رچرڈ ورما جامعہ میں امریکی صدارتی انتخابی نتائج ہندوستان سے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا

damiایک ایسے وقت جب امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم آخری مرحلہ میں ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیلری کلنٹن اورریپبلکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ میں سے کوئی ایک دنیا کے فی الوقت واحد سپر پاور کے سربراہ کی حیثیت سے منتخب ہونے والا ہے،21ویں صدی میں ابھرنے والے ملٹی سپر پاورس میں سے ایک ہندوستان کے تعلق سے امریکی کیا اور کس طرح سوچتے ہیں،یہ بہت ہی اہم ہے۔ اس ضمن میں یکم نومبر کو جامعیہ ملیہ اسلامیہ میں ہندوستان میں اولین ہند نژاد امریکی سفیر رچرڈ ورما کے یہ کلمات بے حد غیر معمولی اور موزوں ہیں کہ امریکہ کے آئندہ انتخابی نتائج کا امریکہ- ہندوستان سے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس موقع پر ان کی یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ امریکہ – ہند خارجہ پالیسی کی اہمیت ایک ایسی سطح پر پہنچ چکی ہے کہ یہ خارجہ پالیسی فرنٹ پر کسی بھی آئندہ امریکی صدر کے لئے سرفہرست ایشوز میں شامل ہے اور اس نے امریکہ -ہند تعلقات کے معاملہ میں غیر جانبدار اپروچ اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق، یہی وجہ ہے کہ وہ پُر اعتماد ہیں کہ امریکہ -ہند تعلقات کی اہمیت مستقبل میں برقرار رہے گی۔
امریکہ اور ہندوستان کے درمیان یکسانیت اور ہم آہنگی کا ذکر کرتے ہوئے رچرڈ ورما ،جن کے آبائو اجداد جالندھر سے امریکہ جاکر بس گئے تھے، نے کہاکہ ہمارے یہ دونوں ممالک ایسے مقامات پر ہیں جہاں ہم ڈائیورسٹی کو مناتے اور قبول کرتے ہیں،قانون کے تحت اقلیتوں کے حقوق اور مذہب کی آزادی کا احترام کرتے ہیں، برابری کے ساتھ تحفظ کی گارنٹی دیتے ہیں اور اظہار خیال کی آزادی کے ساتھ اسمبلی یعنی ایک جگہ جمع ہو کر ملنے کے حق کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اصل وعدہ اور قوت کوئی گورمنٹ پروگرام ،اسٹودنٹس ایکسچنج یا لین دین نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے مابین اقدار ہے۔
رچرڈ ورما نے اس بات پر زور ڈالتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ اس بار صدارتی مہم کے موسم میں خصوصاً امریکہ اور عمومی طور پر دنیا کے متعدد ممالک میں مسلمانوں کے خلاف دکھائی پڑ رہے ناقابل قبول جنون کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں آج عدم تحمل اور امیگرینٹ مخالف جذبات پائے جاتے ہیں جو کہ افسوسناک ہے۔علاوہ ازیں بین الاقوامی آرڈر میں تنائو ہے جو کہ گلوبلائزیشن اور معاشی نا برابری سے مزید بڑھا ہے۔
امریکی سفیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بہت گہرے روابط ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ طور پر جب کوئی کام کرتے ہیں تو اس کا تعلق عام آدمی کی زندگی کی بہتری سے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی ایسے مسائل ہیں جن کے دونوں ممالک شکار ہیں اور اس کے حل میں اس سے مدد ملے گی۔ ان کے خیال میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاملات بات چیت کے ذریعہ طے ہوتے ہیں اور ان میںبہت ساری ایسی مشترک قدریں ہیں جن کے ذریعہ ہی دونوں ممالک آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ایسا لگا کہ ہندوستان اور اس کی تحریک آزادی سے رچرڈ ورما پوری طرح واقف ہیں۔تبھی تو انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ہندوستان کی وہ یونیورسٹی ہے جس کے بانیان کا تعلق تحریک آزادی سے رہا ہے۔یہاں پر یہ محسوس ہوا کہ چونکہ خود جامعہ اپنے بانی یا بانیان کے معاملے میں کنفیوژڈ ہے اور 18 برس تک واحد بانی رہے اولین شیخ الجامعہ مولانا محمد علی جوہر کے تعلق سے واضح رائے نہیںرکھتی ہے، تو پھر امریکی سفیر واحد بانی کی بات کیسے کریں گے؟ لہٰذا جامعہ کو اس سلسلے میں کلیئر ہوجانا چاہئے۔ اس وقت بھی تمام شرکاء چونک گئے جب انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے تعلیمی نظریہ کے قدر داں ہیں۔ویسے یہ ایک خوش آئند رجحان ہے۔
امریکی سفیر رچرڈ ورما نے عالمی سطح بشمول امریکہ کے تعلق سے عدم تحمل و برداشت اور مسلمانوں کے خلاف جنون کا جو ایشو اٹھایا ہے، وہ یقینا قابل توجہ ہے۔ یہ بات کم اہم نہیں ہے کہ انہوں نے امریکہ میں صدارتی انتخابی مہم کے دوران مسلمان اور امیگریشن مخالف پیدا ہوئے ماحول کو بھی ناپسند کیا ہے۔اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ رچرڈ ورما میں ایک ’ورما‘ کا تکثیری اور سیکولر خون اتنے برسوں کے بعد اب بھی موجود ہے اور امریکہ کے جمہوری سماج نے اسے یقینا بڑھایا ہے اور مزید ہیمو گلوبین فراہم کیا ہے۔
دراصل ہندوستان اور امریکہ دونوں ممالک کے خون میں تکثیریت ،سیکولرازم اور جمہوریت کا یہی عنصر ایسا ہے جو ان دونوں کو مزید قریب لاتا ہے۔ سچ کہا ہے رچرڈ ورما نے کہ ان میں بہت ساری ایسی مشترکہ قدریں ہیں جن کے ذریعے ہی دونوں ممالک آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ مشترک قدریں ہی ہیں جن کے ذریعے ایک ہی طرح کی بغاوت یاآزادی کی لہریں بوسٹن اور میرٹھ میں اٹھی تھیںاور پھر رکی نہیں تب تک جب تک کہ آزادی کا پروانہ شہریوں کے ہاتھوں میں نہ آیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *