آرگینک کاشت کاری کے لیے ایک اور سنگ میل

au-asifآرگینک کاشت کاری کا احیاء اتنی تیزی سے ہورہاہے کہ اب تک دنیا کے مختلف ممالک میں 18 آرگینک ورلڈ کانگریس ہوچکے ہیں اور یہ یقیناً خوشی کی بات ہے کہ 19 واں آرگینک ورلڈ کانگریس ہندوستان میںمنعقد ہورہا ہے۔ یہ سہ روزہ کانگریس گریٹر نوئیڈا، این سی آر میں9 تا 11 نومبر 2017 کو ہورہا ہے۔ استنبول میں 18 ویں کانگریس کے دوران روس، برازیل اور چین کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے ہندوستان اپنے یہاں 19 ویں آرگینک ورلڈ کانگریس کو منعقد کرانے کا فیصلہ کرانے میںکامیاب ہوگیا۔ اس ضمن میں آرگینک فارمنگ ایسوسی ایشن آف انڈیا اور پی ڈی اے ٹریڈ فیئرس نے بڑا ہی کلیدی کردار ادا کیا۔ آرگینک ورلڈ کانگریس کے آرگنائزرز میںآرگینک فارمنگ ایسوسی ایشن آف انڈیااور پی ڈی اے ٹریڈ فیئرس کے علاوہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف آرگینک ایگریکلچر موومنٹ(ایفوم انٹرنیشنل ، جرمنی) شامل ہیں۔حکومت ہند اپنی وزارت ایگریکلچر اینڈ فارمرز ویلفیئر کے ذریعہ اس عالمی کانگریس کی شریک آرگنائزر ہے۔ کامرس وزارت کی پرنسپل ایجنسی فار آرگینک (ایپڈا) بھی ا س عظیم الشان کانگریس کو منعقد کرانے میںحصہ لے رہی ہے۔ 200 سے زائد آرگینک بیج رکھنے والی کمپنیاںاس دوران روایتی اور آرگینک بیجوں کی نمائش میں شریک ہوں گی۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ آرگینک ورلڈ کانگریس 2017 اس بات پر فوکس کرے گی کہ دنیا بھر سے تجربہ کار اور ممتاز آرگینک کسانوں کی اس کانگریس میں شرکت کو یقینی بنائے اور وہ پھر اس میں شرکت کرکے اس میںبھرپور حصہ لیں۔ توقع ہے کہ 240 سے زیادہ پیپرس کامیاب آرگینک کاشت کاری کی مخصوص آرگینک تکنیک، پرانی اور نئی دونوں کو پیش کرتے ہوئے پڑھے جائیںگے۔ اس کانگریس میںافریقہ، لیٹین امریکہ، ایشیا اور سارک ممالک کے مندوبین بھی شرکت کرنے آئیںگے۔ علاوہ ازیں سینگل، ویتنام، کولمبیا، میکسیکو، برازیل، پیرو و دیگر ممالک کے آرگینک کاشت کاروںکے پیپرس یہاںپہنچ چکے ہیں۔ کل ملاکر 3000 آرگینک کاشت کار، سرکاری حکام، ایگریکلچر سائنسداں، این جی اوز او رآرگینک تنظیمیں اس میں شرکت کریں گی۔
’چوتھی دنیا‘ ایک ایسا اخبار ہے جو کہ آرگینک کاشتکاری کے فروغ میںایک عرصہ سے اہم کردارادا کرتا رہا ہے۔ اس نے راجستھان کے مختلف علاقوں میں کھیتوں میںجاکر آرگینک کاشت کاری کا جائزہ لیا ہے اور اس کے مختلف امور کو سمجھا ہے اور پھر اپنی رپورٹنگ کے ذریعہ قارئین کو اس سے متعارف کرایا ہے۔ اس کی ان کوششوں کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ اب آرگینک کاشتکاری ملک کے عام لوگوںمیںانجان نہیںرہی۔
ویسے آرگینک کاشت کاری دنیا کے دیگر ممالک میںبھی دھوم مچارہی ہے۔ اس صحافی کو یاد ہے کہ 2003میںاس نے خود سفر امریکہ کے دوران سنسناٹی کے دیہی علاقوںمیںآرگینک کاشت کاری کا جائزہ لیا تھا اور یہ پایا تھاکہ امریکی کسان اس میںپوری دلچسپی لے رہے ہیں۔ امریکہ کی طرح یہ کاشت کاری روس، برازیل، چین اور ترکی میںبھی ہوتی ہے۔
ہندوستان کی آرگینک کاشت کاری کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ آرگینک کاشت کاری سے متعلق سب سے زیادہ مقبول اور مؤثر کتابوںمیںسے ایک ہے ’این ایگریکلچر ٹیسٹامنٹ‘۔ اس کے مصنف سر البرٹ ہووارڈ ہیں۔ انھوںنے اپنی اس کتاب کے پیش لفظ میںلکھا ہے کہ انھوںنے ہندوستانی کسانوںسے جو کچھ سیکھا تھا،اسی پر مبنی یہ کتاب ہے۔ ہارورڈ کو 1920 کی دہائی میںہندوستان کے ’پسماندہ‘ کسانوں کو ’جدید‘ طریقہ سے کاشت کاری سکھانے کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن انھیں فوراً ہی محسوس ہوگیا کہ ہندوستان میںصورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کی سمجھ میںآیا کہ یہ تو ہندوستانی کاشت کار ہیں جن کے پاس کاشت کاری سے متعلق طریقۂ کار موجود ہیں اور انھوںنے ان سے وہ سب کچھ سیکھنا شروع کردیا جس میں کمپوسٹنگ اور مٹی میںآرگینک عناصر کی بڑھوتری سے مٹی کی صلاحیت میںسدھار کرنا شامل تھا۔ ہووارڈ کو جدیدکمپوسٹنگ کا اس لیے بھی بانی ماناجاتا ہے کہ دنیا کو ان کے ہی ذریعہ اس ہندوستانی طریقۂ کار کی جانکاری ملی تھی۔
ہووارڈ کایہ اعلان جو کہ جدید آرگینک کاشت کاری کی بنیادی اساس ہے، آج ہمارے کانوں میںگونجتا رہتا ہے: ’’مٹی، پودوں، جانوروں اورانسانوں کی صحت ایک ہے اوریہ ناقابل تقسیم ہے۔ ‘‘ یہ بات انٹرنیشنل فیڈریشن آرگینک ایگریکلچر موومنٹ (ایفوم) کے چیئرمین اینڈرے لیو کہتے ہوئے یہ بھی اظہار خیال کرتے ہیں کہ ہووارڈ کے جی آئی روڈالے جو کہ روڈالے پریس کے بانی تھے،پر زبردست اثرات تھے۔روڈالے نے 1942 میںآرگینک فارمنگ اینڈ گارڈیننگ (آرگینک کاشت کاری اور باغبانی) نام کا رسالہ شائع کیا تھا۔
توقع ہے کہ آئندہ سال گریٹر نوئیڈا میںہورہے اس 19 ویں عالمی کانگریس کے انعقاد سے آرگینک کاشت کاری کے کاز کو یقیناً بے حد فائدہ پہنچے گا۔ اس موقع پر 235 صفحات پر مشتمل خصوصی مجلہ ’اکالوجیکل ایگریکلچر ان انڈیا‘ کی اشاعت بہت ہی مفید اور جامع ہے۔ اس سے سائنٹفک ثبوت کے ساتھ آرگینک کاشت کاری کے مثبت اثرات اور کامیابیوںکو سمجھنے میںمدد ملتی ہے۔ اس میںآرگینک کاشت کاری کے سائنسدانوں او رکسانوںکے تجزیے شامل ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *