راجستھان:شاہی ریاست، چوپٹ راج

راجستھان ایک ایسی ریاست ہے جو کہ راجائوں اور نوابوں کا گڑھ رہا ہے۔ آزادی کے بعد راجائوں اور نوابوں کی حکومتیں تو ختم ہوگئیں مگر ان کے نشانات اور اثرات محلوں اور عمارتوں نیز ان کے وارثین کی شکل میں ابھی بھی موجود ہیں۔لہٰذا آج بھی اس ریاست کا نام آتے ہی شاہی ریاست کا تصور ذہن میں ٓجاتا ہے۔ ماضی میں یہاں مختلف سیاسی پارٹیوں کے بڑے بڑے سیاست داں ہوئے ہیں۔ نیز اس ریاست نے متعدد ممتاز بیوروکریٹ بھی پیدا کئے ہیں،مگر کیسی ستم ظریفی ہے کہ آج یہاں نہ تو موجودہ وزیر اعلیٰ کا کوئی مناسب متبادل نظر آرہا ہے اور نہ ہی بیوروکریسی کے چار اہم ستونوں کی جگہ کوئی صاف ستھرے چہرے دکھائی پڑرہے ہیں۔نتیجتاً یہ ریاست بدانتظامی کا بری طرح شکار ہے اور بد عنوانی اوپر سے نیچے تک اسے گھیرے ہوئے ہے۔ان حالات میں سیاسی طور پر یہ ریاست کس طرح موجودہ لائن پر آگے بڑھے گی،دراصل یہ وہ بات ہے جو کہ صدر بی جے پی امیت شاہ کے سوچنے کی ہے کیونکہ اسی پر اس بات کا دارو مدار ہوگا کہ اس ریاست میں بی جے پی کا مستقبل کیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کس طرح بری حالت سے گزر رہی ہے یہ ریاست اور کیسے باہر نکلے گی اس حالت سے؟
چتراپتی
p-3راجستھان میں ابھی، گزشتہ 8 سال کی تاریخ کا سب سے خراب انتظامیہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ریاست انتظامی طور پر بالکل ڈگمگائی ہوئی ہے۔ حکومت اور بیوریکریسی کی حالت خراب ہے۔ بیوروکریسی اور سرکار چلانے کے لئے ذمہ دار 4 لوگ،چیف سکریٹری، سکریٹری ٹو سی ایم،ڈی او پی سکریٹری، ہوم سکریٹری ہیں۔یہ چاروں لوگوں سے جڑے ادارے چرمرائی ہوئی حالت میں ہیں۔
پہلے بات کرتے ہیں چیف سکریٹری چندر شیکھر راجن کی، جو کہ جون 2016تک اپنے عہدہ پر رہے۔ چندر شیکھر راجن جب تک ایڈیشنل سکریٹری تھے، کامیاب رہے،لیکن چیف سکریٹری کے طور پر وہ بالکل فیل ہو گئے۔ چیف سکریٹری کا کام ہوتا ہے اسکیم بنانا، محکموں کے درمیان ربط قائم کرنا اور آئی اے ایس افسروں کے کسٹوڈین کے طور پر کام کرنا۔ اس کام میں وہ بالکل ناکام ہو گئے۔ کوئی بھی کلکٹر آکر ان سے کچھ کہے، اپنے مسائل بتائے، لیکن راجن ان افسروں کے مسائل کا حل نکالنے میں ناکام رہے، کیونکہ وہ وزیر اعلیٰ کے غلام ہو گئے۔ دراصل، وہ دسمبر 2015 میں ریٹائر ہونے والے تھے۔ دسمبر کے بعد وہ ایک دن بھی اس عہدہ پر رہتے تو ساتواں پے کمیشن کے حقدار ہو جاتے اور انہیںتقریباً 40 لاکھ روپے ملتے۔ اس لئے وہ کسی بھی طریقے سے اپنا دور کار بڑھانا چاہتے تھے۔ اس لئے بیوروکریسی میں جو بھی غلط ہو رہا تھا، اس کام کی انہوں نے مخالفت نہیں کی۔اس کے بعد جب ان کی 3 مہینے کی توسیع ہوگئی تو انہوں نے اس دوران کوئی کام نہیں کیا۔ اس کے بعد پھر تین مہینے کی توسیع ہوئی اور اس دوران بھی انہوں نے کچھ نہیں کیا۔
اس سے بھی افسوسناک حالت یہ رہی ہے کہ اس کے بعد او پی مینا کو چیف سکریٹری بنادیا گیا۔ او پی مینا سینئر آفیسر تھے، لیکن وہ اپنے کیریئر میں کبھی انتظامی طور پر اہم عہدوں پر نہیں رہے اور ہمیشہ سائڈ لائن رہے۔ اس لئے ،ان کا انتظامی تجربہ کافی کم تھا۔ صلاحیت اور اہلیت میں پیچھے ہونے کے بعد بھی وہ نسلی طور پر کافی مضبوط تھے،کیونکہ وہ مینا طبقے سے آتے ہیں۔ مینا برادری کو خوش کرنے کے لئے ریاستی سرکار نے او پی مینا کو چیف سکریٹری بنا دیا۔ او پی مینا چیف سکریٹری یکم جولائی 2016 سے لے کر آج کی تاریخ تک ہیں۔ غور طلب ہے کہ مینا کے خلاف ان کی بیوی اور بیٹی نے ہی سنگین الزام لگائے ہوئے ہیں۔ پھر انہیں کیسے اس اہم عہدے پر تعینات کیا گیا؟او پی مینا کی بیوی نے کرائم برانچ ویمن کمیشن اور حقوق انسانی میں کیس درج کرایا ہے۔ابھی ان کی بیٹی نے لندن سے اپنے باپ پر الزام لگایاہے کہ میرے والد نے میرا جنسی استحصال کیا ہے۔ چیف سکریٹری کی شبیہ ہی خراب ہے۔ ظاہر ہے وہ بھلے ہی چیف سکریٹری کی کرسی پر ہو، لیکن ان کا انتظامیہ میں وقار قائم نہیں ہے۔چونکہ جب چیف سکریٹری ہی کمزور ہے تو انتظامیہ میں ان کا کیا کردار ہوگا اور وزیر اعلیٰ انہیں کتنی اہمیت دیتی ہوں گی، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یعنی راجستھان میں چیف سکریٹری نام کا ادارہ پوری طرح سے ختم ہوچکا ہے۔
دوسرے نمبر پر ہے، سکریٹری ٹو سی ایم ۔ ایک زمانے میں سنیل اروڑا، شری منت پانڈے، پی کے میتھیو، آدرش کیشور جیسے لوگ سکریٹری ٹو سی ایم ہوا کرتے تھے۔ اس بار وزیر اعلیٰ نے آتے ہی تنمئے کمار ، جو کہ گزشتہ دور کار میں سی ایم او میں کام کرتے تھے، کو اپنا سکریٹری بنا لیا، جبکہ سکریٹری سطح کے کئی سینئر آفیسر دعویدار تھے۔ لیکن تنمئے کمار کا کام اور کمانڈ بہت ہی کمزور ہے۔ وہ بہت جونیئر ہیں اور سینئر آفیسر ان کی بات نہیں سنتے ہیں ،نہ ہی سی ایم او کا دبدبہ ضلعوں میں کلکٹروں کے اوپر قائم کر سکتے ہیں۔ اس لئے سارے ایم ایل اے بھی ناراض ہیں اور کئی بار وزیر اعلیٰ سے گزارش کر چکے ہیں کہ تنمئے کے اوپر کوئی اچھا آفیسر لائیے۔ لیکن وزیر اعلیٰ تنمئے کمار پر اندھا اعتماد رکرتے ہیں۔سارا کمان تنمئے کمار کو سونپ رکھا ہے۔چونکہ چیف سکریٹری کمزور ہو گئے ہیں ،اس لئے بیوروکریسی کے ٹرانسفر وپوسٹنگ میں تنمئے کمار اپنی رضی چلا رہے ہیں۔ کسی زمانے میں سائوتھ انڈیا آفیسر وہاں ہوتے تھے۔ تنمئے کمار بہاری ہیں اور جتنے بہار کے آفیسر ہیں،انہیں اچھی اچھی جگہوں پر پوسٹنگ کردیاہے۔ 1993 بیچ کے 7 افسروں کو اچھی جگہ پر تعینات دلوا دی ہے۔مطلب یہ ہے کہ سی ایم او نام کے ادارے بھی بھگوان بھروسے ہی چل رہے ہیں۔ اب بات ڈپارٹمنٹ آف پرسنل ( ڈی او پی ) کی، جو کہ سارے ملازموں کا ٹرانسفر اور پوسٹنگ دیکھتا ہے۔لیکن وہ بھی تنمئے کمار کے ’یس مین‘ رہ گئے۔اس کے بعد نمبر آتا ہے داخلہ سکریٹی کا۔ اے مکھوپادھیائے داخلہ سکریٹری رہے اور وہ بھی بااثر نہیں رہے۔ ان کے ماتحت ایک سکریٹری جنجیو ورما لائے گئے۔ دونوں میں چھتیس کا آنکڑا رہا۔پورے ایک سال تک پوری طرح محکمۂ داخلہ غیر فعال رہا۔ یعنی گزشتہ کچھ وقت تک ریاستی سرکار کے چاروں اہم محکمے چرمرائی ہوئی صورت حال میں رہے۔
اب ہم بات کرتے ہیں بدعنوانی کی۔ریاست میں کئی آفیسر کھلے عام بد عنوان تھے اور سب کو پتہ تھا کہ چار پانچ ضلع آفیسر بد عنوانی کررہے ہیں۔لیکن ان کو سی ایم او کی سرپرستی حاصل ہے اور ان کو چیف سکریٹری بھی اپنی مرضی سے ہٹا نہیں سکتے تھے۔ لیکن جب چار، پانچ ضلع آفیسر بدعنوانی کرنے لگے تو دوسرے ضلع افسروں کا بھی حوصلہ بڑھ گیا۔ کھلے عام بد عنوانی ہونے لگی۔ بڑی بات یہ ہے کہ اے سی بی نے چار بڑے محکموں پر چھاپے مارے۔ایک کانکنی محکمہ، جس میں اشوک سنگھ پکڑے گئے اور اشوک سنگھ سکریٹری سطح کے آفیسر تھے، جب ان کو پکڑا گیا تو پورا انتظامیہ ہل گیا۔ اس کے بعد نیرج کے پون، کافی جونیئر آئی اے ایس تھے، لیکن وزیر اعلیٰ کے خاص تھے، ان کو بھی بدعنوانی میں پکڑا گیا۔ میڈیکل ڈپارٹمنٹ میں بھی بڑے بڑے افسروں کو پکڑا گیا۔ پی ایچ ڈی میں اتنی بد عنوانی ہے کہ وہاں ایک درجن سے زیادہ آفیسر بد عنوانی میں پکرے گئے۔
سوال ہے کہ ریاستی سرکار ڈھائی سال بعد بدعنوانی کرنے والوں کو پکڑ رہی ہے تو ان کو اب تک کیوں چھوٹ ملی ہوئی تھی؟مطلب یہ ہے کہ ایڈمنسٹریٹیو سسٹم پر نہ وزیر اعلیٰ کی پکڑ ہے ،نہ چیف سکریٹری کی پکڑ ہے اور نہ ہی سی ایم او کی پکڑ ہے۔ اس طرح سے پورا انتظامیہ بد عنوان افسروں سے بھرا ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو سیاسی کاموں سے فرصت نہیں ہے۔ چیف سکریٹری اور سی ایم او انتظامیہ پر دھیان نہیں دے رہے ہیں۔کس آفیسر کو کہاں لگایا جائے، کسی کو نہیں معلوم ۔اچھے افسروں کو سائڈ لائن کر دیا گیا ہے اور جو درمیانی درجے کے آفیسر ہیں، ان کو پرائم پوزیشن پر رکھا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر جے پور میٹرو، جے پور میٹرو میں گزشتہ ڈھائی سال سے نہال چند گوئل نے شاندار کام کیا اور جے پور میٹرو کو شروع کیا۔انہوں نے ہی جے پور میٹرو کے کام کوپورا کیا۔ اب اس کا دوسرا مرحلہ چل رہا ہے، تو نہال چند گوئل کا ٹرانسفر کرکے، اشوینی بھگت کو لگادیا گیا۔ اشوینی بھگت ، نہال چند گوئل کے مقابلے قابلیت میں کہیں نہیں ٹھہرتے ہیں۔ لیکن ایسا ہی ہوا ،کیونکہ سی ایم او کی مرضی چلتی ہے۔ کس آفیسر کو کہاں لگا یا جائے، اسے دیکھنے والا کوئی نہیں۔ جو آدمی سی ایم او کا نزدیکی ہے وہ اچھی جگہ پا رہا ہے اور اچھے آفیسر الگ تھلگ ہورہے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ایک درجن اچھے آفیسر حاشئے پر ہیں اور کم تجربہ کار آفیسر پرائم پوزیشن پر ہیں۔ اس سے پورا انتظامیہ بکھرا ہوا ہے اور اچھے افسروں میں کام کرنے کا کوئی جذبہ نہیں ہے۔ راجستھان سرکار کے دسمبر میں تین سال پورے ہو جائیں گے اور ابھی سرکار کے پاس دو سال ہیں۔ اگر دو سال میں نظم و نسق ٹھیک نہیں ہوا تو یہی سرکار کو لے ڈوبے گا۔ ایک اہم مثال ہمارے سامنے ہے۔ فی الوقت چیف سکریٹری او پی مینا ہیں۔وہ بالکل بے اثر ہیں ۔ہائی کورٹ نے راجستھان سرکار سے حال ہی میںپوچھا ہے کہ کیوں نہ چیف سکریٹری کے خلاف جانچ سی بی آئی کو سونپی جائے؟ان کے خلاف اگر سی بی آئی جانچ سونپی جاتی ہے تو اخلاقی طور پر چیف سکریٹری کے عہدہ پر ان کا بنا رہنا صحیح نہیں ہوگا اور اگر وہ اس عہدہ پر بنے بھی رہیں گے تو ان کا کوئی اثر نہیں رہے گا۔
اب نیا چیف سکریٹری کون بنے گا،یہ سوال بیوروکریسی میں ہے۔اس عہدہ کے لئے 8 آفیسر دعویدار ہیں،لیکن آٹھوں چیف سکریٹری بننے کے اہل نہیں ہیں۔ 9ویں اور10ویں نمبر پر جو آفیسر ہیں وہ چیف سکریٹری بن سکتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعلیٰ پھر ان8 افسروں کو سکریٹریٹ سے باہر کریں گی۔کیونکہ جب جونیئر چیف سکرٹری بنے گا تو سینئر کو سکریٹریٹ سے باہر نکالنا پڑتا ہے۔ تو کیا ڈی بی گپتا جو سب سے اہل ہیں اور 10ویں نمبر پر ہیں، چیف سکریٹری بنیں گے؟اگر ڈی بی گپتا چیف سیکریٹری بنتے ہیں تو وہ وزیر علیٰ کے بھی نزدیک ہیں اور ان کا پورا دور کار سرکار کے ڈھائی سال تک رہے گا اور وہ سب کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔ ان کی شبیہ بھی اچھی ہے۔لیکن وزیر اعلیٰ کو اس کے لئے اوپر کے 9 افسروں کو کنارے کرنا ہوگا۔ موجودہ چیف سکریٹری کا دور کار اگلے سال جون تک ہے۔ اگر ان کے خلاف سی بی آئی جانچ ہوتی ہے تو انہیں بیچ میں ہی عہدہ سے ہٹنا ہوگا۔ اگر ڈی بی گپتا چیف سکریٹری بنتے ہیں تو اوپر کے 8-9 آفیسر کام نہیں کر پائیں گے۔ اومیش کمار 1983 بیچ کے سینئر آفیسر ہیں۔ اومیش کمار بھی چیف سکریٹری عہدہ کے دعویدار تھے۔ وہ اب تک اے ڈی بی میں تھے، وہاں وہ 5 سال تک تھے اور وہاں جب ان کا دور کار ختم ہو گیا، تو وہ دہلی آگئے تھے۔ وہ ہندوستانی سرکار میں بینکنگ سکریٹری بننے جارہے تھے، لیکن وزیر اعلیٰ نے اپنی طرف سے این او سی نہیں دیا اور ان کو راجستھان بلا لیااور راجستھان میں اے سی ایس انڈسٹری بنا دیا۔ اومیش کمار کو بینکنگ سکریٹری بننا تھا، انہیں دہلی رہنا تھا، 5 سال بیرون ملک رہے، اس لئے راجستھان آکر وہ کچھ خاص کام نہیں کر رہے ہیں۔ صنعت جو کہ ایک اہم فرنٹ ہے ،اسے اومیش کمار کے ہاتھوں میں دینے سے وہاں کچھ کام ہوگا، اس کی امید کم ہی لگ رہی ہے۔
فی الحال ، راجستھان بی جے پی کے اندر سب’ ون مین شو‘ ہے۔ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں سب کچھ ’ون مین شو‘ ہے۔ وزراء تقریبا ًاسٹامپ بنے ہوئے ہیں۔ دھنشیام تیواری با اثر لیڈر تھے۔وہ بغاوت کرکے سرکار کے باہر ہیں اور اپنی ہی پارٹی کی سرکار کی مخالفت کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا متبادل آج کے ایم ایل ایز میں کوئی نہیں ہے، وزیر اعلیٰ کا متبادل گلاب چند کٹاریا ہوا کرتے ہیں۔ وہ وزیر اعلیٰ نہیں بنیں گے،وہ بہت سادے اور سیدھے آدمی ہیں۔وہ گزشتہ وسندھرا سرکار کے مخالف خیمے میں تھے، لیکن اس سرکار میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ وہ وزیر اعلیٰ کے دعویدار بھی نہیں ہیں ،وہ وزیر اعلیٰ بنیں گے بھی نہیں۔ وزیر اعلیٰ عہدہ کی دعویدار ہیں کرن ماہیشوری۔ جب للت مودی والا واقعہ ہوا تھا تو یہ کہا جارہا تھا کہ کرن ماہیشوری وزیر اعلیٰ بنیں گی،لیکن وسندھرا راجے نے وزیر اعلیٰ عہدہ نہیں چھوڑا۔ لیکن تب سے وسندھرا راجے کی آنکھ کی شہتیر بنی ہوئی ہے کرن ماہیشوری۔ جب سے ماحولیات کے محکمہ میں واقعہ ہوا ہے، اس کی کچھ چھینٹیں کرن ماہیشوری پر بھی آئے ہیں، ان کے او ایس ڈی پکڑے گئے ہیں۔ایسے میں اب کرن ماہیشوری دعویدار ہوتے ہوئے بھی وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر وسندھرا راجے ہٹتی ہیں تو کون وزیر اعلیٰ بنے گا؟173ایم ایل ایز میں 100ایم ایل اے مخالف ہیں، لیکن سوال ہے کہ متبادل کیا ہے۔ جتنے متبادل تھے، وہ سب ہٹ گئے ہیںاور دوسرے متبادل کھڑے نہیں ہونے دیئے گئے۔ راجندر راٹھور وزیر اعلیٰ کے دعویدار تھے اور گزشتہ سرکار میں متبادل کے طور پر بہت ابھرے تھے۔ لیکن راجندر راٹھور بھی بھروسہ مندہو گئے وزیر اعلیٰ کے سامنے۔ اشوک پرنامی جوکہ گزشتہ 15 سالوں سے صدر رہے ہیں۔ وہ وزیر اعلیٰ کی جگہ لے سکتے ہیں،لیکن اشوک پرنامی وزیر اعلیٰ کے لائق نہیں ہیں۔ وہ بہت ہی عام طرح کی سیاستداں ہیں۔ اس لئے وسندھرا راجے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
گئو ماتا کے نام پر۔۔۔۔۔
گایوں کو لے کر سیاست انتہا پر ہے۔لیکن ایک دلچسپ جانکاری یہ نکل کر سامنے آئی ہے کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں (راجستھان اور ہریانہ کو چھوڑ کر) سرکاری گئو شالہ ہے ہی نہیں۔راجستھان کے علاوہ بی جے پی کی ریاستوں جیسے آسام، چھتیس گڑھ، گوا، گجرات، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر،پنجاب اور جموں و کشمیر میں ایک بھی سرکاری گئو شالہ نہیں ہے۔ ہریانہ میں جہاں صرف دو سرکاری گئو شالائیں ہیں، وہیں راجستھان میں وسندھرا راجے کی سرکار 1304 گئو شالائیں چلا رہی ہیں۔ راجستھان اکیلے ایسی ریاست ہے جہاں وزارت برائے گئو رکشک اور وزیر بھی ہیں۔ اوٹا رام یہاں کے گئو رکشک وزیر ہیں۔باوجود ان سب کے ، راجستھان میإ گایوں کی حالت کیا ہے، اس کا خلاصہ گزشتہ کچھ دنوں پہلے تب ہوا، جب ہنگونیا گئو شالہ میں لگاتار گایوں کے مرنے کی خبریں آئیں۔ ویسے ایک اندازے کے مطابق راجستھان میں 2004 سے لے کر اب تک تقریبا ایک لاکھ گائیں دم توڑ چکی ہیں۔ جے پور کے ہنگونیا گئو شالہ میں یکم جنوری سے 31 جولائی 2016 کے درمیان 8 ہزار سے زیادہ گایوں کی موت ہو گئی۔ غور طلب ہے کہ راجستھان گئو ٹیکس لگانے والی پہلی ریاست ہے اور سرکار کو اس سے تقریبا 100کروڑ روپے بھی ملے ہیں۔ پھر سوال ہے کہ ٹیکس کے اس پیسے کو کہاں خرچ کیا جارہا ہے؟۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *