’’متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ بنیادی طور پر غلط تھا‘‘

’’عزیزان گرامی! آپ جانتے ہیںکہ وہ کون سی زنجیر ہے جو مجھے یہاں لے آئی ہے۔ میرے لیے شاہ جہاں کی اس یادگار مسجد میں یہ اجتماع نیا نہیں۔ میںنے اس زمانہ میںبھی، کہ اس پر لیل و نہار کی بہت سی گردشیں بیت چکی تھیں، تمہیںخطاب کیا تھا۔جب تمہارے چہروں پر اضمحلال کی بجائے اطمینان تھا اور تمہارے دلوں میںشک کی بجائے اعتماد۔ آج تمہارے چہروں کا اضطراب اور دلوں کی ویرانی دیکھتا ہوںتو مجھے بے اختیار پچھلے چند سالوںکی بھولی بسری کہانیاںیاد آجاتی ہیں۔ تمہیںیاد ہے میں نے تمہیںپکارا اور تم نے میری زبان کاٹ لی۔میں نے قلم اٹھایااور تم نے میرے ہاتھ قلم کردیے۔ میں نے چلنا چاہا ،تم نے میرے پاؤںکاٹ دیے۔میںنے کروٹ لینا چاہی، تو تم نے میری کمر توڑ دی۔ حتیٰ کہ پچھلے سات سال کی تلخ نوا سیاست جو تمہیں آج داغ جدائی دے گئی ہے، اس کے عہد شباب میں بھی میں نے تمہیں ہر خطرے کی شاہراہ پر جھنجھوڑا، لیکن تم نے میری صدا سے نہ صرف اعراض کیا، بلکہ منع و انکار کی ساری سنتیں تازہ کردیں۔ نتیجہ معلوم کہ آج ان ہی خطروں نے تمہیں گھیر لیا ہے جن کا اندیشہ تمہیںصراط مستقیم سے دور لے گیا تھا۔‘‘

سچ پوچھو تو اب میںایک جمود ہوں یا ایک دور افتادہ صدا، جس نے وطن میں رہ کر بھی غریب الوطنی کی زندگی گزاری ہے۔ اس کامطلب یہ نہیں کہ جو مقام میں نے پہلے دن اپنے لیے چن لیا تھا، وہاں میرے بال وپر کاٹ لیے گئے ہیں یا میرے آشیانے کے لیے جگہ نہیںرہی، بلکہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے دامن کو تمہاری دست درازیوںسے گلہ ہے۔ میرا احساس زخمی ہے اور میرے دل کو صدمہ ہے۔ سوچو تو سہی، تم نے کون سی راہ اختیار کی ۔ کہاں پہنچے اور اب کہاں کھڑے ہو؟ کیایہ خوف کی زندگی نہیں اور کیا تمہارے حواس میں اختلال نہیں آگیا؟ یہ خوف تم نے خود فراہم کیا ہے۔
ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں بیتا جب میںنے تمہیں کہا تھا کہ دو قوموں کا نظریہ حیات معنوی کے لیے مرض الموت کا درجہ رکھتا ہے، اس کو چھوڑو۔ یہ ستون جن پر تم نے بھروسہ کیا ہوا ہے، نہایت تیزی سے ٹوٹ رہے ہیں، لیکن تم نے سنی ان سنی برابرکردی اور یہ نہ سوچا کہ وقت اور اس کی رفتار تمہارے لیے اپنا ضابطہ تبدیل نہیںکرسکتے۔ وقت کی رفتار تھمی نہیں ۔ تم دیکھ رہے ہو کہ جن سہاروں پر تمہارا بھروسہ تھا وہ تمہیں لاوارث سمجھ کر تقدیر کے حوالے کر گئے ہیں، وہ تقدیر جو تمہاری دماغی لغت میںمشیت کی منشا سے مختلف مفہوم رکھتی ہے۔ یعنی تمہارے نزدیک فقدانِ ہمت کا نام تقدیر ہے۔
انگریز کی بساط تمہاری خواہش کے برخلاف الٹ دی گئی اور راہ نمائی کے وہ بت جو تم نے وضع کیے تھے، وہ بھی دغا دے گئے۔ حالانکہ تم نے سمجھا تھا کہ یہ بساط ہمیشہ کے لیے بچھائی ہے اور ان ہی بتوںکی پوجا میںتمہاری زندگی ہے۔ میں تمہارے زخموں کو کریدنا نہیںچاہتا اور تمہارے اضطراب میںمزید اضافہ میری خواہش نہیں،لیکن اگر کچھ دور ماضی کی طرف پلٹ جاؤ تو تمہارے لیے بہت سی گرہیں کھل سکتی ہیں۔ ایک وقت تھا، میںنے ہندوستان کی آزادی کے حصول کا احساس دلاتے ہوئے تمہیں پکارا تھا اور کہا تھا:
’’جوہونے والا ہے اس کو کوئی قوم اپنی نحوست سے روک نہیںسکتی۔ ہندوستان کی تقدیر میںبھی سیاسی انقلاب لکھا جا چکا ہے۔ اور اس کی غلامانہ زنجیریں بیسویںصدی کی ہوائے حریت سے کٹ کر گرنے والی ہیں۔ اگر تم نے وقت کے پہلوبہ پہلو قدم اٹھانے سے پہلو تہی کی اور تعطل کی موجودہ زندگی کو اپنا شعار بنائے رکھا تو مستقبل کا مورخ لکھے گا کہ:
’’تمہارے گروہ نے جو سات کروڑ انسانوں کا ایک غول تھا، ملک کی آزادی کے بارے میں وہ رویہ اختیار کیا جو صفحہ ہستی سے محو ہوجانے والی قوموں کا شیوہ ہوا کرتا ہے۔ آج ہندوستا ن آزاد ہے اور تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ وہ سامنے لال قلعہ کی دیوار پر آزاد ہندوستان کا جھنڈا اپنے پورے شکوہ سے لہرارہا ہے۔ یہ وہی جھنڈا ہے جس کی اڑانوںسے حاکمانہ غرور کے دل آزار قہقہے تمسخر کیا کرتے تھے۔‘‘
یہ ٹھیک ہے کہ وقت نے تمہاری خواہشوں کے مطابق انگڑائی نہیں لی، بلکہ اس نے ایک قوم کے پیدائشی حق کے احترام میںکروٹ بدلی ہے اور یہی وہ انقلاب ہے جس کی ایک کروٹ نے تمہیں بہت حد تک خوف زدہ کردیا ہے۔ تم خیال کرتے ہو کہ تم سے کوئی اچھی شے چھن گئی اور اس کی جگہ بری شے آگئی۔ یہ واقعہ نہیں واہمہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بری شے چلی گئی اور اچھی شے آگئی۔ ہاں تمہاری بے قراری اس لیے ہے کہ تم نے اپنے تئیںاچھی شے کے لیے تیار نہیںکیا تھا اور بری شے کو ہی نجات مادی سمجھ رکھا تھا۔ میری مراد غیر ملکی غلامی سے ہے، جس کے ہاتھ میںتم نے مدتوں حاکمانہ طمع کا کھلونا بن کر زندگی بسر کی ہے۔ ایک دن تھا جب تم کسی جنگ کے آغاز کی فکر میںتھے اور آج اس جنگ کے انجام سے مضطرب ہو۔ آخر تمہاری اس عجلت پر کیا کہوں کہ ادھر ابھی سفر کی جستجو ختم نہیںہوئی اور ادھر گمراہی کا خطرہ درپیش آگیا ہے۔
میرے بھائی میں نے ہمیشہ سیاسیات کو ذاتیات سے الگ رکھنے کی کوشش کی ہے اور کبھی اس پُرخاروادی میں قدم نہیںرکھا۔ یہی وجہ ہے کہ میری بہت سی باتیںکنایوں کا پہلو لیے ہوتی ہیں، لیکن مجھے آج جو کہنا ہے میں اسے بے روک ہوکر کہنا چاہتا ہوں۔ متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ بنیادی طور پر غلط تھا۔ مذہبی اختلافات کو جس ڈھب سے ہوا دی گئی اس کا لازمی نتیجہ یہی آثار ومظاہرے تھے جو ہم نے اپنی آنکھوںسے دیکھے اور بدقسمتی سے بعض مقامات پر ابھی تک دیکھ رہے ہیں۔
پچھلے سات برس کی روداد دہرانے سے کوئی خاص فائدہ نہیں اور نہ اس سے کوئی اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ البتہ ہندوستان کے مسلمانوں پر مصیبتوں کا جو ریلا آیا ہے وہ یقیناً مسلم لیگ کی غلط قیادت کی فاش غلطیوں کا بدیہی نتیجہ ہے۔ یہ سب کچھ مسلم لیگ کے لیے جو موجب حیرت ہوسکتا ہے لیکن میرے لیے اس میں کوئی نئی بات نہیں۔ میں پہلے دن ہی سے ان نتائج پر نظر رکھتا تھا۔
اب ہندوستان کی سیاست کا رخ بدل چکا ہے۔ مسلم لیگ کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اب یہ ہمارے اپنے دماغوں پر منحصر ہے کہ ہم کسی اچھے انداز فکر میں سوچ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ اس خیال سے میںنے نومبر 1947کے دوسرے ہفتہ میں ہندوستان کے مسلمان رہنماؤں کو دہلی بلانے کا قصد کیا ہے۔ دعوت نامے بھیج دیے گئے ہین۔ ہر اس کا یہ موسم عارضی ہے۔ میںتم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کو ہمارے سوا کوئی زیر نہیں کرسکتا۔
میںنے ہمیشہ کہا اور آ ج پھر کہتا ہوںکہ تذبذب کا راستہ چھوڑدو۔ شک سے ہاتھ اٹھالو اور بے عملی کو ترک کردو۔ یہ تین دھار کا انوکھا خنجر لوہے کی اس دو دھاری تلوار سے زیادہ کاری ہے جس کے گھاؤ کی کہانیاں میںنے تمہارے نوجوانوں کی زبانی سنی ہیں۔ یہ فرار کی زندگی جو تم نے ہجرت کے مقدس نام پر اختیار کی ہے اُس پر غور کرو۔ تمہیںمحسوس ہوگا کہ یہ غلط ہے۔ اپنے دلوں کو مضبوط بناؤ اور اپنے دماغوں کو سوچنے کی عادت ڈالو اور پھر دیکھو کہ تمہارے یہ فیصلے کتنے عاجلانہ ہیں۔ آخر کہاں جا رہے ہو اور کیوں جارہے ہو؟
یہ دیکھو۔۔۔ مسجد کے مینار تم سے جھک کرسوال کرتے ہیں تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہاںگم کردیا ہے؟ ابھی کل کی بات ہے کہ یہیں جمنا کے کنارے تمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا اور آج تم ہو کہ یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے ۔ حالانکہ دہلی تمہارے خون کی سینچی ہوئی ہے۔
عزیزو ! اپنے اندر ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرو۔ جس طرح آج سے کچھ عرصہ پہلے تمہارا جوش و خروش بیجا تھا۔ اُسی طرح آج تمہارا یہ خوف و ہراس بھی بیجا ہے۔ مسلمان اور بزدلی اور یا مسلمان اور اشتعال ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ سچے مسلمان کو نہ تو کوئی طمع ہلاسکتی ہے اور نہ کوئی خوف ڈرا سکتا ہے۔ چند انسانی چہروں کے غائب از نظر ہوجانے سے ڈرو نہیں۔ انھوںنے تمہیں جانے کے لیے ہی اکٹھا کیا تھا۔ آج انھوںنے تمہارے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے تو یہ تعجب کی بات نہیں۔ یہ دیکھو کہ تمہارے دل تو ان کے ساتھ ہی رخصت نہیںہوگئے۔ اگر دل ابھی تک تمہارے پاس ہیں تو ان کو اپنے اس خدا کی جلوہ گاہ بناؤ جس نے آج سے تیرہ سوبرس پہلے عرب کے ایک اُمّی کی معرفت فرمایا تھا۔۔۔
’’جو خدا پر ایمان لائے اور اس پر جم گئے تو ان کے لیے نہ تو کسی طرح کاڈر ہے اور نہ کوئی غم‘‘، ہوائیں گزرجاتی ہیں۔ یہ صرصر صحیح لیکن اس کی عمر کچھ زیادہ نہیں۔ ابھی دیکھتی آنکھوںابتلا کا یہ موسم گزرنے والا ہے۔ یوں بدل جاؤ جیسے تم پہلے کبھی اس حالت میںنہ تھے۔ ‘‘
میںکلام میں تکرار کا عادی نہیں لیکن مجھے تمہاری تغافل کشی کے پیش نظر بار بار کہنا پڑتا ہے کہ تیسری طاقت اپنے گھمنڈ کا پشتارہ اٹھاکر رخصت ہوچکی ہے۔ جو ہونا تھا وہ ہو کر رہا ہے۔سیاسی ذہنیت اپنا پچھلا سانچہ توڑ چکی اور اب نیا سانچہ ڈھل رہا ہے۔اگر اب بھی تمہارے دلوں کا معاملہ بدلا نہیں اور دماغوں کی چبھن ختم نہیں ہوئی تو پھر حالت دوسری ہے، لیکن اگر واقعی تمہارے اندر سچی تبدیلی کی خواہش پیدا ہوگئی ہے تو پھر اس طرح بدلو جس طرح تاریخ نے اپنے تئیں بدل لیا ہے۔
آج بھی کہ ہم ایک دور انقلاب کو پورا کرچکے ہیں۔ ہمارے ملک کی ترقی میںکچھ صفحے خالی ہیں اور ان ہی صفحوں میںہم زیب عنوان بن سکتے ہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ ہم اس کے لیے تیار بھی ہیں۔
عزیزو! تبدیلیوں کے ساتھ چلو۔ یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیر کے لیے تیار نہ تھے، بلکہ اب تیار ہوجاؤ۔ ستارے ٹوٹ گئے لیکن سورج تو چمک رہا ہے۔ اُس سے کرنیںمانگ لو اور اُن اندھیری راہوں میںبچھادو جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے۔
میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسے سے وفاداری کا سرٹیفکٹ حاصل کرو اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیر ملکی حاکموں کے عہد میں تمہارا شعار رہا ہے۔ میںکہتا ہوں کہ جو اجلے نقش و نگار تمہیں اس ہندوستان میںماضی کی یادگار کے طور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہاراہی قافلہ لایا تھا۔انھیں بھلاؤ نہیں۔ انھیں چھوڑو نہیں۔ ان کے وارث بن کررہو اور سمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو پھر تمہیں کوئی طاقت نہیں بھگاسکتی۔
آؤ عہد کریں کہ یہ ملک ہماراہے۔ ہم اسی کے لیے ہیں اور اس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔ آج زلزلوں سے ڈرتے ہو۔ کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔ آج اندھیرے سے کانپتے ہو۔ کیا یاد نہیں رہا کہ تمہارا وجود ایک اجالا تھا۔ یہ بادلوں کے پانی کی سیل کیا ہے کہ تم نے بھیگ جانے کے خدشے سے اپنے پائینچے چڑھالیے ہیں۔ وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروںمیںاترگئے۔ پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں آئیں تو ان پر مسکرائے۔ بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔ صرصر اٹھی تو رخ پھیر دیا۔ آندھیاں آئیں تو ان سے کہا، تمہارا راستہ یہ نہیںہے۔ یہ ایمان کی جانکنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانوںسے کھیلنے والے آج خود اپنے ہی گریبان کے تار بیچ رہے ہیں اور خدا سے اس درجہ غافل ہو گئے ہیںکہ جیسے ان پر کبھی ایمان ہی نہیںتھا۔
عزیزو! میرے پاس تمہارے لیے کوئی نیا نسخہ نہیں ہے۔ چودہ سو برس پہلے کا نسخہ ہے۔ وہ نسخہ جس کو کائناتِ انسانی کا سب سے بڑا محسن لایا تھا۔ وہی نسخہ تمہاری حیات کاضامن اور تمہارے وجود کا رکھوالا ہے۔ اسی کا اتباع تمہاری کامرانی کی دلیل ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *