کیوں بڑھ رہا ہے خطرہ داعش کا یوروپ میں

p-8سال کی ابتدا میں ہی امریکہ نے یہ دعویٰ کیاتھاکہ یہ سال 2016 دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا اور وہ داعش کو بری طرح ناکام بنا دے گا۔مگر کیا امریکہ اپنے اس دعویٰ میں کامیاب ہوسکا؟ کیا اس نے واقعی داعش کو ناکام بنا دیا ہے ؟ اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کا دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے۔گرچہ عراق و شام کے متعدد علاقے اس کے قبضے سے نکل گئے ہیں۔ عراق کے تقریا 70-80فیصد اور شام کے نصف سے زیادہ حصوں میں پسپا ہوکر یہ اپنی کمین گاہوں میں چھپ گئے ہیں مگر اس پسپائی سے اس کی طاقت کمزور نہیں ہوئی ہے بلکہ عراق و شام میں پسپائی کے بعد اس نے اپنا پائوں یوروپین خطوںکی طرف پسارنا شروع کردیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ داعش اگرچہ عراق و شام کے خطے میں پسپا ہوکر روپوش ہوگئے ہیں مگر یوروپ میں ان کے قدم مضبوط ہورہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق داعش کی بہت بڑی تعداد یوروپ کے مختلف ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے اور یہ گروپ یوروپ کے مختلف شہروں میں پھیل کر اپنی جڑیں مضبوط کررہا ہے ۔یوروپی یونین کی پولیس کے سربراہ ریب وینرائٹ کا کہنا ہے کہ داعش کے پانچ ہزار سے زائدعناصر مشرق وسطی میں دہشت گردانہ تربیت حاصل کرنے کے بعد یورپ میں داخل ہوگئے ہیں ۔ان دہشت گردوں کی وجہ سے یوروپ کو گزشتہ 10 برسوں کے دوران سب سے زیادہ دہشت گردی کا خطرہ ہے اور یہ بڑے پیمانے پر عام شہریوں کاقتل عام کرنے کے لئے حملہ کرسکتا ہے۔یہی نہیں ان دہشت گردوں کی تعداد یوروپ میں بڑھتی جارہی ہے جس سے یورپی ملکوں کے سامنے سنگین چیلنج کھڑا کردیا ہے۔ یوروپ کی پولیس نے اندازہ لگایا ہے کہ یورپی یونین سے عراق اور شام میں جا کر لڑنے والے دہشت گردوں کی تعداد 5 ہزار سے زیادہ ہے جن میں سے تقریبا 15سو سے 18 سو تک یوروپ واپس پہنچ گئے ہیں۔یوروپ میں دہشت گردی کے خطرات میں اضافے کے بارے میں یورو پول کا اعلامیہ بڑے یورپی ممالک خصوصا فرانس اور جرمنی میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کے پیش نظر درست معلوم ہوتا ہے۔
یوروپ میں مزید دہشت گردانہ واقعات کا رونما ہونا کوئی بعید نظر نہیں آتا ہے بلکہ دہشت گردانہ حملوں کے متعدد بار رونما ہونے کے مدنظر بعض یوروپی حکام منجملہ فرانسیسی صدر نے واضح طور پر کہا ہے کہ فرانسیسی عوام کو دہشت گردانہ حملوں کے سائے میں زندگی بسر کرنے کی عادت ڈال لینی چاہئے۔ یوروپی حکام اور سیکورٹی ادارے ایسی حالت میں دہشت گردانہ خطرات میں اضافے کی بات کر رہے ہیں کہ جب یوروپی یونین کے بعض بڑے ممالک خصوصا فرانس اور برطانیہ نے امریکہ اور اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام میں دہشت گرد گروہ داعش اور دوسرے دہشت گرد گروہوںکے خلاف فوجی کارروائی کررہے ہیں۔اس طرح فرانس، برطانیہ ،امریکہ اور عرب اتحادیوں کے اس اقدام کی وجہ سے یوروپ میں دو نتائج برآمد ہوئے ہیں۔اول یہ کہ یوروپ کی جانب پناہ گزینوں کا سیلاب امڈ آیا اور یورپی یونین کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ دوم یہ کہ یورپی دہشت گرد عناصر جو کہ یہاں سے جاکر داعش میں شامل ہوئے تھے ،وہ اپنے ممالک کی جانب واپس لوٹے ہیں جس کے نتیجے میں یوروپ میں بھی دہشت گردی پھیل سکتی ہے۔
عراق و شام میں جن علاقوں سے داعش کی پسپائی ہوئی ہے ،ان علاقوں میں داعش کے بہت سے سامان پر بھی قبضہ کیا گیا ہے۔ ان سامانوں میں کچھ دستاویز اور لیپ ٹاپ وغیرہ ہیں۔ان میں سے ایک لیپ ٹاپ کے بارے میں برطانیہ کے (سیاست ڈاٹ کام) پر یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ مغربی ممالک کو نشانہ بنانے کیلئے نام نہاد ’’ڈرٹی بم‘‘ تیار کرنے میں مصروف ہے۔ داعش کے پاس سرقہ کردہ نہایت ہی ریڈیو ایکٹیو میٹریل موجود ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ ریڈیو ایکٹیو میٹریل جس کو محفوظ مقام پر رکھا جاتا ہے، اس کی تفصیلات ضبط شدہ لیپ ٹاپ کمپیوٹر سے ظاہر ہوئی ہے اور یہ ریڈیو ایکٹیو میٹریل لیپ ٹیاپ کمپیوٹر سائز میں رکھا گیا ہے۔ عراق کے شہر بصرہ میں گزشتہ نومبر میں ایک اسٹوریج گودام سے ضبط کردہ لیپ ٹاپ سے مزید معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں عراق کی سیکوریٹی فورسیس کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ہم ریڈیو ایکٹیو عناصر سے خوفزدہ ہیں جو داعش کے ہاتھوں میں آ گیا ہے۔ یہ خطرناک’’ڈرٹی بم‘‘ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے اس بات کا اندیشہ بڑھ رہا ہے کہ داعش اسمگل شدہ میٹریل کو یوروپ میں بڑے پیمانے پر دھماکے کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔بہر کیف داعش جو کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد گروپ ہے، گرچہ عراق و شام میں پسپا ہورہا ہے لیکن وہ اپنی سرگرمیاں یوروپین ممالک میں بڑھا سکتا ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *