جنگ مستقل حل کا راستہ نہیں : مہاتما گاندھی

مہاتما گاندھی کا ماننا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی، کبھی بھی تشدد اور جنگ سے کسی بھی مسئلے یا تنازع کا مستقل حل نہیں ہوا ہے۔ جنگ سے مسئلے کچھ وقت کے لئے ٹل تو جاتے ہیں۔طاقتور کمزور کو ہرا کر، اس سے عارضی طور سے زبردستی اپنی بات منوا تو لیتا ہے، لیکن تشدد یا جنگ سے کوئی ایسا حل نہیں نکلتا جو دونوں فریق کو رضاکارانہ طور پر منظور ہو۔ تشدد کا جواب جب تشدد سے دیا جاتا ہے ، تو اس سے تشدد ہی بڑھتا ہے، کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ، گاندھی جی کا ماننا تھا کہ اصلی لڑائی ایک ہی طرح کی قوت والوں کے بیچ نہ ہوکر ،متبادل مخالف طاقتوں کے درمیان ہوتی ہے۔تشدد کے خلاف لڑائی، تشدد کے برخلاف طاقت، عدم تشدد کے ذریعہ ہونا چاہئے۔عدم تشدد ہی تشدد کا خاتمہ کر سکتا ہے،اسے کم کر سکتا ہے۔ تشدد کا جواب اگر تشدد سے دیا جائے گا تو اس سے تشدد بڑھے گاہی، کم نہیں ہوگا۔گاندھی جی کے ستیہ گرہ فلسفہ کو دھیان میں رکھتے ہوئے جان بانڈیورینٹ اس نتیجہ پر پہنچی کہ گاندھی جی لڑائی کو قبول کرتے ہیں،لیکن تشدد کو نہیں۔ اسی بنیاد پر کے ایل شری دھارانی نے گاندھی جی کے ستیہ گرہ کو ’’ تشدد سے خالی جنگ‘‘ کا نام دیا ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ بابائے قوم کی اس تعلق سے مکمل سوچ کیا ہے

گاندھی جی کے سچائی اور عدم تشدد میں یقین رہنے کی وجہ سے ہی ستیہ گرہ میں بھی امکان اور ذرائع کی یکسانیت ہے۔ امکان اتنا ہی بہتر ہوگا، جتنا اسے حاصل کرنے کے لئے ذرائع اپنائے گئے، گاندھی جی کے مطابق امکان کو ذرائع سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ امکان اور ہدف اتنا ہی بہتر ہوگا جتنا اس کی حصولیابی کے لئے اپنائے گئے ذرائع بہتر ہوںگے ۔اس طرح گاندھی جی ذرائع کو امکان سے الگ نہیں کرتے ہیں کیونکہ امکان، ذرائع کی آخری کڑی ہے اور آخری سیڑھی ہے۔
’ستیہ گڑھ‘ ناانصافی کے خلاف ایک ایسی پُرامن لڑائی ہے جس میں من ،وچن اور کرم(تن من دھن) سے تشدد کو چھوڑ کر ، عدم تشدد کو ایک عقیدے کی شکل میں قبول کیا جاتا ہے۔اس میں ایسے ذرائع کو اپنایا جاتاہے جو اخلاقی، سچائی اور امکان کے مطابق ہوں اور جن میں لڑائی کا ہدف اور نشانہ ناانصافی ہوتا ہے، ناانصافی کرنے والا نہیں۔
گاندھی جی کے مطابق،ستیہ گرہ غلط اور ناانصافی کے خلاف ایک ایسی پُرامن لڑائی ہے جو کہ اخلاقی طور پر اہل اور محتاط ہو۔ ستیہ گرہ کمزور، ڈرپوک اور بے سہارا کا آلہ نہیں ہے۔ جس آدمی کو سچائی اور انصاف میں یقین ہی نہیں ہوگا ، وہ بھلے برے، سچائی،جھوٹ،انصاف اور ناانصافی کے فرق کو کیسے جانے گا اور جسے اپنے امکان و ذرائع کا مکمل علم اور تجربہ نہیں ہوگا، وہ لڑائی کیسے کرے گا۔ اس طرح،گاندھی کے مطابق ستیہ گرہ اخلاقی طور سے اہل،فعال اور محتاط لوگوں کے ذریعہ کی جانے والی لڑائی ہے،نہ کہ بے سہارا، ڈرپوک اور بزدل لوگوں کی۔ گاندھی کے ستیہ گرہ کی بنیاد ،ستیہ گرہ کرنے والوں کی اخلاقی طاقت ہے۔اس کی اخلاقیات کی قیمت کے تئیں بیداری اور ان میں یقین ویسا ہی ہونا چاہئے جیسا کہ روایتی پُرتشدد جنگ میں جنگجو کی جسمانی طاقت اور ہتھیار کی طاقت کے تئیں ہوتا ہے۔اخلاقی طاقت، جسمانی طاقت سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ ستیہ گرہ کی لڑائی میں ، پُر تشدد لڑائی کے مقابلے میں زیادہ بہادری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح ستیہ گرہ بہادروں کی لڑائی ہے ،نہ کہ بزدلوں کی۔ بزدل تو ٹِک ہی نہیں سکتا۔
گاندھی جی نے خود کو سزا دینا ،مشقت میں ڈالنا اور جان کی قربانی پیش کرنے کو ستیہ گرہ کی روح کا نام دیا ہے۔ گاندھی جی کا مانناتھا کہ ستیہ گرہ کرنے والا جس بات کو سچ اور جائز مانتا ہے،اسے اس کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے،اپنے جسم کومشقت دینا چاہئے،نہ کہ اپنی سچائی کو منوانے کے لئے اپنے مخالف کو ستانا ، مشقت دینا یا مار ڈالنا چاہئے ۔سچائی پر قائم رہنے کے لئے اپنی قربانی دینا تو درست ہے ،لیکن اپنے مخالف کی قربانی لینا قطعی ناجائز ہے،کیونکہ ستیہ گرہ کرنے والے کا مخالف تو اس کی مبینہ سچائی کو سچ مانتا ہی نہیں۔اس کے برعکس اگر ستیہ گرہ کرنے وا الا غلط کے خلاف اپنی لڑائی میں خود کی قربانی کے راستے پر چلے گا اور اگر سچائی اور انصاف اس کے ساتھ ہوگی تو اس کی قربانی کوکسی نیک امکانات کی حصولیابی کے لئے نیک ذرائع کی شکل میں قبول کیا جائے گا۔ دوسری طرف اگر وہ غلط اور ناانصافی کو سچ اور انصاف ماننے کی ہٹ دھرمی کر رہا ہوگا ،تو اس کی قربانی اس کی اپنی ہٹ دھرمی کا مناسب جرمانا ہوگی۔ اخلاقی دستور بھی یہی ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کے لئے اپنے آپ کو سزا دیں ،نہ کہ اپنے مخالفین کو۔مخالفین کو غلطی کا احساس کرانا ستیہ گرہ کے ذریعہ ممکن ہے۔
گاندھی جی نے لڑائی کا مقصد ہمیشہ برائی کو بنایا ہے، نہ کہ برے اور برائی کرنے والوں کو۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر ہم اس آدمی کی جو کسی وجہ سے ہمارا مخالف ہو گیا ہے کی مخالفت کا سبب جان لیںاور اسے دور کر دیں تو ہماری مخالفت اور مخالف ہمارا دشمن نہ رہ کر ،ممکنہ طور پر ہمارا دوست بن جائے گا۔ گاندھی جی ٹالسٹائے کے اس قول سے متفق تھے کہ اگر نفرت کرنی ہی ہو تو پاپ سے کرنی چاہئے، نہ کہ پاپی سے۔ اگر پاپی کا پاپ ختم ہو جائے گا، اگر پاپی پاپ کا ساتھ چھوڑ دے گا تو وہ پاپی نہ رہے گا، وہ سدھر جائے گا، پاکیزہ ہو جائے گا۔ دوسری طرف اگر پاپی کی پاپ سے نجات دلانے کے بجائے اس پر تشدد کیا جائے یا اس کو مار دیا جائے تو اس سے اس کا پاپ ختم نہیں ہوگا۔اس کا رخ مزید سخت ہو جائے گا،اس لئے مخالف کو ستانے،اذیت دینے یا اس کا قتل کردینے کے بجائے اس کو پاپ سے نجات دلانا چاہئے، جس سے اس کا پاپ ختم ہو جائے۔ اس کی سوچ بدل جائے ،وہ اپنے ضمیر اور روح کی آواز کے مطابق چلنے لگ جائے، اپنے پاپ کو پہچان لے اور اس کا ساتھ چھوڑ کر، اپنی فطری ، منطقی اور سماجی ساخت کے موافق ہوکر ،ایک نیک انسان کی طرح زندگی گزارنے لگ جائے۔
ایسا کرنے سے اس کے ضمیر کا بدلائو ہو جائے گا۔ وہ مجرم اور بدروح سے نیک روح ہو جائے گا۔ وہ مخالف سے موافق اور پھر دوست ہو جائیگا۔ ستیہ گرہ کسی پالیسی، قانون، نظام اور کسی خاص رویے کے خلاف لڑائی تک ہی محدود نہیں ہے۔ستیہ گرہ وسیع پیمانے پر سوچنے اور جینے کا ایک ایسا راستہ ہے جو کہ ہمیں قربانی اور متعدد نوعیت کا جواز اور پُر امن وسائل کے ذریعہ انصاف کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔یہ غلط، ناانصافی اور برائی پر حملہ کرتاہے اور مخالف اور مبینہ دشمن کے ضمیر میں بدلائو کرکے اسے پہلے موافق اور پھر دوست بنا دیتا ہے۔ جیمس لوتھر ایڈمس نے گاندھی کے ستیہ گرہ کو سیدھا سادہ ، کامیاب اور موثر اصول اور ذریعہ مانا۔ جان وانڈیورینٹ نے گاندھی جی کے ستیہ گرہ اور منحرف میں بنیادی اختلاف کو قبول کیاہے۔ ان کے مطابق منحرف سچائی، انصاف اور اچھائی پر اپنی اجارہ داری ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ صحیح ہے،غلط ہو ہی نہیں سکتا ہے اور دوسری طرف اس کی مخالفت کرنا غلط ہے، صحیح ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ وہ اپنے مخالف اور اپوزیشن کو توضیح کرنے کا موقع دیئے بغیر ہی اس کی بات اور رویے کو اپنے فیصلے کی بنیاد پر پہلے ہی غلط اور ناجائز مان لیتا ہے اور اس پر حملہ کر دیتا ہے۔
ستیہ گرہ کے مقابلے میں منحرف کے سوچنے اور لڑائی کرنے کا طریقہ دلیل پر مبنی نہ ہوکر ، اپنی سوچ اور عقیدے پر مبنی ہوتا ہے۔ دوسری طرف منحرف کے دل میں (غلط ہونے پر بھی ) ایک طرح کا ڈر بھی ستاتا ہے، اس کو لگتا ہے کہ اگر ستیہ گرہ کرنے والوں کی باتوں کو مان لیتے ہیں تو سماج میں میری عزت نہ ہوکر مخالفین کی عزت کرنے لگیں گے ،میری عزت کم ہو جائے گی۔ اسی لئے منحرف اپنے مخالف کو اپنا دشمن مان لیتا ہے، برائی کا پتلہ مان لیتا ہے اور برائی پر حملہ کرنے کے بجائے ،برائی کرنے والے پر حملہ کرتاہے، وہ اس کو ستاتا ہے، بلیک میل کرتاہے، اسے نیچا دکھانے اور اسے بالآخر ہرانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور اسے اپنی بات سمجھانے اور کہنے کا موقع بھی نہیں دیتا ہے۔ دوسری طرف ستیہ گرہ کرنے والے یہ مان کر چلتے ہیں کہ اس کا مخالف صحیح ہو سکتا ہے اور وہ خود غلط ہو سکتا ہے۔یہی مان کر وہ اپنے مخالفین کو نہ صرف اپنا مدعیٰ سمجھا تا ہے،بلکہ اس کا مدعی بھی سننے، سمجھنے اور جہاں تک ممکن ہو قبول کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ وہ اپنے مخالف کو اس کے مدعیٰ کا ممکنہ متبادل پیش کرتا ہے جو کہ اسے قبول کرنے کا موقع دیتا ہے اور اس کے سامنے ایسے ستیہ گرہ کرنے والے اپنے مبینہ دشمن کو دوست بنانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے،جس سے دونوں مل کر برائی اور ناانصافی کا مقابلہ کر سکیں۔ اس طرح ستیہ گرہ سچائی کی راہ ہے جس پر چل کر ناانصافی کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔

تصویر کے نیچے
20ویں صدی میں عدم تشددکے سب سے بڑے علمبردار مہاتما گاندھی ایک ایسی شخصیت رہے ہیں جن کے خیالات ہمیشہ موزوںرہے ہیں۔ایک ایسے وقت جب جنگ کرکے مسئلہ کے حل کی بات ہونے لگتی ہے، گاندھی جی بے ساختہ یاد آتے ہیں۔لہٰذا چندن کمار جو کہ نن وائیلنس اینڈ پیس ڈپارٹمنٹ ، مہاتما گاندھی انٹر نیشنل ہندی یونیورسٹی ، واردھا سے وابستہ ہیں، کا یہ مضمون نذر قارئین ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *