صدام کی بیٹی کی ممکنہ واپسی عراق کی بے نظیر یا شیخ حسینہ بننے کی تیار

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی لاڈلی بیٹی رغد صدام نے 2018کے عام انتخابات میں حصہ لینے پر غور شروع کردیا ہے۔ 48 سالہ رغد صدام حسین ان دنوں اردن میں مقیم ہیں۔وہ الیکشن میں حصہ لینے کیلئے ایک قبائلی اتحاد کا آغاز کرسکتی ہیں۔

P-8Cبرسوں سے گوشہ گمنامی میں زندگی گزارنے والی صدام کی بڑی بیٹی رغد صدام عراق میں 2018 میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں۔یہ اشارہ ان کے فیس بک پر دیئے گئے ایک پیغام سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے عراقی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ عراق کے بہادر شہریوںاب وقت آچکا ہے۔اپنی بہادری کی تاریخ رقم کردو، تم بزدلوں اور خیانت کرنے والوں سے خوف مت کھائو، ایسا کرنے سے اللہ آپ کی غلطیوں کو معاف کردے گا‘‘۔
رغد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میںبے پناہ مصیبتوں اور آزمائشوں کا سامنا کیا ہے۔ ان حالات نے ان کے ارادوں کو مضبوط اور حوصلوں کو بلند کردیا ہے۔انہوں نے اپنے شوہر اور بھائیوں کو موت کی آغوش میں جاتے دیکھا ہے۔انہوں نے پُر آسائش زندگی سے لے کر تنگ و تاریک لمحوں کا بھی سامنا کیا ہے۔لیکن زندگی کے اس اتار چڑھائو نے ان کا حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیا۔ بلکہ برسوں خاموشی سے حالات کا جائزہ لیتی رہیں اور اندازہ لگاتی رہیں کہ وہ اپنی شاہی زندگی میں ایک بار پھر کیسے لوٹیں۔جب عراق میں داعش کا دبدبہ قائم ہوا تو ان پر الزام لگا کہ وہ عراقی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لئے داعش کی پشت پناہی کررہی ہیں۔یہی نہیں یہاںتک کہا گیا کہ ابو بکر بغدای دراصل ان کا ہی ایک بیٹا علی ہے جو عراقیوں سے اپنے نانا کا بدلہ لینے کے لئے نئے انداز میں آیا ہے اور دشمنوں کا قتل عام کررہا ہے ۔حالانکہ اس بات میں سچائی نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ بغدادی اور رغد کی عمر تقریباً ملتی جلتی ہے لہٰذا وہ بغدادی کی ماں نہیں ہوسکتیں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان کا بیٹا علی بغدادی کا کوئی قریبی ساتھی ہو۔
رغد صدام کے اس پیغام کے بارے میں عرب کے بیشتر صحافیوں کا خیال ہے کہ یہ پیغام واقعتا ان کی طرف سے ہی دیا گیا ہے کیونکہ اسے اردن کے بہت سے اخباروں میں چھاپا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اگر یہ پیغام ان کی طرف سے نہ دیا گیا ہوتا تو تردیدی بیان ضرور آتا ،لیکن اب تک نہ تو ان کی طرف سے اور نہ ہی ان کے وکیل نبیل ہرش کی طرف سے اس کی تردید کی گئی ہے ۔جبکہ ماضی میں بارہا دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کوئی غلط بیان ان کی طرف منسوب کیا جاتا تھا تو فوری طورپر اس کی تردید آجاتی تھی۔
اس سے پہلے جب جون 2014 میں ان کا ایک بیان ’’ القدس العربی ‘‘ میں چھپا تھا۔ اس میں اناتولیہ کے ایک صحافی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی رغد سے ٹیلیفون پر بات ہوئی ہے اور اس بات چیت میں رغد نے کہا تھا کہ ان کے چچا ابراہیم دوری جو کہ داعش کے ساتھ لڑ رہے تھے کی فتح پر انہیں بے پناہ خوشی ہورہی ہے‘‘۔ اس خبر کے چھپتے ہی فوری طور پر ان کے وکیل کی طرف سے تردیدی بیان آگیا تھا کہ رغد نے کسی بھی صحافی سے اس طرح کی بات نہیں کی ہے۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ پھر یہ بات دنیا کے سامنے کیسے آئی تو وکیل نے یہ کہہ کر بات ختم کرنے کی کوشش کی تھی کہ ممکن ہے یہ بات انہوں نے اپنی کسی ذاتی محفل میں کہی ہو لیکن کسی صحافی سے اس طرح کی بات نہیں ہوئی ہے۔لیکن حالیہ بیان پر تردید کا نہ آنا ثابت کرتا ہے کہ یہ بیان رغد کا ہی ہے اور انہوں نے ایسا لکھ کر آنے والے دنوں میں عراق کی سیاست میں حصہ لینے کا اشارہ دیا ہے ۔
اس سے پہلے رغد کا ایک بیان عربی نیوز سائٹ ’’القدس العربی‘‘ نے فیس بک کے حوالے سے شائع کیا تھا۔ اس بیان میں رغد کو اپنے فیس بک پر نورا لمالکی اور ان کے بعد حید ر عبادی کی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے بتایا گیا تھا۔ ان کے اس بیان کے بعد ہی بغداد نے اردن سے رغد کو لوٹانے کی درخواست کی تھی تاکہ ان پر عدالتی کارروائی کی جاسکے،جس کو اردن نے مسترد کردیا تھا۔ایک دوسرا اخبار ’’شفق نیوز ‘‘ جوکہ بیک وقت عربی، انگریزی اور کردی زبان میں شائع ہوتا ہے،نے لکھا کہ بغداد نے عمان کو ایک فہرست دی ہے جس میں عراقی حکومت کا تختہ پلٹنے کی سازش کرنے والوں کا نام درج ہے اور اس فہرست میں رغد کا بھی نام شامل ہے۔واضح رہے کہ مئی میں عراقی وزارت خارجہ نے رغد صدام حسین اور صدام حسین کی حکومت کے دوسرے سرکردہ رہنماں کو ملک بدر کرنے کی درخواست کی تھی جسے اردن کے شاہی خاندان نے مسترد کردیا تھا۔ اپریل 2010میں بغداد کی درخواست پر انٹرپول نے رغد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے۔ رغد بغداد کو دہشت گردی کے شبہ اور سرعام داعش کی حمایت کرنے کے جرم میں مطلوب ہیں۔لیکن عراق کی طرف سے عام معافی کے بعد ممکن ہے عراق میں ان کے لوٹنے کا راستہ صاف ہوجائے۔
عمان اور بغداد کے درمیان باغیوں کوتفویض کرنے کا باہمی معاہدہ ہے ۔ نیز اردن نے رغد کو اس شرط پر سیاسی پناہ دی تھی کہ وہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گی اس کے باوجود ان کا سیاسی بیان دینا اشارہ کرتا ہے کہ وہ سیاسی اعتبار سے مضبوط ہورہی ہیں اور ایک ایسے اتحاد کو تیار کررہی ہیں جس کو وہ انتخاب کے وقت عراقی حکومت کے خلاف استعمال کریں گی۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ رغد تکریت کے عراقی تاجر خمیس خنجر کے رابطے میں ہیں۔ خنجر وہی شخص ہے جس نے رغد کے بھائی عدی سے علاحدگی اختیار کرکے 2003 میں سقوط بغداد سے پہلے 700ملین ڈالر لے کر عمان منتقل ہوگیا تھا۔اور اس وقت وہ روم میں صدام حسین کے ایک بڑے فارم ہائوس کو چلا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خنجر کا موجودہ اور سابقہ حکومتوں میں بڑا اثرو رسوخ رہا ہے۔اس کے اثرو رسوخ کا رغد فائدہ اٹھاسکتی ہیں اور اگر وہ کسی رکاوٹ کی وجہ سے خود آئندہ انتخابات میں شریک نہ بھی ہوسکیں تو عراق کی موجودہ حکومت کے لئے بڑی مصیبت کھڑی کرسکتی ہیں۔بہر کیف رغد صدام کے اس بیان کے بعد عراق کی حکومت میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے اور یہ خوف ستانے لگا ہے کہ عراق میں ایک بار پھر البعث کا دبدبہ قائم ہوسکتا ہے۔اگر ایسا ممکن ہوا تو صدام کی بیٹی رغد عراق میں پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو اور بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد کی طرح انتخابات میاں حصہ لے کر مقتدر اعلیٰ بن سکتی ہیں۔اب تو آنے والا وقت ہی بتاپائے گا کہ اپنے اس خفیہ مشن میں وہ کتنا کامیاب ہوپاتی ہیں۔ (وسیم احمد )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *