دہلی کے بعد یوپی ماحولیاتی آلودگی کی لپیٹ میں

damiدہلی کے بعد اب اتر پردیش ماحولیاتی آلودگی سے گھرا ہوا ہے۔آلودگی کی روک تھام کے لئے زمینی بندوبست کرنے کے بجائے ہوا میں لاٹھی چلائی جارہی ہے۔ مختلف کارخانوں سے پھیل رہی آلودگی کو روکنے پر کسی کا دھیان نہیں ہے۔ انتظامیہ اور سرکاری سسٹم فصلوں کے ٹھونڈ(باقیات) جلانے سے روکنے اور دیوالی کی آتش بازی کا بہانہ ڈھونڈنے میں ہی لگے ہیں۔ انتظامیہ کے اس اندھے پن کے خلاف پروانچل کے کسانوں نے تو اپنی تیار فصلیں ہی پھونکنی شروع کر دی ہیں۔
گورکھپور کے چورا چورا تحصیل میں ایشین فرٹیلائز کارخانے سے پھیل رہی آلودگی وسیع علاقے میں لوگوں کی زندگی تباہ کر رہا ہے۔لیکن اسے روکنے میں انتظامیہ یا ڈسپلے کنٹرول بورڈ کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کارخانے سے پھیل رہی آلودگی کی وجہ سے فصلیں جھلس رہی ہیں۔ سرکاری سسٹم کارخانہ انتظامیہ سے مطمئن ہے ،اس لئے کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ مجبوری میں کسانوں نے اب اپنی تیاری فصلیں ہی پھونکنی شروع کردی ہیں۔ گورکھپور کی تاریخی چوری چورا تحصیل کے دیو کہیا سمیت کئی دیگر گائوں میں کسانوں نے اپنی فصلوں میں آگ لگا کر مخالفت کا اظہار کیا۔ چوری چورا کے دیو کہیا میں ایشین فرٹیلائزر فیکٹری ہے۔ فیکٹری کے دھوئیں سے ہر سال کسانوں کی فصلیں جھلس جاتی ہیں، لیکن سرکار کوئی بندوبست نہیں کررہی ۔ کسانوں نے اس کی شکایت کئی جگہ کی لیکن انتظامیہ اور حکومت نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔
گورکھپور کے چوری چورا علاقے میں کھاد بنانے والی مذکورہ فیکٹری سلفیوریک اسیڈ بھی تیار کرتی ہے۔ جس سے ماحولیات میں بھیانک آلودگی پھیل رہی ہے۔ اس کے خلاف کسان عرصے سے تحریک چلا رہے ہیں،لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا۔ لاچار ہوکر کسانوں نے اپنی فصلیں جلانی شروع کر دی ہیں۔ گزشتہ دنوں کسانوں نے تیار دھان کی فصلوں میں آگ لگا کر احتجاج کیا۔ گنا کسان سنگھرش کمیٹی کے صدر(مشرقی خطہ) اودھیش سنگھ کی قیادت میں کسانوں نے ایشین فرٹیلائزر کے خلاف ماحولیات ، جنگلات اور آبی وسائل کی وزارت سے لے کر وزیر اعظم دفتر اور ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو تک کو شکایت کی،لیکن کہیں سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
اودھیش سنگھ نے خود اپنی ڈیڑھ ایکڑ فصل میں آگ لگا کر اپنا احتجاج درج کیا۔ اسی طرح دیو کہیا کے مسافر اور نند لال نے ایک ایک ایکڑ ، نگئی، ارجن ، ہوشیلا، ایودھیا سنگھ نے ایک ایک بیگھہ، اوم پرکاش گپتا نے 15کٹھہ کھیت میں لگی دھان کی فصل جلا دی۔ کسانوں کا کہناہے کہ رسائنک فیکٹری سے نکلنے والے زہریلے دھوئیں سے فصلوں کو جھلسانے سے اچھا ہے کہ انہیں نذر آتش ہی کر دیا جائے۔ کسان کہتے ہیں کہ وہ گزشتہ 25سال سے اس آلودگی کے خلاف احتجاج کرتے آرہے ہیں لیکن انتظامیہ اور حکومت کی کھال پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔ اپنی فصلوں میں آگ لگاتے ہوئے کسان انتہائی جذباتی تھے، لیکن ان کے پاس اب کوئی اور طریقہ نہیں بچا۔
گزشتہ کچھ دنوں سے اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو بھی زہریلے دھواں کی لپیٹ میں ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹاکسکولوجی ریسرچ، سینٹرل پالیوشن کنٹرول بورڈ اور اتر پردیش پالیوشن کنٹرول بورڈ نے لوگوںکو احتیاط برتنے کی صلاح دی ہے۔لیکن آلودگی روکنے کا کوئی انتظام نہیں کیا جارہا ہے۔ شہر کے الگ الگ علاقوں میں جانچ کی بنیاد پر لکھنو میں آلودگی کی سطح نارمل سے آٹھ گنا زیادہ پایا گیا۔ زہریلی ہوا کے معاملے میں لکھنو ،دہلی، فرید آباد اور آگرہ کے بعد ملک میں چوتھے مقام پر آگیا ہے۔ سماجی کارکن اوروشی شرما نے اس بارے میں اترپردیش کے وزیر اعلیٰ ، ماحولیاتی وزیر، چیف سکریٹری، چیف سکریٹری ماحولیات، چیف سکریٹری ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ، اتر پردیش پالیوشن کنٹرول بورڈ ، ڈائریکٹر آف ڈائریکٹوریٹ لوکل باڈیز، ڈائریکٹر ماحولیات، میئر لکھنو، شہر کمشنر لکھنو اور ضلع کلکٹر لکھنو کو خط بھیج کر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
آلودگی کی روک تھام کا بندوبست کرنے میں اتر پردیش پالیوشن کنٹرول بورڈ پوری طرح ناکارہ ثابت ہوا ہے۔ جبکہ ریاست میں آلودگی کی روک تھام کے لئے بورڈ کے لکھنو میں دفتر کے سامنے 25 مقامی دفتر ہیں،لیکن ریاست کے 51ضلعوں میں سے صرف 21 میں ہی ماحولیاتی آلودگی کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ حقیقت یہ بھی بتاتی ہے کہ پالیوشن کنٹرول بورڈ نے دہلی سے قریب نوئیڈا میں گزشتہ فروری کے بعد سے آلودگی کی جانچ تک نہیں کی ہے۔ ادھر دہلی میں چھائے اسماگ کی وجہ سے پڑوس کے نوئیڈا ، غازی آباد، متھرا ، آگرہ اور کانپور ،لکھنو تک آلودگی خطرناک سطح پر چلی گئی ہے۔ زہریلی گیسوں کاربن ڈائی اوکسائڈ ، کاربن مونو اوکسائڈ، نائیٹروجن اوکسائڈ، سلفر ڈائی اوکسائڈ اور دیگر گیسوں سمیت ایس پی ایم، آر پی ایم، سیسا، بنزین اور دیگر خطرناک زہریلے عناصر کا اوسط لگاتار بڑھ رہا ہے۔
آلودگی کی وجہ سے مذہبی شہر کاشی کے لگ جان لیوا بیماری کے شکار ہورہے ہیں۔ یہ وزیر اعظم کا پارلیمانی حلقہ بھی ہے،لیکن سسٹم کو کوئی فکر یا شرم نہیں ہے۔ کچھ عرصے پہلے ہی بی ایچ یو کے سینئر چیسٹ ماہر ڈاکٹر ایس کے اگروال نے کہا تھا کہ کاشی شہر گیس چیمبر میں تبدیل ہو چکاہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے اپنا قدیم بیان پھر سے دوہرایا اور کہا کہ اب تو صورت حال اور بھی خطرناک ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاشی کی حالت دہلی سے بھی زیادہ خراب اور تشویشناک ہے۔ ڈاکٹر اگروال کا ماننا ہے کہ شہر کی ہوا کی سطح (کوالٹی) ان دنوں بے حد نچلی سطح پر ہے۔ کاشی میں کئی جگہوں پر سانسوں کے ذریعہ نقصان پہنچانے والے آلودہ پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 سے جڑی ریئل ٹائم ریڈنگ ہوا کے محفوظ سطح سے کئی گنا زیادہ ہے۔ کاشی میں 24گھنٹے کے ایئر کوالٹی انڈیکش کی سطح ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے، اس لئے یہ پتہ نہیں چل رہاہے کہ یہ کہاں اور خطرے کے کس سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ویسے ان کا ماننا ہے کہ یہ سیزن کی سب سے خراب سطح زیادہ سے زیادہ 500 کے آس پاس ہوگی۔ بی ایچ یو اسپتال میں ان دنوں آنے والے مریضوں کی تعداد میں بھی کئی گنا اضافہ دیکھاجارہاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *