اترپردیش : اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی پارٹیاںبے سمت

چوتھی دنیا بیورو
p-10bاترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں اب کچھ ہی مہینے باقی ہیں،لیکن ابھی تک ریاست میںسرکار بنانے کی دعویدار سبھی سیاسی پارٹیاں انتخابی ایجنڈے اور عوامی جلسوں کو لے کر بے سمتی کا شکار ہیں۔ انتخابی وعدوں سے سبھی پارٹیاں ریاست کے انتخابی حساب کتاب کو دیکھتے ہوئے نسلی برابری کا حساب سادھنے میںلگے ہوئے ہیں۔ ریاست میں درجنوں سیاسی جماعتوںکے رجسٹریشن کے بعدبھی صرف چارہی پارٹیاں اقتدار کے لیے جدوجہد میںچل رہی ہیں۔ فی الحال انتخابی جنگ میں ان پارٹیوںکی حالت دیکھنے لائق ہے۔
برسراقتدار سماجوادی پارٹی کی سرکار کے خلاف نظم و نسق، سماجوادی کارکنوں کی ریاست میں چل رہی غنڈہ گردی اور زمین پر قبضہ کرنے کے واقعات سرکار کی شبیہ کو متاثر کررہے ہیںتو وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو لگاتار ترقی کے دعوے کے ساتھ ہی سبھی انتخابی وعدے پورے کرنے کا بھی اعلان کررہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سماجوادی پارٹی کے انتخابی وعدے پورے کرنے کے لیے جو بھی کریں ، لیکن کئی اہم وعدوںکو شاید وہ بھول ہی گئے۔ پہلے ملائم سرکار نے بے روزگاری بھتے کی شروعات کی اور 2012 کے انتخاب میں یہ بھتہ بڑھا کر 1000 روپے فی ماہ کرنے کا وعدہ کیا گیا، جس کا انتخاب میں اثر ہوا لیکن سرکار بننے کے بعد ایس پی سرکار نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے۔ طلبہ کو لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ دینے کا وعدہ بھی آدھا ادھورا ہی رہا۔ اسی طرح بیسک طلبہ کو مفت کتابیں اور یونیفارم دینے کا ہر سال کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔
اکھلیش سرکار اپنے دور اقتدار میں یادو جوانوں کو سرکاری نوکری میں کسی بھی طرح سے پہنچانے کی کوشش کامیاب رہی۔ اس کے لیے بھرتی کرنے والے سارے آئینی اداروںکی سرگرمیاں بھی بدعنوانی کی نذر ہوگئیں۔ اس کے ساتھ ہی کمائی کے سبھی عہدوں اورپولیس تھانوںمیں یادولوگوں کو ہی اہم ذمہ داری سونپی گئی۔ مسلم مفادات کے تحفظ کی بات ضرور کی گئی لیکن نظم و نسق اور فسادات کے معاملوں میں ہی ان کے مجرمانہ عناصر کو تحفظ دیا گیا۔ تعلیم اورروزگار کے لیے کوئی پہل نہیںکی گئی۔
وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو لگاتار ترقی کے وعدے کرتے رہے جس میں لکھنؤ میٹرو ان کی حصولیابی رہی لیکن آگرہ – لکھنؤ ایکسپریس کے پیچھے کی کہانی کچھ اور ہی کہتی ہے۔ ریاست میں تمام دعووں کے بعد بھی سڑکوں اور نہروں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ ان تمام اونچ نیچ کے بیچ انتخاب سے کچھ ماہ پہلے سیفئی کے یادو کُل میں اقتدار کو لے کر جو جدوجہد شروع ہوئی ہے، اس نے پورے سیاسی توازن کو بدل دیا ہے۔ یدوونش اتحاد کا جو بھی دعویٰ کرے لیکن اس واقعہ نے ایس پی کے سیاسی مستقبل کی اسکرپٹ لکھ دی ہے۔
اس لڑائی کے مزید بڑھنے کے ہی آثار ہیں۔ انتخاب کے بعد ہی اس کے زوال پذیر ہونے کا امکان ہے۔ ایسے میں ایس پی کے پاس بھی یادو حامیوں کے علاوہ مسلمانوں کے ہی ساتھ کا یقین ہے۔ نوکریوں میں یادووںکو جس طرح ترجیح دی گئی ہے اور دیگر طبقوںکے قابل طلبہ کو نظر انداز کیا گیا ہے، اس کا ایس پی سرکار کے خلاف منفی اثر پڑا ہے۔ اکھلیش سرکار نے انتخاب سے پہلے کسانوں کو اسمارٹ فون دینے کا بھی وعدہ کیا ہے لیکن بے روزگاری بھتہ اور لیپ ٹاپ سے محروم کسان اس وعدے پر کتنا بھروسہ کریں گے، یہ وقت ہی بتائے گا۔
بہوجن سماج پارٹی سال 2007 میں ’سروجن ہتائے-سروجن سُکھائے‘ کے نعرے کے ساتھ ریاست میں پہلی بار مکمل اکثریت کی سر کار بنا پائی تھی۔ اس کے پیچھے اس وقت ملائم سرکار میں خراب نظم و نسق کو لے کر عوام کے غصے کا بھی اثر رہا۔ اس وقت تک بی جے پی اور کانگریس اپوزیشن پارٹیاں ایس پی کی پُرزور مخالفت کرنے میں اپنا موقف نہیں رکھ سکیں اور بی ایس پی کی جارحانہ پالیسی نے عوام کے اعتماد کو اپنے حق میں کرلیا۔ وزیر اعلیٰ مایاوتی کے پانچ سال کے دور اقتدار میں بدعنوانی اور سروجن مفادات کو چھوڑ کر ہر حال میں نجی مفادات کو سادھنے کے رجحان نے عوام کے بیچ بی ایس پی کے اصلی کردار کا پردہ فاش کردیا۔ سال 2012 میں انتخاب ہارنے کے بعد بھی بی ایس پی سربراہ کی اراکین پارلیمنٹ اراکین اسمبلی اور دیگر پارٹی عہدیداروںسے چل رہی وصولی کی چرچاؤںنے پارٹی میں غصہ پیدا کردیا ۔
لوک سبھا انتخاب میں بی ایس پی کے خلاف ماحول بنا جس سے پارٹی کا ایک بھی رکن پارلیمنٹ نہیں جیت سکا۔ لگاتار پیسہ وصولی سے پریشان پارٹی کے کئی بڑے لیڈر پارٹی چھوڑ گئے۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ اب بی ایس پی کو دلتوں کے ساتھ دیگر طبقوں کی حمایت حاصل نہیں ہوپارہی ہے۔ مایاوتی نے مسلمانوں کو لبھانے کے لیے 130 سے زیادہ سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اب دلت- مسلم اتحاد ہی بی ایس پی کا مستقبل طے کرے گا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی سال 2004 کے لوک سبھا انتخاب میں مرکز میں نریندر مودی کی اکثریت کی سرکار بننے کے بعد سے اپنا پلڑا بھاری مان کر چل رہی ہے لیکن عوام کو تمام مدعوں پر جس طرح کی توقع تھی، اس پر سرکار کھری نہیںاتری ہے۔ بدعنوانی کم ہوئی ہے لیکن مہنگائی نے عوام کی کمسر توڑ دی ہے۔ ڈھائی سال کی مودی سرکار کے کام کاج سے بی جے پی کارکن اداس ہیں اور تنظیمی سطح پر بھی وہ خود کو نظر انداز محسوس محسوس کررہے ہیں۔ وزراء سے لے کر پارٹی کے لیڈران تک کارکنوں سے نہیں ملتے۔ بی جے پی تنظیم اب سیاسی پارٹی سے زیادہ مینجمنٹ کی نذر ہوگئی ہے۔
بی جے پی کے حق میں رہنے کے لیے ان طبقوں کے سامنے متبادل کا نہ ہونا بھی ہے جن کا ایس پی اور بی ایس پی میں اپنا مفاد پورا ہوتا دکھائی نہیں رے رہا ہے۔ ریاست میں بی جے پی کا کوئی مقبول عام لیڈر بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے اس اسمبلی انتخاب میںبھی بی جے پی کو مودی کے نام کا ہی سہارا ہے یہ مودی منتر بہار اور دہلی میں فیل ہوچکا ہے۔ ایسے میں اگر صحیح انتخابی پالیسی نہیں اپنائی گئی اور امیدوار کے انتخاب میں اقرباء پروری کی گئی تو پارٹی کو بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
کانگریس تو اترپردیش میں وجود کی لڑائی لڑرہی ہے۔ اس کے لیے کانگریس نے اپنے سیاسی سپہ سالاروں پر بھروسہ نہ کرکے ایونٹ منیجر کے طور پر ابھرے پرشانت کشور کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ریاست کی انتخابی تیاریوں کے لیے کانگریس نے بھی نسلی برابری آزمائی ہے لیکن پہلے فیز میں ہی اس کی قلعی کھل گئی ہے۔ فلمی دنیا کے راج ببر کو کانگریس نے جس طرح ریاستی صدر کی کمان سونپی ، اس سے صاف ہوگیا ہے کہ کانگریس کے پاس اب کوئی سیاسی چہرہ نہیں ہے۔ یہی نہیں دہلی سے لاکر شیلا دیکشت کو وزیر اعلیٰ کا دعویدار ڈکلیئر کیا گیا جو عمر اور سیاسی نقطہ نظر سے چار دہائی پیچھے چلی گئی ہیں۔دریں اثناء ر سابق یاستی صدر کانگریس ریتا بہو گنا کے 20 اکتوبر کو بی جے پی میں شمولیت سے کانگریس کو دھچکا لگا ہے۔بہو گنا کو یہ شکایت ہے کہ کانگریس نے ریاست میں آئندہ قیادت کے لئے صحیح فیصلہ نہیں کیا ہے۔
ریاست میں ان چار اہم جماعتوں کی چل رہی انتخابی تیاریوں اور سیاسی حالات سے صاف ہے کہ ابھی تک کسی کے بھی حق میں ہوا کھل کر نہیں چل رہی ہے۔ حالانکہ انتخابی حساب کتاب سے یہ تو صاف ہے کہ اس بار چھوٹی جماعتوں کا کردار ووٹ کاٹنے کا نہیںہوگا اور انتخاب تک عوام مکمل اکثریت کی سرکار کا من بنا لیں گے۔ اس میں جو بھی پارٹی پچھڑے گی، وہ بہت پیچھے ہو جائے گی۔ ایسے میں امیدوار کے انتخاب سے لے کر انتخابی حکمت پالیسی تک ٹھوس کارروائی کرنی ہوگی۔ سیاسی پارٹیوںکو اپنے انتخابی وعدوں پر بھی عوام کو یقین دلانا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *