ضرورت ہے فلمی دنیا کو ہردور میں ایک اشوک کمار کی

p-12اشوک کمار ایک ایسے پروقار اداکار تھے جن کے دم سے بالی ووڈ قابل احترام بنا۔ آج ایک ایسے وقت میں جب کہ فلمی دنیا بازارو بنگئی ہے، اشوک کمار بے ساختہ یاد آتے ہیں۔ فلمی دنیا کو ہر دور میں ایک اشوک کمار کی ضرورت ہے۔ لہٰذا ان کے 105ویں یوم پیدائش پر ان کی قابل تقلید حیات و خدمات سے قارئین کومتعارف کرایا جارہاہے۔

اشوک کمار کا فلموں کی طرف جھکائو بچپن سے ہی تھا۔ شاید اسی لیے وہ اس میدان میں اتنے کامیاب رہے۔ انھوں نے اداکاری کانیا اندازاختیارکیاجسے کافی پسند کیا گیا۔ حالانکہ اشوک کمار نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ انہیں بطور اداکار پہلی فلم میں موقع ایک ہیرو کے بیمار پڑنے کی وجہ سے ملے گا۔ بالی ووڈ میں دادامنی کے نام سے مشہور کمود کمار گنگولی عرف اشوک کمار کا جنم بہار کے بھاگلپور شہر میں 13اکتوبر 1911کو ایک معمولی بنگالی پریوار میں ہواتھا۔ انہوںنے اپنی ابتدائی تعلیم کھنڈوہ شہر سے پوری کی۔ اس کے بعد انہوںنے اپنی پڑھائی الہآ بادیونیورسٹی سے پوری کی۔
اشوک کمار کی پہچان ہندی فلمی دنیا میں ایک ایورگرین ہیرو کی ہے لیکن شاہد کم ہی لوگ اس بارے میں جانتے ہوں گے کہ وہ پہلے ایسے اداکار ہوئے جنہوں نے اینٹی ہیرو کی اداکاری بھی نبھائی تھی۔ انہوںنے فلم ’قسمت‘ میں اینٹی ہیرو کی اداکاری نبھائی تھی۔ اس فلم نے کلکتہ کے ’چترا‘ تھیٹر سنیما ہال میں لگاتار196ہفتہ تک چلنےکا ریکارڈ بنایا۔
سال1934میں نیوتھیٹر میں بطور معاون کام کررہے اشوک کمار کو بامبے ٹاکیز میں کام کررہے ان کے بہنوئی ششادھار مکھرجی نے اپنی پاس بلا لیا۔ 1936میں بامبے ٹاکیز کی فلم ’جیون نیّا‘ کی تیاری کے دوران فلم کے اہم اداکار بیمار پڑ گئے۔ تب بامبے ٹاکیز کے مالک ہمانشو رائے کا دھیان اشوک کمار پر گیا اور انہوں نے اشوک کمار سے فلم میں بطور اداکار کام کرنے کی گذارش کی۔ اس کے ساتھ ہی ’جیون نیّا‘ سے اشوک کمار کا بطور اداکار فلم کا سفر شروع ہوگیا۔
1939میں منظرعالم پر آئی فلم کنگن‘ ’بندھن‘ اور جھولا میں اشوک کمار نے لیلا چٹ نش کے ساتھ کام کیا۔ ان فلموں میں ان کی اداکاری کو کافی سراہا گیا۔ اس کے ساتھ ہی فلموں کی کامیابی کے بعد اشوک کمار نے بطور اداکار فلم انڈسٹری میں اپنا سکہ جما لیا۔ اشوک کمار نے بمل رائے کے ساتھ 1963میں ’بندنی‘ میںکام کیا اور یہ فلم تاریخی فلموں میں شمار کی جانے لگی۔ 1958میں فلم ’چلتی کا نام گاڑی‘ میں ان کی اداکاری شائقین کو دیکھنے کو ملی۔ مزاح سے بھرپور اس فلم میں اشوک کمار کی جادوئی اداکاری کو دیکھ کر شائقین خوش ہوگئے۔ 1968میں منظر عالم پر آئی فلم ’آشیرواد‘ میں اپنی بے مثال اداکاری کے لیے بہترین اداکار کے قومی ایوارڈ سے نوازے گئے۔ اس فلم میں ان کا گایا گیت ’ریل گاڑی ریل گاڑی‘ بچوںمیں کافی پسندکیا گیا۔ اس کے بعد 1967میں منظر عام پر آئی فلم ’جویل تھیف‘ میں ان کی اداکاری کا نیا روپ دیکھنے کو ملا۔
1984میں ٹیلی ویژن کی تاریخ کے پہلے سوپ آپیرا ’ہم لوگ‘ میں اشوک کمار سوتردھار کی اداکاری میں نظر آئے۔ اس کے بعد دوردرشن کے لیے ہی انہوںنے بھیم بھوانی بہادر شاہ ظفر اور اجالے کی طرف جیسے سیریل میں اداکاری کی۔
فلمی کیریئر کے دوران اشوک کمار کو ڈھیروں ایوارڈ ملے۔ 1988میں ہندی سنیما کے اعلیٰ ترین اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔ لگ بھگ 60سالوں تک اپنی اداکاری سے لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والے اشوک کمار 10دسمبر2001کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الوداع کہہگئے۔
000
‘شہنشاہ جذبات شادی کی گولڈن جوبلی پر جذباتی ہو گئے
شہنشاہ جذبات کے لقب سے معروف بالی ووڈ اداکار دلیپ کمار نے اپنی شادی کی گولڈن جوبلی پر ایک بار پھر اپنے ہونے کا احساس دلایا ہے۔
اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی منوا لیا ہے کہ عمر ڈھلنے سے ان کی جذبات کی تمازت کم نہیں ہوئی۔
سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے انھوں نے ٹوئٹر پر اداکارہ سائرہ بانو کے ساتھ اپنی رفاقت کی داستان رقم کی ہے۔ خیال رہے کہ دونوں کی شادی 11 اکتوبر 1966 کو ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ انھوں نے کئی یادگار تصاویر بھی شيئر کی ہیں۔
انھوں نے اس موقعے پر ایک ویڈیو بھی ریلیز کی جو ان کے مداحوں نے ان کے لیے تیار کی تھی۔
انھوں نے لکھا: ’اللہ کارحیم ہے۔ سائرہ اور ہم رفاقت کے 50 شاندار سال مکمل کر رہے ہیں۔ ہمیں ہزاروں خطوط، پیغامات اور فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔‘
انھوں نے لکھا کہ ‘ایک محبت جو 50 سال سے زیادہ عرصے سے مضبوطی کے ساتھ قائم ہے، اس کرم کا شکر کیسے ادا کروں۔
انھوں نے جہاں اپنے جذبات کے اظہار کے لیے اشعار کا سہارا لیا ہے وہیں بنگالی اور انگریزی کے معروف لکھاری نوبیل انعام یافتہ ادیب ربندرناتھ ٹیگور کا قول بھی نقل کیا ہے: ’وقت گزر رہا ہے، اس کا احساس رہے اور پیار کرو… میرے محبوب میں تمہاری پناہوں میں آتا ہوں۔‘
انھوں نے سائرہ بانو کے لیے ٹویٹ کی: ’بنت ماہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو… تیری آواز کے سائے تیرے ہونٹوں کے سراب۔
دلیپ نے اپی اور سائرہ کے متعدد تصاویر یہ کہہ کر شیئر کی ہیں: ‘آج ہم نے اپنے البم پر نظر ڈالی، چند نایاب تصاویر آپ کی نذر ہیں۔
انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں جہاں اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا، وہیں لکھا: ‘کہانی کو پھر سے دہراتے ہیں چلو۔
جسبِ معمول ان کی تمام ٹویٹس اردو اور انگریزی زبان میں ہیں۔ بعض ٹویٹس میں انھوں نے اردو اور انگریزی کو ملا دیا ہے۔ ایک ٹویٹ میں انگریزی میں لکھتے ہیں: ’جب تک میں تم سے ملا نہ تھا،‘ اس کے بعد انھوں نے مجاز کے ایک شعر کے ٹکڑے کا سہارا لیا ہے: ’تسکینِ دلِ محزوں نہ ہوئی۔
اسی طرح انھوں نے فیض کی ایک نظم سے بھی استفادہ کیا ہے: ‘دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں ۔۔۔ تیری آواز کے سائے ، تیرے ہونٹوں کے سراب۔
ان کے ہزاروں چاہنے والوں نے ان کو یاد کیا اور دعائیں دیں۔ ایک نے لکھا: ‘شاید آج آپ اپنے موڈ میں ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *