انّوسینس نیٹ ورک کی پہلی عوامی عدالت بے گناہوں کا درد

اب عمومی گفتگو میںاس بات کا اعتراف کیا جانے لگا ہے کہ جھوٹے دہشت گردانہ معاملوں میںلوگوں کو محض اپنی مذہبی شناخت کی بنیاد پر ملوث کیا جاسکتا ہے۔ اس کا اندازہ مالیگاؤں اور مکہ مسجد بلاسٹوں کے معاملوںمیںتحقیق کے دوران ہوتا ہے۔ لہٰذا انّوسینس نیٹ ورک نے حال میںدہلی میںاپنی پہلی عوامی عدالت بلائی جس میںعدالتوںکے ذریعہ بری کیے گئے 11 بے گناہ افراد نے اپنا اپنا معاملہ 9 رکنی جیوری کے سامنے پیش کیا۔ جیوری عنقریب اپنا فیصلہ سنائے گی تاکہ بے گناہ افراد کی گرفتاری کا سلسلہ رکے اور جو لوگ جیل سے باہر آئے ہیں، انھیں معاوضہ دیا جائے او ر ان کی مکمل آباد کاری ہو۔ نیز ہمارا ملک جس نے انٹر نیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پالیٹیکل رائٹس (آئی سی سی پی آر) پر 168 ممالک کے ساتھ دستخط کر رکھا ہے ، جلد اس سلسلے میں متعلقہ قوانین بنائے۔ نمونے کے طور پر اس پہلی عوامی عدالت کی تفصیلات پیش کی جارہی ہیں۔

p-1اب عمومی گفتگو میںاس بات کا اعتراف کیا جانے لگا ہے کہ جھوٹے دہشت گردانہ معاملوں میںلوگوں کو محض اپنی مذہبی شناخت کی بنیاد پر ملوث کیا جاسکتا ہے۔ اس کا اندازہ مالیگاؤں اور مکہ مسجد بلاسٹوں کے معاملوںمیںتحقیق کے دوران ہوتا ہے۔ لہٰذا انّوسینس نیٹ ورک نے حال میںدہلی میںاپنی پہلی عوامی عدالت بلائی جس میںعدالتوںکے ذریعہ بری کیے گئے 11 بے گناہ افراد نے اپنا اپنا معاملہ 9 رکنی جیوری کے سامنے پیش کیا۔ جیوری عنقریب اپنا فیصلہ سنائے گی تاکہ بے گناہ افراد کی گرفتاری کا سلسلہ رکے اور جو لوگ جیل سے باہر آئے ہیں، انھیں معاوضہ دیا جائے او ر ان کی مکمل آباد کاری ہو۔ نیز ہمارا ملک جس نے انٹر نیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پالیٹیکل رائٹس (آئی سی سی پی آر) پر 168 ممالک کے ساتھ دستخط کر رکھا ہے ، جلد اس سلسلے میں متعلقہ قوانین بنائے۔ نمونے کے طور پر اس پہلی عوامی عدالت کی تفصیلات پیش کی جارہی ہیں۔

تاریخ 2 اکتوبر تھی۔ موقع تھا بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 147 ویں یوم پیدائش کا۔ نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب کے اسپیکر ہال میںایک عوامی عدالت بیٹھی ہوئی تھی۔ اسٹیج پر 9 رکنی جیوری کی اہم اور غیر معمولی شخصیات تشریف فرما تھیںاور ان کی سربراہی کررہے تھے۔دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اورلاء کمیشن کے چیئرمین اے پی شاہ۔ دوسری طرف جانب اسٹیج کے داہنی طرف اپنی کہانی سناکر انصاف کی فریاد کرنے والے ملک کی 8 ریاستوں سے عدالتوں کے ذریعہ رہا ہوکر آئے 11 معصوم اور بے گناہ افراد تھے۔ ہال معزز شخصیات و دیگر لوگوںسے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک دونوں میڈیاکے صحافی بھی موجود تھے۔ گویا ہال میں تل دھرنے کو بھی جگہ نہیںتھی۔
سابق رکن راجیہ سبھامحمد ادیب اور جامعہ ٹیچرس سالیڈریٹی ایسوسی ایشن (جے ٹی ایس اے) کی صدر ڈاکٹر منیشا سیٹھی کے ذریعہ عوامی عدالت کی غرض و غایت بتانے کے بعد جیسے ہی برسوںجیل میں گزار کرمعصوم او ربے گناہ افراد نے جیل کے اندر اور پھر باہر آکر اپنی اپنی دردناک کہانی سنانا شروع کی، تو پورا ماحول غمگین اور اداس ہوگیا۔ ہوتا بھی کیسے نہیں؟
عوامی عدالت میں وکیل کے طور پر منیشا کہہ رہی تھیں کہ قومی سلامتی کے نام پر خصوصاً معصوم مسلم نوجوانوں کو پولیس اٹھا لیتی ہے اور الزام کو عدالت میں ثابت نہ کرنے کی بناء پر برسوںبعدعدالت سے وہ بری ہوجاتے ہیں۔ تمام معاملوں کو غلطی نہیںکہا جاسکتا ہے۔ ان میںایسے بھی معاملے ہوتے ہیں جہاں کچھ ہوا بھی نہیں ہوتا ہے اور انھیں سازش کے تحت اٹھا لیا جاتا ہے۔ جہاں تک میڈیا کا معاملہ ہے،وہ گرفتاری کے وقت ملزم کو اس طرح پیش کرتا ہے جیسے وہ مجرم ہوں اور پھر جب وہ عدم شہادت کی وجہ سے بری کیے جاتے ہیں تو عموماً خبر آتی بھی نہیںہے اور آتی بھی ہے تو دبے انداز میں۔ میڈیا کے تعلق سے منیشا کی بات میںاس وقت اور بھی وزن پیدا ہوجاتا ہے جب دن بھر چلی اس عوامی عدالت کی رپورٹنگ تو کی جاتی ہے مگر کچھ نہ آتا ہے چینلوں میںاور نہ ہی انگریزی اور ہندی اخبارات میں۔ اردو اخبارات اور اردو چینل کور کرتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ صرف ان ہی کا ہے۔ غیر جانب داری ، معروضیت اور آزادی کا دم بھرنے والے مین اسٹریم میڈیا پُر اسرار انداز میں خاموش رہتے ہیں۔ خبروں کی کوریج میں یہ تقسیم ناقابل فہم ہے۔
حکومت اور میڈیا کی عدم توجہی کے اس دور میں عوامی عدالت کا آئیڈیا اچانک کیسے آیا اور انّوسینس نیٹ ورک کیسے بنا، اس پر منیشا ’چوتھی دنیا‘ سے کہتی ہیں کہ ہم لوگ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری، لیگل ایڈاور ان کی رہائی کے ڈاکیومینٹیشن کا کام تو کئی برسوںسے کررہے تھے جس سے پبلک اوپینین یا رائے عامہ تو بن رہی تھی مگر ضرورت تھی ایک مؤثر مہم کی اور پھر اس مہم کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کہ اس میںمحض حقوق انسانی کا رکنان ہی نہیں بلکہ ملک کے معزز شہری بشمول ماہرین قانون اور سابق ججز بھی شامل ہیں اور اس کے بعد حکومت ہند پر یہ دباؤ بنانے کی بھی ضرورت تھی کہ جب وہ اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پالیٹیکل رائٹس پر 168 ممالک کے ساتھ دستخط کنندہہے تو اسے دیگر ممالک کی مانند اس کی دفعہ 14(6) کے تحت اس تعلق سے قوانین بنانے چاہئیں۔ ایسا کرنے سے گرفتار ہوئے معصوم افراد عدالت کے ذریعے باعزت بری ہونے کے بعد سرکاری طور پر معاوضہ اور بازآباد کاری کے حق دار ہو پائیں گے۔ منیشا کا کہنا ہے کہ انّوسینس نیٹ ورک کا قیام اور اس پہلی عوامی عدالت کا انعقاد ،دراصل اسی سلسلے کی اہم کڑیاںہیں۔ جیسا کہ منیشا کہتی ہیںکہ اس نیٹ ورک میں متعددگروپس شامل ہیں جیسے جے ٹی ایس اے، سابق رکن راجیہ سبھا محمد ادیب کاپپل کیمپین اگینسٹ پالیٹکس آف ٹیرر (پی سی پی ٹی) اور شارب علی کا قوئیل فاؤنڈیشن۔
محمد ادیب کہتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں گزشتہ دس برسوں سے کام کررہے ہیں اور انھوںنے رکن راجیہ سبھا کے طور پر پارلیمنٹ میں اس ایشو کو باربار اٹھایا اور اب اپنے پی سی پی ٹی کے تحت سرگرم عمل ہیں اور انّوسینس نیٹ ورک میںشامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ جنھیں عدالت کوئی ثبوت نہ ملنے پر بری کردیتی ہے تو انھیں سماج میں واپس آکر پورے عزت و وقار کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ انھیں قانونی طور پر تمام مراعات ملیں۔ عدالت کا20-25 برسوںبعد صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ یہ مجرم نہیں ہیں، انھیںبری کرنے کے ساتھ ساتھ معاوضہ ملنا چاہیے اور ان کی مکمل بازآبادکاری ہونی چاہیے۔ محمد ادیب سوال کرتے ہیںکہ جب بم پھٹا اور جنھیںاس سلسلے میں ملزم بنایا گیا تھا، انھیں عدالت کے ذریعے بری کردیا گیا تو پھر اصل مجرم کون ہے اور کہاں گیا؟ اس تعلق سے محمد ادیب ایک ٹرسٹ بنا کر ایسے افراد کی بازآبادکاری کا منصوبہ ذہن میں رکھتے ہیں تاکہ انھیں ذریعہ معاش فراہم کیا جاسکے اور ان کے دیگر مسائل پر توجہ بھی دی جاسکے۔
قوئیل فاؤنڈیشن کے فواز شاہین برسوں بعد عدالت سے بری کیے گئے افراد کے معاوضے اور مکمل باز آبادکاری کے لیے کی جارہی جدوجہد میں پورے طور پر شامل ہیں، گرچہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لاء گریجویشن کرنے کے بعد ہنوز نئی دہلی کے انڈین لاء انسٹی ٹیوٹ میںایل ایل ایم کے طالب علم ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ انّوسینس نیٹ ورک سوائے اس کے کچھ اور نہیں چاہتا ہے کہ عدالت جن افراد کو برسوں جیل میں رہنے کے بعد الزام سے بری الذمہ قرار دیتے ہوئے رہا کردیتی ہے ، ان کے قیمتی 15,10 یا 25 سال کون لوٹائے گا؟ لمبے عرصے تک پابند سلاسل رہنے کے سبب جو خوف وہراس ان پر سوار ہوگیا ہے،اسے کون دور کرے گا؟ پھر سے انھیں سماج کا پورے وقار کے ساتھ کون حصہ بنائے گا؟ انھیںباروزگار کون کرے گا؟
عوامی عدالت میں جن 11 افراد نے اپنی گرفتاری سے لے کر عدالت کے ذریعے الزامات سے بری الذ مہ قرار دیے جانے تک کی اپنی دردناک کہانی سنائی اور آج اپنے گھر اور سماج میں واپس آکر بھی سماج کا حصہ نہ بن پانے کی تفصیلات سنائیں، ان میںگلبرگہ (کرناٹک) سے دونوں بھائی نصیرالدین احمد اور ظہیرالدین احمد ، جالنہ (مہاراشٹر) سے شعیب جاگیردار، ممبئی سے عبدالواحد، مالیگاؤں (مہاراشٹر) سے ڈاکٹر فروغ مخدومی، اورنگ آباد (مہاراشٹر) سے عبدالعظیم، کانپور (یوپی) سے سید واصف حیدر، جے پور (راجستھان ) سے ڈاکٹر محمد یونس خاں، حاجی سلیم ، دہلی سے محمد عامر خاں اور افتخار گیلانی شامل ہیں۔
23 برس آہنی سلاخوںکے پیچھے کاٹنے کے بعد باہر آنے والے معصوم و بے گناہ نصیرالدین کا درد ان الفاظ میں سمجھا جاسکتا ہے کہ ’’دوست بدل گئے، چہرے بدل گئے، منزلیں بدل گئیں، دنیا بدل گئی، میری زندگی کا سب کچھ بدل گیا، والد کا عید کے دن انتقال ہوگیا، میری پوری دنیا ہی ختم ہوچکی ہے۔‘‘ نصیرالدین 15 جنوری 1994 کو گرفتار کیے گئے او ر11 مئی 2016 کوبری کیے گئے۔ اپنے اس درد میں نصیرالدین اکیلے نہیں ہیں۔ یہی کہانی ان کے بھائی ظہیرالدین کی ہے جو کہ 14 برس تک پابند سلاسل رہے۔ آئیے ان دونوں بھائیوںکے بعد تیسرے شخص شعیب جاگیردار کی کہانی سنتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ’’میں رہنے والا تو ہوں جالنہ کا ،مگر مجھ پر الزام لگا حیدرآباد کی مکہ مسجد بلاسٹ میں شامل ہونے کا۔ جب جیل سے واپسی ہوئی تو سماج میں ہر شخص مجھ کودیکھ کر منہ موڑ لیتا تھا او رمجھ سے بچنے کی کوشش کرتا تھا۔ مسجد میں نماز ادا کرنے کے دوران بھی کم و بیش یہی حال تھا ۔ بچے کی موت ہوئی تو کندھا دینے والوںمیںچھٹا آدمی میرے ساتھ نہیں تھا۔ آج بھی یہی صورت حال ہے۔ جولائی 2014 میںجیل سے باہر آنے کے بعد میںسماج میںرہ کر بھی الگ تھلگ ہوں۔ مجھے کوئی نہ تو شادی بیاہ میںبلاتا ہے اور نہ ہی کسی کی موت کی مجھے خبر دی جاتی ہے۔ رشتہ دار اور پڑوسی سبھی مجھ سے کتراتے ہیں‘‘۔
چوتھے شخص ممبئی کے عبدالواحد شیخ نے 2006میںگرفتاری کے وقت سے لے کر 30 ستمبر 2015 کو عدالت سے بری کیے جانے کے فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’’جیل میںگزرے ہوئے 9 برس تو اب لوٹائے نہیں جاسکتے ہیں۔ گرفتاری کے بعدایک اقلیتی اسکول نے خیر مقدم تو کیا مگر بغیر تنخواہ کے۔ ایک برس سے وہاں پڑھا رہا ہوں، اس امید میںکہ تنخواہ ملنی شروع ہوجائے۔ آنکھیںپٹی باندھی جانے سے بینائی بھی کھو رہی ہیں۔ ‘‘
پانچویں کانپور کے سید واصف حیدر نے 8 برس جیل میں گزارے۔ یہ کہتے ہیںکہ ’’جیل سے باہر آنے کے بعد میں معاشرتی طور پر ہر طرف سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہوں ۔ ہر وقت خوف و ہراس کی فضا میں جیتا ہوں۔ میری چار بیٹیاںہیں۔ انھیں یہ احساس ہوتا رہتا ہے کہ سماج کی نگاہ میں وہ ’دہشت گرد‘ کی اولاد ہیں ۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس احساس سے ہمیں اور ہماری بیٹیوںکو کون نکالے گا۔‘‘
چھٹے دہلی کے محمد عامر خاں نے کہا کہ ’’رہا ہوئے چار برس ہوچکے ہیں۔ دس برس تک ماںنے قانونی لڑائی لڑی۔ 2012میںجیل سے واپس آیا تو ماںزندہ لاش کی طرح تھی۔ دس ماہ قبل ان کا انتقال ہوچکا ہے۔ میںسول سوسائٹی کے رول سے مطمئن ہوں۔ ماضی کو بھولنا چاہتا ہوں۔‘‘ انھوںنے یہ سوال اٹھایاکہ یہ کیسی بات ہے کہ جولوگ سرینڈر کرتے ہیں،ان کی بازآبادکاری کی جاتی ہے۔مگر عدلت سے بے گناہ اور معصوم قرار دیئے جانے کے بعدبھی ہم لوگوں کی بازآبادکاری اور معاوضہ کا کوئی نظم آخر کیوں نہیں ہے؟‘‘
ساتویں حاجی سلیم کی داستان بھی کچھ عجیب ہے۔ 2001 کی ایک شب جب وہ سوئے ہوئے تھے،200 کے قریب پولیس اہلکار آئے اور انہیں مقامی تھانے لے گئے۔یہ کہتے ہیں کہ ’’میرا سیمی سے کوئی تعلق نہیں تھا مگر اس سے زبردستی متعلق بتایا گیا۔کئی مقدمات تھوپ دیئے گئے۔ مجھ پر کانپور فساد میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگا۔ جب جیل سے چھٹی ملی تو معاشی طور پر کوئی سہارا نہیں تھا۔ بچے پریشانی میں ہیں کہ انہیں ’دیش دروہی‘ کی اولاد کہا جاتا ہے۔عجیب بات تو یہ ہے کہ عدالت سے باہر آنے پر نہ ملت ساتھ دیتی ہے، نہ ہی مسلم تنظیمیں۔اچھوت کی زندگی جینے کا احساس ہمیشہ ہوتا ہے‘‘۔
آٹھویں اورنگ آباد کے عبد العظیم دس برس سے زیادہ جیل میں رہے۔یہ بڑے ہی کرب و درد کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ ’’ میرے جسم کے پرائیویٹ حصے میں بجلی کا کرنٹ لگایا گیا، بہت ہی ٹھنڈے پانی میں ڈبکیاں لگوائی گئی، بری طرح پٹائی کی گئی۔ یہ سب کچھ فرضی جرم کا اعتراف کرانے کے لئے تھا۔ یہاں تک کہ میرے بھائی کو بھی سامنے لایا گیا۔اکثرگھنٹوں آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھی جاتی تھی جس سے بینائی بڑی حد تک متاثر ہو گئی ہے‘‘۔
نویں جے پور کے ڈاکٹر یونس ہیں جنہیں گرفتار کیا گجرات کی پولیس نے ۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ ہم لوگ بہت ہی غریب ہیں۔ کرائے کے مکان میں ماں کے ساتھ رہتے ہیں۔ پولیس والے مجھے پہلے انکوائری کے لئے تھانے لے گئے۔بعد ازاں کسی جنگل میں لے جاکر دھمکی بھی دی کہ اگر ہماری بات نہیں مانوگے تو انکائونٹر کردیں گے۔سیمی کے مقدمے میں مجھے ملوث کیا گیا۔ اس میں کل 13 لڑکے تھے جن میں دس اب تک بری ہو چکے ہیں۔ واپس لوٹنے پر سماج اور خاندان کو جس طرح گلے لگانا چاہئے تھا، وہ نہیں ہوا۔ البتہ چند حقوق انسانی اور مسلم تنظیموں نے ضرور ہماری مدد کی جن کے ہم ممنون ہیں۔‘‘
اسی طرح دسویں شخص ہیں فروغ مخدومی جو کہ مالیگائوں بم دھماکے میں ملزم بنائے گئے۔گیارہ برس بعد عدالت نے بری کیا اور وہ بھی تب جب این آئی اے نے مقدمہ اپنے ہاتھ میں لیا۔ اس کے بعد مہاراشٹر اے ٹی ایس کا سارا پول کھل کر سامنے آگیا۔یہ اے ٹی ایس سربراہ رگھو ونشی کے حوالے سے الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ تم لوگوں نے نہیں کیا مگر پکڑنا ضروری ہے‘‘۔ یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر ہیمنت کرکرے ، تنزیل احمد جیسے وفادار افسروں اور شاہد اعظمی ایڈووکیٹ کو ہلاک کس نے اور کیوں کیا؟
جہاں تک گیارہویں شخص افتخار گیلانی کا معاملہ ہے، ان کا کہنا ہے کہ’’ میں تو صحافی تھا،اس لئے میرا معاملہ بہت دن نہیں چلا مگر مجھے سب سے زیادہ شکایت اپنی صحافتی برادری سے ہے‘‘۔یہ کہتے ہیں کہ ’’ مجھے کس طرح گرفتار کیا گیا اور پھر کیا فرضی الزامات مجھ پر لگائے گئے نیز اس دوران کیا کیا ہوا، وہ سب کچھ میری انگریزی اور اردو کتاب میں آچکا ہے۔ مگر مجھے ہمیشہ یاد آتا ہے کہ ڈھائی بجے شب میں گھر کا دروازہ کھلوا کر مجھے باہر والے کمرہ میں بیٹھا دیا گیا جہاں میں ٹی وی چینل پر دیکھ رہا تھا کہ ہماری صحافتی برادری کا ہی ایک معروف چہرہ میرے بارے میں میرے دروازے کے پاس کھڑے ہوکر سراسر جھوٹ بیان کررہا تھا۔ جب میں نے دریافت کیا کہ یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے تو جواب ملا کہ یہ تو آپ ہی کے میڈیا والے ہیں۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ ان چند لوگوں کو چھوڑ کر میڈیا سے مجھے کھل کر حمایت ملی‘‘۔
یہ ہے گیارہ افراد کی دردناک اور المناک داستان جسے سن کر ہر کسے ناکس کی آنکھیں کانسٹی ٹیوشن کلب میں نم ہوگئیں جہاں 9 رکنی جوری بیٹھی سب کچھ سن رہی تھی۔جب یہ سب بد نصیب افراد اپنی اپنی کہانی سنا چکے تب منیشا سیٹھی نے کہا کہ 9رکن جوری اپنا فیصلہ تیار کرکے جلد ہی اسے منظر عام پر لائے گی۔
عدالتوں کے ذریعہ ان گیارہ ہی نہیں دیگر متعدد افراد کو الزام کے ثبوت نہ فراہم کئے جانے کی بناء پر بری کرنے کا سلسلہ جاری ہے،لیکن سوال ہے کہ جیل سے باہر آکر وہ پہلے والی اپنی پُروقار زندگی کیسے گزاریں؟ان کی بازآبادکاری کیسے ہو؟برسوں بغیر کسی گناہ کے جیلوں میں زندگی برباد کرنے کا معاوضہ کون دے گا؟ انہی سوالوں کے جوابات چاہتی ہے انّو سینس نیٹ ورک جس کے روح رواں ہیں منیشا سیٹھی، محمد ادیب اور شارب علی و دیگر ہندوستانی معزز شہری۔

جوری کے ارکان کی آراء
’انوسینس نیٹ ورک‘ کی پہلی عوامی عدالت میں دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور لاء کمیشن آف انڈیا کے چیئر مین اے پی شاہ کی سربراہی میں 2اکتوبر2016 کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں بیٹھی 9رکنی جوری کا فیصلہ عنقریب آئے گا۔یہ فیصلہ نمونے کے طور پر ملک کی چند ریاستوں سے عدالتوں کے ذریعے بری ہوکر آئے گیارہ بے گناہ افراد کی سماعت کے تعلق سے ہوگا اور اس میںاس کے حل کی تجاویز بھی پیش کی جائیں گی۔مگر ’ چوتھی دنیا‘ اس موقع پر سماعت کے بعد جوری کے سبھی 9ارکان کے ذریعے اظہار کی گئی ذاتی آراء کو قارئین کے استفادہ کے لئے پیش کررہا ہے:

1۔ محترمہ نندنی سندر استاد، دہلی اسکول آف اکانومکس: اس وقت ملک میں اس تعلق سے جو کچھ ہورہا ہے، وہ کسی بھی زاویہ سے صحیح نہیں ہے۔مظلومین کے ساتھ برتائو اور اسکولوں میں ان کے بچوں کیساتھ جو سلوک ہورہا ہے ،وہ نہایت خطرناک ہے۔ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات جلد اٹھائے جائیں تاکہ بے گناہوں پر ظلم ختم ہو۔
2۔ سعید مرزا، فلم ساز: اصل دہشت گرد یہ نہیں بلکہ وہ ہیں جنہوں نے انہیں یہاںتک پہنچایا ۔آج ان لوگوں نے عوام کے سامنے بات رکھنے کی جرأت کی ہے۔ ان کے حوصلہ کو داد دینی چاہئے۔
3۔نینا ویاس، صحافی و ماہر امور قانونـ: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی ذیلی عدالتیں ایسے فیصلے لے رہی ہیںجو سپریم کورٹ کے فیصلہ کے منافی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس کے بیان جن کے ذریعے بے قصور لوگوں کو پھنسایاجاتا ہے، کے نظم اور طریقہ کو ختم کیا جائے اور اسی کے ساتھ ساتھ مظلومین کی آواز اٹھانے اور ان کی بازیابی کی منظم کوشش کی جائے اور اس کے ساتھ ہی فنڈ بھی جمع کیا جائے۔ شرمندگی ہوتی ہے کہ ہم سوتے رہے اور یہ سب کچھ ہوتا رہا۔یہ سلسلہ جلد بند ہوجانا چاہئے۔
4۔پروفیسر عبد الشعبان، ڈائریکٹر ،ٹاٹاانسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز(ٹی آئی ایس ایس):جیل کے اندر اور باہر جس طرح کا رویہ ملک کے ان شہریوںکے ساتھ ہورہا ہے، وہ واقعی معاشرہ اور ملک کے لئے بہت ہی خطرناک رجحان ہے۔
5۔ونود شرما، سینئر صحافی، روزنامہ ہندوستان ٹائمز: دہشت گردی کا لیبل کسی ایک طبقہ پر لگانا بالکل غلط ہے۔میڈیا کو عوامی مفاد والے ایشوز پر فوکس کرنا چاہئے، نیز سوشل میڈیا پر بھی غیر ضروری باتوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔
6۔نسیم احمد، چیئر مین، نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز(این سی ایم ): ایسے معاملوں میں جو کچھ اس عوامی عدالت میں سننے کو ملا ،وہ بہت ہی تکلیف دہ ہے۔ایسے میں میڈیا کا رول بہت اہم ہوجاتا ہے،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پرنٹ اور الکٹرانک دونوں میڈیا کا رول بہت ہی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ان حالات میں عدلیہ کو بھی اہم رول نبھانے کی ضرورت ہے۔جو افراد عدالتوں کے ذریعے بری کئے گئے ہیں، انہیں معاوضہ ملنا چاہئے اور ان کی پورے وقار کے ساتھ آبادکاری بھی ہونی چاہئے۔ ان سب تفصیلات سے ارکان پارلیمنٹ کو بھی واقف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس سلسلے میں آواز اٹھائیں۔
7۔جی ایس واجپئی ، رجسٹرار، نیشنل لاء یونیورسٹی (این ایل یو): آج پورا نظام مفلوج ہوچکا ہے۔پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کا رویہ اور ڈیوٹی شک کے گھیرے میں ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے۔ سبھی کو تمام حقوق ملیں جو کہ عام شہری کو ملتے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں کی ذمہ داری طے ہو۔ ضرورت ہے کہ ان سارے معاملوں کو جمع کرکے سپریم کورٹ میں پی آئی ایل ڈالی جائے۔ قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بے گناہ افراد کو اس طرح کے معاملے میں معاوضہ ملنا چاہئے اور اس کا بھی قانون بننا چاہئے ۔مکمل بازآبادکاری کی پالیسی بھی بنانی چاہئے۔
8۔ مانیکا سکرانی، ایڈووکیٹ: ملک میں نظم و نسق کا معاملہ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔یہ معاشرہ اور ملک کے لئے کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کے لئے اجتماعی اور منظم جنگ لڑی جائے۔
9۔ اے پی شاہ، سابق چیف جسٹس، دہلی ہائی کورٹ و چیئرمین ، لاء کمیشن آف انڈیا: افسوس کی بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے الزام میں متاثرین کے خاندان کو سماج میں غلط طریقے سے دیکھا جاتاہے۔ہمیں یہ خیال رکھنا چاہئے کہ آئندہ کسی بھی نوجوان کی زندگی برباد نہ ہو۔اس کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ بے گناہوں کو گرفتار نہ کیا جائے اور جو بے قصور گرفتار ہوتے ہیں تو ان پر کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ کی جائے ۔ مگر اس کے باوجود دہشت گردی کے جھوٹے معاملوں میں دوبارہ جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ مظلومین کو معاوضہ اور ان کی بازآبادکاری کے تعلق سے قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔یہ صحیح ہے کہ بے گناہ بری ہوجاتے ہیںمگر برسوں کے بعد، جس کے سبب ان کی زندگی برباد ہوجاتی ہے ۔اس طرح کے ایشوز کے بارے میں سول سوسائٹی کو نوٹس لیناچاہئے اور اس تعلق سے یہ عوامی عدالت اچھی پہل ہے۔ عدالتوں میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب متاثرین کو معاوضے دیئے گئے ہیں۔لہٰذا اس طرح کے معاملوں میں بھی معاوضے اور بازآبادکاری کی بات ہونی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *