منٹو پر فلم کے ہیرو نواز صدیقی

p-12برصغیر کے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو ان دنوں بالی ووڈ کی توجہ کا مرکز ہیں۔ اداکارہ و فلم ساز نندتاداس کی زندگی پر ایک فلم بنا رہی ہیں۔
بالی ووڈ کے اداکار نوازالدین صدیقی اداکارہ اور ہدایتکارہ نندتا داس کی معروف فکشن نگار سعادت حسن منٹو کی زندگی پر بنائی جارہی فلم میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ نواز کہتے ہیں کہ ‘میں جب نندتا داس سے ان کے گھر پر ملا تو انھوں نے کہا کہ میں ہی ان کا منٹو ہوں۔ وہ پہلے ہی مجھے اس کردار میں لینے کے لیے ذہن تیار کر چکی تھیں۔
‘نندتا داس کا خیال ہے کہ ’’میں زندگی بہت زیادہ جی اور دیکھ چکا ہوں۔ میرا تو پتہ نہیں لیکن منٹو نے زندگی بہت جی اور وہ آج بھی پہلے جتنے ہی حسب حال نظر آتے ہیں۔میں خوش قسمت ہوں کہ ان کا کردار ادا کر رہا ہوں۔ بطور اداکار میں نے کئی کردار نبھانے اور اسٹیج کے لیے ادب پڑھا ہے لیکن منٹو کو پڑھنے کے بعد کہہ سکتا ہوں کہ وہ عظیم لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔‘‘
‘لیکن منٹو کا کردار نبھانا آسان نہیں ہے۔ ان کا دائرہ بڑا ہے۔وہ باصلاحیت آدمی تھے اور جب ان کو پردے پر اتارنے کی باری آتی ہے تو بہت کچھ پڑھنا پڑتا ہے، تلاش کرنا پڑتا ہے، تاہم سوچنے کا زیادہ کام نندتا کا ہے۔ وہ یہ طے کریں گی کہ بطور ڈائریکٹر وہ اپنے آرٹسٹ اور اپنے تیار کردہ ردار سے کیا چاہتی ہیں۔لیکن بطور ایک اداکار مجھے اس منٹو اور اصل منٹو کے جوہر کو ضم کرنا پڑے گا اور یہ واقعی مشکل کام ہے۔
نواز یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’وہ کمال کے مصنف تھے۔ ان پر فلم بنانا پیچیدہ کام ہے۔ میں 22 سالوں سے انھیں پڑھتا رہا ہوں۔ بھلے ہی ان کی زندگی سے زیادہ واقف نہیں لیکن ان کی کہانیوں سے میرا ربط رہا ہے ۔میں نے بطور خاص ان کی چھوٹی کہانیاں پڑھی ہیں۔ ان پر بننے والے ڈرامے کا حصہ رہا ہوں۔ وہ صرف ترغیب نہیں رونگٹے کھڑی کر دینے والی کہانیاں لکھتے تھے جو صرف وہی لکھ سکتے تھے۔‘‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ان کی کسی ایک کہانی کا نام لے کر میں ان کے کام کو محدود نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ان کی ہر کہانی میں ایک مختلف کوشش، کشش اور کشمکش ہے۔یہ آج کے حالات پر اتنی ہی درست ہے جتنی اس وقت تھی۔ ایسا لگتا ہے جیسے آج ہی اس آدمی نے یہ لکھا ہو۔اس کردار کے لیے تیاری کرتے ہوئے ایک خاص بات محسوس ہوئی۔ یہ شاید اچھا ہے کہ منٹو کی صرف تصاویر اور کہانیاں ہیں۔ ایسے میں میں جو بھی کردوں گا لوگ مان لیں گے کہ منٹو ایسے ہی ہوں گے۔‘‘اس کردار کی تیاری کے لیے تو صرف مجھے ان کی باڈی لینگویج سمجھنی ہے اور پھر سکرین کا کام ہو جائے گا۔ لیکن چہرے کے وہ جذبات اور تناؤ لانے کے لیے مجھے انھیں سمجھنا ہوگا۔کیا، کس طرح، کب اور کتنا اس کا جواب نندتا (فلم کے ڈویلپر ڈائریکٹر) بہتر دے سکتی ہیں۔میں صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ فی الحال منٹو کی منٹوئيت کو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *