ناقابل فہم ہیں سماجوادی پارٹی میں ہورہے واقعات

ملک کی سیاست کے مستقبل کا دیدار تقریباً ہر ریاست میں ہورہا ہے۔ گجرات ، مہاراشٹر، راجستھان، مدھیہ پردیش، بہار میں ہورہا ہے اور اب اترپردیش ایک نئے طرح کی تاریخ کا چشم دید گواہ بننے جارہا ہے۔ ہم سنتے تھے کہ اقتدار، پیسہ، شہرت اور مستقبل میںسب کچھ اپنے ارد گرد رکھنے کی چاہ، اچھے اچھے رشتوں کو توڑ دیتی ہے۔ تاریخ میںایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں، جب بیٹے نے باپ کو قید میں ڈالا، بھائی نے بھائی کا قتل کیا، عمرقید کی سزادی، لیکن یہ دورسب سے اوپر ، بادشاہوں اورراجاؤں کے زمانے میںہوا کرتا تھا، لیکن یہ جمہوری نظام میں اسمضحکہ خیز ڈھنگ کے ساتھ دکھائی دے گا، ایسا اندازہ نہیں تھا۔
یہ سچ ہے کہ آج سیاست میںاصولوںپر چلنے والے لوگ نہیںہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ آج سیاست میں آنے والے ذہین لوگ نہیںہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ آج سیاست میں آنے والے کارکن بھی نہیں ہیں۔ آج سیاست میںآنے والے نئے دولت مند،نئے ٹھیکیدار، بڑی بڑی گاڑیوںکے مالک، جن کی جیب میں اس ملک کے کروڑںلوگوں کے دیے ہوئے ٹیکس چوری کا بے شمار پیسہ پہنچ گیا ہے، وہ لوگ سیاست کے کرتا دھرتا بنتے جارہے ہیں۔
اس لیے اب یہ ماننا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس سمیت کوئی بھی پارٹی سیاست کو نظریے کی بنیاد پر چلائے گی،ممکن نہیںہے۔ سیاست میںان کی بھی پہنچ ہوگی،جو عام آدمی کے زمرے میںآتے ہیں، اب یہ پوری طرح ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ ناممکن اس لیے دکھائی دیتا ہے کیونکہ اب الیکشن کمیشن بھی انتخابی خرچ کی حد ایسی طے کرچکا ہے جس میںاس ملک کے 80 فیصد لوگ کبھی شامل ہو ہی نہیں سکتے ۔ رفتہ رفتہ یہ ملک کچھ چنندہ خاندانوںکی جاگیر بننے کے راستے پر پاکستان کی طرح تیزی سے چل پڑا ہے۔
اترپردیش میں جو واقعات رونما ہورہے ہیں، وہ ان سب کو اداس کریں گے،جنھوں نے کبھی سماجواد کے نام پر اپنی زندگی قربان کردی۔ وہ بھی اداس ہوں گے جو جے پرکاش، لوہیا، مدھولمیے، راج نارائن جیسے جدوجہد کرنے والے لوگوں کی زندگی کو دیکھ کر سیاست میںآئے تھے۔ان کے پاس اب سر پیٹنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
کیا یہ وجہ کسی کی سمجھ میں آسکتی ہے کہ ملائم سنگھ یادو ایک بڑے سیاسی اتحاد کا مرکز بنے اور دیوگوڑا، اوم پرکاش چوٹالہ، کمل مرارکا، نتیش کمار، لالو یادو جیسے لوگ انھیںاس اتحاد ،ایک ہوئے سیاسی سنگٹھن کا صدر مان لیں، یہ سبھی لوگ ملائم سنگھ جی کی پارٹی کا انتخابی نشان قبول کرلیں، پارلیمانی بورڑ کا چیئرمین بھی ملائم سنگھ کو مان لیں۔ حقیقت میںیہ سارے لوگ ملائم سنگھ کی پارٹی میںسوچ سمجھ کر شامل ہونے کے لیے تیار ہوئے تھے او راچانک پریس کانفرنس میںسب کے سامنے مالا پہننے کے باوجود ملائم سنگھ ایک مہینہ گزرتے گزرتے ان ساری چیزوں کو توڑ دیں۔ ملک میںسماجوادی نظریات کی بنیاد پر بننے والی ایک بڑی پارٹی کا اسقاط جس طرح سے ہوا، کوئی اس کی وجہ سمجھ نہیں پایا۔ لوگ اندازہ لگاتے رہے کہ اس کے پیچھے کہیںبی جے پی اور کانگریس کی پالیسی تو نہیںہے۔
اب کسی کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ ملائم سنگھ یادو کے اپنے بیٹے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ ان کی زندگی کی سندھیابیلا (شام) میںکیوںالگ راستہ اپنانے لگے؟ خبریںیہ بتا رہی ہیںکہ گزشتہ چار سال میںاکھلیش یادو نے ملائم سنگھ کے ایڈمنسٹریشن کے مسئلے پر ایک بھی صلاح نہیں مانی۔ ملائم سنگھ ان سے کہتے رہ گئے، لیکن انھوں نے اپنے فیصلے نہیںبدلے۔ ملائم سنگھ انھیںایڈمنسٹریشن کا سبق دیتے رہے، اکھلیش نے ایک نہ سنی۔ ملائم سنگھ جی کا یہ کہنا تھا کہ اگر وزیر اعلیٰ اپنے ہم عمر سکریٹریوںکے ساتھ کرکٹ کھیلے گا، تو ایڈمنسٹریشن کیا کرے گا؟
ملائم سنگھ جی کا یہ تجربہ اترپردیش میں ایڈمنسٹریشن کی گری ہوئی حالت کو لے کر سچ ثابت ہورہا ہے۔ اترپردیش سرکار کے ذریعہ مشتہر کیے جارہے کام گاؤں میں اور کسانوں کے لیے کتنے ہوئے ہیں اور شہر میں کتنے ہوئے ہیں، اس کا موازنہ کرنا بہت مزے دار ہے، لیکن ہر سرکار یہی کرتی ہے۔ اپنے کیے ہوئے کاموں کو تاریخ کا سب سے نایاب کام بتاتی ہے اور بعد میںجب وہ نہیںجیت پاتی، تو پھر دوسروںکو الزام دیتی ہے۔ لیکن کیا ملائم سنگھ کا درد اکھلیش یادو سمجھ پائیںگے؟
جس باپ نے اپنی ساری زندگی اپنے اُن بھائیوں اور رشتہ داروںکو ملک کی سیاست میں قائم کرنے میں لگادی، جس کے لیے انھوںنے بہت سارے ایسے لوگوں کو آگے نہیں آنے دیا جو آگے آتے تو شاید پارٹی زیادہ بہتر ڈھنگ سے کام کرتی۔ جو شخص گاؤں سے نکل کر ملک کا وزیر دفاع رہا، ریاست کا وزیر اعلیٰ رہا، جس کے ارد گرد ایک وقت ساری سیاست گھوما کرتی تھی، اس شخص نے آخر ایسا کیا قصور کیا تھاکہ ان کا اپنا بیٹا انھیں خط لکھ کر اپنی یاترا کی جانکاری دیتا ہے اور یہ اشارہ دیتا ہے کہ پارٹی ٹوٹتی ہے تو ٹوٹ جائے، جب تک مجھے جملہ حقوق نہیںملتے، میںوالد کے پاس واپس نہیں جاؤں گا۔ ملائم سنگھ بہت سخت نہیںہیں۔ملائم سنگھ اپنے ساتھیوں کا، اپنے دوستوںکا پورا خیال رکھتے ہیں۔
ایسے شخص کا درد کوئی نہیںجان پائے گا کہ وہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے، اپنے بیٹے کامنہ دیکھ کر خاموش رہ جاتاہے۔ میںخاندان کے رام گوپال یادو اور شیو پال یادو کے بارے میںکچھ نہیںکہتا۔ ان کی سیاست، اس کا اندازہ خود ملائم سنگھ کریں اور ریاست کے عوام کریں۔ لیکن مجھے ملائم سنگھ جی کی آنکھوں میں وہ درد دکھائی دیتا ہے، جو اپنے بیٹے کو اپنے سے دور جاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جب اکھلیش یادو یہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنانام خود رکھا،تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ وہ دن تھے جب ملائم سنگھ کی جان پر خطرہ تھا اور ملائم سنگھ ایک ایک قدم جدوجہد کرتے ہوئے سیاست میںاپنی جگہ بنانے کے لیے جم کر لڑ رہے تھے۔
کیا ہندوستان کی سیاست میںاب ہر پارٹی میںایسا ہی ہوگا؟ جن لیڈروں کے بیٹے یا بھائی سیاست میںنہیںہیں،وہ صرف اس لیے اس درد، تکلیف اور اس خاندانی بحران سے بچے ہوئے ہیں، کیونکہ ان کا بیٹا یا بھائی سیاست میںنہیںہے، لیکن بھتیجہ کوشش کرے گا آگے آنے کی۔ یہ سارادور کسی اور آئیڈیا لوجی میں چلے، سمجھ میں آتا ہے،لیکن سماجوادی آئیڈیا لوجی کے لوگ جو ہمیشہ ایک آدرش سماج کا تصور کرتے تھے، ان کے یہاںچلے تویہ مان لینا چاہیے کہ ہمیں مستقبل میں ایسی ہی سیاست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ سیاست لوگوںکے من میںسیاسی نظام کے تئیںبہت احترام نہیںپیدا نہیں ہونے دے گی۔ یہ صورت حال پوری طرح سے ملک کی سیاست میں کارکنوں کا، عام لوگوں کا اعتماد ختم کرے گی، لیکن یہ بات سیاستداں نہیںسمجھیںگے۔ وہ شاید اس وقت کا انتظار کریںگے جب لوگ انھیںسیدھے سامنے کھڑے ہوکر قبول کرنے سے انکار کردیں ۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *