میر واعظ مولوی عمر فاروق سے خاص بات چیت: یہ نا انصافی بند کیجئے

س:کشمیر کے حالات کے بارے میں آپ کو اخبارات اور ٹیلی ویژن سے معلومات ہوتی رہتی ہوںگی۔کیا لگتا ہے آپ کو ،کشمیر کے حالات ابل کیوںرہے ہیں؟

p-1ج۔دیکھئے بنیادی بات تو یہ ہے کہ آج 47 کے بعد سے کشمیریوںکی پانچویں نسلجو ہے اب وہ اس نفلکٹ لائف کا حصہ بن چکی ہے اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ حکومتِ ہندوستان ابھی تک بھی اس بات کو محسوس نہیں کررہی ہے اور اس بات کو قبول نہیں کررہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ نہ تو لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے اور نہ تو یہ سڑک ،بجلی اور پانی کا مسئلہ ہے اور نہ ہی یہ انتظامی اور الیکشن اور ایڈمنسٹریشن کا مسئلہ ہے۔یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے ،یہ ایک متنازع مسئلہ ہے ۔اس مسئلے کا ایک پس منظر ہے اس کا ایک بیک گرائونڈ ہے اور جب تک اس پس منظر کو مد نظر رکھتے ہوئے آگے نہیں چلا جائے،حل تلاش نہیں کیا جا ئے ا اس قسم کی سچویشن ہوتی رہے گی۔ چاہے ہم 47سے لے کر آج تک کی ہم بات کرتے رہیں ۔درمیان میں مختلف دور آئے،خاص کر ہم پچھلے دس ،بیس سال کی بات کریں، 2008 اور 2010 ، آج ایک بار پھر ۔حریت کانفرنس بار بار یہ کہتی رہی ہے کہ جب باجپئی جی کا دور آیا، یو پی اے 1 کی حکومت بنی اور پھر یو پی اے 2 کا دور آیا ،ہم نے ان سے کہا کہ بھئی آپ لوگ جو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ کشمیر میں سب کچھ بہتر ہے،ٹورسٹ آرہے ہیں،اور لوگ جو ہیں وہ بڑے خوش و خوشحال ہیں،یہ ایک ایک مینوفیکچرڈ تروتھ ہے یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو ایک مینوفیکچرڈ حالات دکھائے جارہے ہیں۔یہان حقیقت یہ ہے کہ طاقت اور تشدد کے بل پر ہماری آواز کو دبایا جارہا ہے۔حالات یہ ہیں کہ حریت کانفرنس۔جلسے جلوس تو دورکی بات ،یہاں تو ہمیں اپنی آواز اٹھانے کا بھی حق نہیں ہے۔یہاں تو نماز جمعہ پر پابندی ہے۔یہان تو عید چھ سال سے۔میں حریت کے بحیثیت صدر کے نہں بلکہ کشمیریون کے مسلمان رہنما کی حیثیت سے یہ بات کہوں گا کہ ہمارے سیاسی ، انسانی ، سماجی حقوق تو دور کی بات ہے،ہمارے تو مذہبی حقوق بھی سلب کرلئے گئے ہیں۔ جامع مسجد یہان کی سب سے بڑی عبادت گاہ میں پندرہ جمعہ سے نماز کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔تو عملا جموں و کشمیر کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔اور ظاہر سی بات ہے کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد ایک اسیا سچویشن آگیاکہ لاوا ابل پڑا۔یہان پر لوگ خاص کر جب سے مودی سرکار دلی میں آئی ہے،ان کا جو ایک رویہ رہا ہے۔اور کشمیر کے لوگوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جس طرح سے انہون نے جو پالیسی اڈاپٹ کی، کہ پہلے یہ کہا گیا کہ ہم سینک کالینیز لائی جائیںگی،پھر یہ کہا گیا کہ بنگلہ دیش کے رفیوجیز کو بسایا جائے گا، بی جے پی کے لیڈر شپ مین سبر منیم سوامی سے لے کر باقیوں نے کہا کہ بھائی یہاں پر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔یہان پر ریٹائرڈ فوجیوں کو لانے کی ضرورت ہے۔اس کے بعد کشمیری پنڈت کی کالنینیز کا معاملہ ہوا کہ پھر سپریٹ کالونیز یہاں پر بنائی جائیں گی۔اسرائیل طرز کی باز پرواز،جبکہ وہ حریت ہمیشہ کہا کہ ہم کشمیری پنڈتوں کی واپسی چاہتے ہیں لیکن الگ سے نہیں،ہمارے ساتھ رہیں ،جس طرح آپس میں ہمارا ایک بھائی چارہ اور رشتہ تھا،اس کو ہم بالکل قائم رکھا چاہتے ہیں،ہم ریوائیو کرنا چاہتے ہیںلیکن حکومت ایک کے بعد دوسرے پالیسی ایسے اعلانات کرتی ہے کہ سیدھا سادھا ایک ایکسپریشن کشمیر کے لوگوں کو گیا کہ کشمیریوں کے حقوق جو ہیں اسے آہستہ آہستہ سلب کرلیے جائیںگے۔اور کشمیریوں کی جو شناخت ہے،کشمیریون کی اپنی جو ایک مسلم شناخت ہے ،ایک ریاستی شناخت ہے،اس کو آہستہ آہستہ ڈائیوٹ کیا جارہا ہے۔تو یہ سلسلہ تو بالکل واضح رہا اور
حیرت کی بات یہ ہے کہ پی ڈی پی جنہون نے اس کے خلاف الیکشن لڑا اکہ سارے معاملے کے خلاف میدان میں نکلے کہ بھائی ان قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے اور پھرانہوں نے نہیں کیا اور ان قوتوںکے ساتھ ہاتھ ملا کر حکومت بنالی ،تو ظاہر سی بات ہے وہ بھی عوام میں غصہ رہا ،تو یہ جو آج عوام میں لاوا ابل پڑا ہے،آج حالات یہ ہیں کہ آپ دیکھئے کہ ہر طرف کشمیر کے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کوئی چھوتی بات نہیں ہے کہ پچھلے106دن کرفیو کو ہوگئے ہیں،پورا کاو بار بن ہے،لوگ بند ہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ جو بد قسمتی سے بار بار حریت کی قیادت کو ہدف بنایا جارہا ہے کہ یہ لوگ کررہے ہیں ،یہ کسی کے ایماء پر کررہے،پاکستان کے ایماء پر کررہے ہیں۔ارے بھائی ہم تو پچھلے 6 مہینوں سے گھر میںبند ہیں،چاہے میںہوں، یاسین ملک یا گیلانی صاحب ہوں،پوری لیڈر شپ ہے۔ ہمیں تو باہر جانے کی اجازت نہیں ہے،ہمیں جلسے جلوس ،سمینار تک کرنے کی اجازت نہیں ہے ہوٹلوں میں۔ہمیں کہا گیاہے کہ جب تک آپ کو پولیس اجازت نہیں دی گی، آپ سمینار تک نہیں کرسکتے ہیں، اور سب سے آسان بات حکومت اور میڈیا کے لئے یہ ہوجاتی ہے کہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہورہا ہے،وہ پاکستان کررہا ہے۔جب یہ بات ہندوستان کے عوام تک پہنچتی ہے تو شاید وہ اس بات پر یقین کرلیتے ہیں،کیونکہ جونہی کوئی بات پاکستان کی طرف منسوب ہوتی ہے چاہے وہ سچ ہے یا نہیں ہے،ان کو یہ دکھایا جارہ اہے کہ بھائی کشمیر مین جو ہورہا ہے سارا پاکستان کررہا ہے تو اس بات پر یقین کرلیتے ہیں۔تو یہ بہت بڑا المیہ ہے۔
دیکھئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ بات خود حکومت ہند کی لیڈرشپ نے تسلیم کی تھی۔حیرت کی بات یہ ہے جس بی جے پی کی آج حکومت ہے ،انہیں کے لیڈر اٹل بہاری باجپئی ، جب ہم ان سے ملے تو انہوں نے برملا اس بات کا اعتراف کیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ پہلی بار کشمیر آئے وہ بھی اسی طرح جس طرح مودی آئے اورمنموہن سنگھ آئے اور کہا ایکونومک پیکیج کا پلان کرتے ہیں،80ہزار کروڑ، 6ہزار کروڑ،120ہزار کروڑ، پ وغیرہ یہ وہ، پیکجز دیں گے ،نوکریاں دیں گے،لیکن جب واجپئی آخری بار کشمیر آئے تو انہوں نے کہا کہ ہمیں کشیر مسئلے کا پالیٹکلی حل کرنا ہے۔ہمیں اس معاملے کو سلجھانا ہے ۔ہمیں یاد ہے کہ جب حریت کانفرنس کی بات چیت باجپئی جی کے ساتھ شروع ہوئی،تو اسی پیرائے میں ہوئی جب انہوں نے کہا تھا کہ ہم انسانیت کی بنیاد پر یہاں بات شروع کریںگے۔انہوں نے کہا کہ انسانیت آئین سے بڑھ کر ہے،اگر آئین کے دائرے میں ہم کا حل نہیں نکال سکتے ہیں تو انسانیت کے دائرے میں بیٹھ کر اس کا حل نکالیں گے۔اس کے بعد حریت سے بات ہوئی،پاکستان سے بات ہوئی، حریت کانفرنس کو پاکستان جانے کی اجازت دی گئی،ہم پاکستان گئے، ہم نے وہاں مشرف سے بات کی، بات چیت کے دو دور چلے، اس کے بعد جو ہے وہ آگرہ (سمٹ )بھی ہوا، باقی چیزیں بھی ہوئیں، تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم تو یہ محسوس کررہے تھے کہ بی جے پی حکومت شاید اسی پالیسی کو آگے بڑھائے گی، یہ تو بڑا کلیئر تھا کہ ان کی پالیسی رہیکہ اس کشمیر کے معاملے کو ملٹری سے ڈیل کیا جائے، نہ کہ سیاسی طور پر ، اور آج حالات یہی ہیں،اسی لئے یہان پر لوگ بالکل سڑکوں پر برملا احتجاج کررہے ہیںکہ اب انف ( بہت ہوچکا) ۔کب تک ہمیں بار بار دو سال تین سال چار سال بعد لوگ یہاں اٹھتے ہیں ،کہتے ہیں کہ ہمارے مسئلے حل کرولیکن اس کو ہمیشہ ڈائیورزن دیا جاتا ہے۔کبھی یہ کہا جاتاہے کہ نوکریاں دیں گے،کبھی یہ کہاجاتا ہے کہ ملازمت دیں گے۔ اب یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ دیکھئے کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہا ں جس طرح سے اس ساری ایجی ٹیشن میں ہم توبند رہے 8جولائی سے ، 26اگست تک تو گھر میں نظر بند رہا ، اور 26اگست سے آج 21اکتوبر تک یہاںپر مجھے قید تنہائی میںرکھا گیا۔لیکن ہم جو یہ دیکھ رہے ہیں کہ جس طرح سے رویہ عوام کے تعلق سے حکومت کا رہا ہے، بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ خود کو عوام کا نمائندہ کہتے ہیں مگر عوام کے ساتھ ان کا جو طریقہ رہا ہے ،گولیاں چلانا،پیلیٹ چلانا ، اندھا کرنا اور وہ شکلیں، وہ تصاویر وہ ویڈیوز جو پوری دنیا دیکھ رہی ہے،یہ سب ہمارے لئے شرم کی بات ہے۔
س: آپ کا اشارہ محبوبہ جی کی طرف ہے؟
ج: بالکل محبوبہ کی طرف ہے ، ان کی حکومت کی طرف ہے ،ان کے انتظامیہ کی طرف ہے۔کہ اس حکومت مورل اختیار نہیں ہے حکومت کرنے کا،
س: اس کا کریکٹیو میزر(صحیح کرنے کا طریقہ ) کیا ہوسکتا ہے؟
ج: دیکھئے سب سے بڑا کریکٹیو میزر تو یہ ہے کہ ایک جو ڈھکوسلہ شروع کردیا ہے کہ ہم یہاں پر امن، شانتی اور بہتری چاہتے ہیں، ہم یہ کریں گے ،وہ کریں گے۔ سب سے اہم مسئلہ جو ہمارا تھا ،چاہے وہ نیشنل کانفرنس ہو، پی ڈی پی ہو، گیلانی صاحب نے، یاسین ملک نیہم نیمشترکہ طور پر ہم نے کہا کہ کہ بھائیاگر واقعی آپ کوئی چیز کرنا چاہتے ہین تو وہ یہ ہے کہ آپ برملا اس بات کا اعتراف کیجئے کہ یہ معاملہ انتظامی نہیں ہے، یہ سیاسی معاملہ ہے اور جاکر دہلی میں یہ بات کہئے، ان کو سمجھائیے ،لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اقتدار کے ہوس میں وہ پھر اس بات کو ڈائیورسن دے رہے ہیں۔پھر سے یہ کہا جارہا ہے کہ یہ آرکسٹیڈ معاملہ ہے،اسپانسرڈ معاملہ ہے، پیسے دیئے جارہے ہیں، اس کو گائڈ کیا جارہا ہے۔بھئی ہماری پوری لیڈر شپ بند ، آرگنائزیشن ڈی فنڈ کردیا گیا ہے، کوئی پالیٹیکل ورکر وں ،آپ کشمی رمین پہلی بار دیکھیں گے کہ چھ ہزار ورکروںپر مقدمہ دائر کردیا گیا ہے۔10ہزار کے قریب نوجوان بند ہیں، 15 ہزار لوگ زخمی ہیں۔تو یہ ساری صورت حال کا جب تک حکومت ہندوستان،
دیکھئے میں بری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ کشمیر کی حقیقت یہ ہے کہ چاہے یہاں نیشنل کانفرنس رہی ہو چاہے پی ڈی پی رہی ہو ۔یہ جماعتیں ایک مکھوٹا ہیں، ایک چہرہ ہیں، لیکن ان کے پیچھے جو ہاتھ ہیں وہ نئی دہلی ہے،وہ سرکار ہے اور کوئی بھی سرکار رہی ہو، چاہے محبوبہ ہوں، مفتی صاحب رہے ہوں یا عمر عبد اللہ صاحب رہے ہوں، فاروق عبد اللہ صاحب رہے ہوں یا شیخ عبد اللہ صاحب کی بھی بات کریں ، تب سے لے کر آج تک یہ دہلی سرکار چلاتی ہے، فیصلہ وہ کرتی ہے، یہ تو ایک مکھوٹا ہے۔ اس لئے یہ تاثر دینا کہ فیصلہ یہ کرتے ہیں یا ان کے پاس فیصلہ کرنے کی اتھارٹی ہے ،ہمیں معلوم ہے کہ ان کے پاس فیصلے کی اتھارٹی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی بات ڈائریکٹ دہلی کی حکومت سے کہتے ہیں،کانگریس سے کہتے ہیں، بی جے پی سے کہتے ہیں، لیفٹ سے کہتے ہیں۔اور یہی بات ہم نے
پچھلی بار جب یچوری صاحب اور اویسی صاحب ملنے کے لئے آئے تو میں نے ان سے یہی کہا تھا کہ آپ کچھ سال پہلے بھی آئے تھے اور آپ نے یہ کہا تھا کہ ہم بات کریں گے ،آپ نے کہا تھا کہ انیسٹیو لیں گے، لیکن کیا ہوا۔ان رپورٹس کا جو آپ ہی کے انٹلکچول نے تیار کی تھی ؟ آپ ہی کے باقی لوگ یہاں پر آئے،انہوں نے یہاںپر بات کی کہ بھائی ہم مسائل کا حل ڈھونڈیںگے،انیسٹیو لیںگے۔ لیکن جب کشمیر میں آگ لگتی ہے تو آپ دوڑے چلے آتے ہیں اور جب آپ لوگوںکو لگتا ہے کہ حالات ہمارے کنٹرول میںہیں ، اور ہماری پولیس ، ہماری ملٹری کے قابو میں ہے تو آپ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ا انہوں نے خود اس کا برملا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں ہم سے غلطی ہوئی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ابھی تو وہ آئے ہی تھے اور پھر واپس چلے گئے اور راجناتھ سنگھ نے بیان دیا کہ وہ خود چلے گئے۔ تو حریت تو پھر صحیح تھی کہ ان کے پاس کوئی منڈیٹ نہیں تھا بات کرنے کا ۔اگر واقعی حکومت ہندوستان ،ہم تو خود کہتے ہیں کہ اس وقت سب سے زیادہ تکلیف میںمشکلات مین جو ہے وہ یہاں کے لوگ ہیں، یہاں کے عوام ہیں،لیکن یہاں کے یہ محسوس کررہے ہیں جب تک ہماراے اصل پرابلم کو نہیں سولبھ کیا جاتا ،ہمارا جو مسئلہ ہے بجلی ، وہ بجلی ،پانی ،نوکریاں، سبسڈیاں ، پروجیکٹ ،ایس پی اوز لگانا ،ٹھیکے اور فوج میں بھرتی ہونا نہیں ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے ا،ہمار ا جو مین ایشو ہے ،جو ڈسپیوٹ ہے اس کو ایڈریس کیا جائے۔ اس کا بہتیرن طریقہ حریت نے یہ کہا کہ دو ہی طریقہ ہے۔یا تو بین الاقوامی طریقہ پر حل کیجئے یا پھر جو فریقین ہیں یعنی ہندوستان و پاکستان اور کشمیر کے عوام ہیں،انکے ساتھ بات چیت کریں۔ بلکہ ہمارا تو برملا یہ ہے کہ پورا کشمیر جو کہ 14اگست 47 کو تھا ،جس میں سے پاکستان کے پاس ایک حصہ ہے، ہندوستان کے پاس ایک حصہ ہے۔ پورا کشمیر ایک متنازعہ ہے، پورا کشمیر ایک متنازع ہے۔ پاکستان اور ہندوستان بات چیت کے لئے پیش قدمی کریں ،اس کے بعد کشمیریوں کو آپس میں ملنے دے۔ ہمارے جو پانچ خطے ہیں ، جموں ،کشمیر، لداخ، مظفرآباد، گلگت بلتستان ،،وہاں کے لوگوںکو ملنے دیا جائے ،ا لیڈر شپ کو ملنے دیا جائے ،بات چیت کرنے دیا جائے۔۔ تاکہ اس کا ہم حل نکالیں، لیکن اس صورت حال میں آپ کیا کہہ سکتے ہیں جب ہندوستان کہتا ہے کہ یہ کشمیر تو ہمارا ہے ہی، گلگستان بھی ہمارا ہے، ، بلتستان بھی ہمارا ہے۔پاکستان کہتا ہے کہ یہ سارا شہر ہمارا ہے۔دیکھئے جب تک کشمیریوں کی ساری بنیادی فریقانہ حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا ۔اور یہ ہمارے لئے سب سے بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس حکومت کا جو رویہ ہے ،یہ اس رویے کے بالکل برعکس ہے جوباجپئی کا رویہ رہا ہے۔یہ وہی حکومت ہے جس نے دوبار فارن سکریٹری ملاقات کو کینسل کردیاکیونکہ انہوں نے کہا کہ ہم حریت سے بات کریں گے۔ بھئی ،باجپئی کے وقت میں حریت سے بات ہوئی، کانگریس کے وقت میں حریت سے بات ہوئی، باجپئی کے دور میں تو ہمیں پاسپورٹ دیاگیا اور کہا گیا کہ آپ پاکستان سے بات کیجئے۔ہم مظفر آباد بس میں گئے اور وہاں پر بات چیت کی۔
دیکھئے ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ حکومت ہندوستان کو یہ سمجھنا ہے۔ ٹھیک ہے کہ پچھلے 100دن کا جو ان پریسڈنڈ لوگوں نے دکھا دیا ہے، ایک بار پھر لوگوں نے یہ واضح کردیا ہے ،واضح پیغام دی اہے کہ اب یہ آواز ختم نہیں ہوگی، یہ آواز نہیں دبے گی۔آپ چاہے جتنا ظلم کرلیں،تشدد کرلیں، بندشیںکرلیں، کرفیو لگا لیں، لیڈر شپ کو بند کردیں ،یہ آواز نہیں دبے گی۔اب دیکھئے گزشتہ 100 دنوں میں ہم تو بند ہیں،کسی کا چہرہ نہیں دیکھا ،کسی رشتہ دار سے نہیں مل سکتے ہیں،، کسی لیڈر شپ سے نہیں مل سکتے ہیں، ورکر سے نہیں مل سکتے ۔پھر اس آواز کو کون چلا رہے ہیں، ہمیں گھروںمیںبند کردیا ،ہمیں جیلوں میںبند کردیا،اگر یہ اسپانسرڈ تحریک ہوتی تو اب تک اس کا دم نکل چکا ہوتا۔ یہ عوام کی تحریک ہے اور جب تک اس کو سمجھا نہیں جائے گا کہ عوامی تحریک کو آپ طاقت سے،تشدد سے ،پیسے سے ، کرفیو سے ختم نہیں کرسکتے اور اس کو پالیٹیکل ایڈریس کرنا ہے اور حریت نے ہمیشہ اسی کو ترجیح دی ہے۔
س: پالیٹیکل ایڈریس کا ماحول بنانے کے لئے آپ کی نظر میں کیا قدم ہوسکتا ہے۔میرے خیال میں جب آپ کو ملنے ہی نہیں دیا جارہا ہے تو پالیٹیکل قدم کیسے اٹھایا جاسکتا ہے؟
ج؛بالکل ، دیکھئے سب سے بڑا معاملہ یہ ہے کہ جب آل پارٹیز ڈیلیگیشن آیا،تو اگر واقعی حکومت سیریس تھی یہ تو ایک مذاق تھا، ہمیں محبوبہ مفتی صاحبہ خط بھیجتی ہیں کہ ان سے ملئے، ہمیں جیل میںبند کررکھاہے ،حریت کے لیڈروںکو بند کر رکھاہے ،یاسین کو بند کردیا ہے، گیلانی کو بند کردیا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ان سے ملئے، اگر آپ سیریسلی ہمیں رہاکرتے، ہم مشورہ کرتے،بات بات کرتے ہوسکتا ہے ہم مل لیتے ،، لیکن آپ جو ماحول بنا رہے ہیںہماری آواز کو بالکل دبا رکھا ہے،ہماری آواز کوسلب کردیا ہے۔ سب سے اہم با مسئلہ یہ ہے کہ جب تک پالٹیکل لیڈرشپ کو بات کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا، سب سے پہلے معاملہ تو یہ ہے کہ بھائی یہ جو سارا معاملہ آپ نے کررکھا ہے،یہ ظلم و تشدد کر رہے ہے یہاں پر ،دیکھئے ہر دن پچاس ، سو بچوں کو اٹھایا جارہا ہے۔ابھی جب میں آپ کو انٹرویو دے رہا تھا تو ا این دی ٹی وی پر دیکھ رہا تھا کہ بارہ ملا میں بہت بڑا کریک ڈائون شروع کردیا ہے انہوں نے۔۔وہاں پر کچھ چین کے جھنڈے نکلے ہیں وغیرہ تو بڑا ہنگامہ ہوگیا اور آرمی کریک ڈائون شروع کردیا ہے۔جوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔گولیاں چلائی جارہی ہیں۔۔۔آج جمعہ کا دن ہے ۔آج پندرہوں جمعہ ہے۔شام کو مسجد کے قریب لوگ نکلے ،انہوں نے دھرنا دیا وہاں کہ انہیں مسجد تو کھولنے دو ،ان پر فائر چلا دیا،ٹیر گیس چلا دیا، آج اخبار میں نیوز ہے۔ تو گویا کہ پُرامن طریقے سے بھی ہمیں اپنی بات نہیں کہنے دیا جارہا ہے۔دیکھئے اگر لوگوں کے جذبات مجروح ہیں ،اگر وہ پرامن طور سے اپنی بات کہنا چاہتے ہیں تو انہیں حق دیجئے۔دیکھئے جے این یو میں ہم دیکھ رہے ہیں ۔جب نربھیا کیس دہلی میں ہوا تو پوری دہلی سڑکوں پر آگئی،انہوں نے اپنی ایک بات کہی، تو پھر ہم پر کیوں یہ قدغن لگتا ہے۔پُر امن کوئی کیوں جلسے جلوس نہیں کرسکتے۔اور جب تک ایسا ماحول نہیں ہوگا، ہمیں آپس میں ملنے نہیں دیا جائے گا تو اس کے بعد ہی طے کیا جاسکتا ہے کہ کیا اقدامات ہوسکتے ہیں،کیا اسٹیپ ہوسکتے ہیں،بھئی حکومت ہندوستان اس کو اٹھائے اور اس کو کرے۔، حریت تو باربار کہتی رہی ہے کہ اگر حکومت ہند مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو حریت اس کی حمایت کرے گی۔ لیکن یہ تو سنجیدگی نہیں ہے کہ آپ نے یہاں پر بالکل ملٹری کریک ڈائون یہاں پر شروع کردیا ہے۔
س: جن لڑکوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں بہت سے ایسے ہیں جن کا امتحان چل رہا ہے۔ان لڑکوں کا کیسے ایگزام ہوگا۔ جیل میں ہوگا،باہر ہوگا ،کیسے ہوگا؟
ج: دیکھئے ،یہ تو مذاق ہے۔آپ دیکھئے کہ آپ جوانوں کو پکڑ رہے ہیں۔ ان پر کیس لگا رہے ہیں،ان کو تھانوں میں بند کررہے ہیں،آپ نے ہزاروں کی تعداد میں جوان گرفتار کر کرلیا ہے اور یہاں سے آپ بلیک میل کررہے ہیں ایجوکیشن کو ۔ان کا جو مسئلہ ہے بالکل اس پر انہوں نے سیاست کاری کی ہے۔ورنہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔ ہم نے یہ کہاکہ ٹھیک ہے کچھ مہینے بعد بھی اگزام ہوسکتے ہیں،جب تک ان نوجوانوں کو رہا کردیجئے۔ لیکن رہا کرنا تو دور کی بات ،یہ مزید سو سو ، پچاس پچاس لوگوں کو گرفتار کرتے جارہے ہیں ہر ہر روز ۔اخبارات بھرے پڑے ہیں، خود پولیس بیان دیتی ہے کہ ہم نے یہاں اتنے جوان گرفتار کئے،دیکھئے ہم مانتے ہیں کہ تعلیم اہم ہے،اور کوئی نہیں چاہتا کہ یہاں کے بچوں کا سال ضائع ہو، اور ایسا نہی ںہوگا،لیکن بچے خود کہہ رہے ہیں کہ ہم اسکول جائیں تو کہاں جائیں۔یہاں سڑکوں پر پولیس ہے، آرمی ہے، کچھ عرصہ پہلے انہوں نے اسکول بالکل اوکوپائی کرلئے تھے،جو بی ایس ایف باہر سے آئے وہ اسکولوں میں بیٹھی تھی، بی ایس پی اسکولوں میں ،یہ سارے کالج انہون نے لے لئے تو یہ ایک تاثر دے رہے ہیں کہ بھئی دیکھئے ہم کتنا سیریس ہیں اور ایجوکیشن کو ایک ذریعہ بناکر وہ لوگوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔میرا یہ مشورہ اس حکومت کو یہ ہے ہے کہ دیکھئے اہم یہ نہیں ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ہو، محبوبہ ہوں، عمر عبد اللہ ہوں ،کوئی بھی سیاسی جماعت ہو پی ڈی پی ہو، این سی ہو ، ان جماعتوں کو یہ سوچنا ہے کہ واقعی ان میں کشمیر کے حوالے سے ذرا بھی احساس ہے ،درد ہے ،جو یہ کہتے ہیں ،دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم عوام کے لئے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ عوام نے ان کی پالیسی کو مسترد کردیا ہے۔سائوتھ کشمیر جو کہ پی ڈی پی کا گڑھ تھا، وہاں ان کا کوئی ایم ایل اے ، ایم ایل سی جابھی نہیں سکتا ایسی حالت ہوگئی ہے وہاں کی، تو گویا کہ یہ سارا معاملہ ہے کہ عوام آج یہ کہہ رہے ہیں کہ بھئی یہ ایک سراب ہے ،ایک دھوکہ ہے۔اور ہم چاہتے ہیں کہ اولین ترجیح کشمیر کے سیاسی مسئلے کو دی جائے۔۔ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا حل کوئی راتوں رات نہیں نکل جائے گا۔ ایک پروسیس کی ضرورت ہے۔ایک پروسیس انیشیٹ کرنا ہے۔لیکن اس کے لئے سیریس نیس اور سنسریٹی ہونی چاہئے۔ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ جب تک یہ حکومت اور بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب جو ہوا کھڑی کررہے ہیں اس وقت موجودہ حکومت چاہے اڑی کی بات ،یا سرجیکل اسٹرائک دیکھئے ،اس سے کوئی چیز حاصل نہیں ہوگی۔ یہ ٹھیک ہے کہ یو پی الیکشن ،پنجاب الیکشن میں بی جے پی کو سیاسی فائدہ ہوجائے گا۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کشمیر کے مسئلہ پر نہ تو یہاں سیاست ہونی چاہئے اور نہ ہی پاکستان میں ہونی چاہئے۔ یہ محض ایک انسانی مسئلہ ہے۔یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔
اور میں سمجھتا ہوں کہ آج آپ یوروپ کو دیکھ لیجئے، جرمنی کو دیکھ لیجئے، تو ہمارا بھی وہی حال ہے کہ ایک لکیر کھینچ دی گئی ہے۔ آدھے یہاں ہیں،آدھے وہاں ہیں،ماں بیٹا رشتہ دار آدھے یہاں ہیں،آدھے وہاں ہیں۔میں اپنی بات کہوں گا کہ میری آدھی سے زیادہ فیملی پاکستان مظفر آباد، اسلام آباد اور پنڈی میں ہے۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن سے میں ملا بھی نہیں ۔گزشتہ بار گیاتو ان میں سے کئی رشتہ داروں سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔ ایسی ہزاروں فیملی کشمیر میں ہیں۔تو یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے انسانیت کے لئے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے کو ہندوستان کی سرکار ہمیشہ پاکستان کے زاویئے سے دیکھتی ہے،پاکستان نیشنزم کے زاویے دے دیکھتی ہے۔دیکھئے حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے عوام کو بھی تسلیم کرنی ہے کہ کشمیر مہاراشٹر نہیںہے، کشمیر پنجاب نہیں ہے، کشمیر کوئی اور ریاست نہیں ہے۔اس کا ایک بیک گرائونڈ ہے۔اگر کشمیر کے لوگوں کی آواز کو جب تک نہیں سمجھیںگے۔اگر کشمیر کی آواز کو پاکستان کے ڈسکورس میںدفن کیا جاتا ہے تو اس سے بڑی بدقسمتی کوئی نہیں ہوگی۔۔ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایک عام ہندوستانی یہاں کے حالات سے واقف نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس درد کو اس کرب کو نہیں جانتا ہے ۔ وہ وہاں یہ بات نہیں کرتے ہیں کہ جب دلی میں پیلیٹ نہیں چلایا جاتا دوسری جگہ پیلیٹ نہیں چلایا جاتا ہے تو کشمیر میں کیوں چلایا جاتا ہے۔مان لیا جائے کہ وہ پتھر ہی پھینک رہے ہوں توان پر پیلیٹ چلا کر انہیں اندھا کردینا، اس پر ہندوستان ہیومنسٹ طبقہ خاموش ہے۔ وہ بالی ووڈ سے لے کر کرکٹ تک ہر ایشو پر پر بات کرتے ہیں ہر معاملے پر روز ٹویٹ کرتے ہیں،لیکن اس ایشو پر خاموش ہیں،کوئی باتیں نہیں کررہا ہے۔یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ ایک عام ہندوستانی شہری کشمیر کے ایشو سے بالکل کٹ گیا ہے۔یہ ہمارے لئے بڑی کوفت کی بات ہے۔
س: یہ تو صحیح ہے کہ ڈائیلاگ کی بات دوہرائی جاتی رہنی چاہئے، میرا سوال ان بچوں کے بارے میںہے جو جیلوں میں بند ہیں اور ان کا امتحان ہے، آپ لوگ ان کی رہائی کی بات شرط کے طور پر کیوں نہیں رکھتے ہیں؟
ج: دیکھئے،مسئلہ یہ تو ہے ،لیکن مسئلہ صرف ان کا نہیں ہے جو صرف جیلوں میں بند ہیں بلکہ پہلے مسئلہ یہ ہے کہ پورے کشمیر کو انہوں نے جیل خانے میں تبدیل کررکھا ہے۔یہاں پر جو ملٹری موجود ہے، جو آرمی ہے،سڑکوں پر گائوںمیں ،،اب دیکھئے کہ پورے سائوتھ کشمیر کو انہوں نے آرمی کے حوالے کردیا ہے۔اس جنگی ماحول میں تعلیم کی بات ایک مذاق لگتی ہے۔جب ہاں لوگوںکی جانوںپر بن آئی ہے،سب سے پہلے مسئلہ یہ ہے کہ جب حکومت سیریس ہے،حکومت کچھ کرنا چاہتی ہے،چاہے وہ دہلی کی سرکار ہو یہاں کی سرکار ہو ان کو پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ پہلے یہاں کے قتل و غارت گری اور اماردھار اور گرفتاریاں بند ہونی چاہئے اور جو پبلک سیکورٹی ایکٹ ( پی ایس اے ) لگی ہے،یہ تو کالے قانون کا اطلاق کیا جارہا ہے۔چھوٹے چھوٹے کمسن بچوں پر پی ایس اے لگائی جارہی ہے۔آج بھی اخبار میں ہے کہ دو کمسن بچوںپر پی ایس اے لگایا گیاہے۔مسجد کے اماموں اور ہیومن رائٹس کے کارکنان کو گرفتار کیا جارہا ہے،چلئے سیاسی لیڈر شپ تو دور کی بات ہے عام لوگوں کو گرفتار کیا جارہاہے ۔ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ بات کرہے ہیں ظلم بند کرو ۔یہ تو یہی بات ہوگئی کہ وہ ان پر گولیاں چلا رہے ہیں اور آپ کہتے ہیںکہ کہ شور بھی نہ کرو۔تو سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت جو پورے کشمیر کو سیز کردیا گیاہے۔لوگوںکو یہ حق دیا جائے کہ پرامن احتجاج کیا جائے،لیڈر شپ کو رہا کیا جائے، ہم بیٹھے ہیں ،بات کریں، اور دیکھیں کہ اس سلسلے کو کیسے آگے بڑھائیں۔
س: جن لوگوں کی آنکھیں چلی گئی ، زخمی ہیں ،ان کا علاج ، کمپنسیشن بھی سرکاری طور پر ہونا چاہئے؟
ج: یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کمپنسیشن تو بعد کی بات ہے، پہلے ان لوگوں کو سزا دیں جنہوں نے پیلیٹ اور گولیاں چلائی ہیں۔اخباروں میں آرہا ہے کہ اب تک 96 آفیشیل ڈیسک ہوئی ہیں ،ان میں سے کل چار کا سرکار نے اعلان کیا ہے کہ ان کو انوسٹی گیٹ کریں گے۔ باقی کس کھاتے میں ہے۔اس سے آپ عوام میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کیا عوام میں یہ میسیج دے رہے ہیں کہ کشمیریوں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں ہے۔پھر ٹھیک ہے کہ مار کر کمپن سیشن دے دیں گے،اندھا کرکے علاج کرادیں گے۔سب سے پہلے یہ ہے کہ اکائونٹبلیٹی شروع ہو،انہوں نے اگر گولیاں چلائی ہیں،پیلیٹ چلائی ہیں ،ان کے خلاف کارروائی ہو،۔ ان سارے کیسیزکو ری اوپن کیا جائے اور دیکھاجائے کہ کن لوگوں نے گولیاں چلائی ہیں، ان پر کارروائی ہو تاکہ عوام کو لگے کہ یہ حکومت واقعی کچھ ہے۔لیکن ابھی تو عوام کو لگ رہاہے کہ مکھوٹا پی ڈی پی کا ہے اور پیچھے سے بی جے پی یہ کہہ رہی ہے کہ ہاں جی ہم نے آرمی بھیج دی ہے۔ پی ایس اے لگائیں ،حریت کو بند کریں ، جوانوں کو گرفتار کرلیں۔ راجناتھ سنگھ اور جتندر یہ وہاں بیان دے رہے ہیں اور ان کی حکومت یہاں اسٹمپ کرچکی ہے۔حیرانی کی بات ہے کہ یہی پی ڈی پی ہے جو کل تک کہتی تھی ’سیلف رول‘، اس سیلف رول کو کہاں دفنا دیا ہے۔سیلف رول تو دور کی بات، یہ عوام کی زندگیاں بھی نہیں بچا پارہے ہیں۔دیکھئے ہمارے لئے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ سیاسی طورپر ہمارا اختلاف ہوسکتا ہے۔ کوئی آزادی کی بات کرتا ہے، کوئی سیلف رول کی بات کرتا ہے،کوئی اٹانومی کی بات کرتا ہے،ٹھیک ہے، اس پر بات ہوسکتی ہے لیکن آپ اپنے ہی لوگوں پر ظلم کررہے ہیں ،زیادتی کررہے ہیں، یہ فوراً رکنا چاہئے۔سب سے بڑی ذمہ داری تو وزیر اعلیٰ کی ہے کہ اگر وہ لوگوں کی جان کو تحفظ دینے میں بے بسی محسوس کرتی ہیں تو انہیں اقتدار چھوڑ دینا چاہئے۔ ابھی تو لوگوں کو یہ میسج جارہاہے کہ یہاں نام نہاد منتخب حکومت ہے تو پھر سارا معاملہ انہی کے سر آئے گا۔
س: آپ کے کہنے کا خلاصہ یہ ہے کہ جو حریت کے سیا سی کارکن ہیں یا نارمل سیاسی ایکٹوسٹ ہیں، انہیں چھوڑ کر اسپیس دیا جائے،دوسرا یہ ہے کہ جو نوجوان جیلوں میں جو پانچ ہزار یا دس ہزار نوجوان بند ہیں ان کو رہا کیا جائے اور پی ایس اے کو ہٹا کرکے ریو یو کرکے ویدڈرا کیا جائے؟
ج: یہ جو گرفتاری اور مار دھار کا سلسلہ ہے ، پی ایس اے لگا دیا ہے، اس کو بند کیا جائے اور جیلوں میں بند نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔پی ایس اے کی آڑ میں تو یہ جس کو چاہتے ہیں گرفتار کرکے کوٹ بلوار ، جموں اور باقی جگہوں پر بھیج رہے ہیں۔یہ تو حکومت کی بالکل؛ زیادتی ہے جس طرح سے وہ ڈیل کررہے ہیں، فورا اس پر روک ہونا چاہئے۔ اس کے بعد انہوں نے جو بندشیںلگا دی ہیں، لوگوں کو پرامن احتجاج کا حق دیا جائے۔دیکھئے ابھی تو سچویشن یہ ہے کہ 96یا 100لوگ مارے گئے۔ ابھی تو حالت یہ ہے کہ وفات پانے والوں کے رشتہ داروں سے اظہار تعزیت کے لئے نہیں جاسکتے کیونکہ کرفیو رہا،احتجاج رہا ،ہڑتال رہی،تو لوگوںکو حق دیجئے۔مان لیجئے ایک لاکھ لوگ چلے گئے لال چوک سڑکوں پر،کم سے کم پرامن طورپر بیٹھے ہیں ،کم سے کم حکومت ہندوستان کی طرف میسیج جائے گا، عالمی برادری کی طرف میسیج جائے گا۔دیکھئے ہم بھی کہتے ہیں کہ مسئلے کا حل ڈیسک پر بیٹھ کر ہی ہوگا،لیکن اس کے لئے آپ کو پہلے ماحول بناناہے۔لیکن آپ کشمیریوں کو مار رہے ہیں۔پی ڈی پی کہہ رہی ہے کہ ہم تو کمیٹیڈ ہیں ، ہم پالیٹیکل حل ڈھونڈیں گے، بات چیت کریں گے۔سوال یہ ہے کہ جو آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ اس کو روک نہیں پاتے ہیں،جبکہ حکومت اس کے لئے ذمہ دار ہے، اس کے بعد ایک سلسلہ شروع ہو۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ بائی لیٹرل معاملہ نہیں ہے کہ دلی اور سری نگر بیٹھ کر مسئلے کا حل کر لیں یا دلی اور اسلام آباد بیٹھ کر فیصلہ کرلیں، اس میں آپ کو تینوں کو شامل کرنا ہے۔یہ کیسے ہوگا ،تینوںکو آپ کیسے شامل کریں گے،کون کرے گا؟یہ ٹھیک ہے کہ انڈیا و پاکستان اسٹیٹ ہے۔ہندوستان اس سلسلے میں پاکستان سے بات چیت کرسکتا ہے اور یہ جو جنگ وغیرہ کی بات ہے یہ بند ہونی چاہئے اور سنجیدگی سے بیک چینل پر اور فرنٹ چینل پر ایک دوسرے سے بات چیت شروع کی جائے۔ہم تو سب سے زیادہ اس بات کے متمنی ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالات بہتر ہوں، دوستی ہو، خیرسگالی ہو، کیونکہ ان دونوں کی دوستی کا سب سے زیادہ فائدہ ہمیں ہی ہے۔ابھی جو صورت حال ہے چاہے یہاں پر گولی باری ہورہی ہے،یا وہاں پر گولی باری ہورہی ہے چاہے راجوری میں لوگ مارے جارہے ہیں،یا مظفر آباد میں، کہیں بھی مارا جاتا ہے تو کشمیری ہی مارا جارہا ہے،چاہے اس طرف کا یا اس طرف کا۔اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ فوری طور پر جنگ بندی پر عمل ہو۔ بات چیت شروع ہو اور فوری طور پر ایک ایسا میکنزم تشکیل دیا جائے کہ ایک پروسیس شروع کیا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ٹائم لگے گا کہ کیسے آگے چلنا ہے۔ سب سے پہلے ہندوستان کی حکومت کو ایک اسٹیپ لینا ہے۔ اس کے لئے یہ زیادہ مشکل نہیں ہے،کیونکہ ابھی دہلی اور یہاں کی حکومت ایک ہی ہے۔ اس لئے یہ اس کے لئے زیادہ مشکل نہیں ہے۔لیکن ہمارے لئے حیرانی کی بات یہ ہے کہ پی ڈی پی کہتی تھی کہ ہماراایک ایجنڈا ہے، ہمارا ایک اصول ہے،ہمارا ایک ویو ہے،ہم اصول کی بات کرتے ہیں ،لیکن ہمیں یہ کہیں سنائی نہیں دے رہا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ یہ سب ایک دھوکہ تھا،ایک سراب تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ مفتی صاحب بڑے بڑے بیان دیتے تھے کہ بھائی گولی سے نہیں بولی سے مسئلے کا حل کریں گے،ہم حریت کو پالیٹیکل اسپیس دیں گے، اور پالیٹیکل اسپیس تو دور کی بات ،ہمیں نماز تک کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
س: ان سب کے باوجو د کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ جن کی جانیں گئی ہیںیا جو زخمی ہوئے ہیں اور اپنی آنکھیں گنوائی ہیں،ان کے لئے سرکار کو آگے بڑھ کر کچھ کرنا چاہئے۔جن کا علاج یہاں نہیں ہوسکا انہیں کہیں اور لے جانا چاہئے؟
ج: بالکل ایسا ہونا چاہئے۔بلکہ گولی چلانے والوں کے خلاف کیسیز ہونے چاہئے کہ آپ نے ہمارے بچوں کی آنکھیں نکال دیں، یہ تو انٹرنیشنل کرائم ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پیلیٹ پر اتنا شور اٹھا مگر ابھی بھی اس پر پابندی نہیں لگی۔ ابھی بھی راجناتھ سنگھ کہتے ہیں کہ جب اکسٹریم ضرورت ہوگی تو ہم اس کا استعمال کریں گے۔جب آپ پیلیٹ گن پر پابندی لگانیکے لئے تیار نہیں ہیں تو آپ کشمیر کے مسائل کو کشمیری کے درد کو ،ان پر مرہم رکھنے کی جو بات کرتے ہیںوہ تو ایک فریب ہے۔
س: ابھی تک جتنی باتیں ہوئی،یعنی بات چیت کا سلسلہ چلے،کس کے درمیان بات چیت ہو، اور کشمیر ایشو کا حل نکالا جائے،اس کے لئے آپ لوگ کچھ ماہ کو مقرر کرنا چاہیںگے۔ کیونکہ فوری طور پر اس مسئلے کا حل تو ہوگا نہیں؟
ج: ۔پہلے تو سرکار سے یہ کہتے ہیں کہ مار دھار کا سلسلہ بندہو، گرفتار نوجوانوں کی رہائی ہو،پی ایس اے کو روک لگ لگے، اس کے بعد لیڈر شپ بیٹھے گی اور بات چیت ہوگی کہ کیسے اس کو آگے چلانا ہے۔
س: اگر آنے والے مقررہ وقت میں اس مسئلے کا حل نہیں آتا ہے تو کیا کمپلیٹ سول نان کوپریشن کی بات آپ لوگوں کے دماغ میں ہے؟
دیکھئے ابھی حالات تو یہ ہیں کہ ابھی ہم ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کرپارہے ہیں۔ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ جموں و کشمیر کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ یہ کشمیر کا ایک حصہ ہے اور یہاں کے عوام نے سو دن کا جو ایک ان پریسڈنٹیڈ جذبہ دکھایا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔لوگوں نے ایک بہت بڑی مورال ویکٹوری دکھا دی ہے، یہاں کے ٹریڈر نے، ٹرانسپورٹرز، ملازمین، ریٹری پٹری والے ،سب نے یہ پیغام دیا ہے کہ میں اپنی روزی روٹی کو بند کردوں گا لیکن ظلم و جبر کو برداشت نہیں کروں گا۔میںسمجھتا ہوں کہ یہ حکومت ہند کو ایک واضح میسیج گیا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ہندوستانی حکومت کیا کرتی ہے اور کیا نہیں کرتی ہے۔لیکن ہمارا میسیج تو چلا گیا اور یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ یہ ایک مرحلہ ہے اور اس مرحلے سے ہمیں گزرنا ہی ہے،اور ہماری تحریک چلتی رہے گی اور ہماری آواز اٹھتی رہے گی جب تک ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر ہندوستان اس پر سنجیدہ ہے مسئلے کو حل کرنے کے لئے تو ہم سے بات کرے، پاکستان سے بات کرے،ہم اس کا ضرور مثبت جواب دیں گے۔
س: تین حصے ہیں، جن میں آپ ان سے کیا توقعات رکھتے ہیں۔پہلا جموں و کشمیر سرکار، دوسرا ہندوستانی سرکار اور تیسرا عوام جو سول سوسائٹی ہے؟
ج: دیکھئے جموں و کشمیر سرکار سے ہمیں مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔موجودہ دور میں ہم یہاں کی حکومت سے چاہتے ہیں کہ وہ دہلی حکومت سے کہے کہ اگر آپ کو مار دھار کی پالیسی اختیار کرنی ہے تو ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں۔ لیکن یہ تو ان کے ساتھ شریک بیٹھے ہوئے ہیں ،ہاتھ تو انہیں کے استعمال ہورہے ہیں۔تو سب سے پہلے تو یہ مار دھار ، گرفتاری اور پیلیٹ وغیرہ بند ہوں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میڈیا میں دیکھ رہے ہیں،اخباروںمین پڑھ رہے ہیں کہ ہر دن گھروں میںجارہے ہیں،شیشے توڑ رہے ہیں تو گویا کہ سزا دے رہے ہیں ہم کشمیریوںکوتو یہ سلسلہ تو حکومت اپنے لوگوں کے ساتھ کررہی ہے۔جہاں تک بھارت سرکارکی بات ہے تو بی جے پی کی حکومت اور ر نریندر مودی صاحب کو یہ بات تسلیم کرنا ہوگا اگر آپ طاقت سے، ملٹری اور فوج سے اور تشدد سے اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو آپ غلط خیال میں ہیں۔آپ ہی کے قدآور لیڈر باجپئی جی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ ہم طاقت سے کشمیر کے عوام کو طاقت سے نہیں دبا سکتے۔ اس لئے اس پالیسی کو ریو یو کریں، پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کریں، کشمیر کے حوالے سے کشمیریوں سے بات چیت کریں۔ اگر آپ کوئی مثبت قدم اٹھاتے ہیں تو ہم اس کا جواب مثبت دیں گے۔رہی بات ہندوستان کے عوام کی تو عوام یعنی سول سوسائٹی کو یہی کہنا چاہتے ہیںکہ آپ کشمیر کو ملکی زاویہ سے نہیں بلکہ انسانی زاویئے سے دیکھئے، یہ دیکھئے کہ انسانی قدروںکو یہاں کس طرح پامال کیا جارہا ہے۔ اگر یہی صورت حال ممبئی میں ،دلی میں یا کہیں اور ہوتی تو کیا لوگ اسی طرح خاموش رہتے ۔یہ بر صغیر کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ اس طریقے سے بچوں پر پیلیٹ چلائے گئے ہیں، انہیں اندھا کردیا گیا ہے۔ چلئے مان لیا میں نے کہ یہ لوگ پتھر چلارہے تھے تو کیا پتھر کا جواب اندھا کرنا ہے؟ گولیاں چلانا ہے،لوگوںکو مارنا ہے؟ ہریانہ میںجاٹوں نے اربوں کا نقصان کیا،گجرات میں پٹیلوں کی تحریک چلی لیکن ان پر تو کوئی گولیاں نہیںچلیں۔ اخبار اور ٹیلی ویژن پر ہرروز لوگوں کو احتجاج کرتے دکھایا جاتا ہے ۔لیکن وہاں اس طرح پیلیٹ نہیں چلا یا جاتا ہے لیکن کشمیریوں پر پیلیٹ چلتے ہیں تو پورا ہندوستان خاموش ،پورا میڈیا ایک طرف۔ آپ جیسے کچھ لوگ ہیں جو دردمند دل رکھتے ہیں، جو کشمیر کی بات کر تے ہیں، باقی میڈیا جو بات کرتا ہے تو اس کو بیلنس کرنے پر لگا رہتا ہے کہ کہیں ہمارا چینل اس کا شکار نہ ہوجائے۔ دیکھئے ہم جس طرح انٹرنیشنل کمیونیٹی، اقوام متحدہ ، او آئی سی سے اپیل کرتے ہیں،لیکن ہم ہندوستان کے عوام ، کیونکہ وہ سول سوسائٹی ہیں ، سے بھی یہ کہنا چاہتے ہیں ، وہ سول اسٹیک ہیں کہ وہ آئیں جیسے آپ آئیئے ہیں اور مشاہدہ کریں ۔آپ کا اخبار ہم نے دیکھا ہے ۔حالات کا مشاہدہ کیا، میں ان سے کہتاہوں کہ اسٹوڈیو میں بیٹھ کر فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ ہورہاہے ،وہ ہورہا ہے ۔آپ کشمیر آئیں اور دیکھیں۔ کشمیر کے لوگ اس سے زیادہ زندہ مثال کیا دے سکتے ہیں کہ اس سارے معاملے کے دوران امر ناتھ یاترا میں لوگ آئے،غیر مسلم بھی آئے، ان کے ساتھ اچھا رویہ رہا لوگوں کا، ان کی یہاں کے لوگوںنے مدد کی۔ کہیں کہیں پر آرمی پھنس گئے تو لوگوںنے ان کی بھی مدد کی۔انسانیت کے ناطے ان کو بچایا۔ یہاں کی قیادت اس بات کو کہہ رہی ہے کہ اڑی میں جو لوگ مر گئے آرمی کے ،اس پر ہمیں دُکھ ہے۔لیکن افسوس یہ ہے کہ جب کوئی کشمیری بچہ مارا جاتاہے، نو جوان مارا جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں کہ یہ آتنگ وادی ہے،ان کو پیسہ دیا جارہا ہے۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بحث چلتی رہے گی۔ لیکن میں یہ بھی کہنا چا ہتا ہوں کہ اگر بھگت سنگھ کو شہید کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے آزادی میں حصہ لیا تو انہوں نے بھی تو ایک پولیس آفیسر کو گولی ماری تھی۔تو اگروہ دہشت گرد نہیں ہیں تو ہمارے یہ بچے جو آزادی کی بات کرتے ہیں تو دہشت گرد کہاں ہوگئے۔ میرا کہنا ہے کہ ان تمام معاملوں کو انسانیت کے نظریہ سے دیکھئے ۔ اگر انسانیت کے نظریہ سے دیکھیں گے تو یہ سارا نظریہ ہی بدل جائے گا۔میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ پیغام لے کر جائیں کہ میری خواہش ہے کہ بھارت کے لوگ آئیں،یہاں کے حالات کا مشاہدہ کریں ۔مجھیوہ وقت بھی یاد ہے جب میں 16سال کا تھا،میرے والد شہید ہوئے تھے،میں میر واعظ کے منصب پر گیا۔ اس کے بعد حریت بنی، 18سال کی عمر میں میں حریت کا پہلی بار چیئر مین بنا، تب بھی ہم تحریک کو دیکھ رہے تھے، تب بھی ہم نو جوانوں کو دیکھ رہے تھے،ہاں اس وقت نوجوانوں میں آزادی کا جذبہ دیکھ رہے تھے۔ اس وقت کے نو جوانوں میں ہندوستان کے لئے غصہ تھا مگر آج کے نو جوانوں میں ہندوستان کے لئے نفرت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نفرت میں جئیں، لیکن آج سڑکوں پر جونو جوان ملیں گے ان میں نفرت ہے۔ ابھی چین کا جھنڈا نکلا ۔ یہ تو بالکل صاف ہے کہ ہمارا چین کے ساتھ لینا دینا نہیں ہے ، کشمیر کے لئے نہیں بلکہ یہ ہندوستان کو چڑھانے کے لئے ہوتاہے کہ ہم چین کے ساتھ تو جاسکتے ہیںلیکن آپ کے ساتھ نہیں جائیںگے۔ کشمیر کی یہ پانچویں نسل نے اکٹیولی بندوق نہیں دیکھی، مگر ہمیں بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ سائوتھ کشمیر سے خبر آرہی ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان لاپتہ ہیں۔شاید انہوں نے بندوق اٹھالی ہیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے ، کہ نفرت کے ساتھ کوئی جیئے۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ پرامن طور سے مسئلے کا حل ہو۔
جب ملی ٹینسی پیک پر تھی ،تب ہم نے حریت اسی لئے بنائی تھی کہ ہم بندوق اور تشدد سے مسئلے کا حل نہیں چاہتے ۔ہم ڈائیلاگ اور پرامن بات چیت سے حل چاہتے ہیں۔لیکن اس حریت کو بھی آپ نے آئی سولیٹ کردیا۔ہماری کوئی بات ہوتی ہے تو ہمیں میڈیا پر ایسے دکھایا جاتا ہے کہ ہم کوئی چور اچکے اور دہشت گرد ہیں۔ہماری تصویر دکھاتے ہیں، گیلانی کی تصویر دکھاتے ہیں کہ یہ ہیں ٹیریسٹ نمبر ون، نمبر ٹو اور تمبر تھری، ہم تو امن کی بات کررہے ہیں، مسائل کے حل کی بات کررہے ہیں۔میںسمجھتا ہوں کہ حکومت کو یہ بھی دیکھناہے کہ وہ یہاں لیڈر شپ کو جس طرح سے آئی سولیٹ کررہی ہے،ان کو بند کررہی ہے، ان کو بالکل عوام میں جانے کا موقع نہیں دے رہی ہے،وہ ایک انارکی کو پیدا کررہے ہیں۔ کیونکہ کل کو ان کو سرک کے ساتھ ڈیل کرنا پڑے گا۔ آپ لیڈر شپ کو ختم کررہے ہیں تو کل ان نو جوانوں کا آپ کو سامنا کرنا پڑے گا اور اس سے انارکی پیدا ہوگی۔لازمی ہے کہ انہیں لیڈر شپ کو ماننا پڑے گا۔ جب ہندوستان کی آزادی کی تحریک چلی تو گاندھی جی ہوں، نہرو ہوں ،جناح یاپٹیل ہوں ، باقی لوگ ہوں، یہ تو ڈائریکشن دے رہے تھے قوم کو ۔ اس لئے میں یہ چاہتا ہوں کہ ان سارے معاملے کو انسانیت کی نگاہ سے دیکھی جائے اور چاہتے ہیں کہ آپ جیسے لوگ آئیں اور یہاں کے مسائل سے سب کو واقف کرائیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *