اقتصادی نقطہ نظر سے اعدادو شمار حوصلہ افزا نہیں

ملک کی سیاست میں اتھل پتھل ہے، کیونکہ قوم پرستی کے لفظی جال نے حقیقی بحث کی جگہ لے لی ہے۔ سیکورٹی فورس،مطلب نیم سیکورٹی فورس اور سرکار کے دوسرے سیکورٹی سسٹم ہمیشہ اپنا کام اچھی طرح سے کرتے ہیں۔یہ بات سچ ہو سکتی ہے کہ کابینہ کی سیکورٹی کمیٹی نے سرجیکل اسٹرائک کرنے کے لئے فوج کو کلیئرنس دیا ہو۔لیکن مرکزی وزیروں کے ذریعہ اس کا کریڈٹ لینا بچکانہ ہے۔ جیسا کہ سابق فوجی سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ اس طرح کے اسٹرائک پہلے بھی ہو چکے ہیں اور ایل او سی کے پاس موجود فوجی اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ معیار کے حساب سے اس بار فرق پڑا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ سرجیکل اسٹرائک بی جے پی کی کامیابی ہے۔ راہل گاندھی نے صحیح بات غلط لفظوں میں کہی۔ وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ بی جے پی فوج کے ذریعہ بہائے گئے خون سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ اپنی بات رکھنے کے لئے راہل گاندھی کے ذریعہ ہندی لفظ کا انتخاب ٹھیک نہیں تھا۔لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ موہن بھاگوت نے راہل گاندھی کے شک کو یہ کہہ کر صحیح ثابت کر دیاکہ یو پی انتخاب میں سرجیکل اسٹرائک کا سیاسی استعمال کیا جائے گا۔ تو پھر راہل گاندھی کی تنقید کیوں کی جارہی ہے؟بیشک ان کے لفظوں کے انتخاب پر تنقید کی جاسکتی ہے، لیکن انہوں نے جو کہا ، اس کی تنقید نہیں کر سکتے،کیونکہ بی جے پی کے چیف کے چیف (موہن بھاگوت) نے اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ سرجیکل اسٹرائک کا سیاسی فائدہ اٹھایا جائے گا۔کل ملا کر یہ افسوسناک صورت حال ہے۔یہ افواہ ہے کہ راجناتھ سنگھ اس کامیابی کی بنیاد پر اتر پردیش انتخاب میں پارٹی کی قیادت کریں گے۔ بنگلہ دیش کی تشکیل کے بعد جب اندرا گاندھی نے انتخاب جیتا تھا تب بالکل الگ ماحول تھا۔ ابھی ایسا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا ہے،نہ ہی پاکستان کی تحلیل ہوئی ہے۔ جہاں تک اسٹرائک کا سوال ہے توپاکستان تو اکثر اسٹرائک کر رہا ہے، آپ نے ایک بار کیا۔ اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ اس کو لے کر آپ کو نہ تو معذرت خوا ہ ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی شور مچانے کی۔ اس سے کسی کا فائدہ نہیں ہوگا۔

اقتصادی نقطہ نظر سے اعدادو شمار حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ صنعتی ترقی پچھڑ رہی ہے۔اتر پردیش انتخاب میں سرجیکل اسٹرائک کو ایشو بنانے کی بات چل رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انتخاب کے دوران کئے گئے وعدے پیچھے رہ گئے ہیں۔یہ بہت افسوس کی بات ہے۔پاکستان ہمارا پڑوسی ہے اور ہمیشہ پڑوسی رہے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب بھی ہم پاکستان کے خلاف کارروائی کریں گے، ہمارے مسائل ختم ہوجائیںگے۔ ہمارے مسائل وہیں ہیں۔بیشک وہ ایک دن میں حل نہیں ہو سکتے۔ وزیر اعظم نے اپنے انتخابی تقریروں میں جو وعدے کئے تھے ،اب انہیں لگ رہاہے کہ اسے پورا نہیں کیا جاسکتا ۔ ترقی اپنی رفتار سے ہوگی۔لیکن صنعتی ترقی کا پچھڑنا ایک سنگین موضوع ہے۔ لیکن یہ متوقع تھاکیونکہ میک ان انڈیا، از آف ڈوئنگ بزنس صرف نعرے تھے۔ جو کوئی بھی ہندوستان میں کارپوریٹ اور بزنس کی جانکاری رکھتا ہے، اسے پتہ ہے کہ یہاں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ انکم ٹیکس محکمہ ، کسٹم محکمہ وغیرہ کے طریقہ کار میں کوئی بدلائو نہیں ہوا ہے۔وہاں بد عنوانی کی سطح میں بھی کوئی بدلائو نہیں ہوا ہے۔ وہاں کی مشکلیں جوں کی توں ہیں۔

حالانکہ وزیر اعظم کہتے رہتے ہیںکہ آئین ایک مقدس کتاب ہے، سبھی مذاہب ایک برابر ہیں،لیکن ان کے کام سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ۔ کشمیر اس کی مثال ہے۔ بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ سرکار بنائی، جس کی وجہ سے پی ڈی پی نے بھی اپنا اعتماد کھو دیا۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ بی جے پی آرٹیکل 370 ختم کرنا چاہتی ہے۔ اگر کشمیریوں کے ساتھ آپ ایسا کریں گے تو باقی مسلمان کیا سوچیں گے کہ کشمیریوں کے ساتھ ان کا سمجھوتہ ہے اور الحاق کا دستاویز موجود ہے، تو یہاں ہماری سیکورٹی کا کیا۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ان کے اندر عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے

اب کہا جارہاہے کہ جی ایس ٹی ایکٹ اپریل سے لاگو ہوگا جو شاید ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔لیکن دوسرے ملکوں جہاں جی ایس ٹی لاگو ہوا ہے، وہاں کا تجربہ بتاتاہے کہ جب یہ لاگو ہوتا ہے تو مہنگائی کا اوسط بڑھ جاتا ہے۔یہ مہنگائی کا اوسط تین سے پانچ سال کے بعد قابو میں آتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔
مسلمانوں کے تین طلاق کو لے کر بحث شروع ہوئی ہے۔ دراصل اس ایشو پر عدالتی فیصلے کی نہیں بلکہ ترکی کی طرح کئی مسلم ممالک ہیں جہاں طلاق اور مسلم پرسنل لاء سے متعلق بہت ہی مربوط قانون ہیں۔ہمیں یہاں مسلم لیڈروں کو آپس میں بحث شروع کرنے کے لئے راغب کرنا چاہئے تاکہ میاں بیوی جب الگ ہوں تو اس کے لئے کوئی زیادہ مہذب طریقہ اختیار کیا جائے۔ تین طلاق اور بیوی کو گھر سے نکال دینا شریعت کے حساب سے شاید جائز ہو، لیکن یہ مہذب طریقہ نہیں ہے، جس پر مسلمان سمیت سبھی متفق ہیں۔ لیکن یہ سماجی بدلائو ہے جسے ڈیولپ ہونے دینا چاہئے نہ کہ کسی عدالتی فرمان کے ذریعہ لاگو کرنا چاہئے۔کیونکہ یہ موثر نہیں ہوگا۔
حالانکہ وزیر اعظم کہتے رہتے ہیںکہ آئین ایک مقدس کتاب ہے، سبھی مذاہب ایک برابر ہیں،لیکن ان کے کام سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ۔ کشمیر اس کی مثال ہے۔ بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ سرکار بنائی، جس کی وجہ سے پی ڈی پی نے بھی اپنا اعتماد کھو دیا۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ بی جے پی آرٹیکل 370 ختم کرنا چاہتی ہے۔ اگر کشمیریوں کے ساتھ آپ ایسا کریں گے تو باقی مسلمان کیا سوچیں گے کہ کشمیریوں کے ساتھ ان کا سمجھوتہ ہے اور الحاق کا دستاویز موجود ہے، تو یہاں ہماری سیکورٹی کا کیا۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ان کے اندر عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔،انہوں نے بھی جوابی کارروائی کی جو ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس پر بہتر سوچ کو اپنایا جائے گا اور دانشور لوگ اس کا دائمی حل تلاش کریں گے جو حرارت کو کم کرے گا اور امن قائم کرے گا اور عوام کے الگ الگ طبقوں کے غصے کو ختم کرے گا۔ یہ کام کون کرے گا ،ہمیںمعلوم نہیں ہے۔وزیر اعظم اپنے انتظامی امور میں مصروف ہیں،لیکن ان کی پارٹی میں ایک گروپ ہونا چاہئے جو دائمی بنیاد پر اس مسئلے کو نمٹانے کی کوشش کرے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *