شولا پور میں پہلی اسلامی بینک کاری سروس مضبوط ہوگی جمہوریت

اے یو آصف
p-1سودپر مبنی قرض کے بوجھ تلے ڈوبی دنیا میں گزشتہ دنوں ریاست مہاراشٹر کے شولاپور میں کوآپریٹو ، مارکیٹنگ اور صنعت کے وزیر سبھاش دیشمکھ کے لوک منگل کوآپریٹو بینک کی باشری شاخ میںحکومت کی منظور شدہ پہلی اسلامی بینک کاری سروس شروع ہونے کی خبر آئی تو ملک بھر میںبلا تفریق مذہب و ملت اس کا خیر مقدم کیا گیا کیونکہ یہاںسے قرض لینے والے کسی بھی شخص کو نہیں دیناہوگا سود۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ سود پر مبنی قرض کا نظام کیا قہر ڈھارہا ہے اور بی جے پی رہنما کے ذریعہ لی گئی اس پیش رفت کے اس ملک میںآگے بڑھنے کے کیا امکانات ہیں۔
سود کسی بھی فرد، سوسائٹی یا ملک کو کس طرح برباد کردیتا ہے، یہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا ہوا نہیںہے۔ انفرادی طور پر دو مثالیں سامنے ہیں۔ اترپردیش میںایک مشہور شہر کے انجینئر محمد رئیس ہیں۔ تقریباً 40 برس قبل انھوںنے آئی آئی ٹی کانپور سے بی ٹیک (میکینکل ) کیا اور پھر اسمال اسکیل انڈسٹریز سے قرض لے کر لوہے کے تار بنانے والی ایک چھوٹی سی انڈسٹری کھول لی۔ مزاج تاجرانہ نہیں، دانشورانہ تھا جس کے سبب یہ انڈسٹری نہیںچل پائی اور پھر مذکورہ سرکاری محکمہ سے لیے گئے قرض پر سود در سود چڑھتا رہا۔ بالآخر نتیجہ یہ نکلا کہ انجینئر رئیس جیسا جینئس گھر کا رہا، نہ گھاٹ کا۔ بہترین تکنیکی اور فکری و نظریاتی صلاحیت کے باوجود ان کی پوری زندگی داؤں پر لگ گئی۔ دوسری جانب جس فکری و نظریاتی تنظیم سے یہ طالب علمی کے زمانے میں وابستہ ہوگئے تھے، وہاں سے اس لیے نکالے گئے کہ انھوںنے سود پر مبنی قرض کیوں لیا؟ اسی طرح کی دوسری مثال ہے بہار میں دربھنگہ کے مرحوم محمد اسمٰعیل کی ، جنھوںنے فیض آباد سے آکر وہاں 1960 کی دہائی میںجوتے کا شوروم ’چمپئن‘ بینک سے قرض لے کر کھولا اور جلد ہی شہر کے بڑے تاجر بن گئے مگر چند برسوں بعد جب قرض کی ادائیگی وقت پر نہ ہوئی تو بینک کی طرف سے دوکان پر تالہ پڑگیا اور وہ سڑک پر آگئے۔ ان کا بھی حشر کم وبیش انجینئر رئیس جیسا ہوا۔ فرق صرف اتنا رہا کہ بیٹے نے پڑھ لکھ کر گھر کو سنبھال لیا،مگر انجینئر رئیس کا حال شادی نہ کرنے کے سبب سنبھل نہیں سکا۔
سود پر مبنی قرض تلے دبنے والے ممالک بھی کئی ہیں۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک (ڈبلیو بی) سے لیے گئے سود پر مبنی قرض سے بری طرح مارے ہوئے دنیا میں10 ملک ہیں، جن میں امریکہ سرفہرست ہے۔ اس سال کے اوائل میں وہائٹ ہاؤس کے مشیر آسٹن گلس بی نے خبردار کیا تھا کہ ’’اگر خسارے کا حال یہی رہا تو اس کے اثرات یہاں کی معیشت پر بڑے ہی بھیانک ہوں گے اور میرا خیال تو یہ ہے کہ 2008 میںہم لوگوں نے جس اقتصادی مندی کو دیکھا تھا، اس سے بھی زیادہ بدتر صورت حال ہوسکتی ہے‘‘۔
اس تعلق سے بدترین مثال تو نائجیریا کی ہے۔’ امریکی چودھراہٹ اور بین الاقوامی تعاون‘ نامی اپنی کتاب (صفحہ85- ) میںکارلانارلوف کہتے ہیں کہ 2000 میں اوکیناوا میںمنعقد جی 8- اجلاس کے دوران صدر نائجیریا اولو سیگن اوباسانجو نے علی الاعلان کہا تھا کہ ’’اگر آپ مجھ سے دریافت کریں کہ دنیا میں بدترین چیز کیا ہے تو میں کہوں گا کہ یہ ہے کمپاؤنڈ سود۔‘ دکھی صدر نے تب انکشاف کیا تھا کہ ’’ہم لوگوں نے جو کچھ 1985 یا 1986 تک قرض لیا تھا وہ تقریباً 5 بلین امریکی ڈالر تھا اور اب تک (یعنی 2000) سود درسود کے سبب رقم کے بڑھنے سے ہم لوگ 16 بلین امریکی ڈالر ادا کرچکے ہیں اور ہم سے کہا گیا ہے کہ ہمیںمزید 28 بلین امریکی ڈالر ادا کرنا باقی ہے‘‘۔ اس صورت حال نے نائجیریا کو بھکمری اور بدعنوانی کا اڈّہ بنا دیا ہے۔ یہ تفصیل بتاتے ہوئے شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ میں اسلامک اکانومک انسٹی ٹیوٹ (آئی ای آئی) کے استاد ڈاکٹر کلیم عالم فون پر ’چوتھی دنیا‘ سے کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ سود کے برے اثرات کسی بھی ملک کی معیشت پر اور کیا پڑ سکتے ہیں۔
جہاں تک ہمارے ملک ہندوستان کا معاملہ ہے، یہاں بھی سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیںہے۔ ماہر قومی بجٹ، بینکنگ امور اور کوسٹ کاؤنٹینٹ وقار انور نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ قرض کی رقم 2016-17 میںقومی بجٹ میں284 ہزار کروڑروپے رکھی گئی تھی جبکہ 493 ہزار کروڑ روپے سود کے طور پر ادا کرنا تھا۔ اس طرح دونوں رقم ملا کر کل 777 ہزار کروڑ روپے ہوگئی۔ ٹیکس اور غیر ٹیکس کی آمدنی سے دستیاب رسیدوں کا ریونیو 1377 ہزار کروڑ روپے ہوا۔ قرض کی ادائیگی کے لیے مہیا فنڈ کی سروسنگ اس آمدنی کا 56 فیصد ہوا۔ اگر ہم کیپٹل رسیدوں کو بھی جوڑ لیتے ہیں تو تازہ قرض کے حصول کو چھوڑ کر ڈیبٹ سروسنگ میں 54 فیصد کمی ہوگی۔
وقار انور کے مطابق، اس مسئلے کی گمبھیرتا اس حقیقت سے سمجھی جاسکتی ہے کہ 534 ہزار کروڑ روپے کے تازہ حاصل شدہ قرض کی بنسبت سابقہ قرض کی ادائیگی پر سود 493 ہزار کروڑ روپے ادا کرنا ہوگا۔ دوسرے الفاظ میںیہ کہا جاسکتا ہے کہ تازہ قرضوں کا 92 فیصد کا استعمال ماضی کے قرضوں کی سالانہ قسط اور سود کی ادائیگی میںلیا جانا ہے۔ اس طرح یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہم نیا قرض دراصل پرانے قرض کی ایک سالہ قسط اور اس پر سود کو ادا کرنے کے لیے لیتے ہیں۔ لہٰذا ہندوستان کے تناظر میں سود کی لعنت کتنی بھیانک شکل اختیار کرتی جارہی ہے، اس کا اندازہ گہرائی سے غور کرنے پر ہوتا ہے۔ سوال ہے کہ آخر سود کا یہ نظام ہمارے ملک کی معیشت کو کہاںجاکر گرائے گا؟
کسی بھی فرد، سوسائٹی یاملک کے لیے قرض لینا دینا معیوب نہیں ہے۔ مگر سود کے معیشت کا جزء لاینفک ہونے کے سبب ضرورت پڑنے پر کوئی بھی قرض لینے سے ڈرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلا تفریق مذہب و ملت کسی کی بھی نظر جب بلاسودی بینکنگ تصور پر مبنی کسی تجربہ پر پڑتی ہے تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا ہے اور اس سے فطری طور پر فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ لہٰذا گزشتہ دنوں مہاراشٹر کے بی جے پی رہنما اور وزیر برائے کوآپریٹو، مارکیٹنگ اور صنعت سبھاش دیشمکھ نے جب اپنے لوک منگل کوآپریٹو بینک کی باشری شاخ میں ملک کی پہلی اسلامی بینک کاری سروس شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا تو متعدد افراد اسی بینک کے کسی اکاؤنٹ ہولڈر کی گارنٹی کی بنیاد پر بلا سودی قرض لینے دوڑ پڑے۔ پہلے روز 12 افراد کو ایک لاکھ 50 ہزار روپے کا بلاسودی قرض ملا۔
اس کا پس منظر یہ ہے کہ چند دنوں قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے ’من کی بات‘ پروگرام میںاسلامی بینک شروع کرنے کی بات کہی تھی۔ریزرو بینک نے مرکزی حکومت کے سامنے کچھ دنوںپہلے اس طرح کے بینک کی تجویز رکھی تھی۔ مرکزی حکومت نے اسے 11 ستمبر کو منظوری دے دی تھی۔ اس طرح کی بلاسودی بینکنگ سروسز کی کوششوں کی سب سے زیادہ زبانی اور قانونی طور پر مخالفت بی جے پی رہنما ڈاکٹر سبرامنین سوامی کرتے رہے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان ہی کی پارٹی کے سبھاش دیشمکھ جو کہ مہاراشٹر کے کابینہ وزیر اور لوک منگل کو آپریٹو بینک کے چیئرمین ہیں، نے اس کی باشری شاخ کا افتتاح کرتے ہوئے یہیںسے اسلامی بینک کاری سروسز کا اعلان کیا اور پھر شروع ہوا بلا سودی قرض فراہم کرنے کا سلسلہ ۔ ویسے چھوٹی موٹی سطح پر بلاسودی قرض کا سلسلہ ملک کے مختلف حصوںمیںکوئی قیمتی اشیاء رکھ کر رائج ہے۔ مرکز جماعت اسلامی ہند چتلی قبردہلی میںبھی 1980 کی دہائی میںبلا سودی بینکنگ سوسائٹی قائم تھی جس سے مسلم و غیر مسلم اپنی سونے چاندی کی اشیاء کو گروی رکھ کر قرض حاصل کرتے تھے اور متعینہ میعاد پوری ہونے پر رقم واپس کرکے اپنے اشیاء کو واپس لے لیا کرتے تھے۔ مرحوم مبارک شاہ اس کے انچارج ہوا کرتے تھے۔ اب یہ سلسلہ یہاں برقرار نہیں ہے۔ لیکن سبھاش دیشمکھ کا یہ تجربہ قیمتی اشیاء کی گروی پر نہیں بلکہ اسی بینک کے کسی اکاؤنٹ ہولڈر کی دی گئی گارنٹی پر کیا جارہا ہے۔
سبھاش دیشمکھ بلاسودی اسلامی بینکنگ کے تصور سے بے حد متاثر ہیں اور انھوںنے دیگر سوسائٹیوں اور بینکوںسے اس سلسلے میں ان کی پیروی کرنے اور اس بلاسودی نظام کو اختیار کرنے کی گزارش کی ہے۔ انھوںنے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ریزرو بینک آف انڈیا اور حکومت سے بھی کہیںگے کہ وہ بے مثال اور مفید اس بینکنگ سروس کو منظوری دے دیں جس سے سبھی لوگوں خاص کر غریب اور حاشیہ پر رہ رہے افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ توقع ہے کہ مہاراشٹر کے وزیر کی یہ پیش رفت جو کہ وزیر اعظم نریندرمودی کے یوم پیدائش پر لی گئی، فنانس اور بینکنگ کے میدان میںنئے دور کا آغاز کرتے ہوئے ان کے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے میںمعاون و مددگار ثابت ہوگی۔ نیشنل کمیٹی آن اسلامک بینکنگ اور انڈین سینٹر فار اسلامک فنانس کے جنرل سکریٹری ایچ عبدالرقیب ’چوتھی دنیا‘ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ ویسے تو بلا سودی اسلامی بینکنگ کے تصور کے تعلق سے عام و خاص لوگوں میں اب بیداری آنے لگی ہے۔ تبھی تو حالیہ آر بی آئی سالانہ رپورٹ 2015-16 میںآر بی آئی کے مالیاتی شمولیات کے تعلق سے میڈیم ٹرم پاتھ پر بنی کمیٹی کی رپورٹ کا تذکرہ ہے جو کہ روایتی یا کنوینشل بینکوں میں بلا سودی ونڈوزکی سفارش کرتا ہے جس کے لیے آر بی آئی، حکومت کے کسی نوٹیفکیشن کا منتظر ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم مودی کے دورہ سعودی عرب کے دوران کچھ دور رس آپسی معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایکزیم بینک آف انڈیا کے ذریعہ آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (او آئی سی) کے ارکان ممالک کے لیے ہندوستانی ایکسپورٹرز کو 100 ملین امریکی ڈالر فراہم کیا جائے گا اور دوسرا یہ ہے کہ آئی سی ڈی جو کہ اسلامک ڈیولپمنٹ بینک (آئی ڈی جی) کا ذیلی ادارہ ہے، کے ذریعہ ایس ایم ایز (SMEs) کے فروغ کے لیے 200 کروڑ روپے کی پونجی پر ایک این بی ایف سی (NBFC)کا قیام کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ یہ سال رواں کے اواخر تک شروع ہوجائے گا۔
سود پر مبنی معیشت اور بلاسودی اسلامی معیشت میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ اول الذکر سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دیتا ہے اور آخر الذکر جمہوری اقدار و طریقہ کار پر منحصر ہے۔ سودی نظام میںمعیشت میںبہت سے لوگوں کے پیسے چند لوگوں کے ہاتھ میںآجاتے ہیں جبکہ بلاسودی اسلامی نظام میںنفع اورنقصان میں قرض دینے اور لینے والے دونوںہی برابرکے حصہ دار ہوتے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسا نظام ہے جو کہ شراکت والا نظام ہے۔ اس لحاظ سے یہ سماجی انصاف کے تقاضے کو بھی پورا کرتا ہے اور جمہوریت کو فروغ دیتا ہے اور مستحکم کرتا ہے جو کہ آئین ہند کے عین مطابق ہے۔ توقع ہے کہ شولاپور کا یہ پہلا تجربہ ملک میںاسلامی بینک کاری کی راہ کو مزید ہموار کرے گا اور جمہوریت کو استحکام پہنچائے گا۔

کیا ہے اسلامی بینک کاری
شریعت کے اصولوں پر کام کرنے والے بینک کاری نظام کو اسلامی بینک کاری کہا جاتا ہے۔ اس میں کسی طرح کا سود نہ لیا جاتا ہے اور نہ ہی دیا جاتا ہے۔ ا س میں بینک کو ہونے والے منافع کو اس کے اکاؤنٹ ہولڈروں میںتقیسم کردیا جاتا ہے۔ اصول کے مطابق ان بینکوں کے پیسے غیر اسلامی یعنی غیر اخلاقی کاموں میں نہیںلگائے جاسکتے ہیں۔ اس کے بینک یا سوسائٹی جوئے، شراب، بم بندوق وغیرہ کے کاروبار میںملوث لوگوں کا نہ توا کاؤنٹ کھولتے ہیں اور نہ ہی انھیںقرض دیتے ہیں۔ کچھ ممالک میں اس طرح کے بینکوں کو چلانے کے لیے ماہرین اسلامی بینکنگ /اسلامی اقتصادیات کی ایک کمیٹی ہوتی ہے جو ان کی رہنمائی کرتی ہے۔ آج عالمی سطح پر اسلامک فنانس انڈسٹری کا دائرہ بڑھ کر 1.6 لاکھ کروڑ امریکی ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔ دور جدید میں دنیا میںپہلا اسلامی بینک ملیشیا میں قائم ہوا تھا۔ اسلامی بینک کاری اسکیم کے تحت 1993 میں کمرشیئل، مرچنٹ بینکوں اور مالیاتی کمپنیوں نے اسلامی بینکنگ پروڈکٹ اینڈ سروسز پیش کرنا شروع کیا تھا۔ ہندوستان میںبلا سودی اسلامی بینکنگ کے جو ممتاز ماہرین ہیں ،ان میں ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی، مرحوم ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی، ڈاکٹر محمد منظور عالم، ڈاکٹر ایم ایچ کھٹکے، ڈاکٹر اے حسیب، ڈاکٹر شارق نثار اور پروفیسر جاوید احمد خاں کا نام خاص طور پر شمار ہوتا ہے۔ ان افراد نے اس کے مختلف پہلوؤںپر متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *