جھارکھنڈ 68 فیصد دیہی گھر اب بھی بجلی سے محروم

damiبجلی کے مسئلے سے نبردآزما جھارکھنڈ کے لوگوںکو وزیرا علیٰ رگھوور داس نے یہ یقین دلایا تھا کہ اب بلا تعطل بجلی کی سپلائی ہوگی۔ اقتدار سنبھالتے ہی انھوںنے مجیرو پاور کٹاف کی بات کہی تھی۔ انھوںنے سخت لہجے میں کہا تھا کہ جہاں بجلی کٹے گی، وہاں کے انجینئر پر کارروائی ہوگی۔ لیکن جھارکھنڈ میںزیرو پاور کٹ لوگوںکا خواب، خواب ہی رہ گیا۔ ریاست میںبجلی کی سپلائی کا نظام خراب ہے۔ اس میں سدھار کے لاکھ دعووںکے باوجود بجلی کا کٹنا جاری ہے۔ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں بھی صورت حال میںبہتری نہیںآئی ہے۔
ریاست کا کوئی بھی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں چوبیس گھنٹے بجلی کی سپلائی ہوتی ہو، عالم یہ ہے کہ راجدھانی رانچی میں بھی 20 سے 22 گھنٹے ہی بجلی مل پاتی ہے، وہیںریاست کے دیگر علاقوں میں 15 سے 17 گھنٹے بجلی مل پاتی ہے۔ لیکن جھارکھنڈ اسٹیٹ الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کارپوریشن کے افسروں کا دعویٰ ہے کہ ریاست میں بلا تعطل بجلی سپلائی کرنے کی صلاحیت ہے، لیکن ٹرانسفارمر اور تار کی صورت حال ایسی نہیں ہے کہ بجلی کی فل لوڈسپلائی کی جاسکے۔ آندھی اور بارش میں بھی تار ٹوٹ جاتے ہیں، لوکل فالٹ بھی آجاتا ہے، اس وجہ سے وقتاً فوقتاً بجلی کٹتی رہتی ہے۔
لیکن اگر سچائی پر غور کریں تو حقیقت کچھ اور بیان کرتی ہے۔ دراصل جھارکھنڈ میںبجلی کی اتنی پیداوار ہی نہیں ہے کہ فل لوڈ بجلی کی سپلائی کی جاسکے۔ ریاست کو 2100 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے، لیکن حال میں1800 میگاواٹ بجلی ہی فراہم ہوپارہی ہے۔ تینو گھاٹ پاور کارپوریشن پر ریاستی سرکار منحصر ہے۔ یہاں سے 380میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہی ہو پاتی ہے لیکن اس پر لوڈ بڑھنے سے اس کا ایک یونٹ ہمیشہ ٹھپ ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے پوری ریاست کے کسی بھی حصے میںزیرو پاور کٹ بجلی نہیںمل پاتی ہے۔
دراصل ریاست کی تشکیل کے 16 سال بعد بھی اس طرف کوئی ٹھوس روڈ میپ بنا کر کام نہیںکیاگیا ہے۔ رانچی سمیت دیگر کچھ شہروں میں انڈر گراؤنڈ کیبلنگ کا کام شروع ہوا،لیکن یہ ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا۔ ’راجیو گاندھی گرامین ودیتی کرن یوجنا‘ کے تحت 17ہزار گاؤں کا الیکٹریفکیشن کیاگیا، لیکن وہاں بجلی کیسے ملے،اس کا کوئی بندوبست نہیںکیا گیا۔
اب بھی اگر گاؤوں میںایک بار ٹرانسفارمر خراب ہوتا ہے تو اسے بدلنے میںسالوں لگ جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کا آدھا حصہ انتہائی انتہا پسندی سے متاثر رہنے کے سبب ان علاقوں میں تار چوری کے واقعات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے زیادہ تر دیہی علاقے ابھی بھی اندھیرے میںہی ڈوبے رہتے ہیں۔ سنتھال پرگنہ کا پورا علاقہ ابھی بہاراور کہلگاؤں کے این ٹی پی سی پاور پلانٹ پر ہی منحصر ہے۔ یہاںسے بجلی خرید کر سرکار ان علاقوں میں بجلی دیتی ہے۔ ریاست میں بجلی کی پیداوار نہیں ہونے کے سبب سرکار کے بھی ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
ریاست میں ابھی 26 لاکھ سے زیادہ بجلی صارفین ہیں، جبکہ 2010 تک محض 14 لاکھ ہی بجلی صارفین تھے۔ صارفین کی تعدادمیں لگاتار اضافہ ہونے کی وجہ سے اب ہر ماہ 917کروڑ یونٹ کی کھپت ہے۔ صارفین کی سپلائی کے لیے جھارکھنڈ الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کارپوریشن 370 کروڑ روپے کی بجلی ہر ماہ خریدتا ہے۔ بجلی بورڈ کا اپنا تنصیبی خرچ بھی 35 کروڑ روپے ہے یعنی بجلی بورڈ کو ابھی بھی 185 بورڈ بجلی چوری روکنے اور بدعنوانی پر قابوپانے میں پوری طرح ناکام رہے ہیں۔ ا س وجہ سے بجلی بورڈ کا خسارہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے۔ وزیر اعلیٰ رگھوور داس کے ذریعہ بار بار تنبیہ کے باوجود اس کا کوئی اثر نہیںہوپارہا ہے۔
ویسے وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے ریاست میں سبھی گاؤوں میںالیکٹریفکیشن کرانے کا ہدف رکھا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ اعلان کیا ہے کہ دسمبر 2017 تک سبھی گھروں میں بجلی کنکشن مہیا کرا دییجائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے افسروں کو یہ ہدایت دی ہے کہ ہر حال میںا س ہدف کو پورا کیا جائے، بصورت دیگر کام میںکوتاہی برتنے والے کو کسی بھی قیمت پر بخشا نہیںجائے گا۔ وزیر اعلیٰ کی اس ہدایت کا اثر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بجلی کارپوریشن نے اس کے لیے ایک روڈ میپ بھی تیار کیا ہے۔وزیر اعلیٰ ریاست میںبجلی پیداوار بڑھانے کو لے کر بھی سنجیدہ ہیں۔ ابھی تینو گھاٹ پاور کارپوریشن پر ہی ریاستی سرکار منحصر ہے لیکن اب ا س کی صلاحیت بڑھانے کے مقصد سے ا س کی تعمیر نو کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پراتول تھرمل پاور کو این ٹی پی سی کو دے دیا گیا ہے۔ ا س بجلی پلانٹ سے اس کی توسیع کرکے این ٹی پی سی چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرے گی۔ اس پر کام شروع کیا جارہا ہے۔
کچھ نجی کمپنیوں کو بھی بجلی پلانٹ لگانے کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ اس میں اڈانی گروپ اہم ہے۔ اڈانی گوڈا میں2200 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ ابھی دو نجی کمپنیاں اِن لینڈ پاور اور آدھونک پاور کے ذریعہ بجلی پیداوار کی جارہی ہے۔ ان دونوں پاور پلانٹ سے 180 میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے۔ بجلی کارپوریشن کے چیئرمین کم منیجنگ ڈائریکٹر آر کے شریواستو نے دعویٰ کیا ہے کہ سبھی گھروںمیں جلد ہی بجلی کنکشن پہنچادیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی فل لوڈ بجلی دینے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔ بجلی کمپنی میں ہورہے خسارے کو دور کرنے کے لیے ٹھوس پالیسی بنائی گئی ہے۔ لیکن اب دیکھنا ہے کہ جھارکھنڈ کے لوگوں کا یہ خواب پورا ہوتا ہے یا زیرو پاور کٹ مونگیری لال کا حسین سپنا ہی بن کر رہ جائے گا۔
وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے ریاست کے سبھی گاؤوں میںبجلی پہنچانے کو لے کر تلخ رویہ اپنایا ہے۔ انھوں نے اپنے ماتحت افسروں کو یہ ہدایت دی ہے کہ 2017 کے آخر تک ہر گھر میں بجلی پہنچ جانا چاہیے۔ اس کے لیے رقم کی بھی منظوری کردی گئی ہے۔ ویسے وہ ابھی تک پورا الیکٹریفکیشن نہیں ہونے پر پچھلی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرانے سے نہیں تھکتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر یقین اور عزم مصمم کے ساتھ کوئی اسکیم شروع کی جائے تو اسے ہر حال میں پورا کیا جاسکتا ہے ۔ جن کے گھروں میں ابھی تک اندھیراہے، ان کے گھروں میں بھی جلد ہی بجلی پہنچے گی۔ریاست میںجتنی بجلی کی ضرورت ہے، اُتنی پیداوار نہیںہے، تو ایسے میں اتنے گھروںمیںڈی وی سی اور ریاست کے بجلی پیداوار پلانٹ سے پیداوار بڑھا کر اس کمی کو دور کیا جائے گا۔ دسمبر2017 تک ریاست کے سبھی پنچایت گھروں میں بجلی کنکشن مہیا کرا دیا جائے گا، یہ سرکار کا وعدہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھی یہی دیرینہ خواہش ہے کہ ہر گھر میںروشنی ہو۔
وزیر اعلیٰ کا ماننا ہے کہ نجی توانائی پالیسی کے تحت نجی صنعتی گھرانوں کے ذریعہ ریاست میں بجلی کی پیداوار کے پلانٹ لگائے جارہے ہیں۔ تینو گھاٹ پاور کارپوریشن کو بھی این ٹی پی سی کو دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ریاست میںکچھ دنوں کے بعدبجلی کی کوئی کمی نہیںرہے گی۔ اس کے ساتھ ہی بجلی کی کھپتکم کرنے کے لیے ایل ای ڈی بلبوں کی تقسیم کی جارہی ہے۔ ان بلبوں کی قیمت تو کم رکھی ہی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی غریب اور بی پی ایل کنبوںکے لیے قسطوں میںدس روپے ماہانہ کی رقم مہیا کرائی جارہی ہے۔ متبادل توانائی کے تئیں بھی وزیر اعلیٰ رگھوور داس کچھ زیادہ سنجیدہ ہیں۔ سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی بجلی کی سپلائی یقینی بنانے کو کہا گیا ہے۔ ’کھونٹی ویوہار نیایالیہ‘ میں سولر لائٹ کے ذریعہ ہی بجلی سپلائی کی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی پی ماڈل پرشمسی توانائی پلانٹ لگانے کی کارروائی کی جارہی ہے۔ کئی صنعتی گھرانوںنے سرمایہ کاری کی تجاویز دی ہیں۔ کچھ ہی دنوں میں جھارکھنڈ بجلی کے معاملے میں پوری طرح خود کفیل ہو جائے گا۔
ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ بابو لال مرانڈی نے کہا کہ رگھوور داس صرف بھولے بھالے عوام کو بڑے بڑے وعدے کرکے لبھانے کی کوشش میں لگے ہیں۔ لیکن آئندہ انتخاب میںعوام نے بی جے پی کو سبق سکھانے کا من بنا لیا ہے۔ ابھی بھی 90 فیصد آدیواسی گاؤوں میں بجلی کا تار نہیںپہنچا ہے۔ سرکار پہلے تار او ر بجلی تو پہنچائے، تب ہر گھر میںبجلی اور زیرو پاور کٹ کا دعویٰ کرے۔ وزیر اعلیٰ لبھانے والے اعلان کرنا بند کریں اور زمین سطح پر کام کرنا سیکھیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ سرکارآدیواسیوں اور اصل باشندوں کے مخالف ہے، اس لیے مفاد عامہ کا کوئی کام نہیں کیا جارہا ہے۔ بی جے پی اپنی پارٹی کے صنعت کاروںکا فائدہ پہنچانے کے لیے بھول بھالے لوگوں کی زمین تحویل کرنے میںلگی ہوئی ہے۔
جب آدیواسیوں کے پاس زمین اور مکان ہی نہیںرہے گاتو بجلی کس کو دیںگے۔وزیر اعلیٰ پہلے نقل مکانی کو تو روکیں۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کی 68فیصد آبادی ابھی بھی اندھیرے میںرہنے کو مجبور ہے۔ وزیر اعلیٰ ریاست میںپھیلی بدعنوانی پر قابو پائیں۔ بجلی بورڈ تو بدعنوانی کااڈا ہے۔ متبادل توانائی کا ذریعہ بھی تلاش کرنا چاہیے، تبھی تو ریاست کے سبھی گھروں میںبجلی پہنچائی جاسکتی ہے۔
اسمبلی میںاپوزیشن لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے الزام لگایا کہ یہ سرکار اعلانات کی سرکار ہے۔ بڑے بڑے اعلانات اور وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن ابھی تک ایک بھی اعلان زمین پر نہیںاتر سکا ہے۔ رگھوور سرکار نے ایک لاکھ لوگوںکو نوکری دینے وعدہ کیا تھا لیکننوکری دینا تو دور، جن لوگوں کو پچھلی سرکاروں نے معاہدے کی بنیاد پر رکھا، انھیں بھی نکالنے کی سازش یہ سرکار کررہی ہے۔
سبھی لوگوں کو بجلی دینے کے بارے میںپوچھنے پر انھوںنے کہا کہ رگھوور داس جب وزیر اعلیٰ کے منصب پر بیٹھے تھے تو انھوںنے راجدھانی اور ریاست کے لوگوںسے زیرو پاور کٹ کی باتیں کہی تھیں لیکن دور دراز کے گاؤںکی بات تو چھوڑیے، راجدھانی میںرہنے والوں کو بھی گرمیوں میںآٹھ آٹھ گھنٹے تک بجلی نہیںمل پائی۔ وزیر اعلیٰ کس بنیاد پر زیرو پاور کٹ کی بات کررہے ہیں، یہ سمجھ سے باہر ہے۔ ریاست میںبجلی کی جتنی ضرورت ہے، اُتنی پیداوار ہی نہیں ہے۔ بجلی کمپنیوںکی بقایا رقم ہونے کی وجہ سے کمپنیاں ریاست کو بجلی دینے میںآناکانی کررہی ہیں۔ ا س میںڈی وی سی اہم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پچھلی سرکاروں نے ریاست کو بجلی کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے،کچھ نجی کمپنیوں کو بھی مدعو کیا،وہ کمپنیاں آئیں بھی ،لیکن بی جے پی سرکار کے ذریعہ انھیںدیے گئے کول بلاک الاٹمنٹ کو رد کردیاگیا، جس سے وہ پیچھے ہٹ گئیں۔ وہیںبی جے پی اڈانی گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہر قدم اٹھا رہی ہے۔ اڈانی کی شرطوںپر ہی یہ سرکار جھک کر پاور پلانٹ لگارہی ہے۔ اس پاور پلانٹ سے ریاستی سرکار کو کچھ فائدہ نہیںہونے والا ہے۔ متبادل توانائی پر بات چیت کرتے ہوئے شری سورین نے کہا کہ اس کے تئیںریاستی سرکار سنجیدہ نہیںہے، صرف سولر پلانٹ کے نام پر لوٹ کھسوٹ مچارہی ہے۔
ریاست کے تقریباً 68فیصد دیہی گھروں میںبجلی نہیںہے۔ دور دراز کے آدیواسی اکثریتی گاؤوں کے لوگ تو بجلی کا مطلب بھی نہیںسمجھتے۔ خود مرکزی وزیر برائے توانائی پیوش گوئل نے راجیہ سبھا میں اقرار کیا تھا کہ جھارکھنڈ ریاست میں دیہی گھروںکی کل تعداد 46 لاکھ 85 ہزار 965ہیں، جن میں 15 لاکھ 14 ہزار 50 گھروں میں ہی بجلی پہنچائی جاسکی ہے۔ جھارکھنڈ کے دیہی علاقوں میںمرکزی سرکار کی راجیو گاندھی رورل الیکٹریفکیشن پروجیکٹ اینڈ اسٹیٹ پلاننگ کے تحت ریاست کے گاؤوں کا الیکٹریفکیشن کیا گیا۔
دوردرازکے دیہی علاقے،انتہا پسندی سے متاثرہ علاقے اور قدیم قبائلی اکثریتی علاقوں میں الیکٹریفکیشن کا کام ریاست کی تشکیل کے 16 سال بعد بھی شروع نہیں ہوسکاہے۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے ان علاقوں میںبجلی بحال کرنے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا ہے۔ جھارکھنڈ بجلی تقسیم کارپوریشن کا دعویٰ ہے کہ گاؤوں میںبجلی پہنچانے کے لیے جنگی سطح پر کام کیا جارہا ہے۔ پول، تار اور ٹرانسفارمر لگانے کا کام ایک ساتھ شروع کیا گیا ہے لیکن کچھ پریشانیاں بھی کارپوریشن کے سامنے آرہی ہیں۔ ریاست کے 409 گاؤوں کے آس پاس کوئی ٹرانسمیشن لائن نہیں ہے۔ ویسے ریاستی سرکار ان گاؤوں میں سولر لائٹ کے ذریعہ الیکٹریفکیشن کرنے کے منصوبے پر کام کررہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *