ڈاکٹر ایم ہاشمی قدوائی :95 سال کی تاریخ ہند کو منکشف کرتی آپ بیتی

 محمد عارف اقبال P-11ڈاکٹر ایم ہاشمی قدوائی 95 سال کی تاریخ ہند کو منکشف کرتی آپ بیتی نام کتاب: ’ایک نیشنلسٹ مسلمان کی حیات و دور‘‘ مصنف: ڈاکٹر ایم ہاشم قدوائی صفحات: 248، قیمت: 250روپے مبصر: محمد عارف اقبال، ایڈیٹر’اردو بک ریویو‘ نئی دہلی پبلشرز: یونیورسل بک ہائوس موبائل: 09358217353 ہندوستانی سیاست کے ایک بے لوث خادم، مجاہد آزادی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق استاذ اور سابق ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی (پ: 1921) کی دلآویز شخصیت اب اپنی حیات میں لیجنڈ (Legend) کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ وہ ببانگ دہل کہتے ہیں کہ ’’میں نیشنلسٹ مسلمان ہوں۔‘‘ زیر تبصرہ انگریزی کتاب ’’ایک مسلمان کی حیات اور زمانہ ‘‘ سے بخوبی علم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر ہاشم قدوائی کی یہ سوانح اپنے اُس دور کی تاریخ بیان کرتی ہے جبکہ وہ انگریزوں کے غلام ملک میں ایک کم سِن طالب علم تھے۔ان کے چچا ایڈیٹر ’صدق جدید‘ مولانا عبدالماجد دریابادی (1977-1892) جو اُن کے والد سے چھوٹے تھے، اپنے زمانے کے معروف صحافی، دانشور، ادیب اور مفسر قرآن تھے۔ ڈاکٹر ہاشم قدوائی اپنی حیات میں مولانا دریابادی کے زیر تربیت رہے اور خوب استفادہ کیا۔ ان کے بعد وہ جس شخصیت سے سب سے زیادہ متاثر رہے، وہ رفیع احمد قدوائی تھے، جن کا شمار کانگریس کے بڑے مسلم رہنمائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پنڈت جواہر لعل نہرو کے دور وزارت عظمیٰ میں کیبنٹ منسٹر کی حیثیت سے مختلف خدمات انجام دیں۔ زیر نظر کتاب کے بالاستیعاب مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہاشم قدوائی نے بحیثیت نیشنلسٹ مسلمان ایک ایسی جدوجہد سے پُر زندگی گزاری ہے جس میں سیاست کی چمک دمک اور پُر تعیش زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ایک آئیڈیالاگ اور دانشور کی حیثیت سے ملک کی سابق کانگریسی وزیر اعظم آنجہانی اندراگاندھی اور ان کے صاحبزادے وزیر اعظم راجیو گاندھی کو بھی بعض ملکی و ملّی معاملات میں وہ بروقت مشورہ دیتے رہے اور انہوں نے مشوروں کو قبول بھی کیا۔ قدوائی صاحب کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ وہ راجیہ سبھا کی ممبرشپ ختم ہونے کے بعد بھی مشاہد کے طور پر پارلیمانی کارروائیوں میں بلاناغہ شرکت کرتے رہے ہیں۔ ملکی حالات پر ان کی گہری نظر رہتی ہے۔اس کتاب میں انہوں نے ایک طرح سے1938کی تاریخ مرتب کردی ہے۔ کانگریس سے منسلک جن حضرات نے متحدہ ہندوستان کے ماحول میں زہر گھولنے کی مذموم کوشش کی، انہوں نے نام بہ نام حالات و واقعات کو بیان کردیا ہے، مداہنت سے کام لینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ انہوں نے کانگریس کی وہ تاریخ بیان کی ہے جس کا مشاہدہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے کیا ہے۔ انہوں نے اس وقت کی کانگریس میں جن امراض کی نشاندہی کی ہے، کم و بیش آج کی کانگریس کے زوال اور پژمردگی کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے ڈاکٹر ہاشم قدوائی اگرچہ ایک کٹّر اور وفادار نیشنلسٹ تصور کیے جاتے ہیں لیکن انہوں نے مسلم کاز میں کانگریس کی ہر پالیسی پر آمنّا صدقنا نہیں کہا۔ خاص طور سے مسلمانوں اور اقلیت کے مسائل میں کوئی مداہنت نہیں کی۔ اپنی تمام تر سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے باوجود، اے ایم یو میں بحیثیت استاد انہوں نے طلبا کی کلاس کو اٹینڈ کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے طلبا کے لیے پولیٹکل سائنس اور علم تمدن کے موضوعات پر انگریزی اور اردو میں کئی کتابیں لکھیں جو آج بھی ملک کے کئی تعلیمی اداروں کے نصاب کا حصہ ہیں۔مولانا دریابادی کے خطوط کو ایڈٹ کرکے شائع کرایا جس کی سات جلدیں اب تک منظرعام پر آچکی ہیں۔رفیع احمد قدوائی کی شخصیت اور خدمات کے حوالے سے ایک کتاب انگریزی اور اردو میں ایک ساتھ شائع ہوئی۔ یہ کتاب تحریک آزادی اور قومی سیاست میں نیشنلسٹ مسلمانوں کے کردار پر بے حد معلوماتی اور شاہ کار خیال کی جاتی ہے۔ فاضل مصنف کی سوانح اس لحاظ سے تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں انہوں نے اپنے گہرے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں افراد، شخصیات اور مختلف تنظیموں، تحریکوں اور جماعتوں کی تجزیاتی روداد بیان کی ہے۔ وہ ہر شخصیت کے مثبت اور منفی پہلوئوں کا گہرا ادراک رکھتے ہیں۔ ان کی بعض باتوں اور تجزیوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے خلوص پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ انہوں نے مسلم لیگ کی اس بنا پر شدید مخالفت کی کہ وہ کانگریس کے خلاف یہ پروپیگنڈا کر رہے تھے کہ کانگریس ہندوئوں کی تنظیم ہے اور مسلمانوں کو غلام بناکر ہندو راج قائم کرنا چاہتی ہے۔ لیکن قدوائی صاحب کی یہ مخالفت کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے جب وہ خود لکھتے ہیں:’’بد نصیبی تو یہ تھی کہ کانگریس بھی کسی حد تک ہندو واحیاپسندی سے متاثر ہوگی‘‘ مثلاً سنسکرت زدہ ہندی کے استعمال کی حوصلہ افزائی، اردو کے ساتھ سوتیلاپن، گورنمنٹ اسکولوں کے نام کو ’ودیامندر‘ میں تبدیل کرنا اور وہاں ’وندے ماترم‘ اور نصابی کتابوں میں تاریخ کے نام پر ’دیومالائی‘ کہانیوں کو شامل کرنا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جبکہ ہندوستان آزاد نہیں ہوا تھا۔ (ص: 32-33) ۔علامہ مشرقی کی کانگریس مخالف تحریک اور ان کی کتاب ’تذکرہ‘ پر علما دین کے رد عمل کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ 26 جنوری 1940 کو سبھاش چندر بوس نے لکھنؤ میں طلبا فیڈریشن کو خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے اعلیٰ رہنمائوں کی شدید مذمت کی تھی کہ وہ برطانوی حکومت سے مداہنت کی پالیسی اختیار کر رہے تھے۔ مارچ 1940 میں مسلم لیگ نے لاہور اجلاس میں ’قرارداد پاکستان‘ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاس کیا۔ اس وقت متحدہ ہندوستان کے مسلم لینڈ لارڈز اور زمینداروں کی مسلم لیگ کو بھرپور حمایت حاصل ہوئی (ص: 42)۔ تحریک آزادی میں مسلم لیگ کا رجحان عام طور پر نیشنلسٹ مسلمانوں سے الگ رہا۔ چند معروف مسلم رہنمائوں کو چھوڑ کر مسلم لیگ نے گاندھی جی کی کسی بھی ’آواز‘ پر لبیک نہیں کہا (ص: 44) ۔کانگریس میں بڑھتی ہوئی ’ہندو ذہنیت‘ کے رجحان سے جو خدشات مسلم لیگ اور قائد اعظم محمد علی جناح کو تھے، بالآخر چند واقعات ایسے رونما ہوئے کہ وہ خدشات درست ثابت ہوئے۔ اس کتاب میں جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کا ذکر بھی ہے۔ مولانا مودودی نے جنوری 1942 میں لکھنؤ یونیورسٹی یونین کی دعوت پر ’اسلام کے معاشی نظام‘ کے موضوع پر ایک مؤثر تقریر کی تھی۔ اس مجلس میں لکھنؤ یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس تقریر کے لیے مولانا علی میاں نے ہاشم صاحب سے لکھنؤ یونیورسٹی یونین کی ایک میٹنگ منعقد کرنے کی گزارش کی تھی۔ (ص: 57) ہاشم صاحب نے سرتیج بہادر سپرو سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا ہے جس کے دوران میں سرتیج بہادر سپرو نے ہندوستان کے کمپوزٹ کلچر کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر اردو کو اس کا جائز حق نہیں دیا گیا تو یہ ایک قومی سانحہ ہوگا اور کمپوزٹ کلچر کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے (ص: 69)۔ انجمن اتحادالمسلمین (حیدرآباد) اور آل انڈیا اسٹیٹس پیپلز مسلم لیگ کے صدر نواب بہادر یار جنگ کے اخلاق و کردار سے ہاشم صاحب بے حد متاثر ہوئے۔ ہاشم صاحب نے 1942 میں الٰہ آباد کے ایک اجلاس میں نواب صاحب کو تقریر کرتے ہوئے سنا تھا۔ الٰہ آباد سے وہ عظیم شاعر علامہ اقبال کی یاد میں لکھنؤ منعقدہ ایک میٹنگ میں شرکت بھی کی تھی۔ نواب بہادر یار جنگ کی ذاتی خوبیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فاضل مصنف لکھتے ہیں کہ اگر تقسیم ہند کے وقت وہ زندہ ہوتے تو 1948 کے حیدرآباد پولیس ایکشن کے خونیں واقعات رونما نہ ہوتے۔ (ص: 73-74) تعجب ہے کہ ہاشم صاحب نے 1948 میں مرکزی حکومت کی طرف سے کی گئی ظالمانہ کارروائی پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یہ کتاب اس لائق ہے کہ اس کا مطالعہ ہر تعلیم یافتہ انسان کو کرنا چاہیے۔ عبرت کے لیے کانگریس سے منسلک تمام لوگوں کو یقینی طور پر اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی، جو گزشتہ 75 برسوں سے خود کو نیشنلسٹ مسلمان کہتے ہیں، جن کی شخصیت سے تحریک آزادی ہند کی نہ صرف تاریخ وابستہ ہے بلکہ انہون نے کانگریس کے لئے صلہ کی پرواہ کئے بغیر جو خدمات انجام دیں ،ان جیسا دوسرا شاید ملک میں موجود نہیں ہے۔ حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ ایسے ویسوں کو بڑے بڑے صدارتی اعزاز اور تمغے مل رہے ہیں لیکن ڈاکٹر ہاشم قدوائی اپنی تمام تر تاریخی خدمات کے باوجود ہر طرح کے قومی و ملکی اعزاز سے محروم رکھے گئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کتاب کا انگریزی سے اردو ترجمہ ہوتاکہ اردو کے قارئین بھی اس سے براہ راست فائدہ اٹھا سکیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *