پڑتال کرنے اور اسکے محفوظ ہونے کے بارے میں پورے طور پر اطمینان ہونے کے بعد ہی دنیا کے 70سے زیادہ ملکوں میں اب تک یہ ٹیکے بچوں کیلئے دوسرے عام ٹیکہ کاری (ویکسینیسن)پروگرام کا حصہ بن چکے ہیں جن میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک شامل ہیں ۔ ہندوستان میں خواتین میں سروائیکل کینسر کی تعدا د سب سے زیادہ ہونیکی وجہ سے اسکے روک تھام کیلئے موثر اقدامات کی بے حد ضرورت ہے اور بلا تاخیر اس ٹیکے کو لڑکیوں میںشروع کرنا وقت کی مانگ ہے۔عالمی ادارہ صحت (WHO)،انٹرنیشنل ایجنسی آن ریسرچ فار کینسر (IARC)، یونین فار انٹرنیشنل کینسر کنٹرول (UICC)وغیرہ جیسے معتبر اداروں نے بھی ان ٹیکوں کے محفوظ ہونے اور ان کی ضرورت کی تصدیق کی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا میں صحت کی دیکھ بھال کیلئے کام کر رہے دیگر اداروں اور ملک کے تمام متعلقہ ایجنسیوں جیسے FOGSIاور IAP کے ذریعے بھی ان ٹیکوں کو عام کرنے کی پر زور شفارش کی گئی ہیں۔یہ ٹیکے حکومت ہند کے ڈرگ کنٹرولر کے ذریعے بھی تصدیق شدہ ہے اور پچھلے 6سالوں سے دوائیوں کی دوکانوں پر دستیاب ہیں اور اسکی ہر خواراک کی قیمت لگ بھگ 2500سے 3000روپئے ہے لیکن دہلی سرکار دہلی کی رہنے والی لڑکیوں کو اسے مفت مہیا کرا رہی ہے۔
ہمارے ملک میں اس ٹیکہ کے متعلق بہت طرح کی غلط افواہیں پھیلائی گئی ہیں ۔ اس سلسلے میںیہ بتانا بے حد اہم ہے کہ اس طرح کی افواہیں بالکل غلط ، بے بنیاد اور بغیر کسی سائنٹیفک ثبوت کے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی طرح کی افواہوں ، گمراہ کرنے والی باتوں ، میڈیا میں چھپنے والی مخالف خبروں سے قطعی گمراہ نہ ہوں۔
ان ٹیکوں کے فائدوں کو سمجھتے ہوئے اور عالمی تجربوں کو دیکھتے ہوئے کینسر کے ماہر ین کی رائے سے دہلی حکومت نے ملک میں پہلی بار ” بیٹی بچائو” مہم کے تحت دہلی میں اپنی بیٹیوں کو سروائیکل کینسر سے بچانے کیلئے مفت ٹیکہ فراہم کرانے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور ایسا کرکے بڑے ہی دور اندیشی اور دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔فی الحال 2016-17سے اس مہم کو کچھ اسکولوں سے شروع کرکے اسے دھیرے دھیرے آگے بڑھایا جائیگا تاکہ دو یا تین سال کے اندر دہلی کی 9سے 14سال کے بیچ کی کوئی بھی بیٹی ایچ پی وی۔ ٹیکوں کے فائدہ سے محروم نہ رہ جائے۔ آپ کی بیٹی کو مستقبل میں سروائیکل کینسر سے بچانے کے لئے یہ ٹیکے لگوانا کتنی اہمیت کی حامل ہیں لوگ اس کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں۔
دہلی اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ نے جوکہ حکومت دہلی کے زیر انتظام تمام قسم کے کینسر کے علاج و معالجہ اور روک تھام کے لئے مصروف ادارہ ہے،نے مخصوص طور پر 7؍نومبر 2016 کو اس پروگرام کی شروعات کرکے ملک بھر میں ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ اس دن کی اہمیت صحت کے شعبہ میں صرف اس لئے ہی نہیں ہے اس دن پورے ملک میں” نیشنل کینسر ایوئیرنس ڈے “کے طور پر منایا جاتاہے بلکہ اس دن کو پوری دنیا میںمیڈم کیوری کے جنم دن کی خوشی کیلئے بھی منایا جاتاہے جنہوں نے ریڈیم کی کھوج کی تھی جو ریڈی ایشن کے ذریعہ کینسر کے علاج کا ذریعہ بنا۔ اس دن ایک رنگا رنگ پروگرام کے تحت دہلی کے وزیر صحت شری ستیندر جین نے معزز مہمانوں اور متعلقہ محکمہ کے نمانئندوں کی موجودگی میں اس ٹیکے کی ابتدا کے ساتھ دہلی اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ میں روٹری بلڈ بینک نوئیڈا کے اشتراک سے انسٹی ٹیوٹ میں بلڈ بینک کی خدمات، حکومت ہند کے “آیوس”کے پروگرام کے تحت کینسر کے مینجمنٹ میں ہومیوپیتھی کی خدمات اور کینسر کے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کی سہولت کیلئے بنائے گئے دھرم شالہ میں مزید سہولیات کے اضافہ کا بھی افتتاح کیا۔ وزیر موصوف نے دہلی کے گورنمنٹ گرلس سینئر سکنڈری اسکول نمبر 1 دلشاد گارڈن دہلیکی گیارہ سال کی پہلی لڑکی گنجن کو سروائیکل کینسر کا ٹیکہ لگوا کر ملک کے اندر ایک تاریخی سفر کی شروعات کی جسے اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے بہت دور تک جانا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *