سرجیکل اسٹرائک پر عوامی چرچا بند ہونی چاہئے

ہندوستان کے لوگوں نے ہندوستانی فوجیوں کے ذریعہ سرجیکل اسٹرائک کئے جانے کی خبر کو خوشی خوشی لیا۔یہ ایک اچھی خبر ہے۔لیکن یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے جب فوج نے ایسا کام کیا ہو۔ یہ ایک باقاعدہ کام ہے ۔فوج کا اپنا ایک طریقہ ہوتاہے اور ہندوستانی فوج بہت زیادہ پیشہ ور، بہت زیادہ باصلاحیت اور بہت ہی زیادہ نظم وضبط والی فوج ہے۔ لیڈروں کا رویہ ہی اس معاملے کی بدقسمتی ہے۔ برسراقتدار پارٹی کے کچھ لیڈر اس طرح سے شور مچا رہے ہیں گویا کہ پہلی بار کوئی راکٹ سائنس کا کام کیا گیا ہو۔ دوسری طرف، اپوزیشن پارٹی شک و شبہ کی حالت میں ہے۔ کچھ بھروسہ کررہے ہیں،کچھ نہیں کررہے ہیں۔لیکن کل ملا کر سبھی سیاسی پارٹیاں مل کر فوج کو سیاست میں کھینچ رہی ہیں۔ برائے کرم سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ہندوستانی فوج اپنا کام جانتی ہے، سمجھتی ہے اور کرتی ہے۔ اس پر سیاست کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔فوج عوامی طور پر یہ اعلان نہیں کرتی ہے کہ ہم نے یہ کیا یا وہ کیا۔ یہ ان کا کام نہیں ہے۔
وزیر دفاع جو کہ وزیر اعظم اور فوج کے بیچ کے پل ہوتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوج ہنومان ہے جو کہ اپنی پوری طاقت کو نہیں جانتی، گویا کہ فوج کے ذریعہ کئے گئے سرجیکل اسٹرائک کا بھی کریڈٹ وہ خود لینا چاہتے ہیں۔ یہ بیان بہت ہی غلط ہے، فوج کا حوصلہ کم کرنے والا ہے۔ یقینا فوج اپنے وزیر دفاع کے رویے اور بیان کو لے کر فکر مند ہوگی۔ ایشو یہ ہے کہ ہمارے پاس پاکستان جیسا ایک دشمن ہے۔ پاکستان ایک چھوٹے سائز کا ملک ہے، اس کی فوج کا سائز بھی چھوٹا ہے، لیکن اس کے پاس بھی ایک نیو کلیئر بٹن ہے۔ اس کے پاس کتنے نیو کلیئر بم ہیں، اس کی جانکاری نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی ایشو نہیں ہے، ایشو یہ ہے کہ ہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک جنگ کو برداشت نہیں کر سکتے ۔صرف چار منٹ کے اندر ایک نیو کلیئر بم ممبئی یا دہلی کو اپنا نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس بارے میں کچھ بھی کر سکنے کے لئے اتنا وقت بہت کم ہوتا ہے۔ اس لئے جنگ کوئی متبادل نہیں ہے۔ پاکستان اس بات کو جانتا ہے ۔ پاکستان ہندوستان کی طرح ایک مستحکم ملک نہیں ہے۔ اس کے پاس کوئی مضبوط سویلین حکومت نہیں ہے۔ملا ہیں جوکہ خون کے پیاسے ہیں، دہشت گرد ہیں اور فوج ہے۔اس طرح کے چار لوگ اقتدار کے لئے لگاتار لڑائی کریں گے، الجھے رہیں گے تو منطقی اور بہتر نقطہ نظر کی امید نہیں کی جاسکتی ہے۔ ہمیں صورت حال کے حساب سے رد عمل دینا چاہئے۔لیکن کم سے کم ہم یہ کر سکتے ہیں کہ ہندوستان اس بات پر فخر کرتاہے کہ اس کے پاس ایک ایسی بہترین فوج ہے جو سویلین لیڈر شپ کے تحت کام کرتی ہے۔ موجودہ وزیر اعظم سویلین قیادت دینے میں پوری طرح سے اہل ہیں۔لیکن میں نہیں جانتا کہ ایسی کون سی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے منوہر پاریکر کو وزیر دفاع بنا کر رکھا گیا ہے۔ وزیر دفاع ایسے آدمی کو ہونا چاہئے جو کہ بولتانہ ہو، فوج کے لئے اسے حوصلہ افزا ہونا چاہئے ۔مجھے اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اس میں بی جے پی، امیت شاہ اور دیگر لیڈر کریڈٹ لیں۔ اس سے ہمارا حوصلہ کم نہیں ہوتا ہے،لیکن وزیر دفاع ،دیگر آفیسر اور روی شنکر پرساد جیسے لیڈر ٹی وی پر اپنا سارا وقت کجریوال کی تنقید کرنے میں گزار رہے ہیں اور وہ بھی اس لئے کہ کجریوال نے ثبوت مانگے۔یہ سب بیوقوفانہ عمل ہے۔ہمارے پاس ایک اچھی فوج ہے،ایک ٹھیک ٹھاک سرکار ہے لیکن یہ ناسمجھ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اس طرح کا رویہ ملک کو آگے نہیں لے جاسکتا۔ پاکستان کا معاملہ اس کے ٹھیک برعکس ہے۔

 

سرجیکل اسٹرائک کے ایک واقعہ سے لوگوں میں خوشی کا ماحول بنا۔ کس وجہ سے؟وجہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایک پیغام دیا کہ پاکستان ہمیں ہلکے میں نہ لے۔ سرجیکل اسٹرائک ایک صحیح پیغام ہے۔ یہ اکسانے والا کام نہیں ہے کیونکہ سرجیکل اسٹرائک انٹرنیشنل سرحد پر نہ ہو کر لائن آف کنٹرول پر ہوا ہے۔ دونوں فریق کشمیر پر اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔ لہٰذا ایل او سی پر فائرنگ کا تبادلہ ایک نارمل عمل ہے۔ سرجیکل اسٹرائک اچھی چیز ہو سکتی ہے، اگر آپ نے کیا ہے،لیکن جس طرح سے اسے لے کر عوامی چرچا ہو رہی ہے وہ بند ہونی چاہئے۔ وزیر اعظم کو ایک بیان جاری کرنا چاہئے کہ اب بہت ہو چکا ہے، کسی کو بھی اس موضوع پر بات نہیں کرنی چاہئے۔

وہاں غیر ذمہ دار لوگ ہیں، لیکن جب سوال ہندوستان کا آتا ہے تو سب مل کر ایک ساتھ ہندوستان کے خلاف بولتے ہیں۔ ہمارے یہاں جمہوریت ہے۔ کجریوال نے کیا کہا؟یہی کہ پاکستان پروپیگنڈہ کررہا ہے کہ کوئی سرجیکل اسٹرائک نہیں ہوا،اس لئے آپ ثبوت دکھا کر اس کا منہ بند کر دیں۔ اس سے اتنا ناراض ہونے کی کیا ضرورت تھی۔آپ ایک لائن میں اپنی بات رکھ کر پورے معاملے کو ختم کرسکتے تھے۔سرکار کہہ سکتی تھی کہ ہمارے پاس ثبوت ہے لیکن اس پر عوامی بحث نہیں کی جاسکتی ہے۔اس طرح کی چیزوں کو عوامی طور سے نہیں دکھایا جاسکتاہے اور اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ لیکن بی جے پی نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ہم نے یہ کیا، وہ کیا،پہلی بار سرحد پار جاکر حملہ کیا۔ بی جے پی نے بڑے بڑے دعوے اور غلط دعوے کرنے شروع کر دیئے۔ آپ ملک چلا رہے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی سنجیدہ مسئلہ ہے ۔یہاں سوال کسی کجریوال یا سیتا رام یچوری کا نہیں ہے۔ نریندر مودی ہندوستان کے وزیر اعظم کی شکل میں منتخب کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ایک کابینہ کا انتخاب کیا ہے جسے وہ باصلاحیت لوگوں سے بنی کابینہ مانتے ہیں۔ ان کے وزیر ایسے ہونے چاہئے جو کہ بات کم کرے۔وہ خود بھی کہتے ہیں کہ میں کام کرنے (ایکشن) میں یقین کرتاہوں۔لیکن ان کے دوست کیا کررہے ہیں؟دفاع اور پاکستان کے ساتھ رشتہ ایک بہت ہی اہم ایشو ہے۔ ہمارے درمیان ایک سفارتی رشتہ ہے۔ آپ کے لیڈر پاکستان کے ہائی کمشنر کو حریت بول کر مذاق بنارہے ہیں۔وہ حکومت کے پیٹرنز کو سمجھ نہیں رہے ہیں۔ آئین میں حکومت کے پیٹرنز کی توضیح موجود ہے، یو این کا اپناپیٹرنز ہے، اقوام متحدہ کے اجلاس اور سمجھوتوں کے اپنے پیٹرنز ہیں۔ چاہے کوئی بھی سرکار ہو، اس کی تعمیل کی جانی چاہئے۔ سرجیکل اسٹرائک کے ایک واقعہ سے لوگوں میں خوشی کا ماحول بنا۔ کس وجہ سے؟وجہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایک پیغام دیا کہ پاکستان ہمیں ہلکے میں نہ لے۔ سرجیکل اسٹرائک ایک صحیح پیغام ہے۔ یہ اکسانے والا کام نہیں ہے کیونکہ سرجیکل اسٹرائک انٹرنیشنل سرحد پر نہ ہو کر لائن آف کنٹرول پر ہوا ہے۔ دونوں فریق کشمیر پر اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔ لہٰذا ایل او سی پر فائرنگ کا تبادلہ ایک نارمل عمل ہے۔ سرجیکل اسٹرائک اچھی چیز ہو سکتی ہے، اگر آپ نے کیا ہے،لیکن جس طرح سے اسے لے کر عوامی چرچا ہو رہی ہے وہ بند ہونی چاہئے۔ وزیر اعظم کو ایک بیان جاری کرنا چاہئے کہ اب بہت ہو چکا ہے، کسی کو بھی اس موضوع پر بات نہیں کرنی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *