نتیش کا دہلی مارچ ، یہ عشق نہیں آساں

گزشتہ دنوں راجگیرمیں منعقد ہوا جنتا دل (یو)کی قومی کونسل کا اجلاس اس لحاظ سے بہت ہی غیر معمولی ہے کہ اس موقع پر یونیفارم سول کوڈ کے تعلق سے مرکزی حکومت کی کوششوں کو ملک کی وحدت کے لئے خطرناک قرار دیا گیا، مرکز کے خلاف مورچہ کھولنے کی بات کی گئی، آئندہ لوک سبھا انتخابات نتیش کمار کی قیادت میں لڑنے کا اعلان کیا گیا، تیسرے محاذ کی تشکیل نو پر غور ہوا اور شراب بندی موضوع بحث بنا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ جے ڈی یو کا آئندہ پروگرام کیا ہے؟
اشرف استھانوی

p-5cبہار میں حکمراں جنتا دل یو کے قومی کونسل کا دو روزہ اجلاس بہار کے سینی ٹوریم راجگیر میں اختتام پذیر ہو گیا ۔ پارٹی کا راجگیر اجلاس اس اعتبار سے یادگار اور با وقار اور اہم قرار دیا جائے گا کہ اس کے دوران نتیش کمار کو وزیر اعظم نریندر مودی کے متبادل کے طور پر پیش کر نے اور انہیں بہار کے طرز پر ایک ملک گیر قومی محاذ بنانے کا اختیار دینے کے فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کی گئی ۔ حالانکہ پارٹی نے نتیش کمار کو 2019 میں منعقد ہو نے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے با قاعدہ وزیر اعظم کا امید وار نامزد نہیں کیا ہے لیکن کانگریس نے اس عہدے کے لئے کوئی ویکنسی نہ ہو نے اور پارٹی کی طرف سے راہل گاندھی کا نام پیش کر کے سیکولر سیاست میں ہلچل ضرور پیدا کر دی ہے
عام اجلاس سے قبل قومی کونسل کی میٹنگ کے بعد پارٹی کے قومی تر جمان اور سابق رکن پارلیمنٹ کے سی تیاگی نے اخباری نمائندوںسے گفتگو کے دوران بتایا کہ میٹنگ میں نتیش کمار کو قومی مجلس عاملہ سمیت پارٹی کی سبھی کمیٹیوں کی تشکیل کا بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ا ن کی پارٹی جنتا دل یو نتیش کمار کو نریندر مودی کے متبادل کے طور پر آگے کرے گی ۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ انہیں باقاعدہ طور پر وزیر اعظم امید وار نامزد نہیں کیا ہے ۔ پارٹی نے ایسی کوئی تجویز بھی منظور نہیں کی ہے ، لیکن نتیش کمار ایک مقبول رہنما ہیں اور ان میں وزیر اعظم بننے کی تمام صلاحیتیں اور لیاقتیں موجود ہے ۔ اس لئے ان کے خیال میں جنتا دل یو میں نتیش کمار کو ابھی سے ہی وزیر اعظم امید وار نامزد نہ کر کے صحیح قدم اٹھایا ہے۔
ابھی لوک سبھا انتخابات میں کافی دیر ہے ۔ اس مر حلے میں اس نوعیت کا کوئی اعلان بے وقت کی شہنائی ہے۔ نتیش کمار کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بھارتی جنتا پارٹی کی سر براہی والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے خلاف ایک مضبوط اور مستحکم سیکولر محاذ کی تشکیل ہے ۔ ملک کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کے قومی سیکولر محاذ کی تشکیل جو بی جے پی اور کانگریس دونوں سے ہی فاصلہ بر قرار رکھے ، ٹیڑھی کھیر ثابت ہو تی رہی ہے اور اس طرح کا قومی محاذ وجود میں آئے بھی تو وہ حلیف پارٹیوں کے لیڈروں کے ذاتی عزائم اور سیاسی مفادات کے ٹکرائو کے نتیجے میں بکھر جاتے ہیں ۔ لیکن ان کے نظریے سے ماضی میں جو کوشش ناکام ہو تی رہی ہیں وہ مستقبل میں ناکام ہو جائیں یہ کوئی ضروری نہیں ہے ۔
اس وقت نریندر مودی حکومت کی مختلف محاذوں پر ناکامی اور اس کی اقلیت مخالف پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں جو ماحول بن رہا ہے اس کے پیش نظر ملک میں ایک مضبوط اور قابل اعتماد سیکولر لیڈر کی موجودگی ضروری ہے ۔ کانگریس کے نائب قومی صدر راہل گاندھی اپنی نا تجر بہ کاری اور پارٹی کی ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے اپنی کار کر دگی کو اطمینان بخش طور پر انجام دینے میں اب تک ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔ ملک کی دیگر پارٹیوں کے جو بھی اہم غیر بی جے پی لیڈران نوین پٹنائک (اڑیشہ)، ممتا بنرجی ( مغربی بنگال )، جے للیتا(تمل ناڈو) جو اب سخت علیل ہیں اور چندر بابو نائیڈو (آندھرا پر دیش ) وغیرھم نے خود کو اپنی ریاستوں تک ہی محدود رکھا ہے ۔ ایسے میں صرف نتیش کمار ہی وہ واحد لیڈر بچتے ہیں جو بہار کی چہار دیواری سے باہر نکل کر قومی سیاست میں اہم کر دار ادا کر نے کا مزاج رکھتے ہیں ۔ ملک کے چند قد آور لیڈروں اور سنجیدہ مقرروں میں نتیش کمار سر فہرست ہیں ۔ ریاست میں بر سراقتدار عظیم سیکولر اتحاد کے دوسرے سینئر لیڈر اور آر جے ڈی سپریمو لا لو پر ساد نے حالانکہ مذکورہ اعلان پر فی الحال مثبت رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن کانگریس نے ایک بار پھر صاف کر دیا ہے کہ نتیش کمار سے اس کا صرف بہارکی حد تک بہار کی ضرورت کے تحت معاہدہ ہے ۔ بہار کے باہر جنتا دل یو کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ پارٹی کے سینئر رہنما سی پی جوشی کا کہنا ہے کہ جنتا دل یو نے نتیش کمار کو وزیر اعظم کے طور پر پیش کر نے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ اس کا فیصلہ ہو سکتا ہے ۔ مگر کانگریس کی نظر میں اس عہدے کے لئے ابھی کوئی ویکنسی نہیں ہے ۔ اگلے پارلیمانی انتخاب میں کانگریس کی طرف سے راہل گاندھی ہی وزیر اعظم کے امید وار ہوں گے ۔
اس سلسلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ دہلی کا راستہ اتر پر دیش ہو کر جاتا ہے ۔ جب تک اتر پر دیش جیسی بڑی ریاست پر جہاں اگلے چند ماہ میں اسمبلی انتخابات ہو نے والے ہیں ، کسی پارٹی کی گرفت نہیں ہو تی ہے ، اس کے لئے دہلی کی کرسی پر قبضہ کرنا مشکل ہو تا ہے ۔ نتیش کمار کو نہ صرف اتر پر دیش کے اسمبلی انتخاب میں اپنا پرچم بلند کر نا ہو گا بلکہ کانگریس ، سماج وادی پارٹی ، بہوجن سماج پارٹی، ترنمول کانگریس، بیجو جنتا دل اور آل انڈیا انا ڈی ایم اور سی پی ایم و سی پی آئی جیسی بڑی پارٹیوں کو اپنا ہمنوا بنانا ہو گا ۔ یہ کام نا ممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہو گا ۔ نتیش کمار اس مشکل کو آسان کیسے بناتے ہیں یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *