وزیر اعظم صاحب، آپ کو کشمیر جاکر کشمیریوں سے ملنا چاہئے

ہمارا ملک عظیم ملک ہے۔ اس ملک میں بڑی تعداد میں ہندو رہتے ہیں، پوجا پاٹ کرتے ہیں، پتھروںمیں بھگوان کا درشن کرتے ہیں، پیڑوں کو پانی دیتے ہیں، پودوں کی پوجا کرتے ہیں، چاند و سورج کو اردھیہ دیتے ہیں۔ ان سے اپنی خوشحال اور خوشگوار زندگی کی خواہش کرتے ہیں، لیکن انسانوں کو بھول جاتے ہیں۔ اس ملک کے 124 کروڑ لوگوں کو یاد نہیں آتا کہ ہمارے ہی بھائی گزشتہ 99 دنوں سے بغیر کام و کاج ، بغیر دوائی، بغیر علاج بے روزگار بیٹھے ہیں۔ ہمارے ہی ملک کے ایک بڑے حصے میں گزشتہ 99دنوں سے اسکول و کالج بند ہیں۔ پڑھائی ٹھپ ہے۔لیکن 124 کروڑ لوگ، جن کا مذہب میں پکا یقین ہے اور جو چیونٹی کو بھی مارنا گناہ سمجھتے ہیں ، وہ منہ سلے ہوئے، آنکھیں بند کئے ہوئے اس صورت حال کی اندیکھی کررہے ہیں۔ یہ کم سے کم ایک بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم 124کروڑ لوگوں نے ،’میں کشمیر کی 60لاکھ آبادی کو الگ کررہا ہوں اس لئے 124کروڑ لوگ کہتاہوں‘، کبھی بھی کشمیر کے لوگوں کو ہندوستان کا ناقابل تقسیم حصہ سمجھا ہی نہیں۔ ہم نے کبھی ان کا وہ درد محسوس نہیں کیا جو دردانہیں سسٹم سے ملتا رہا ہے۔ہم نے ان کے آنسوئوں کو اپنے آنسوئوں سے الگ رکھا۔ ہم نے ان کے اور اپنے درد کو ایک جیسا مانا ہی نہیں۔ ایسا لگا جیسا ہمارا خون لال ہے اور ان کا خون کسی اور رنگ کا ہے۔یہیں پر پوجا پاٹ ، مذہب، پیار و محبت ، عقیدہ، انسانیت ان سب کے اوپر شبہ پیدا ہوجاتا ہے۔
کشمیر میں 99 دن پورے ہو گئے ۔وہاں پر دکانیں بند ہیں۔ سڑکوں پر پبلک ٹرانزٹ ٹھپ ہے۔ اتنا ہی نہیں، وہ طبقہ جو روزانہ کما کر کھاتا ہے، اس کی یومیہ آمدنی بند ہے اور وہ لوگ بھی جو کارو بار کرتے ہیں یا غیر سرکاری کام میں لگے ہوئے ہیں، ان کی بھی آمدنی بند ہے۔ گھروں میں راشن ختم ہو رہا ہے۔ ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ جہاں سرکار 5کلو چاول دیتی تھی، اب 4 کلو فی کس چاول دے گی۔ کراسن تیل کی اور راشننگ کر دی گئی ہے۔یہ صورت حال نہ ہندوستان کی سرکار کو فکرمند بناتی ہے اور نہ ہی ہندوستان کے 124 کروڑ لوگوںکو کیونکہ انہیں یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ ملک کے ایک حصے میں کیا ہورہاہے؟ایسا لگتا ہے کہ جیسے پورا ہندوستان اپنے ایک حصے کو بھول گیاہے یا شاید کچھ ایسا ہوا ہے کہ اس حصے کا درد محسوس ہی نہیں ہوتا ہے۔یہ صورت حال گزشتہ 65سالوں سے ہے یا نہیں،یہ تو میں نہیں کہہ سکتا ،لیکن یہ صورت حال گزشتہ کچھ سالوں سے ضرور ہے اور یہ 99 دن اس صورت حال کو دیکھنے کے لئے کافی ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہندوستان کے 124 کروڑ لوگوں کی آنکھیں بند ہیں۔
کشمیر کے لوگ کیا کریں؟انہیں لگتا ہے کہ ہندوستان کے باقی خطوں کے لوگ انہیں متروک مانتے ہیں۔ ہندوستان کے لوگ ان کے درد سے اپنا رشتہ محسوس نہیں کرتے اور انہیں لگتا ہے کہ ان کے مستقبل کی فکر جس طرح سے ہندوستان کی سرکار کو نہیں ہے، اسی طرح سے ہندوستان کے لوگوں کو بھی نہیں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس صورت حال کو ہم جائز مانتے ہیں؟ہم ہر چیز میں انصاف تلاش کرتے ہیں، چاہے وہ سرکار سے ہو یا عدلیہ سے ہو، چاہے وہ ایشور سے ہو،لیکن ہم کشمیر کے لئے وہاںکے لوگوںکے لئے انصاف نہیں تلاش کرتے۔ ہمیں تاریخ بھی نہیں پتہ ہے اور ہم تاریخ جاننا بھی نہیں چاہتے کہ کن حالات میں جواہر لال نہرو اور شیخ عبد اللہ کا سمجھوتہ ہوا تھا۔ کیوں جب قویٹ انڈیا موومنٹ (ہندوستان چھوڑ تحریک )چل رہا تھا تب کشمیر میں قویٹ ڈوگرا موومنٹ ہوا؟کن حالات میں اور کن شرطوں پر مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ لیا؟اور آخر آڑٹیکل 370 کیا ہے؟نہ ہمارے دوست ،جو ٹیلی ویژن کے نیوز روم میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ، کشمیر کے خلاف یا انسانیت کی بات کرنے والے لوگوں کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔یہ ایسے لوگ ہیں اور ملک کو ایسے سماج میں بدلنا چاہتے ہیں،جس سماج نے گیلیلیو کے اس تصور کو مسترد کردیاتھا کہ زمین گول ہے اور اسی سماج نے زمین کو گول کہنے کے لئے گیلیلیو کو پھانسی کی سزا دے دی تھی۔ آج 21ویں صدی میں ٹیلی ویژن کے نیوز روم میں بیٹھے دوست پورے ملک کو اسی طرح کے سماج میں بدل دینا چاہتے ہیں۔ہم اکثر یہ سنتے ہیں کہ ہماری خبروں کے اوپر لوگوںکو بھروسہ نہیں ہوتا اور لوگ اسے منورنجن کی شکل میں دیکھتے ہیں، اس حالت کو لانے میں بھی ہمارے بہت سارے ساتھیوں کی اہم شراکت داری ہے۔
ابھی سوال کشمیر کا ہے۔ سرکار سے ہم پھر سے درخواست کرتے ہیں کہ ہم لائوس، کمبوڈیا، چین، امریکہ، افریقہ ،سوڈان ،یمن، شام، افغانستان ،ہر جگہ اپنا پیر پھنسا رہے ہیں۔ وہاں امن رہے، اس لئے اپنی فوج بھیج رہے ہیں، پیسہ بھیج رہے ہیں۔ان کی ترقی میں مدد بھیج رہے ہیں۔لیکن ہم اپنے ہی ملک کے ایک بڑے حصے کے لوگوںکو، جنہیں ہم کشمیر کے لوگ کہتے ہیں، ان کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہے ہیں۔نہ وزیر اعظم صاحب کے پاس وقت ہے،نہ وزیر داخلہ صاحب کے پاس وقت ہے،وزیر داخلہ کشمیر گئے، ان کا بہت استقبال ہوا۔لیکن وہاں جانے والے پارلیمانی وفود کی ایک تاریخ رہی ہے۔ اس وفد سے کشمیر کے لوگ احتجاج کے طور پر نہیں ملے کیونکہ ان کا کہناتھاکہ یہ وفد آتا ہے، بات کرتا ہے اور ان کی باتوں اور وعدوں پر عمل نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کی رپورٹ کا بھی کشمیر کے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا۔اس صورت حال میں کیا وزیر اعظم صاحب، آپ سے درخواست نہیں کر سکتے کہ اپنے ہی ملک کا ایک حصہ اناتھ سا ہوگیا ہے، فالج زدہ ہوگیا ہے۔مایوسی کے نقطہ انتہا پر پہنچ گیا ہے اور اس کا ہندوستانی پارلیمنٹ، ہندوستانی عوام اورہندوستانی آئین میںکوئی بھروسہ نہیں رہ گیاہے۔ کیا اپنے ہی ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے کی ذمہ داری آپ کی نہیں ہے؟آپ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ کہیں بھی کوئی مایوسی ہو، کہیں بھی کوئی بربریت ہو، لوگ کس سے کہیںگے؟لوگ آپ ہی سے کہیں گے۔ ہم ہندوستان کے ان لوگوں کی طرف سے، جن کا انسانیت میں، ہندوستانیت میں، بھائی چارگی میں یقین ہے، آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ فوری طور پر کشمیر جائیے ،دو دن وہاں رہئے ، لوگوں سے ملئے اور اس کے بعد آپ کو ئی فیصلہ کریں گے تو یقین مانئے، کشمیری اس فیصلے کو مانیں گے۔ آخر یہی کشمیری لوگ ہیں جو آج بھی اٹل بہاری واجپئی جی کو بھگوان کی طرح یاد کرتے ہیں۔ اٹل بہاری واجپئی جی میں کیا تھا جو آپ میں نہیں ہے؟مجھے لگتا ہے کہ آج آپ اٹل بہاری واجپئی سے زیادہ طاقتور ہیں، اٹل بہاری واجپئی سے زیادہ اچھا فیصلہ کر پانے کی حالت میں ہیں۔ اس لئے اگر ایک بار آپ کشمیر چلے جائیے گا تو یہ تعطل،یہ درد کاطوفان ضرور رکے گا۔ آپ کے سیاسی مخالفین کہہ سکتے ہیں کہ ہم نریندر مودی سے کوئی درخواست نہیں کریں گے۔لیکن نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم ہیں،یہ سچائی ہے۔ اس لئے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ملک کے وزیر اعظم ہونے کے ناطے آپ فوراً کشمیر جائیے اور کشمیر کی حالت کو اور خوفناک ہونے سے بچا لیجئے تاکہ کشمیر کے لوگ مایوسی کے نقطہ انتہا کی آخری لکیر عبور کرکے پوری طرح ہم سے الگ نہ ہو جائیں۔ پھر ہمارے پاس سوائے ایک بڑے قتل جسے قتل عام کہا جاتا ہے، کی خبر سننے کے کوئی راستہ نہیں رہ جائے گا اور وہ قتل لوگوں کا ہوگا،لوگوں کے آرزوئوں کا ہوگا،لوگوںکے خوابوں کا ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *