اس پہیلی کا ملک جواب جاننا چاہتا ہے

مجھے کسی دوست نے سوال بھیجے ہیں، سوال کیا، بلکہ پہیلی بھیجے ہیں۔ میں اس پہیلی کا جواب نہیں تلاش کر پارہا ہوں اور مجھے اس میں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ مدد اس لئے چاہئے تاکہ آپ اپنے دماغ کا استعمال کر کے میرے جیسے لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ اس کا کوئی جواب ہے بھی یا نہیں یا آپ کے دماغ کا وہ گوشہ جو کہ سویا ہوا ہے، اس کا جواب تلاش کر پاتاہے یا نہیں۔ پہیلی شروع ہوتی ہے اڑی حملے سے کہ کیا اڑی حملے کے پردے کے پیچھے ہندوستانی سرکار کے ایک قوی آدمی نے ایک صنعتکار کو اور بڑا صنعتکار بنانے کے لئے خزانہ کھول دیا ۔ 59 ہزار کروڑ روپے کا سودہ چپکے سے کس صنعتکار کی جھولی میں ڈال دیا گیا؟
اڑی حملے کا اب تک کوئی سراغ کیوں نہیں ملا؟ہم، جو 125کروڑ لوگوں کے ملک میں ہیں، جن کے پاس اتنی بڑی خفیہ ایجنسیاں ہیں، وہ آنے والے حملہ آوروں یا دہشت گردوں کا سراغ نہیں لگا سکیں۔ حالانکہ ہم بے انتہا پیسہ صرف جاسوسی پر خرچ کرتے ہیں، لیکن حملے کے بعد بھی ہم اب تک کوئی سراغ کیوں نہیں لگا سکے کہ ہمارے اندر کے وہ کون لوگ تھے، تھے بھی یا نہیں، جنہوں نے حملہ آوروں کی مدد کی اور انہیں ریڈ کارپیٹ بچھاکر فوج کے کیمپ پر حملہ کرنے کا راستہ دیا۔ وہ کون لوگ تھے، جنہوں نے ہائی وولٹیج بجلی کی سپلائی روک دی، تاکہ تاروں کو دہشت گرد یا حملہ آور آسانی سے کاٹ سکیں؟وہ کون لوگ تھے، جنہوں نے اڑی میں خالی بیرک ہوتے ہوئے بھی فوج کے جانباز جوانوں کو فیول ڈمپنگ کے پاس کیمپ لگانے کی اجازت دی؟جیسے ہی فیول ڈمپنگ میں بلاسٹ ہوا، کیمپ میں لپٹ کر یہ زندہ جل گئے۔ وہ کون آفیسر تھا یا کون طاقتور آدمی تھا جس نے اڑی کیمپ کی سیکورٹی میں رات میں دس لوگوں کو بھی ڈیوٹی پر نہیں لگایا تھا؟
اب اڑی حملے کا ذکر اچانک میڈیا سے کیوں غائب ہو گیا؟کیا اس کے پیچھے بھی کسی کا اشارہ ہے، کیونکہ اڑی حملہ ہماری کمزوریوں کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ اڑی میں 18 جوانوں کی شہادت ہمیں ہماری کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے بھی نہیں متنبہ کرتی۔کیا اڑی حملے سے ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا؟
کیا یہ ایک اتفاق ہے کہ اڑی حملے کے فوری بعد ہماری سرکار نے ایک کمپنی سے 59 ہزار کروڑ کے جنگی جہاز خریدنے کا سودہ کر لیا اور ہمارے ملک کے ایک بڑے صنعتکار کی کمپنی، اس کمپنی کی شیئر ہولڈر یعنی 55فیصد کی حصہ دار بن گئی۔کیا اڑی میں فوجیوں پر حملہ ہونے کے فوری بعد آرڈر دیا گیا، تاکہ عوام میں غصے کا احساس پیدا کر کے یا جنگ کا ماحول بناکر اس سودے کی خبر بھی نہ ہو اور وہ اس میں حصہ لینے کی ہمت بھی نہ جمع کر پائیں۔اڑی حملے کا ملک کو زبردست نقصان ہوا،آدمیوں کی شکل میں اور احساس کی شکل میں بھی ، وقار کے اوپر حملہ ہوا،لیکن اس حملے میں سب سے زیادہ فائدہ کسے ہوا؟ہمارے ملک کے کس بڑے صنعتکار کو اس کا فائدہ ہوااور سرکار میں کن لوگوں کو اس کا بڑا فائدہ ہوا؟کیا یہ بھی غلط ہے کہ یہ جنگی جہاز پہلے سے بہت مہنگی قیمتوں پر خریدے گئے اور ملک کو اس سے کئی ہزار کروڑ کا نقصان ہواہے۔
کیا یہ غلط ہے کہ اب اچانک اسی گھرانے کادوسرا سپوت بھی جنگی جہاز کے کاروبار میں آگیا اور ان کو بھی کئی ہزار کروڑ کے جنگی جہاز خریدنے کا آرڈر دیا جائے گا۔ آنے والے تہواروں میں پھر سے حملہ ہونے کا خوف ظاہر کیا جارہا ہے اور کہیں پر کوئی واردات ہو گئی تو مزید جنگی جہاز خریدنے کا سودہ اس دوسرے صنعتکار گھرانے کو دیئے جائیں گے۔
یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ اس بڑے صنعتکار کے ٹیلی ویژن چینل ہیں اور اخبار بھی اور تقریباً ملک کے ہر بڑے میڈیا میں ان کی بڑی حصہ داری ہے۔ یہ سارے چینل اور اخبار ملک میں دوسری پارٹیوں کے خلاف لوگوںکو بھڑکانے میں بری طرح سے لگے ہوئے ہیں۔
وہ کون صنعتکار ہے، جس کے لئے ہمارے وزیر اعظم پر ماڈلنگ کا الزام لگ رہاہے۔ پانچ گھنٹے میں وزیر اعظم کو ماڈل بناکر ساری دنیا میں اپنی طاقت دکھانے والا یہ صنعتکار گھرانہ کون سا ہے؟وہ کون سا گھرانا ہے، جس پر ملک کی سوا لاکھ کروڑ کی گیس چرانے کا الزام لگا ہے اور جس الزام کو اخبار اور میڈیا ملک کے سامنے نہیں رکھ رہے ہیںکیونکہ زیادہ تر میڈیا گھرانوں میں اس صنعتکار کی حصہ داری ہے۔کیا اس صنعتکار کے 75 ہزار کروڑ گجرات سرکار نے معاف کر دیئے ہیں اور سب سے بڑی چیز کہ کیا اس صنعتکار کے سالے کو ریزرو بینک کا گورنر بنا دیا گیا ہے اور اس سے بھی بڑی بات یہ کہ سپریم کورٹ نے اس صنعتکار گھرانے پر جرمانہ لگایا تو اس کی فائل ہی غائب ہو گئی۔
ہمارے وزیر اعظم نے ایک بہت مشہور بیان دیا تھا۔میں ایک بنیا ہوں اور کاروبار میرے خون میں ہے۔ وزیر اعظم جی کے اس بیان کا استعمال کرکے کیا کچھ لوگ ملک کی سیکورٹی سے کھلواڑ کرنے کا منصوبہ تو نہیں بنا رہے ہیں اور ہم ملکی دیوانگی میں آکر پاکستان سے لڑنے کے لئے نعرے بازی کررہے ہیں۔ اس پہیلی کے جواب آپ کے پاس ہیں اور مجھے پوری امید ہے کہ اس پہیلی کا جواب مجھے بھیجیںگے۔ میں آپ کو ایک شعر میں شریک کرنا چاہتا ہوں۔یہ مجھے کسی نے بھیجا ہے جس نے بھیجا ہے، اپنا ام نہیں لکھا ہے، لیکن مجھے یہ شعر لگتا ہے کہ آپ کو بتانا چاہئے:
یودھ ہوتا ہے
سرکاریں نہیں، سینک لڑتے ہیں یودھ
راجا نہیں، پرجا لڑتی ہیں یودھ
کچھ سینک اس ملک کے مرتے ہیں
کچھ سینک اس دیش کے مرتے ہیں
پھر صلح ہوتی ہے
سمجھوتہ ہوتا ہے
سندھی ہوتی ہے اور پھر
سب شانت ہو جاتا ہے
لیکن اتنا بھر نہیں ہے یودھ
یودھ بہت سارے کام کرتا ہے
یودھ راج نیتی بھی کرتا ہے
یودھ مہنگائی کو نیا یوچت ٹھہراتا ہے
یودھ گڑبڑاتے ہوئے جنادھار کو روکتا ہے
یودھ گرتی ہوئی ساکھ کو تھامتا ہے
یودھ کھسکتی ہوئی کرسی کو سنبھالتا ہے
یودھ گھوٹالوں کو بھلوا دیتا ہے
یودھ جاسوسی کانڈ کو چھپا دیتا ہے
یودھ سوسائڈ نوٹ کو دبا دیتا ہے
یودھ تڑی پار کو بچا دیتا ہے
یودھ دھیان بھٹکا دیتا ہے
یودھ ہوتے نہیں ہیں
یودھ نِرمت کئے جاتے ہیں
یودھ گڑھے جاتے ہیں
اس کے چرتر کی پری بھاشا کی جائے
جو اِس ملک کو بھی ہتھیار بیچتا ہے
جو اُس ملک کو بھی ہتھیار بیچتا ہے
اور پھر دونوں سے کہتا ہے
شانتی سے رہنا سیکھیں
میں آج اس ایڈیٹوریل میں آپ سے رائے چاہوں گا اور یہ گزارش کروں گا کہ کیا ہم کچھ سچائیوں کو دیکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں، تاکہ ہم یہ پہچان سکیں کہ ہمارے اپنے ملک میں کمزوریاں کہاں کہاں ہیں اور ہم انہیں بھی پہچان سکیں جو ان کمزوریوں کا، ہمارے جذبات کا فائدہ اٹھا کر لوٹ کے ایک بڑے گرنتھ کا کردار لکھ رہے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *