پاپولرفرنٹ آف انڈیا کی کال نفرت کی سیاست بند کرو

شاہد نعیم
p-10bگزشتہ دنوں 3 اکتوبر کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی ایک ماہ سے جاری قومی مہم ’’نفرت کی سیاست بند کرو‘‘کی اختتامی تقریب نئی دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی۔ جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز ایک ڈرامہ سے ہوا۔ اس ڈرامہ کے ذریعہ ہندوستان میں ہورہی نفرت کی سیاست کو بھرپور ایکسپوز کیا گیا۔ اس کے بعد پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے جنرل سکریٹری محمد علی جناح نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔ پاپولر فرنٹ کے چیئرمین کے ایم شریف نے کہا کہ ہمارا ملک ایک ویلفیئر اسٹیٹ ہے، لیکن اس کا تصور سیاسی پارٹیاں نہیں دے سکیں۔ انھوںنے ملک کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آزادی سے لے کر اب تک مسلمانوںنے سیکولرازم کو مضبوط کیا ہے، لیکن مسلمان ہی سب سے زیادہ فرقہ پرستی کا شکار ہے۔ کے ایم شریف نے کہا کہ سیکولر پارٹیوںکی نااتفاقی کی وجہ سے بی جے پی کا اقتدار میںآنے کا راستہ صاف ہوا ہے۔جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، اس نے اپنے نفرت کے ایجنڈے کا اعلانیہ اظہار کیا ہے۔ مسلمانوں، دلتوں اور اقلیتوں پر ہونے والے حملوں پر حکومت کی خاموشی ان کے مخفی ایجنڈے کی تصدیق کرتی ہے۔ اب حکومت ہند کو آر ایس ایس چلارہا ہے اور ملک کو ہندوراشٹر بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کبھی لو جہاد کے نام پر تو کبھی گائے کے نام پر مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔اونا کے واقعہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اونا کے دلتوںکے لیے آپ کی سیاست باہر آگئی ہے، وہ کہتے ہیںکہ دلتوں کو مت مارو، مجھے گولی ماردولیکن دادری کے اخلاق کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ انھوںنے کہا کہ پاپولر فرنٹ فسطائیت کے خلاف جدوجہد میں آگے رہا ہے اور ہماری یہ جدوجہدآگے بھی جاری رہے گی۔ اس مہم میں حاصل ہونے والی حمایت کے بعد اب نفرت کی سیاست کے خلاف ہماری جدوجہد بڑھتی ہی جائے گی۔ ممبئی ہائی کورٹ کے سابق جج بی جی کولسے پاٹل نے آرایس ایس کی فرقہ پرستی کے خلاف جنگ کے لیے تمام طبقات کو متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ملک کو آر ایس ایس کی زہریلی وچاردھار سے آزاد کرانا ہے۔ انھوںنے کہا کہ برہمن واد اور پونجی واد ہمارے دشمن ہیں۔ آئین کے مطابق جو بھی ملک میں رہ رہا ہے، ہندوستان اس کا ہے اور یہ ملک ایک قوم یا طبقہ کی جاگیر نہیں ہے۔ کانگریس کے سابق وزیر منی شنکرایّرنے کہا کہ نفرت کی سیاست بہت طریقے سے چلائی جارہی ہے، اسے روکنا چاہیے اور امن کاراستہ اختیار کرنا چاہیے۔فرقہ پرستی کے ایجنڈے کوفروغ دینے کے لیے تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کی جارہی ہے ۔ تاریخ کا بھگواکرن کرکے مسلمانوں کی غلط تصویر بنائی جارہی ہے۔ انھوںنے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آٹھویںصدی میںاسلام کے مساوات کے پیغام کو ہندوستان کے لوگوں نے دل سے قبول کیا، لیکن فرقہ پرست طاقتیںاس دور کے مسلمانوں کی غلط تصویر پیش کرکے عوام کو گمراہ کررہی ہیں۔ اسلام کے تلوار سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے پر انھوںنے کہا کہ مسلمانوںنے 666 سال ہندوستان میں حکومت کی لیکن اس کے باوجود جب انگریزوں نے اپنے دور میں مردم شماری کرائی تو مسلمانوںکی تعداد محض 24 فیصد تھی۔
روی نائرڈائریکٹر ساؤتھ ایشیا ہیومین رائٹس ڈاکیومینٹیشن سینٹر( ایس اے ایچ آر ڈی سی) نئی دہلی نے کہا کہ آر ایس ایس افواہ پھیلانے والا سنگٹھن ہے، یہ بے گناہ مسلم نوجوانوں کو فرضی کیس میں پھانستا ہے۔ ان لوگوں کو 2019 میں ناگپور واپس بھیجنا ہے۔پاپولرفرنٹ کے مرکزی مجلس عاملہ کے رکن انیس احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ مہم گزشتہ دو دہائیوںسے جاری سرگرمیوں کا ایک حصہ ہے۔ ہم ملک کے سامنے اصل خطرے کو پیش کررہے ہیں۔ آر ایس ایس کی شاکھاؤں میں ہندوتو نظریے کی تعلیم ہی ملک میں اس قسم کے حملوں کا سبب ہے۔ انھوںنے مسلمانوں، اقلیتوں، دلتوں، آدیواسیوں اور سیکولر جماعتوں کو فسطائیت اور فرقہ پرستی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ایک صف میںآنے کی دعوت دی۔
ان کے علاوہ یاسمین فاروقی قومی صدر ویمن انڈیا موومنٹ، سید سرور چشتی، گدی نشین درگاہ اجمیر شریف، راگھون سری نواسن، صدر لوک راج سنگٹھن، ڈاکٹر پرویز میاں،صدر آل انڈیا ملی کونسل دہلی، اے سعید،سوشل ڈیموکریٹک آف انڈیا ، چوتھی دنیا کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ،کمال فاروقی ، سابق چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن، نوید حامد صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشارت، عبدالواحد سیٹھ، سکریٹری پاپولر فرنٹ اور احمد پرویز ، صدر دہلی پاپولرفرنٹ نے سماج میں نفرت ختم کرکے امن و شانتی بحال کرنے سے متعلق اس پروگرام کو زینت بخشی۔
’نفرت کی سیاست بند کرو‘ عنوان کے تحت پاپولرفرنٹ کی یہ مہم قابل ستائش ہے۔ ہندوستان میںاس وقت جو نفرت کی زہریلی سیاست ہورہی ہے، اس کے خلاف عوام کو بیدار اور متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ اس پروگرام میں سبھی مقررین نے بھی اتحاد کی ضرورت پرزور دیا۔ امید ہے کہ پاپولرفرنٹ کی عوام میں آپسی اتفاق و اتحاد کی یہ جدوجہد آگے بھی جاری رہے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *