میل جول ہی ہماری روایت ہے

p-4ہندوستان کیا ہے؟ یہ سوال بار بار میرے من میںاٹھتا ہے۔ ہماری تاریخ کے ابتدائی دورکی معلومات مجھے حیرت میں ڈال دیتی تھی۔ یہ ایک ایسی حوصلہ مند او رمہم جو گروہ کی تاریخ تھی جو میل جول کے جذبے سے سرشار اور آزاد تحقیق کی شدید خواہش سے پُر تھی اور قدیم زمانے میں بھی ایک پختہ اور روادار تہذیب ہونے کا ثبوت دیتی تھی۔ زندگی اور اس کے لطف اور تکالیف کو قبول کرتے ہوئے یہ تہذیب برتر اورآفاقی عنصر کی تلاش کرنے والی تھی۔ اس نے عظیم سنسکرت زبان کوفروغ دیا اور اس زبان ، اپنی آرٹ اور فن تعمیر کے ذریعہ سے اس نے دور ممالک تک اپنا پیغام پہنچایا۔ یہاں اپنشدوں کی تخلیق کی گئی، گیتا اور بدھ کے پیغام دیے گئے۔ آج ہمارے اندر اور ہمارے ملک میںیہ سب خصوصیات موجود ہیں۔ ہم نے ایٹمی سائنس کے شعبے میں ترقی کی ہے تو ہمارے یہاں گائے کے گوبر کے زمانے کی تہذیب بھی زندہ ہے۔
اس اتھل پتھل اور افراتفری کے دور میں ہم دونوں طرف دیکھ رہے ہیں، ہمارے آگے ہمارا مستقبل ہے اور پیچھے ہمارا ماضی ہے اور ہم دونوں طرف کھنچ رہے ہیں۔ ہم اس کشمکش کا ازالہ کیسے کریں اور کس طرح ایک ایسے نظام کی تخلیق کریں جس سے ہماری طبعی ضرورتیں بھی پوری ہوں اور ہمارے قلب اور روح کو بھی مضبوطی ملے؟ ہم اپنے لوگوں کے لیے ایسے کون سے نئے اصول اور دورجدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کئے گئے پرانے اصول پیش کریں تاکہ ہم لوگوں میں بیداری پیدا کر سکیں اور انہیں عمل کی ترغیب دے سکیں؟
دینا کے دوسرے خطوں کی طرح ہندوستان میں بھی دو مضبوط جذبے نمودار ہوئے ہیں۔ پہلا قوم پرستی کا فروغ اور دوسرا سماجی انصاف کی شدید خواہش۔سماجواد اور اشتراکیت سماجی انصاف کی اس خواہش کے علامت بنے اور اپنے سائنسی مزاج پیدا کرنے کے علاوہ انہوں نے جذباتی سطح پر بھی عوام کو اپنی طرف راغب کیا۔
زندگی بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ مطابقت کے مسلسل عمل کا نام ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں تکنیک کے میدان میں تیزی سے ہوئی تبدیلیوں نے سماجی تبدیلی کی ضرورت میں مزید اضافہ کیا ہے کیونکہ عدم مطابقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سائنس اور تکنیک کی ترقی یقینی طور پر دنیا کی بیشتر اقتصادی مسئلوں خصوصاًدنیا میں سبھی کے لیے بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے لیے اپنائے جانے والے طریقوں کو متعلقہ ملک یا معاشرے کے سیاق وسباق اور تہذیبی ضرورتوں کے مطابق بنانا ہوگا۔
بین الاقوامی سطح پر آج اہم مسئلہ عالمی امن کو لے کر ہے۔ ہمارے پاس واحد متبادل یہ ہے کہ دینا کو اس کی موجودہ حالت میں قبول کیا جائے اور ایک دوسرے کے تئیں رواداری برتی جائے۔ ہر ایک ملک کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ دوسرے ملکوں کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے طریقے سے اپنی ترقی کرے اور اس پر اپنی رائے نہ تھوپیں۔ دراصل اس کے لیے ایک نئے ذہنی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ پنچ شیل یا پانچ اصولوں میں یہ طریقہ سجھایا گیا ہے۔
قوم کے اندر بھی تصادم پیدا ہوتا ہے۔ بالغ رائے دہندگی والے جمہوری نظام میں اس تصادم کو عمومی آئینی طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستان میں ہمیں علاقائیت یا زبان کے نام پر ہونے والے ٹکراؤ سب سے زیادہ تکلیف دہ ٹکراؤ دیکھنے کو ملے ہیں۔ خصوصی طور پر مسئلہ آج طبقانی مفاد کے ٹکراؤ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے ہندوستان میں دیکھا ہے کہ قدیم راجواڑوں، بڑی جاگیرداریوں، تعلقداروں اور زمینداروں کے ذاتی مفادات کو پر امن طریقے سے ختم کیا جا چکا ہے، حالانکہ اس کے لیے ہمیں ایک ایسے منظم نظام کو ختم کرنا پڑا جو محض کچھ منتخب لوگوں کے مفادات کی حمایت کرتی تھی۔ جہاں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ طبقاتی کشمکش ہے وہیں ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ان سے نمٹنے کے لیے پرامن طریقوں کاا ستعمال نہ کیے جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ لیکن یہ طریقے تبھی کامیاب ہونگے جب ہمارے سامنے ایک واضح ہدف ہوجسے لوگ آسانی سے سمجھ سکیں۔
(انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشن کے ذریعہ شایع ’انڈیا ٹوڈے انڈ ٹومورو، آزاد میموریل لیکچرس، نئی دلی، 22اور 23فروری 1959سے ماخوذ)۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *