نئے میڈیکل بل کا برا اثر غریبوں کے علاج اور ڈاکٹری پڑھائی

شفیق عالم
p-4bحال ہی میں ایک تصویر میڈیا کی سرخیوں میں رہی۔یہ تصویر ایک آدمی کی تھی جو اپنی مری ہوئی بیوی کی لاش اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے سڑک سے جارہا تھا۔ اس کا نام دانا مانجھی تھا۔ جو اڑیسہ کے کالاہانڈی کا رہنے والا ہے۔ دانا مانجھی اپنی بیوی کا علاج کرانے کالاہانڈی کے سرکاری اسپتال گیا تھا، جہاں علاج کے دوران اس کی بیوی کی موت ہو گئی۔ دانا مانجھی کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ ایمبولینس کرائے پر لیتا اور بیوی کی لاش 60کلو میٹر دور اپنے گائوں لے جاتا۔ ظاہر ہے، اسپتال انتظامیہ بھی اس کی مدد نہیں کی۔ نتیجتاً خوفناک تصویر ہمارے سامنے آئی۔ اس حادثے کا ذکر کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس ملک کے طبی نظام میں ایک ایسا بدلائو ہونے جارہا ہے، جس کی وجہ سے آنے والے وقت میں ہمیں دانا مانجھی جیسی کوئی تصویر دیکھنے کو مل سکتی ہے ۔
گزشتہ مہینے نیتی آیوگ نے نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی ) بل کے مسود ے کو عام کرکے اس پر عام آدمی سیتجاویز مانگے تھے۔ اس مسودے کو نیتی آیوگ کے نائب صدر اروند پن گڑھیا کی سرپرستی میں بنی چار چار رکنی کمیٹی نے تیار کیا ہے۔ اس کے مطابق میڈیکل کونسل آف انڈیا ایکٹ 1956 پر نظر ثانی کرکے نیشنل میڈیکل کمیشن تشکیل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں میڈیکل ایجوکیشن اور اعلیٰ تعلیم والے ڈاکٹر مہیا کرانے ، ،نئی ریسرچ کو اپنے کام میں شامل کرنے، میڈیکل ادراوں کا وقت بوقت جائزہ لینے وغیرہ سے متعلق کئی تجاویز رکھی گئی ہیں۔اگر یہ بل اپنے موجودہ شکل میں پاس ہو گیا تو اس کا ملک کے میڈیکل سروس اور میڈیکل ایجوکیشن پر دور رس اثرات پڑیں گے۔ بہر نیتی آیوگ کے اس مجوزہ مسودے پر بات کرنے سے پہلے گزشتہ مہینوں کے دوران ملک کے الگ الگ حصوں سے آنے والی کچھ میڈیکل سے متعلق خبروں پر ایک نظر ڈالنا غیر متعلق نہیں ہوگا۔یہ خبریں اپنے پیچھے کچھ پریشان کرنے والے سوال چھوڑ جاتے ہیں۔ جس کا جواب نیشنل میڈیکل کمیشن بل کے مسودے میں تلاش کرنا ضروری ہے۔
حال میں دلی سرکارنے دلی کے پانچ پرائیویٹ اسپتالوں ( میکس سپر اسپیسلیٹی ہاسپیٹل، فورٹس اسکارٹس ہارٹ انسٹی ٹیوٹ ،شانتی مکند ہاسپیٹل، دھرم شیلا کینسر ہاسپیٹل اور پشپا وتی سنگھانیہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پر 600 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا تھا۔ ان اسپتالوں پر الزام تھا کہ انہوں نے اقتصادی طور سے کمزور طبقے کے مریضوں کا علاج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی سے ملتی جلتی خبر دلی سے ہی متعلق ہے، جہاں ایک جھگڑے میں سنگین طور سے زخمی 15سالہ طالب عالم کی ایک پرائیویٹ اسپتال کے ذریعہ علاج سے انکار کر دیئے جانے کے بعد موت ہو گئی تھی۔ پٹنہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال ، پارس ہاسپیٹل پر یہ الزام لگا کہ موت کے بعد بھی صرف پیسہ اینٹھنے کے لئے 48گھنٹے تک ایک خاتون مریض کا اسپتال کے آئی سی یو میں علاج چلتا رہا۔ اس طرح کی خبریں آئے دن اخباروں میں پڑھنے اور ٹی وی نیوز میں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں۔ اسپتالوں کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر انسانی سلوک کی سب سے دردناک تصویر اڑیسہ سے دیکھنے کو ملی ۔جہاں ایک غریب آدیواسی کو انتظامیہ کے ذریعہ ایمبولینس مہیا نہ کرائے جانے کی وجہ سے مری ہوئی بیوی کی لاش کو 10 کلو میٹر تک پانے کندھے پر ڈھونا پڑا۔ ظاہر ہے ہندوستان میں طبی خدمات کی کچھ بھیانک تصویریں ہیں۔ جو کہ اکثر خود کو دوہراتی رہتی ہیں۔ موجودہ قانون یہ کہتا ہے کہ ہندوستان میں پرائیویٹ میڈیکل کالج فائدہ کمانے والے ادارے نہیں ہو سکتے ہیں۔ عام طورپر یہ ٹرسٹ کے ذریعہ چلائے جاتے ہیں،لیکن زمینی سطح پر کہانی کچھ اور ہے۔ ہر ایڈمیشن سیشن میں ایسی خبروں سے اخبار بھرے رہتے ہیں جن میں کالجوں کے ذریعہ فیس کے نام پر ایک کروڑ روپے تک کی جبری وصولی کی جاتی ہے۔حال میں شائع ایک خبر میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج نے کیپیٹیشن فیس کی شکل مین 80لاکھ روپے کی مانگ کی ہے۔ تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مجوزہ بل کے مسودے میں ایسے پروویژن ہیں ،جہاں غریبوں کا مفت علاج نہیں کرنے والے اسپتالوں پرجرمانہ لگانے یا ان کے لائسنس رد کرنے کا پروویژن رکھا گیا ہو؟پیسے کی وجہ سے کسی مریض کو بغیر کسی وجہ سے واپس کر دینے، اسپتال کے ذریعہ اڑیسہ جیسے غیر انسانی واقعہ کو روکنے کے لئے کچھ سخت قانون بنانے کا پروویژن ہو۔ْاگر میڈکل ایجوکیشن کے سیکٹر میں پرائیویٹ سیکٹر کو فائدہ کمانے کی چھوٹ دی گئی تو کیا یہ کمزور اور محروم طبقے کے طلباء کی پہنچ میں ہوگا؟
سب سے پہلے میدیکل ایجوکیش کے شعبے میں پرائیویٹ سیکٹر کو مدعو کرنے کی بات کرتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ مجوزہ بل کے مسودے میں ڈاکٹروں کی کمی کو پوری کرنے کے لئے اعلیٰ تعلیم والے ڈاکٹروں کو مہیا کرنے اور نئی ریسرچ کو اپنے کام میں شامل کرنے کے لئے فائدہ کمانے والے میڈیکل کالج کھولنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ اس بل میں یہ کہا گیا ہے کہ نیشنل میڈیکل کمیشن ،پرائیویٹ کالجوں کی فیس کو کنٹرول نہیں کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کالج اپنی مرضی سے جتنا فیس رکھنا چاہے، رکھ سکتے ہیں۔ اس کے لئے کمیٹی نے یہ دلیل دی ہے کہ اگر این ایم سی نے فیس کنٹرول کیا تو پرائیویٹ سرمایا کار کالج کھولنے میں اپنا پیسہ لگانے سے گھبرائیں گے اور ملک میں میڈیکل ایجوکیشن کی توسیع کا مقصد ناکام ہو جائے گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فی الحال جب ملک میں فائدہ کمانے والے میڈکل کالج کھولنے کا پروویژن نہیں ہے ، تب یہاں کالجوں کے ذریعہ فیس کے نام پر کروڑوں روپے اینٹھے جارہے ہیں،لیکن جب ان کالجوں کو من مانی فیس وصول کرنے کی اجازت دے دی جائے گی تو پھر اس کی کیا حالت ہوگی۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے؟ ویاپم جیسے ایڈمیشن کے دلالوں کا جو بازار گرم ہوگا، سو الگ۔ ظاہر ہے کہ جب میڈیکل ایجوکیشن کا خرچ بڑھے گا تو اس س کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ میڈیکل سروسز مزید مہنگا اور غریبوں کی پہنچ سے دور ہو جائے گا ۔ سب سے اہم یہ ہے کہ جب کالجوں کی فیس کروڑروں روپے ہوگی تو ملک کی 80فیصد سے زیادہ آبادی، جو نچلی آمدنی والے طبقے کے درجے میں آتے ہیں ،کے لئے ایجوکیشن کی یہ توسیع بے معنی ہوجائے گی۔ ساتھ میںپسماندہ، شیڈولڈ کاسٹ ؍ شیڈولڈ ٹرائبس کے جو لوگ ہیں وہ بھی اس فیس کا بوجھ برداشت نہیں کر پائیںگے۔ اس مسودے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ 55صفحات کے اس مسودے میں ریزرویشن لفظ صرف ایک بار آیا ہے اور اسے بھی اہلیت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیاہے کہ ایک بار اہلیت پر مبنی شفاف ایڈمیشن سسٹم ( ریاستی سرکاروں کے ذریعہ محروم طبقوں کے لئے مقررہ ریزرویشن کے ساتھ ) قائم کرلیا جائے تو پھر پرائیوٹ میڈیکل کالجوں کے ذریعہ مانگی جارہی فیس کو کنٹرول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔
اب رہی بات معیار کی تو اس سلسلے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب پرائیویٹ کالج کھولنے کی بات چل رہی تھی تو اس وقت بھی یہ دلیل دی جارہی تھی کہ ایسا کرنے سے تعلیم کے معیار میں سدھار ہوگی۔ ایک جائزہ کے مطابق پرائیویٹ کالجوں سے پاس ہونے والے 80فیصد انجینئر کسی کام کے نہیں ہیں۔ تو یہ کہنا کہ پرائیویزیشن سے ایجوکیشن کے معیار میں سدھار ہوگی دور کی کوڑی لگتی ہے۔ میڈیکل سروس میں اخلاقیات کی حوصلہ افزائی کرنے والے ادارے الائنش آف ڈاکٹرس فار فار ایتھیکل ہیلتھ کیئر ( اے ڈی ای ایچ ) کا ماننا ہے کہ اس بل کے پروویژنوں سے تعلیم میں تجارت کا دروازہ کھل جائے گا ۔اے ڈی ای ایچ کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشوں کے باوجود اس بل کے مسوڈے میں میڈیکل ایتھکس کو لاگو کرنے اور اس کی نگرانی کرنے کے لئے ایک ڈیڈیکٹیڈ بورڈ تشکیل کرنے کی تجویز نہیں رکھی گئی ہے۔ لہٰذا میڈیکل ایتھکس (اخلاقیات ) کے معاملے میں جومسائل پہلے تھے، وہ اب بھی قائم رہیں گے۔ اے ڈی ای ایچ نے اس بل کی ایک اورخامی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ این ایم سی کی تشکیل پوری طرح سے نامزدگی ( نومینیشن ) کی بنیاد پر ہوگی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس پر پوری طرح سے نوکر شاہی کا کنٹرول رہے گا۔
کل ملا کر دیکھا جائے تو یہ کہا جاسکتاہے کہ اگر اس بل کو اس کی موجودہ شکلمیں پاس کر دیا گیا تو جہاں مقامی میڈیکل کالجوں کا سیلاب آجائے گا ،وہیں تعلیم کی تجارت کے دروازے بھی کھل جائیں گے ، نتیجتاًا میڈیکل جیسی اعلیٰ تعلیم غریب اور محروم طبقہ کے طلباء کی پہنچ سے دور ہو جائے گی۔ وہیں میڈیکل میں اخلاقایت کا جو سوال ہے وہ نایاب رہے گا اور دلی پٹنہ اور اڑیسہ جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *