وزیر اعظم صاحب، کشمیر اور پاکستان دو الگ سوال ہیں

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنائو اپنی انتہا پر ہے۔ زیادہ تر وہ لوگ جو فیس بک پر ہیں وہ تما م لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے اوپر فوراً حملہ کر دیا جائے اور اسے سبق سکھایا جائے۔ سبق سکھانے کا مطلب پاکستان کا بڑا زمینی حصہ جہاں سے دہشت گردانہ سرگرمیاں چل رہی ہیں اسے ہندوستانی سرحد میں ملانے کا فیصلہ لیا جائے، سرکار کے لئے بھی ایک فکر کی بات ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے انتخابی مہم کے دوران ملک سے یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ پاکستان سے کمزور سرکار کی وجہ سے ہمیشہ شکست ملتی رہتی ہے اور اگر مضبوط سرکار ہوگی یا جب وہ وزیر اعظم بنیں گے، اس وقت پاکستان ہندوستان کے خلاف کچھ کرنے کی جرأت نہیں کر پائے گا۔ آج وہ سارے وعدے ہوا میں کپور کی طرح کافور ہو گئے ہیں۔ اس لئے شاید سرکار بھی وہ کوشش کررہی ہے کہ چھوٹا ہی صحیح لیکن ہندوستان کا مسلح رد عمل پاکستان کو دیا جائے۔

کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن میں ہمارے ملک کے ایڈیٹرس بھی شامل ہیں، ان کا یہ ماننا ہے کہ پاکستان سے لڑائی نہیں لڑی جاسکتی ،بہت مشکل ہوگا۔لیکن کشمیر کے لوگوں کو سبق سکھایا جائے۔ ایک ایڈیٹر نے مجھے کہا کہ کشمیر میں ٹھوکنا چاہئے ۔ کچھ چینل لگاتار پاکستان سے جنگ کی وکالت کررہے ہیں اور اگر ان کے بس میں ہو تو بغیر ایک پل گنوائے پاکستان کے اوپر حملہ کر دیں۔ سوشل میڈیا میں اور چینل مل کر ملک میں جنگ کے تئیں گرم ماحول بنا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ تو ایسا ہے جس کے اوپر دھیان نہیں دیا جا رہاہے۔
کشمیر کا سوال، کشمیر کے مسائل اور کشمیر کی تکلیف الگ ہے اور پاکستان کامسئلہ الگ ہے اور پاکستان سے ملنے والے رویے کا سوال الگ ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی مشکل ہے کہ وہاں کی کمزور سرکار اپنی زمین سے ہونے والی ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو نہیں روک پارہی ہے۔ شاید سیاسی قیادت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے کشمیرکے سوال کو جتنا الجھا سکتی ہو ، الجھانے کی کوشش کررہی ہے۔ وہاں کی فوج کشمیر کے سوال کو لے کر ملک میں اپنی ساکھ بڑھاتی جارہی ہے اور سیاسی قیادت کے خلاف ایک ایسا ماحول بنا رہی ہے جو کہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کبھی کشمیر کا سوال حل نہیں کرسکتی۔
کشمیر کے لوگ پاکستان نہیںجانا چاہتے۔لیکن وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ پاکستان کے اثر میں یاپاکستان کے قبضے میں کشمیر سے جڑے جتنے علاقے ہیں ان علاقوں میں بھی وہی مانگ مانی جائے جس کی مانگ وہ ہندوستان سے کرر ہے ہیں اور پاکستان یہی نہیں چاہتا۔ پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر کے حصوں کو کسی بھی طرح کی آزادی دینا نہیں چاہتا۔ اس کا مقصد ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ جڑے ہوئے کشمیر کے حصے کو پاکستان میںملا لیںاور اسی لئے وہ کشمیریوں کی خود داری کی لڑائی کو برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ کشمیر سے ابھی ابھی کل جماعتی وفد لوٹا ہے۔ کچھ آزاد صحافی وہاں گئے جنہوں نے کشمیر کے حالات کو آکر دلی میں اور ملک کے دوسرے حصوں میں بتا نے کی کوشش کی اور تبھی پاکستان میں بنیاد والے دہشت گرد گروپوں کو لگا کہ اگر ابھی کچھ نہ کیا گیا تو کشمیر کے لوگوں کی مانگ کے اوپر اگر ہندوستان کی عام رائے بنی ہے تو ان کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔ اس لئے انہوں نے اڑی کے فوجی کیمپ کے اوپر حملہ کر دیا اور ایک بھیانک قتل کو انجام دیا۔
ہندوستان کی اور پاکستان کی سرکاروں کو یہ سمجھنا چاپئے کہ کیا وہ اتنی غیر ذمہ دار یا اتنی ناسمجھ ہیں کہ پچاس لوگوں کی چال میں آکر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی صورت حال پید اکردیں۔ کم سے کم مجھے وزیر اعظم نریندر مودی پر یہ بھروسہ ہے کہ ویسا غیر ذمہ دارانہ سلوک نہیں کریں گے۔ انہیں چاہئے کہ وہ فوراً پاکستان کے اوپر دبائو ڈالیں اور نواز شریف سے کہیں کہ اگر وہ اپنے یہاں چلنے والے دہشت گرد گروپ کے اوپر کنٹرول نہیں لگا پائیں گے تو پھر ایک بڑی تباہی کی صورت حال ہو جائے گی۔کیونکہ اس وقت کسی بھی ملک کا عام آدمی اپنی سرکار کے اوپر کچھ قدم اٹھانے کے لئے بھیانک دبائوبناسکتاہے۔ اس لئے آج پاکستان کی سرکار کا یہ سب سے بڑا فرض ہے کہ اگر اسے اپنی سرکار وہاں بنائے رکھنی ہے اور فوج کو اقتدار سے دور رکھنا ہے تو دہشت گرد گروہوں کے اوپر لگام بھی لگائے اور ان کے خلاف عام رائے بھی بنائے۔
ہندوستانی فوج کا غصہ جائز ہے۔ہندوستان کے لوگوں کا غصہ جائز ہے اور کشمیر کا جب میں رد عمل دیکھتا ہوں تو مجھے وہ رد عمل بھی ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسا باقی حصوں میں ہے۔لیکن کچھ سوال ہماری جانچ ایجنسی نے کھڑے کئے۔ اندر کے کون سے لوگ ہیں جنہوں نے ان دہشت گردوں کو اس فوج کے کیمپ کی چھوٹی سے چھوٹی جانکاری دے دی۔ کہاں ہتھیار ہیں،کہاں افسروں کے گھر ہیں ،کہاں پر جوان سوتے ہیں اور جس رات یہ حادثہ ہوا بہار کی بٹالین اس جگہ پر ٹرانسفر ہوکر آئی تھی اور اسے محاذ سنبھالنا تھا وہ رات ڈیوٹی بدلنے کی رات تھی۔ شاید وہ رات جوانوں نے منورنجن میں کاٹی ہو اور بے خبر ہوکر سو گئے ہوں ۔
کیمپ کے آس پاس تار ہیں۔جن میں بجلی چلتی ہے اور وہاں جو سرحد والی باڑھ ہے، ایل او سی کی، اس میں بھی بجلی دوڑتی ہے ان تاروں کو کاٹ کر، جن میں ہائی بولٹیج بجلی کا بہائو ہوتا ہے،دہشت گرد اندر کیسے گھسے یا اسی وقت بجلی سپلائی تو بند نہیں کر دی گئی تھی، جب یہ اندر گھسے۔یہ کس نے کیا؟پہلے خبر آئی کہ جھیلم کے ذریعہ دہشت گردوں نے سرحد پار کیا۔پھر خبر آئی کہ وہ تار کاٹ کر گھسے۔ پاس کی پہاڑی پر بیٹھ کر دہشت گرد طاقتور دوربین سے ہندوستانی کیمپ کی ساری سرگرمیاں دیکھ رہے تھے۔ اب ہم عام لوگوں کے دل میں یہ سوال اٹھنا ضروری ہے کہ آپ نے ایسی جگہ اگر کیمپ لگایا تو ان چیزوں پر اپنا نشانہ کیوں نہیں لگایا جہاں سے آپ پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔
یہ سوال دل میں اس لئے اٹھ رہے ہیں کیونکہ ہمارے اپنے ملک کے سسٹم میںکہیں نہ کہیں کوئی بڑی کھوٹ ہے۔ ایسی کمی ،جو ملک کا سر ہمیشہ جھکاتی ہے۔ فوج کے کیمپ پر حملہ کرنا اور ہتھیاروں کو برباد کرنا، اتنی بڑی تعداد میں فوجوں کو آگ میں جلا دینا، یہ اندر چھپے ہوئے ان کے ایجنٹ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ہم اپنے گھر کو کیوں نہیں ٹھیک کرتے ہیں؟
اور تب کچھ جنرلوں کا، آرمی کے ریٹائر جنرل کا یہ کہنا کہ ہمیں پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہئے۔ اپنے گھر سے مطلب کشمیر کو ٹھیک کرنا چاہئے۔ وہاں سیاسی بات چیت کرنی چاہئے۔ کشمیر کے لوگوں کو بھروسے میں لینا چاہئے اور تب پاکستان سے جنگ کے بارے میں سوچنا چاہئے ، لیکن یہ تو سمجھدار جنرل کا رد عمل ہے۔ملک میں ہماری صحافی برادری میں بہت سے ایسے ناسمجھ لوگ ہیں جن کے گھر کا کوئی آدمی زندگی میں کبھی فوج میں نہیں رہا، جن کے گھر میں کبھی سرحد پر موتیں نہیں ہوئیں،وہ اس وقت پاکستان سے جنگ کے لئے آمادہ ہیں اور ایک ماحول بنا رہے ہیں۔ غیر ذمہ دار سرپھرے ہر جگہ ہوتے ہیں اور تب ہندوستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کا یہ بیان یاد آتا ہے کہ ایسے فیصلے جذبات میں نہیں لئے جاسکتے ۔ایسے فیصلوں کے لئے پورا تجزیہ چاہئے۔ اپنی کمزوریوں کو ٹھیک کرنا چاہئے اور جب وزیر اعظم نے کہہ دیا کہ کارروائی ہوگی، تو کارروائی کرنے کا وقت فوج پر چھوڑ دینا چاہئے ۔لوگوں کے دل کو بھڑکانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔
میری بھی درخواست ہے کہ پاکستان سے آپ لڑیئے، پاکستان کو آپ نیست و نابود کیجئے۔ پاکستان کے ایجنٹوں کو پکڑیئے اور انہیں قانون کے دائرے میں لے کر آئیے۔ اس کے لئے انٹلی جینس بیورو اندرونی طور پر، ’را ‘باہری طور پر ان کی مانئے، لیکن کشمیر کو پاکستان کی سرگرمیوں سے مت جوڑیئے۔ کشمیر الگ سوال ہے۔ پاکستان الگ سوال ہے۔ کشمیر کے لوگ ہمارے لوگ ہیں۔ پاکستان کے دہشت گرد کیمپ ، دہشت گرد گروپ اور پاکستان کی سرکار اس کے ساتھ الگ طرح کا سلوک ہوناچاہئے اور وہی سلوک سرکار کو کرنا چاہئے ۔
ایک گزارش وزیر اعظم سے ضروری ہے کہ برائے مہربانی اٹل بہاری واجپئی جی کے وقت کے لوگوں سے بات کیجئے اور ان سے پوچھئے کہ اٹل جی کے دماغ میں کشمیر کے سوال کو حل کرنے کے کون سے راستے تھے؟ہم نے جتنا کشمیر میں دیکھا، اس سے سمجھ میں آیا کہ کشمیر میں بات چیت شروع کرنا یا کشمیر کے سوال کو حل کرنے کا سرا وہیں کہیں ہے، جہاں اٹل بہاری واجپئی نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔ کشمیر کا ہر آدمی اٹل بہاری واجپئی جی کا مداح ہے۔ یقین کیجئے، وزیر اعظم جی آپ ان لوگوں کی رائے سے ہٹ کر اگر اٹل بہاری جی کی رائے کا اہتمام کریں گے تو آپ بھی کشمیر کے لوگوں کے دل میں اپنی جگہ بنا لیں گے۔ کشمیر کے لوگ آپ پر ابھی بھی بہت یقین کرتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *