ہندوتو مشترکہ ہندوستانی طرز حیات نہیں

نام کتاب:ہندوتو اہداف و مسائل
مصنف: مولانا عبدالحمید نعمانی
قیمت: 295روپے
مبصر: اے یو آصف
ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (آئی اوایس)
ملنے کا پتہ: قاضی پبلشرز اینڈ ڈسٹریبیوٹرز
ؓB-35نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی110013-
ای میل:qazipublishers@yahoo.com
p-11ایک ایسے وقت جب 18اکتوبر 2016 کو سپریم کورٹ میںچیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی میں 7رکنی بینچ نے 1995میں اسی عدالت میں سہ رکنی بینچ کی ہندوتو اور ہندوازم کی تشریح نیز دیگر متعلقہ ایشوز والے فیصلے کو ازسرنو غور کرنے کے لیے سماعت شروع کردی ہے اور یہ مسئلہ پھر سے عدالت میںموضوع بحث بن گیا ہے اور انتخابات میںمذہب کے استعمال کے معاملے پر غور و خوض ہورہا ہے، ابھی حال میں منظر عام پر آئی زیر تبصرہ کتاب ہندوتو اور ہندوازم کو سمجھنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ واحد کتاب ہے جس میں ہندوتو اور ہندوازم کا مختلف زاویے سے جائزہ لیا گیا ہے۔
یہ کتاب دراصل معروف آئیڈیا لاگ اور ماہر ادیان خصوصاً اسلام اور ہندوازم بشمول ہندوتو مولاناعبدالحمید نعمانی کے 68 مضامین کا مجموعہ ہے جسے سینئر صحافی خورشید عالم نے ترتیب و جمع کیا ہے۔ تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (آئی اوایس) کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے بروقت اسے شائع کرکے اردو میں یہ مواد پیش کیا ہے۔ یہ تمام مضامین اخبارات و رسائل اور کتابوں میں شائع شدہ ہیں مگر ان کے حوالے نہیںدیے گئے ہیں۔ اگر حوالے ہوتے تو اس کی معتبریت اور معنویت مزید بڑھ جاتی۔ توقع ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں اس کمی کو یقیناً دور کیا جائے گا۔ کتاب میں پیش گفتار آئی او ایس چیئرمین ڈاکٹر منظور عالم کا ہے، جنھوںنے بڑے ہی پُر مغز انداز میں ہندوتو کا جائزہ لیتے ہوئے اسے روایتی ہندو- مسلم اتحاد کے منافی بتایا ہے۔
عیاںرہے کہ 1995 میں جسٹس جے ایس ورما کی سربراہی والی تین ججوں کی بینچ نے ہندوتو کو برصغیر میں ایک طرز زندگی اور ’اسٹیٹ آف مائنڈ‘ بتایا تھا اور کہا تھا کہ ہندوتو /ہندوازم کے نام پر ووٹ مانگنے سے کسی امیدوار پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ اسی بنیاد پرانھوںنے فیصلہ سنایا تھا کہ شیو سینا کے منوہر جوشی کے ’مہاراشٹر میں پہلی ہندو ریاست قائم کی جائے گی‘ والے بیان سے مذہب کی بنیاد پر اپیل نہیںہوتی ہے۔
ذرا غور کیجئے ، اس تعلق سے اپنے مضمون ’ہندوراشٹر:‘ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟‘ (صفحہ72-) میں مولاناعبدالحمید نعمانی کیا لکھتے ہیں:’’ بلاشبہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ہندو اور ہندوتو کو ایک طرز حیات قرار دیا گیا ہے لیکن جہاں ایک طرف جج صاحبان جے ایس ورما وغیرہ ہندو، ہندوتو کی تشریح و تعریف کو لے کر تذبذب اور ابہام میںمبتلا نظر آتے ہیں، وہیں انھوں نے صاف صاف یہ نہیںکہا ہے کہ مسلمان، عیسائی وغیرہ بھی ہندو طرز حیات کے دائرے میں آجاتے ہیں۔ ایک ایسے عہد کے کسی لفظ کے استعمال کو بنیاد نہیں بنایا جاسکتا ہے جب دوسرے کا اس میں قابل ذکر یا سرے سے وجود ہی نہ ہو، جب سندھ کے پار والوں کو عرب اور فارس کے باشندوں نے ہندو یا سندھو ندی والے کہا تھاتو اس وقت اسلام کا ظہور ہی نہیں ہوا تھا، نہ عیسائی قابل ذکر تعداد میں ہندوستان میں تھے لیکن جب مسلمان ہندوستان میںآکر بس گئے تو ہندو مسلمانوں (عیسائیوں) سے ایک الگ کمیونٹی کے طور پر مانے جانے لگے اور آج کی تاریخ میں یقینی طور سے ہندو اور ہندو طرز حیات ایک مخصوص مفہوم اور دائرہ میںمتعین ہوگیا ہے، اس لیے ہندوستانی باشندوں کے طرز حیات اور نظریہ حیات کو ہندو طرز حیات قرار دینا ایک بے نبیاد اور حقیقت کے خلاف بات ہے۔ سنگھ اور اس کے حامی دانشوروں کی طرف سے مسلمانوں کو محمدیہ ہندو قرار دینے کی کوشش ان کی شناخت کو ختم کرکے اکثریت میں ضم کرنے کاایک منصوبہ بند عمل ہے جس کو ویر ساورکر اور گرو گوالکر نے آگے بڑھانے کا کام کیا تھا اور آج کل اسی کی تکرار جگالی سنگھ دانشور اور ان سے متاثر لوگ کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں فریب اور مغالطہ آمیز انداز میں ہندو، ہندوستانی اور ہندو طرز حیات اور ہندوستانی طرز حیات کو ہم معنی باور کرایا جارہا ہے۔ ہندوطرز حیات ایک مخصوص کمیونٹی کے طرز حیات اور مراسم کی ادائیگی کے عمل سے عبارت ہے جب کہ ہندوستانی طرز حیات ملک کے مختلف مذاہب اور فرقوں کے میل ملاپ سے وجود میں آنے والا مشترکہ طرزحیات ہے جس کو اختیار کرلینے سے کسی مذہبی اکائی اور فرقے کی مخصوص شناخت ختم نہیں ہوجاتی ہے۔ ہندو راشٹر او رہندو طرز حیات کا بھی ایک مخصوص معنی و مطلب ہے۔ اسے سب کے لیے قابل قبول قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ ‘‘
اس کتاب میںموجود اپنے مختلف مضامین میںمولانا نعمانی نے ہندوتو فکرو نظریہ سے اٹھے مختلف ایشوز کو کور کیا ہے جنھیںپڑھ کر غور وفکر کا دروازہ مزید کھلتا ہے۔ کتاب کے شروع میں گاندھی جی کے رام اور رام راجیہ پر افکار کو بڑے ہی واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ 2014میں مرکز میں بی جے پی کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں جو مخصوص ماحول بناہے، وہ مولانا کی نظر میں ہندوتو فکرو نظریہ پر مبنی محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے مضامین میں اسی تناظر میں مولانا نعمانی الگ الگ ایشو پر دلائل سے اظہار خیال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور پھر ایک قاری کو ملک میں فی الوقت اٹھنے والے مختلف سوالات کا آسانی سے جواب مل جاتا ہے۔ ہندوتو کا معاملہ ہویا گھر واپسی کا، یکساں سول کوڈ کا ہویا قومی شاعر رام دھاری سنگھ دنکر کو بھگوا دھارے میںلانے کی کوشش کا، مولانا نعمانی تمام سوالوں کا بڑے ٹھنڈے انداز میں جواب دیتے ہوئے ہندوستان کو ایک ایسا چمن بتاتے ہیں جہاں رنگ برنگے پھول کھلے ہیں اور ہرایک اپنی شناخت کے ساتھ آئین کے تحت محفوظ ہیں۔ ان کا واضح طور پر یہ کہنا ہے کہ ہندوتو مشترکہ ہندوستانی طرز حیات نہیںہے۔ بحیثیت مجموعی یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب مودی کے دو برسوں کے اقتدار کے دوران سماجی و کلچرل طور پر جو ماحول بنا ہے، اس کا ایک جائزہ ہے۔ ویسے کوئی ضروری نہیںہے کہ ان کے اس جائزے سے سبھی کو اتفاق بھی ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *