اترپردیش :کیا کسان یاترا کانگریس کو کھڑا کرسکے گی ؟

p-5bراہل گاندھی کی ایک ماہ کی کسان یاترا مکمل ہوئی ۔ یاترا کے دورا ن راہل نے تما م مذہبی مقامات پر ماتھا ٹیکا، مذہبی شخصیات سے ملاقاتیںبھی کیں۔ راہ میں بہت سی پریشانیاں پیش آئیں، مخالف ہوائیں بھی چلیں، راہل کی طرف جوتا بھی پھینکا گیا، بجلی کے جھٹکے بھی لگے،لیکن راہل اپنی منزل کی طرف آگے بڑھتے رہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیاوہ اترپردیش میں مردہ پڑی کانگریس کو اتنی آکسیجن فراہم کرسکیںگے جس سے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے۔
اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے طریقے سے تیاریوں میںلگی ہوئی ہیں، لیکن کانگریس اس بار کچھ زیادہ ہی دھوم دھام سے انتخابی میدان میں اتررہی ہے۔ اس نے راج ببر کو ریاستی کانگریس کا صدر بناکر اور ایک نئی ٹیم تشکیل کرکے کافی پہلے اپنی سی ایم امیدوار شیلا دیکشت کا چہرہ دکھادیا ہے۔بنارس میں روڈ شو کے دوران کانگریس صدر سونیا گاندھی کی طبیعت خراب ہونے کے بعد اگلے پروگرام کی کمان کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے سنبھال کر مشن 2017 کو آگے بڑھایا۔ حال ہی میںانھوں نے دیوریا سے دہلی تک کی ایک ماہ کی طویل کسان یاترا مکمل کی ہے اوراب آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ پرینکا گاندھی بھی اترپردیش میں مشن 2017 کے لیے اترنے والی ہیں۔
اترپردیش میں کانگریس نے آزادی کے بعد سے جنتا پارٹی کی 1977 کی حکومت کے علاوہ 1989تکمسلسل راج کیا۔ اس دوران اعلیٰ، پسماندہ، دلت اور مسلم کمیونٹیز کانگریس کے ساتھ رہیں اور ان کے دم پر اس نے بلاشرکت غیرے طویل عرصے تک حکمرانی کی۔ 1989 کے بعد حالات نے کروٹ بدلی اور اسمبلی انتخابات میں اترپردیش کے عوام نے کانگریس کا ساتھ چھوڑ کر جنتا دل کا دامن تھام لیاجس کے نتیجے میں کانگریس یوپی میں 425سیٹوںمیںسے محض 97 سیٹوں پرہی کامیاب ہوسکی۔ 1991میں کانگریس کا گراف اورنیچے گرا اور وہ صرف 46 سیٹوں پر سمٹ گئی، جبکہ اترپردیش میں 221 سیٹیں جیتنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار بنی۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں بہوجن سماج پارٹی 12 سیٹیں جیت کر وجود میںآئی۔ 1993 میں ایک اور علاقائی پارٹی ، سماجوادی پارٹی کا طلوع ہوااور اس نے ریاست میں 109سیٹیں جیت کر تہلکہ مچادیا، جبکہ بہوجن سماج پارٹی محض دوسال میں ہی 67 سیٹوں پر پہنچ گئی اور کانگریس 28 سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی۔ اس کے بعد سے اتر پردیش میں علاقائی پارٹیوں کی طاقت بڑھتی گئی اور قومی پارٹیوں کی قوت گھٹتی گئی۔ 2007کے اسمبلی انتخابات میں ریاست میں علاقائی پارٹیوں کا پوری طرح دبدبہ قائم ہوگیا اور 2007میں بہوجن سماج پارٹی نے ریاست کی 403 سیٹوں میںسے 206 سیٹیں جیت کر پوری اکثریت کے ساتھ حکومت بنائی، جبکہ قومی پارٹیاں بھارتیہ جنتا پارٹی51 اور کانگریس صرف 22 سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئیں۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں انتخابی نتائج بالکل برعکس آئے۔ سماجوادی پارٹی نے 224 سیٹیں جیت کر بہوجن سماج پارٹی کو اقتدار سیباہر کردیا، لیکن کانگریس 28اور بھارتی جنتا پارٹی 47 سیٹوں تک محدود ہو گئیں۔

کسان یاترا سے کانگریس بہت خوش نظر آرہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسان یاترامیں روڈ شو کے دوران بلاتفریق مذہب و ملت بہت سے لوگوںنے شرکت کی ہے۔ کھاٹ سبھاؤں اور نکڑ سبھاؤں میں سبھی فرقوں نے اپنی موجودگی کا احساس کرایا ہے۔حالانکہ کچھ مقامات پر اسے مایوسی بھی ہاتھ لگی ہے، لیکن مجموعی طور پرکسان یاتر ا سے کانگریس کو آکسیجن ضرور ملی ہے۔

اس طرح دیکھا جائے توگزشتہ کئی سالوں سے اترپردیش میں علاقائی پارٹیوں کا بول بالا ہے۔ یہاں ریاستی اقتدار بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے درمیان ہی منتقل ہوتا رہتا ہے۔راہل گاندھی یہ بھی جانتے ہیں کہ اترپردیش، ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے اور دہلی کے اقتدار کا راستہ بھی اسی طرف سے ہوکر گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی 2004 سے ہی اترپردیش میں کانگریس کو کھڑا کرنے کی برابر کوشش رہے ہیں، لیکن 2004 کے پارلیمانی انتخابات میں ان کی کوششوں کا خاطر خواہ نتیجہ برآمدنہیں ہوا اور لاکھ کوششو ں کے باوجود کانگریس کو اترپردیشمیں صرف 9 سیٹیںنصیب ہوئیں۔ اس کے بعد 2007 کے اسمبلی انتخابات میں بھی کانگریس محض 22 سیٹوںپر سمٹ گئی۔ البتہ 2009 کے پارلیمانی انتخابات میں وہ 21 سیٹیں جیتنے میں ضرور کامیاب ہوگئی۔مگر 2014 کے پارلیمانی انتخاب نے ریاست میں سیاست کا نقشہ ہی بدل دیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اترپردیش پر پوری طرح چھاگئی اور کانگریس و یوپی کی علاقائی پارٹیاں زمین پرڈھیر ہوگئیں۔ اس الیکشن میں صرف ملائم سنگھ اورگاندھی پریوار ہی اپنی عزت بچانے میں کامیاب ہوسکے، بہوجن سماج پارٹی کا تو بالکل صفایا ہی ہوگیا۔اس جیت سے آنے والے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے حوصلے بلند ہیں، جبکہ دیگر پارٹیاں اپنی کھوئی ہوئی زمین حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
حال ہی میںراہل گاندھی ’دیوریا ٹو دہلی‘ کی ایک ماہ کی’ کسان یاترا ‘ مکمل کرکے لوٹے ہیں۔ انھوں نے ایک ماہ کی کسان یاترا میں3438 کلومیٹر کی مسافت کی۔ اس یاترا میں انھوں نے 26 دن کسانوں کے ساتھ گزارے، 48 ضلعوں میں 26 کھاٹ سبھائیں ،26 روڈ شو کیے، 700 سے زیادہ نکڑ سبھائیں کیں اورکارکنوں سے ملاقات کی۔ اس دوران راہل نے کسانوں سے 75 لاکھ ’مانگ پتر ‘ بھی اکٹھے کیے۔ راہل نے وعدہ کیا ہے کہ ریاست میں کانگریس پارٹی کی سرکار آنے پر بجلی کے بل آدھے کیے جائیں گے، کسانوں کا قرض معاف کیا جائے گا اور سپورٹ ویلیو بڑھائی جائے گی۔
کسان یاترا کا آغاز راہل نے دیوریا ضلع کی رودر پور تحصیل کے پنچ لڑی گاؤں سے کیا اور یہاںڈور ٹوڈورلوگوںسے ملاقات کی۔ایک ماہ کی طویل یاتر کے دوران راہل نے راستے میں پڑنے والے مندروں اور مزاروں پر ماتھا ٹیکا اور مذہبی شخصیات سے ملاقات بھی کی۔ چتر کوٹ کے کامد گری مندر میں انھوں نے پوجا ارچنا کی تو اجودھیامیں ہنومان گڑھی کے درشنبھی کیے ، مہنت گیان داس سے ملاقات کی تو ندوۃ العلماء لکھنؤ اوردارالعلوم دیوبند میںمذہبی شخصیات بشمول مولانا رابع حسن ندوی اور مولانا سالم قاسمی سے بھیملاقات کی۔ انھوں نے دلتوںکے ساتھ کھانا کھایاتو جونپور کے مدرسے میںبھی لنچ کیا۔
کسان یاترا کے دوران راہل خاص طور سے مرکزی حکومت پر جم کربرسے اور الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کسانوں ، مزدوروں ، بے روزگاروں، اقلیتوں اور سرحدوںپر تعینات جوانوںکو نظر انداز کررہی ہے اور صنعت کاروںکو گلے سے لگارہی ہے۔انھوںنے کہا کہ مودی سرکار ریل بجٹ ختم کرنا چاہتی ہے اور ریل بجٹ کو عا م بجٹ میںشامل کرنا چاہتی ہے اور میرا کہنا ہے کہ کسانوں کے لیے الگ سے کسان بجٹ بناناچاہیے۔
کسان یاترا سے کانگریس بہت خوش نظر آرہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسان یاترامیں روڈ شو کے دوران بلاتفریق مذہب و ملت بہت سے لوگوںنے شرکت کی ہے۔ کھاٹ سبھاؤں اور نکڑ سبھاؤں میں سبھی فرقوں نے اپنی موجودگی کا احساس کرایا ہے۔حالانکہ کچھ مقامات پر اسے مایوسی بھی ہاتھ لگی ہے، لیکن مجموعی طور پرکسان یاتر ا سے کانگریس کو آکسیجن ضرور ملی ہے۔دراصل اترپردیش میںکسان خشک سالی اور سیلاب کی مارسے بہت زیادہ پریشان ہیں۔ راہل نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر کسانوںسے 75 لاکھ مانگ پتر بھی اکٹھاکرلیے ہیں۔ اگر ان میں سے پچاس فیصد کسان بھی ووٹ میںتبدیل ہوجاتے ہیںتو یہ ووٹ کانگریس میں چمک ضرور پیدا کرسکتے ہیں اور اس چمک کی طرفمسلمان بھی متوجہ ہوسکتے ہیں، جو سماجوادی پارٹی میں آپسی انتشار اور بہوجن سماج پارٹی میںسے بڑے لیڈروں کوجاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *