بہار شراب بندی کا کتنا اثر؟

dami00گزشتہ دنوں کی بات ہے۔جھارکھنڈ کے تلیا سے ایک کار پر تین نوجوان آرہے تھے۔ بہار میں نوادہ ضلع کے رجولی چیک پوسٹ سے گزرنے کے دوران جب اس کار کی چیکنگ کی گئی تب اس سے 9کارٹون غیر ملکی شراب ضبط کی گئی۔ اس سلسلے میں ویشالی کے تین شراب اسمگلر کو گرفتار کیا گیا،لیکن کار میں رکھی شراب کو برآمد کرنا پولیس کے لئے آسان نہیں تھا۔ ابتدا میں سب کچھ نارمل تھا،لیکن کار سے شراب کی بو آرہی تھی۔ لہٰذا بریتھ اینالائزر سے جانچ کی گئی۔ تب بھی تینوں نوجوان میں الکحل نہیں ملا۔ آخرمیں جب کار کے پیچھے سیٹ کو ہٹایا گیا تب اس کے اندر کے نئے طرز کا باکس ملا ۔اس باکس میں 9کارٹون میں 108بوتل شراب بند تھی۔ اس کے پہلے 21 اکتوبر کو بھی اسی طرح کا ایک معاملہ سامنے آیا تھا جب نالندہ کے دو نوجوان کار میں چھپا کر ہزاری باغ (جھارکھنڈ)سے 9کارٹون شراب لا رہے تھے۔

شراب اسمگلنگ کا یہ پہلا اور آخری موقع نہیں ہے۔ شراب اسمگلر طرح طرح کے طریقے اختیار کرکے بہار میں شراب لارہے ہیں۔گزشتہ 7ستمبر کو نوادہ کے گووند پور بارڈر پر اس سے بھی زیادہ دلچسپ معاملہ سامنے آیا تھا۔ دو شراب اسمگلر گیس سیلنڈر میں چھپا کر تقریباً 145پائوچ دیسی شراب موٹر سائیکل سے لا رہے تھے۔ لیکن پولیس کو اطلاع ملی جس کی بنیاد پر دونوں گرفتار کر لئے گئے۔لیکن ایسی کئی مثالیں ہیں جن کی وجہ سے بہار میں شراب کی اسمگلنگ جاری ہے۔ ایسے لوگوں کے سامنے بہار سرکار بے بس اور لاچار ثابت ہو رہی ہے۔ خاص طور سے سرحدی علاقہ میں شراب کا کارو بار بڑے پیمانے پر ہورہا ہے۔
یہ صورت حال جھارکھنڈ سے لگے بہار کے نوادہ ضلع کے بارڈر علاقہ تک محدود نہیں ہے۔ گیا، اورنگ آباد، جموئی ضلع کی سرحد جھارکھنڈ سے بالکل جڑا ہوا ہے۔ اسی طرح چھپرہ، سیوان، بکسر، مغربی چمپارن، اتر پردیش سے ملا ہوا ہے۔ مغربی بنگال اور نیپال کی سرحد سے کشن گنج ملا ہوا ہے۔ جبکہ بہار کے مغربی چمپارن ، مشرقی چمپارن ، سیتا مڑھی، مدھوبنی ، سوپول ، ارریہ اور ارریہ ضلع کا بارڈر نیپال سے لگا ہوا ہے۔ ان علاقوں سے بڑے پیمانے پر شراب کی اسمگلنگ ہو رہی ہے۔ جغرافیائی نقطہ نظر سے بہار سرحدوں میں جو پڑوسی ریاست اور ملک ہیں،وہاں شراب کی فروخت اور استعمال پر پابندی نہیں ہے۔ لہٰذا غیر قانونی طریقے سے بڑے پیمانے پر شراب کی اسمگلنگ شروع ہو گئی ہے۔ شراب پینے والے لوگ پڑوسی ریاستوں اور نیپال کا رخ کرنے لگے ہیں۔ بہار میں شراب بندی کا پڑوسی ریاست بخوبی فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔
دیکھیں تو رجولی بارڈر سے تقریباً 500 گز کی دوری پر جھارکھنڈ کے کالی منڈا میں شراب کی نئی دکان کھلی ہے۔ بہار کے بارڈر والے جھارکھنڈ کے گائوں میں درجنوں ایسی دکانیں کھل گئی ہیں۔ جھارکھنڈ اکیلا نہیں ہے۔ بکسر کی سرحد اتر پردیش کے غازی پور ضلع کے قطب پور ، دیول، پریجی، بیلچا میں دیسی شراب کی دکانیں کھل گئی ہیں۔یہ سبھی گائوں بکسر سے لگی ہوئی گنگا اور کرمنناشا ندی کے کنارے ہیں۔ ندی پار کرتے ہی لوگوں کو آسانی سے شراب فراہم ہو جارہی ہے۔ یہی نہیں، یو پی سرحد میں پرتاپ پور، چکیا کوٹھی، سوہگرا، چنکھی گھاٹ میں شراب کی منڈی سجنے لگی ہے۔
مغربی بنگال یو پی اور نیپال سے لگا ہوا ہے۔ بگہا کے مدھوبنی ضلع کی سرحد بانسی گائوں تک ہے۔ بانسی ندی پار کرتے ہی یو پی کے بانسی کرمانیا گائوں میں شراب کی نئی دکان کھل گئی ہے۔ بھتہا ڈویژن کے بنہا کے سامنے یوپی کی سرحد شروع ہوتے ہی چوراہا گوڑریا میں دکانیں کھل گئی ہیں۔ یہی نہیں، کشن گنج کی سرحد نیپال کے جھاپا سے لگتی ہے اور مغربی بنگال کے دیناج پور اور دارجلنگ سے بھی۔تین طرف سے کشن گنج مغربی بنگال سے ملا ہوا ہے۔ کشن گنج ضلع کے لوگوں کے لئے دال کولا، اسوراڑھ گڑھ ، کانکی، پنجی پاڑا، اسلام پور، ویدھا نگر، سنھیا جوٹ وغیرہ بہار کے شراب پینے والوں کے لئے نیا محفوظ ٹھکانا بن گیاہے۔
بہار کا تقریباً 1800کلو میٹر علاقہ نیپال کی سرحد سے ملا ہوا ہے۔ ہندوستان نیپال سرحد پر نیپالی کسٹم آفس کی سرحدپر 30-35 دکانیں ہیں۔ رکسول شہر سے نصف کلو میٹر کی دوری پر ویر گنج اور پرسا میں شراب دکانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ فاربس گنج ، جوگ بنی علاقے کے لوگ بھی شراب کے لئے نیپال کا رخ کرنے لگے ہیں۔ دوسری طرف، مغربی چمپارن کے بگہا کی سرحد بالمیکی گنڈک براج پار کرکے نیپال کی سرحد میں داخل ہوتے ہی براج کے 36 نمبر پار کے بعد شراب کی دکان سجنے لگی ہے۔ یعنی کہ بہار میں شراب بندی ہوتے ہی پڑوسی ریاستوں میں شراب کی فروخت بڑھ گئی ہے۔
حالانکہ نئے قانون کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے اوسطاً ہر روز 61 لوگ گرفتار کئے جارہے ہیں جبکہ ہر روز 64 مقدمہ درج ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف، جھارکھنڈ اور اتر پردیش کی سرکار نے بہار کے بارڈر علاقے کی دکانوں کا الاٹمنٹ بڑھا دیا ہے۔ جھارکھنڈ میں 2015-16 میں 940 کروڑ شراب سے آمدنی تھی۔ اس میں 40سے 50 فیصد اضافے کا اندازہ لگایا جارہاہے۔ اسی طرح یو پی کے بلیا ، دیوریا، کوشی نگر، غازی پور اور چندولی میں ضلع انتظامیہ نے شراب دکانوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ کم سے کم گارنٹی بھی بڑھا دی ہے۔ بلیا کہ پروڈکٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق،کم سے کم گارنٹی کوٹا 6000سے بڑھا کر ایک لاکھ لیٹر کر دیا گیا ہے۔ یو پی کے پروڈکشن کمشنر بھائو ناتھ کے مطابق 2016-17 میں 19250 کروڑ ریونیو کلیکشن کا ہدف رکھا گیا ہے۔
حالانکہ بہار سرکار نے پڑوسی ریاستوں کی سرحد پر شراب فروخت بند کرنے کی اپیل کی ہے ۔بہار کے پروڈکشن کمشنر جنگ بہادر کے مطابق، اتر پردیش اور جھارکھنڈ کے چیف سکریٹری کو خط لکھ کر گزارش کی گئی ہے کہ تین سے پانچ کلو میٹر کے سرحدی علاقوں میں شراب کی دکان نہیں کھولی جائے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ شراب بندی پر جھارکھنڈ سرکار سے تعاون کی اپیل کی گئی لیکن بدلے میں شراب کی دکانوں کا کوٹا بڑھا دیا گیا۔ دوسری طرف، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ رگھور داس نے کہا کہ نتیش کمار کو اقتدار کا نشہ چڑھ گیا ہے۔ ان کا نشہ جلد اتر جائے گا۔ رگھو ر داس نے سوال کیا کہ دس سالوں تک کس نے نشیری بنا کر رکھا۔ اب شراب بندی کی واہ واہی لوٹ رہے ہیں۔
دراصل نتیش کمار کا ماننا ہے کہ جب بہار میں شراب بندی ہو سکتی ہے تب جھارکھنڈ ،یو پی اور مغربی بنگال میں کیوں نہیں۔ شراب بندی کے لئے ان ریاستوں کو بھی بے بس کردیں گے۔ حالانکہ یہ ممکن نہیں کہ بہار سرکار کے فیصلے سے پڑوسی ریاست بھی متفق ہوں۔ ویسے میں بہار سرکار کو اپنے بھروسے کارروائی کرنا ہوگا۔ دیکھیں تو 470 سیپ اور 4000 ہوم گارڈ فراہم کرائے گئے ہیں۔ جبکہ پروڈکٹ ڈپارٹمنٹ 2000 سیپ کی مانگ کی تھی۔ ضلعوں کو 197 بریتھ انالائزر فراہم کرائے گئے ہیں۔
1977 میں کرپوری ٹھاکر نے شراب پر پابندی لگائی تھی۔ لیکن ایسی ہی کئی پریشانیوں کی وجہ سے یہ پابندی زیادہ دنوں تک نہیں رہی۔ بہار اکیلا ایسی ریاست نہیں ہے جہاں شراب بندی میں مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ ہریانہ، آندھرا پردیش اور میزورم میں شراب بندی ہوئی تھی۔ یہاں بھی شراب بندی کار گر نہیں ہو پائی۔ اب ان ریاستوں میں شراب کی فروخت ہوتی ہے۔ حالانکہ گجرات، ناگالینڈ، لکشدیپ کے علاوہ منی پور کے کچھ حصوں میں شراب فروخت پر پابندی ہے۔ کیرل میں 30مئی 2014 کے بعد سے شراب دکانوں کا لائسنس ملنا بند ہو گیا ہے۔
دراصل بہار میں عورتوں کی مانگ پر ہی ریاست میں شراب بندی لاگو کی گئی ہے۔ 9جولائی 2015 کو پٹنہ میں منعقد پروگرام میں عورتوں نے شراب بندی کا ایشو اٹھایا تھا۔اس مطالبے کی بنیاد پر ہی شراب بندی کی گئی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ریاست میں تقریباً 29فیصد لوگ شراب کا استعمال کرتے ہیں۔ اس میں 0.2 فیصد عورتیں بھی شامل ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق ریاست میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ لوگ شراب کا استعمال کرتے ہیں۔ اس میں 40لاکھ لوگ ایسے ہیں جو عادتاً شرابی ہیں۔ بہار میں سالانہ 990.30 لاکھ لیٹر شراب کی کھپت ہوتی رہی ہے۔ ایسے میں مکمل شراب بندی کیسے کامیاب ہو پاتی ہے ،یہ ایک بڑا سوال ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *