شملہ سمجھوتہ کشمیر تنازعہ کے حل کے لیے کافی ہے

ندوستانی فوج کے ذریعے پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں کچھ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد ملک میں جشن کا ماحول ہے۔ جب آپ یہ اعلان کریں کہ آپ نے دشمن کے طمانچہ مارا ہے تو لوگوں کا خوش ہونا فطری ہے۔ بہرحال اس بارے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ فوج اپنیمعمول کے آپریشن میںایسی کارروائی کرتی ہے، لیکن یہ اعلان کرنے اور بحث کرنے والی بات نہیںہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حالیہ دنوں میںہمیں پٹھان کوٹ اور اڑی میں دو حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بدقسمتی سے یہ بات صحیح ہے کہ دونوں حملوں کے لیے پاکستان قصوروار تھا۔ لیکن ہماری طرف سے بھی چوک ہوئی ہے۔ اڑی میں (جو ابھی کا واقعہ ہے) کیسے کوئی ہماری سرحد کے اتنے اندر آکر ہمارے کیمپ میں داخل ہوسکتا ہے؟ ہماری سیکورٹی کا کیا ہوا؟ جیسا کہ مجھے بتایا گیا کہ اڑی کمپاؤنڈ کو بجلی کے تاروںسے گھیرا گیا ہے اور کوئی بھی ان تاروں کو چھوئے گا تو اسے بجلی کے جھٹکے لگ جائیںگے۔ ظاہر ہے کسی نے ان تاروں کی بجلی کاٹی ہوگی۔ لہٰذا ہماری طرف سے کچھ نہ کچھ چوک ہوئی ہے۔
دوسرے یہ کہ اس طرح کے کیمپ میں آپ صرف ایک پرت کی حفاظت کیسے رکھ سکتے ہیں؟ اس میں کم سے کم دو تین پرت والا سیکورٹی نظام ہونا چاہیے۔ انھوںنے پہلی پرت کو توڑا اور سیدھے آکر ہمیںمار دیا۔ ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے اور ایک بار پھر یہ کام فوج کو کرنا ہے۔ یہ عام بحث کا موضوع نہیں ہے۔ جوابی کارروائی یا کسی اور طرح کی کارروائی کو بھی فوج کے اوپر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ بالکل ٹھیک ہے کہ وزیر اعظم ، کیبنٹ کی سیکورٹی کمیٹی، نیشنل سیکورٹی کونسل سب اپنا کام کرتے رہیں، لیکن میں نہیںسمجھتا ہوں کہ جشن منانااور اس طرح سے اعلان کرنا ٹھیک ہے۔ شاید سرکار کچھ خود حوصلہ شکنی محسوس کررہی ہوگی اور اپنے حامیوں میںجوش بھرنے کے لیے یہ اعلان کیا ہوگا۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ اس بارے میں مناسب حکمت عملی تیار کی جائے گی اور پاکستان بھی یہ سمجھ پائے گا کہ اگر وہ ہندوستان میں ایسی سرگرمیاں کرے گا تو وہ اس کے لیے آگ کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہوگا۔ مجھے خوشی ہے کہ امریکہ اور دوسرے ممالک نے یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ کشمیر کے لیے لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ صاف طور پر دہشت گردی ہے اور یہ نہیںچلے گی۔
یہ ضرور کہنا چاہیے کہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اچھی تقریر کی، حالانکہ انھیں پاکستان کا نام لینا چاہیے تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ انھوںنے ایسا کیوں نہیںکیا۔ انھوں نے صرف ایک ملک کہا۔ منموہن سنگھ نے پہلے اقوام متحدہ میں پاکستان کا نام لیا ہے۔ یہ صاف صاف کہنے میںکوئی نقصان نہیںہے کہ علاقائی تنازع اور اس کا حل ایک چیز ہے اور اپنی بغل میں دہشت گردی پیدا کرنے کا مستقل کارخانہ بالکل الگ چیز ہے۔دہشت گردی پیدا کرنے کا کارخانہ صرف ہندوستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے، دوسر ے ملکوںکو بھی پاکستان کے اس کارخانے کوتباہ کرنے کے لیے ساتھ آنا چاہیے، یہ وقت کی ضرورت ہے ۔
کشمیر تنازعہ ایک چھوٹا معاملہ ہے۔ شملہ سمجھوتہ اس کے حل کے لیے کافی ہے۔ اگر وہ شملہ سمجھوتے پر عمل کرتے تو کشمیر مسئلہ کو ہوا دینے یا اچھالنے کی انھیں ضرورت نہیں پڑتی۔ سمجھوتہ یہ ہے کہ جب تک بات چیت سے مسئلے کا حل نہیں ہوجاتا تب تک کشمیر پر موجودہ حالت برقرار رہے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کنٹرول لائن کا ویسے ہی احترام ہوگا جیسے بین الاقوامی سرحد کا ہوتا ہے۔ پاکستان کی لگاتاراُس صورت حال کو بدلنے کی کوشش شملہ سمجھوتہ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وہ ایک ایسے سمجھوتے کا احترام نہیںکرنا چاہتے ہیں جسے ذوالفقار علی بھٹو اور اندراگاندھی نے بڑی سمجھداری کے ساتھ کیا تھا۔ پاکستانی فوج اس کو لے کر کبھی خوش نہیںتھی۔ یہ صحیح ہے کہ یہ سمجھوتہ اس وقت ہوا تھا جب پاکستانی فوج کومشرقی پاکستان میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بنگلہ دیش وجود میںآیاتھا۔ لہٰذا فوج کا اس سمجھوتے میں کوئی دخل نہیں تھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب وقت بدل گیا ہے، لہٰذا فوج اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کرنا شروع کردے۔ یہ ہر بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔ گزشتہ سرکاروں کے ذریعہ شملہ سمجھوتے کا ذکر اقوام متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی اسٹیجوں پر کیوں نہیںکیا گیا، میری سمجھ میںنہیںآتا۔ شملہ سمجھوتے پر عمل ہوناچاہیے اور اگر دونوںملکوں کے ذریعہ شملہ سمجھوتے پر عمل ہوتا ہے تو کشمیر مسئلہ کسی لڑائی جھگڑے کا سبب نہیں بنے گا۔ اگر کوئی آخری سمجھوتہ ہوجاتا ہے تو ٹھیک ہے، نہیںتو شملہ سمجھوتہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے کافی ہے اور کبھی جنگ کی صورت حال نہیںبنے گی۔

دوسرے معاملے احتجاجی مظاہروں کے ہیں۔ پہلے گجرات میںپٹیل تحریک چلی۔ اب مہاراشٹر میں مراٹھوںکا احتجاج چل رہا ہے۔ گجرات کے پٹیل اور مہاراشٹر کے مراٹھے نہ تو پسماندہ طبقے سے ہیں اور نہ دبے کچلے ہیں۔ دراصل وہ اعلیٰ ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مہاراشٹر میں الگ الگ پارٹیوں کی مراٹھا قیادت ہے۔ چونکہ دیوندر فڈنویس برہمن ہیں اور دراصل یہی مسئلہ بھی ہے۔ مراٹھا اسے پسند نہیں کرتے کہ کوئی غیر مراٹھا وزیر اعلیٰ بنے۔ مراٹھا ایک مراٹھا کو ہی وزیراعلیٰ کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ گجرات میں بھی ایک غیر پٹیل کو وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے آنندی بین وزیراعلیٰ تھیں اور ان کا تعلق پٹیل سماج سے ہے۔ فی الحال امت شاہ کے پسندیدہ شخص کو وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہریانہ میں کیا گیا تھا۔ وہاں ایک غیر جاٹ کو وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا ۔ یہ ایسے مدعے ہیں جو بہت جذباتی ہیں اور بغیر کسی مقصد کے بڑے مورچے اور احتجاج کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

ڈاکٹرا مبیڈکر کے دور میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ درج فہرست ذاتوں کو دس سال کے لیے ریزرویشن دیا جائے گا۔ یہ سچ ہے کہ ہر دس سال کے بعد اسے آگے بڑھایا گیا۔ اگر سبھی سیاسی پارٹیاں ایک ساتھ بیٹھ کر اسے بدلنا چاہیں تو یہ ایک الگ موضوع ہے۔ انہیں ایک کل جماعتی میٹنگ بلانی چاہئے۔ لیکن اعلٰی ذاتیں ریزرویشن کے لیے تحریک نہیں چلا رہی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ انہیں ریزرویشن نہیں مل سکتا۔ وہ ریزرویشن کے سوال کو محض بحث میں لانا چاہتی ہیں۔ جب وی پی سنگھ نے منڈل کمیشن نافذ کیا تھا تو اس سے پسماندہ ذاتوں خاص طور سے اتر پردیش اور بہار کی پسماندہ ذاتوں کو ایک آواز ملی تھی۔ ان حالیہ تحریکوں اور مظاہروں کی کوشش اس ریزرویشن کو ختم کرنے کی ہے۔ سبھی پارٹیوں کے لیڈروں کو اس پر سمجھداری کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ اسکے لیے صحیح راستہ تمل ناڈو نے دکھایا ہے۔ تمل ناڈو نے 50سال پہلے ایک جامع پالیسی اپنائی تھی ۔ وہاں اس مدعے پر کوئی احتجاج نہیں ملے گا کیوں کہ تمل ناڈو کے پسماندہ طبقے کے لوگ پہلے سے ہی سماج کا، تعلیم کا ، روزگار کا اوراصحاب ثروت کا حصہ بن گئے ہیں۔ بدقسمتی سے شمالی ہند میں ہم نے پسماندہ طبقوں کو مین اسٹریم سے الگ کر رکھا ہے۔ اس لیے ان کی طرف سے رد عمل ہوتا ہے۔ منڈل کمیشن نے انہیں ایک حد تک مدد کی ہے، لیکن جیسا کہ ہوتا ہے اب وہ اپنی شبیہ بدلنا چاہتے ہیں۔
ان مدعوں سے ایسے نہیں نمٹا جا سکتا۔ ہمیں اب تھوڑی تیزی دکھاتے ہوئے پسماندہ طبقوں کو مین اسٹریم میں لازمی طور پر شامل کرنا ہوگا تاکہ ملک کی ترقی میں انہیں بھی مناسب حصہ مل سکے اور اس سلسلے کی کوئی تحریک شروع نہ ہو سکے۔ جب منڈل کمیشن نافذ ہوا تو مجھے اس لیے دکھ ہو ا تھا کیونکہ ہم نے دیکھا کہ طلبا راجدھانی دلی میں خودسوزی کر رہے تھے۔ وہ طلبا کون تھے؟ ان کا تعلق اعلٰی ذاتوں سے تھا۔ اعلٰی ذاتوں کے لوگوں نے یہ سمجھا کہ ان کی نوکری جانے والی ہے۔ اس میں المیہ یہ تھا کہ اس وقت کوئی نوکری نہیں تھی۔ نہ کسی کو نوکری ملنے والی تھی اور نہ کسی کی نوکری جانے والی تھی۔ وہ صرف سڑکوں پر بے سبب اپنی جان دے رہے تھے۔ مراٹھا تحریک بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہمیں مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں سے سمجھداری کی امید ہے کہ حالات کے ہاتھ سے نکلنے سے پہلے ان لوگوں سے بات چیت کریں۔ دیوندرفڑنویس ایک منکسر مزاج شخص ہیں۔ وہ اچھا کررہے ہیں۔ بدعنوانی اور بلڈرلابی سے ان کا نام نہیں جڑا ہے۔ یہ مہاراشٹر کے لیے اچھا اشارہ ہے۔ لیکن انہیں مراٹھا لابی سے ضرور بات چیت کرنی چاہیے اور یہ پتہ کرنا چاہیے کہ اصل معاملہ کیاہے؟ لیکن جیسا کہ میں دیکھ رہاہوں پٹیل اور مراٹھا تحریک کا مقصد پٹیلوں اور مراٹھوں کے لیے کچھ حاصل کرنا نہیں بلکہ پسماندہ طبقوں اور درج فہرست ذاتوں کے لیے جو کچھ بھی کیا گیا ہے اسے ختم کرنا ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ صحیح سمت میں قدم اٹھایا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *