کشمیر کا حل کشمیر میں ہے،دلی یا اسلام آباد میں نہیں

پروفیسر عبد الغنی بٹ p-3میں اپنا ایک نقطہ نظر رکھوں گا۔ جب نقطہ نظر کی بات ہوتی ہے تو اس میں آپ کو سیاست کے ساتھ ساتھ تاریخ کا بھی دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ سیاست اور تاریخ کے ساتھ ساتھ نفسیات کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ کشمیر کا جو تنازع ہے اس کے تین پہلو ہیں۔اس میں تاریخ کا بھی پہلو ہے، سیاست کا بھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ نفسیات کا بھی ایک پہلو ہے۔ کشمیر کی ایک اجتماعی نفسیاتی شناخت ہے۔سیاست اورتاریخ دونوں کے سلسلے میں کشمیر کی اس اجتماعی نفسیاتی شناخت کو سمجھنا ہوگا۔ میں آپ کو ایک بات بتائوں، وہ اس لئے نہیں کہ میں کوئی تقریر کرنا چاہوں گا،بلکہ اس لئے کہ بات کو سمجھا جائے۔آگے بڑھنا ہے اور جب آگے بڑھنا ہوتا ہے تو بات کو سمجھنا پڑتا ہے۔ جب آپ آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے ہیں تو بات کو آپ سمجھیں یا نہ سمجھیں، کچھ بھی نہیں ہوگا۔لیکن جب آپ آگے بڑھنا چاہیں گے، بات کو سمجھنا چاہیں گے تو آپ بہت آگے بڑھ سکتے ہیں اور اپنی منزل کو پا سکتے ہیں۔ میں اسی ارادے سے، اسی نیت سے، اسی سوچ سے آگے بڑھنے کے لئے آپ سے بات کررہا ہوں۔ جب آپ ( ہندوستان ) آئے، کشمیر آئے، آپ گرجتے ہوئے آئے ،جب آپ کشمیر آئے تو بندوقوں کے دھماکوں اور جمہوریت کے شورو غل کے ساتھ آئے۔ اس کا اثر یہاں کے اجتماعی شعور پر پڑا۔ سب نے اس کو دیکھا۔ سب نے اس کو پایا۔ سب نے اس کو برداشت کیا۔ ابھی میں کچھ تلخ بات کررہا ہوں، لیکن یہ تلخ بات آپ کو سننی پڑے گی۔ کیونکہ میرا خیال ہے کہ آپ ہندوستان کی سوچ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ آپ ہندوستان کی سوچ کو کچھ بتانا چا ہتے ہیں تو اس لئے آپ کو یہ بات سمجھنی پڑے گی۔ آپ کو پتہ ہے کہ ہندوستان بندوق کی گرج کے ساتھ کشمیر میں داخل ہوا۔ جمہوریت کی شور کے ساتھ آپ نے نعرے لگائے، آپ نے وعدے کئے، جمہوریت کے وعدے کئے کہ ہم اس گرج کے خاتمے کے بعد آپ سے پوچھیں گے، آپ کیا چاہتے ہیں؟کہاں جانا چاہتے ہیں؟ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان جانا چاہتے ہیں؟یہ نہ صرف اس وقت ہوا، جب کشمیر کو آپ کے نام وقف کیا گیا، یعنی جب مہاراجہ ہری سنگھ جی نے انسٹرومنٹ آف ایکسیشن ( الحاق کے کاغذ) پر دستخط کیا۔ اس وقت ہندوستان کے گورنر جنرل نے مہاراجہ ہری سنگھ کو ایک خط لکھا کہ جیسے ہی حالات نارمل ہوجائیں گے ، ہم اس مسئلے کو لے کر عوام کے پاس جائیں گے۔ہم عوام کی سیاسی خواہشات کو بحال کریں گے، چاہے وہ ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہوں یا نہیں۔ ہم ایسا کریں گے۔ اس کو میں جمہوریت کا شور کہتا ہوں ۔ اب دیکھیں کتنا زبردست تضاد ہے ۔جب آپ ان تضادات کے ساتھ ایسی حالت میں پہنچتے ہیں، آپ کہتے ہیں جہاں جو ہونا تھا ہو گیا۔تو اس کا نتیجہ کیا ہے؟نتیجہ یہ ہے کہ کشمیر کی جو اجتماعی روح ہے ،وہ روح زخمی ہو گئی ہے۔ میرے خیال میں اسے بڑا گہرا زخم لگا۔ اس اجتماعی روح کو آپ کو سمجھنا پڑے گا۔ ہمارے اجداد ہندو تھے ،انہوں نے ایک بات چیت کے دوران اسلام کو چنا۔اس لئے میں متعصب نہیں ہوسکتا۔ مذہب کی یہ تبدیلی ایک دانشوارانہ سطح کی بات چیت کے دوران ہوئی اور اس کے معنی یہ ہوئے کہ بالکل خوشی خوشی سب کچھ ہو رہا تھا۔ کوئی جھگڑا نہیں ، کچھ نہیں۔ اس میں ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں شامل نہیں تھیں۔ مگر جو بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ کشمیر کی جو تاریخ ہے،وہ بھائی چارے کی تاریخ ہے۔ اس کی جو خوبیاں ہیں، ان میں اتحاد ہے، مختلف زبانوں کے ساتھ اتحاد، الگ الگ مذہبی عقائد کے ساتھ اتحاد۔ اسے ہم مذہبی رواداری کہتے ہیں۔ہم مذہبی رواداری کی راہ پر گامزن تھے۔لیکن ہماری بد نصیبی یہ کہ ہماری روح کو ایک اور گہرا زخم لگ گیا ۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں کشمیر معاملے میں الجھ گئے۔ اب ظاہر ہے کہ میں (یعنی کشمیر ) چھوٹا، ہندوستان بڑا۔ پاکستان کے مقابلے میں (یعنی کشمیر ) چھوٹا پاکستان بڑا۔ اب تو صورت حال ہی پوری طرح سے بدل گئی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقت بن گئے ہیں۔ اب تو جموں و کشمیر ریاست میں دو نیو کلیائی طاقتیں الجھ گئیں۔اب تو میرا (کشمیر کا ) حلیہ ہی بگڑ سکتا ہے۔ اب تو میری (کشمیر کی ) نسل ہی ختم ہو سکتی ہے۔ اب تو شاید کشمیر کی وجہ سے پورا جنوبی ایشیا ہی نابود ہوسکتا ہے۔ اب تو میں (کشمیر مسئلہ ) نے ایک بڑا وقت لیا ہے۔ہندوستان اور پاکستان جب اپنے برصغیر کے مسائل کو لے کر کشمیر میں الجھ گئے تو یہاں کی اجتماعی روح کو ایک اور زخم لگا۔ ایک تیسرا زخم بھی لگا۔ وہ زخم یہ تھا کہ جواہر لعل نہرو، جو کہ ایک عظیم جمہوری شخصیت تھے، اتنے اعتدال پسند تھے کہ ہندو مذہبی لیڈر انہیں ہندو ہی نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر جموں و کشمیر کے لوگ پاکستان کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں تو اسے لے کر مجھے افسوس ضرور ہوگا،لیکن میں اس فیصلے کو قبول کروں گا۔یہ بین الاقوامی برادری اور جموں و کشمیر کے عوام سے میرا وعدہ ہے۔ یہ 1950 کی دہائی کی باتیں ہیں۔ پھر جب 54 19میں جواہر لعل نہرو کی سرکار کے وزیر داخلہ گووند ولبھ پنت نے ایک بیان دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان اب اس وعدے سے مکر رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں جانے کے وعدے سے مکر رہا ہے ۔سیکورٹی کونسل نے اس جھگڑے کو قائم رکھنے کے لئے تجویز (ریزولیوشن) پیش کئے ہیں۔ انہوں نے اس کو ختم کرنے کے لئے تجویز نہیں بنائے۔ اس لئے بنائے کہ ان میں جھگڑا بنا رہے اور یہ لوگ آپس میں لڑتے رہیں کیونکہ یہ تو ہمارے غلام تھے، ہم ان کے بادشاہ تھے۔ اب ہم کو نکلنا پڑا۔ ان کو آرام سے نہیں بیٹھنے دینا، تو کچھ ایسا ہوا کہ ایسی تجویز آئی کہ ان پر عمل بھی نہیں ہو اور یہاں کی صورت حال بدلتی رہی۔امریکہ اور پاکستان کا سیکورٹی سمجھوتہ ہوگیا۔جواہر لعل نہرو نے کہا کہ اب ریفرنڈم نہیں ہوگا۔ لہٰذا اندر ہی اندر یہاں کی روح پر ایک اور زخم لگا ۔ یہ زخمی روح ہے جو کہ آپ سے بات کررہی ہے۔ آپ نے جب علاج ڈھونڈا، وہ میرے پیٹ کا علاج ڈھونڈا، آپ نے جب علاج ڈھونڈا وہ میری جیب کا علاج ڈھونڈا،میری جیب میں آپ نے روپے وپیسے ڈالا ، میرے پیٹ میں آپ نے چاول ڈالا،گیہوں ڈالا،لیکن میری جو زخمی روح تھی، اس کی طرف آپ نے کبھی دھیان نہیں دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیری،جو کہ مذہبی رواداری کا مبلغ تھا ،اس نے بندوق اٹھا لیا۔ پھر دوسری کہانی شروع ہوئی۔ اتنے میںہندوستان اور پاکستان دونوں نیو کلیائی طاقت بن گئے،اور پھر ظاہر ہے، اب جب آپ کشمیر کا دورہ کریں گے، آپ دوستوں سے ملیں گے، لوگوں سے ملیں گے، وہ اپنی اپنی کہانی بتائیں گے، لیکن میں آپ کے ایک لفظ کو لے کر آگے بڑھا، آپ کو بتا دیا کہ اگر کشمیر کے مسئلے کو سمجھنا ہے تو ایسے سمجھنا چاہئے کہ آپ میرے مادی مسائل کا حل نکال رہے ہیں،میرا جو روحانی مسئلہ ہے اسے آپ دیکھنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ اس سے کچھ نہیں ہوگا۔میری زندگی مادی اور روحانی دونوں پہلوئوں کا مرکب ہے۔جیسے کسی دیگر آدمی کی ہوتی ہے۔ تو اب صورت حال کونفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ سیاسی اور تاریخی طور پر کشمیر مسئلہ تقسیم کے بھنور سے پیدا ہوا۔ اس تاریخ کو دوہرانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، لیکن بات کو سمجھنا پڑے گا۔ ان میں دو تین باتیں بہت ہی اہم ہیں۔ پہلی، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طاقت کا توازن بحال ہو گیا ہے۔ ہندوستان جتنا طاقتور ہے پاکستان بھی اتنا ہی طاقتور ہے۔ یہ تعداد یا شیپ کی وجہ سے نہیں بلکہ نیو کلیائی طاقت کی وجہ سے ہے۔ میری جو سمجھ ہے، اس کے مطابق میں کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان کبھی جنگ نہیں لڑ سکتے۔لیکن جو بات مجھے فکر مند کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں لگاتار جنگ کی حالت میں ہیں۔ یعنی جب آپ جنگ کی حالت میں ہوں، تب آپ جنگ نہیں کرتے ہیں،لیکن آپ جنگ کی حالت میں الجھے رہتے ہیں۔ تب آپ کے دماغ میں، آپ کے دل میں، آپ کی روح میں، گلیوں میں ، سرکاری دفتروں میں، سرحدی لائنوں پر اور سب جگہ جنگ جیسی صورت حال چل رہی ہوتی ہے اور میرے خیال میں جنگ کی حالت نیو کلیائی جنگ سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ اس چیز سے باہر نکلنا پڑے گا۔ دوسرا ،کشمیر ابال پر ہے اور اس ابال میں شاید میں آپ کو دکھائی نہ دوں،میرا بیٹا دکھائی دے گا،میرے بیٹے کا بیٹا دکھائی دے گا، شاید اس کا بیٹا بھی دکھائی دے گا۔میں نے ایک بچے کو دیکھا ہے ۔ شاید آپ نے بھی دیکھا ہو، وہ6 سال کا ہے۔ وہ غلیل ہاتھ میں لئے ہوئے ہے ۔ وہاں کوئی فوج نہیں ہے، کوئی سی آر پی ایف نہیں ہے، کوئی کشمیر پولیس نہیں ہے، کچھ نہیں ہے۔ لیکن وہ ایک بند دکان کے باہر بیٹھا ہوا ہے۔میں اس کے انداز کو دیکھ رہا تھا، اس کے اسٹائل پر غور کر رہا تھا اور اس کی چھوٹی سی، معصوم سی سوچ کو بھی پرکھ رہا تھا۔ تبھی میں نے یہ سوچا کہ یہ جھگڑا اب عمر کے لحاظ سے 80 سال اور بڑھ گیا ہے۔یہ بچہ تو ابھی 6 سال کا ہے۔ اگر اس کی 90 سال عمر رکھی جائے تو کیا کب تک چلے گا یہ جھگڑا۔ اب آپ اسے یوں سمجھیں کہ چھوٹے لڑکے ،وہ جوان جوکہ 15 سال، 16 سال، 18 سال ،20 سال کے میدان میں ہیں، اس سے اس جھگڑے کی عمر 80 سال اور بڑھ گئی ہے۔یہ باتیں آپ کو ہارون رشی نہیں بتائیں گے۔ میں بتاتاہوں اور جب یہ نوجوان آتے ہیں میدان میں تو وہ دلیل کی بنیاد پر نہیں آتے ہیں، بلکہ یہ جذبات کی بنیاد پر آتے ہیں۔ جذبات آپ کو کبھی کبھی پاگل پن کی حد تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس میں کبھی کبھی کچھ خرابیاں بھی ہو جاتی ہیں اور ان خرابیوں کے نتیجے میں جو حصہ داری ہوتی ہے، وہ بہت گہری ہوتی ہے۔ ایک اور داغ، ایک اور زخم،ایک اور درد۔پیلیٹ گن سے آپ نے میرے بیٹے کی آنکھ کی روشنی چھین لی۔ دوسرا کہتا ہے،کہ اس نے یہ روشنی کھوئی، لیکن آپ کا مستقبل بہتر بنانے کے لئے ۔ میں نے یہ سر کٹتے دیکھا، جو آپ کا سر بلند دکھنے کے لئے کٹا ۔یہ سبق پڑھایا جارہا ہے کشمیر میں ،تو کشمیر میں جو ابال ہے، اس کے سیاق و سباق کو بھی دیکھنا ہوگا۔میرا یہ خیال ہے کہ بہت گہرائی کے ساتھ دیکھنا پڑے گا، اس میں غصے کی کوئی بات نہیں۔ آپ غصہ نہ کریں، میں بھی غصہ نہیں کروں گا۔ غصہ کیا تو کہاں جائیں گے۔ کوئی راستہ نہیں ہے۔ کوئی منزل نہیں ہے۔ایک بات ضرور ہے کہ اگر ہم اس کو سمجھ پائیں تو راستہ دکھائی دے گا۔ سیدھا،ہموار اور منزل تک پہنچنے والا راستہ دکھائی دے گا۔ ابھی جو کشمیر میں ہو رہا ہے، وہ غصہ ہے۔ادھر سے بھی غصہ ہے، ادھر سے بھی غصہ ہے۔ یہ غصہ کہاں لے جائے گا، اس کا اندازہ تو آپ کرسکتے ہیں ،یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ایک تو جنگ کی حالت سے نکلنا ہوگا۔دوسرے اس ابال سے بھی نکلنا ہوگا۔ اب تیسری بات آ تی ہے۔ شاید یہ چھوٹے منہ سے بڑی بات ہو۔لیکن کبھی کبھی چھوٹے منہ سے بڑی بات بھی سنی جانی چاہئے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اچھائی ہی اچھائی ہے۔ جب آپ میری بات سنیں گے ، تب میں آپ کی بات سنوں گا۔دل کھول کر بات کریں گے، تو بات بنے گی۔ آپ کے دل کی وسعت میرے دل میں گھر کرسکتی ہے۔اس لئے جو بات میں کہہ رہاہوں وہ سننا ہے، غصہ نہیں کرنا ہے۔عملی سطح پر جو گٹھ جوڑ بن رہے ہیں، ان کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ ان گٹھ جوڑوں کو، میں تفصیل سے بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کررہا ہوں۔ ان کے بارے میں آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ آپ چین کو جانتے ہیں، آپ امریکہ کو جانتے ہیں، آپ ہندوستان کو جانتے ہیں، آپ پاکستان کو جانتے ہیں، آپ ایران کو جانتے ہیں،آپ افغانستان کو جانتے ہیں،آپ مشرق وسطیٰ کو جانتے ہیں، آپ وسط ایشیائی ملکوں کو جانتے ہیں ،آپ افریقہ کو جانتے ہیں۔لیکن جو گٹھ جوڑ بن رہے ہیں، ایک تو یہ کہ وہ باہم متضاد ہیں،کیونکہ تبھی تو مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ دنیا کے دو سب سے زیادہ طاقتور ملک چین اور امریکہ جنوبی ایشیا کے معاملوں میں ملوث ہیں۔ یہ بہت اہم اور خطرناک خطہ ہے۔ یہاں جھگڑے بھی ہیں۔ اس میں ایک جھگڑا کشمیر کا بھی ہے۔ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان لڑائی ہوتی ہے، تو ہمارا کام تمام ہو جائے گا۔کیونکہ چین کے اپنے مقصد ہیں، امریکہ کے اپنے مقصد ہیں۔ ہمارا کوئی ہدف دکھائی ہی نہیں دیتا ہے، باوجود اس کے کہ ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کو گالی دیں۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس کو میں اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ہوں۔ اس کو جانا پڑے گا۔اس حالت سے بھی نکلنا پڑے گا۔ہندوستان کو بھی اور پاکستان کو بھی۔ کسی صورت میں بھی نکلنا پڑے گا۔ نہیں تو میرا خیال ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ایک دشواری میں گھر جائیں گے۔ پھر نہ رادھا ناچے گی اور نہ بانسری بجے گی۔ ایک دو لمحے میں ہمارا کام تمام ہو چکا ہوگا۔ اس سے بھی نکلنا پڑے گا، تو تین بڑی مصیبتوں سے نکلنا ہوگا۔ کیسے نکلیں گے؟اگر میں یہ کہوں کہ لڑائی لڑیں گے ،تو یہ تو ایک اور مصیبت ہے۔ ہمیں لڑائی نہیں لڑنی ہے، ہمیں غصہ چھوڑنا ہوگا۔ اس سے نکلنے کے لئے ہمیں سوجھ بوجھ سے کام لینا پڑے گا، سمجھداری سے کام لینا پڑے گا۔تین چیزیں مجھے دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک حقیقت پسندی، دوسرا تخلیقی سوچ اورتیسرا مفاہمت پسندی۔انہی تین چیزوں کو لے کر ہم اس مصیبت سے نکل سکتے ہیں۔ کیسے نکلیں ،شروع کریں کیسے؟شروع کرنے کے لئے جو چیز بہت ضروری ہے، شاید ناگزیر ہے،وہ ہے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بامعنی اور وسیع بات چیت۔اس بات چیت کا ہندوستان اور پاکستان میں جو سب سے بڑا مثبت نتیجہ دکھائی دے، اس سے کشمیر میں ایک خوشگوار تبدیلی آجائے گی۔ کشمیر کے حالات میں سدھار دہلی اور اسلام آباد کے ہاتھوں میں ہے، جموں و کشمیر میں نہیں ہے۔ میں تو ایسے ہی سوچتا ہوں، غلط صحیح۔دلی اور اسلام آبادکو جنوبی ایشیا کے مفاد کے لئے ایک دوسرے کے رابطے میں رہنا چاہئے۔ مجھے ایسا لگ رہاہے کہ کشمیر جنوبی ایشیا کے مستقبل کے ساتھ اب جڑ چکا ہے۔اس خطے کے دو طاقتور ملکوں ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ جڑ چکا ہے۔ اب ان کے درمیان لڑائی کتنا خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس لئے بہت ضروری ہے کہ ہندوستان اور پاکستان بات چیت شروع کریں۔ اس کا جو خوشگوار نتیجہ آئے گا، وہ یہ کہ لوگ کشمیر میں سمجھیں گے کہ اب کچھ ہو رہا ہے۔ کچھ حرکت ہور ہی ہے۔ تو یہ سب ٹھیک ہو جائے گا یہاں۔ دوسرا جب ہندوستان اور پاکستان کے بیچ بات چیت شروع ہوگی تو ہم دلی جائیںگے، دہلی والوں سے بات کریںگے،ہم پاکستان جائیں گے، پاکستان والوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ہم دونوں کی بھلائی کی بات کریں گے۔ ہم ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہوں کے لوگوں کو پیار کرتے ہیں۔ اس کا کوئی غلط اندازہ نہ لگایا جائے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں نے کہا تھا کہ ہم مذہبی رواداری کی نمائندگی کرتے ہیں۔ میں دہلی کے لوگوں سے پیار ، محبت اور سنجیدگی سے بات کرتا ہوں، تو ان چیزوں کو دیکھنا پڑے گا۔ اگر میں پاکستان جائوں گا تو وہاں بھی وہی کروں گا۔ میں ان سے بات کروں گا،میں ان سے وسعت خیال کے ساتھ بات کروں گا اور یقین اور میل ملاپ سے بات کروں گا تاکہ ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب آئیں اور جنوبی ایشیا کے حالات کو استحکام دے سکیں۔ اس میں ہماری جو شراکت داری ہوگی،وہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لئے بہت مثبت ہوگی۔ کشمیر سے متعلق کچھ باتیں آپ سے ابھی نہیں کروں گا جس کا مجھے افسوس ہے،مجھے کرنا چاہئے تھا، کیونکہ پہلے اس پر مجھے تھوڑا سوچنا ہے۔ جہاں میں یہ سوچتا ہوں جہاں ہم مذہبی رواداری کی راہ پر چلنے کی اپنی ذمہ داریوں کو اٹھائیںگے ،یہ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ تمام جنوبی ایشیا پر ہمارا قرض ہے اور شاید یہ ہمارے مستقبل کی نسل کا قرض ہے۔ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ مستقبل کی نسل کو ایک ایسا خطہ ملے جو تنائو سے بھرپور ہو۔ ہم آنے والی نسلوں کو ایک خوشحال اور پُرامن کل دینا چاہتے ہیں۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ ہم ایسی حکمت عملی پر کام کریں گے جس سے ایک پُر امن ، خوشحال جنوبی ایشیا کی تعمیر ہوگی۔ اب ایک سوال کہ جواہر لعل نہرو اور گووند ولبھ پنت اپنے وعدے سے نہ پھرتے اور انہوں نے رائے شماری کروائی ہوتی تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا؟میرا خیال ہے کہ اس سوال میں پنہاں خطروں کے مد نظر اس میں الجھنا ہی نہیں چاہئے۔کیونکہ آپ کا ایک بہت بڑا مشن ہے۔ آپ کا ایک بہت بڑا رول ہے۔ اگر آپ اپنے آپ کو تاریخ کا قیدی بنائیں گے، تو آپ اس سے نکل نہیں پائیں گے۔ ہمیں تاریکی سے روشنی کی طرف جانا ہے۔ میں سرنگ کے اُس جانب اپنی آنکھوں سے روشنی دیکھ رہا ہوں۔ آپ ان تاریخی گتھیوں میں مت الجھئے۔ لیکن ابھی کشمیر میں جو اشتعال ہے ،اس کی انتہا کیا ہے؟اس کا حل کشمیر میں ہے۔ دہلی یا اسلام آباد میں نہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے آپ سے کہاکہ گاڑی کو اسٹارٹ کرنے والے دلی اور اسلام آباد والے ہیں۔ راستہ کہاں جانا ہے، یہ میں بتاتاہوں۔لیکن آپ گاڑی تو اسٹارٹ کریں نہ،آپ گاڑی کو اسٹارٹ ہی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ مجھ سے کہتے ہیں کہاں جانا ہے۔گاڑی ہے آپ کے پاس ،گاڑی ہے اس کو اسٹارٹ کرنا ہے۔میری رائے میں ہندوستان اور پاکستان کے بیچ بات چیت ضروری ہے اور شاید بات چیت میں ہی مسئلے کے حل کی چابی ہے۔ اگر ہندوستان اور پاکستان کے بیچ بات چیت ہو تی ہے، تو جیسا کہ میرا ایمان ہے کہ دروازے کھل جائیں گے۔ مواصلات کے راستے، اچھائی کے راستے اور ہم اپنے مسائل کا حل ڈھونڈ لیں گے۔ ہمارا ایک ہی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارے ہندوستان اور پاکستان کے سرکاروں کے ساتھ مسائل ہیں جن کا حل نکلنا ہوگا۔عقل سے نکالنا ہے۔ آپ عقل کو اگر چھٹی دے دیں گے تو پھر کچھ نہیں ہوگا۔آپ ہندوستان و پاکستان دونوں سرکاروں کو گزشتہ کئی سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔ آپ کے حساب سے بات چیت شروع نہیں کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ اب رہی بات یہ کہ ان دونوں ملکوں کے بیچ بات چیت نہیں شروع ہونے کا ذمہ دار کون ہے تو میرا جواب ہوگا کہ میں کبھی کبھی صوفی شاعر جلال الدین رومی کو پڑھتاہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک صوفی ایک ہی لمحے میں عظمت کی گدی پر براجمان ہو سکتا ہے۔ مجھ جیسا آدمی ماضی میں کھو جاتاہے،آگے کی نہیں سوچتا ہے۔وہ اپنی زندگی لگا دیتا ہے، لیکن کہیں نہیں پہنچ پاتا ہے۔ میری صلاح ہے کہ ان سوالوں کو اپنے دماغ سے نکال دیں، جو ہوا سو ہوا، اب آگے کی سوچی جائے۔یہ میرا مشورہ ہے۔ (یہ مضمون سری نگر دورے پر دہلی سے گئی تین رکنی صحافیوں کی ٹیم کے ساتھ سینئر حریت رہنما پروفیسر عبد الغنی بٹ کی بات چیت پر مبنی ہے)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *