دلتوں کی ہراسانی : سب سے آگے ہیں بی جے پی کی ریاستی حکومتیں

ایس آر داراپوری
نیشنل کرائم ریسرچ بیورو ( این سی آر بی )کے ذریعہ حال ہی میں جاری کی گئی’’ کرائم اِن انڈیا 2015 رپورٹ ‘‘سے ایک بات ابھر کر سامنے آئی ہے کہ بی جے پی کی ریاستی حکومتوں میں دلت کو ہراساں کئے جانے کے واقعات دیگر ریاستوں سے کافی زیادہ ہیں۔ اس سے قبل تقریباً یہی صورت حال 2014 میں بھی تھی۔ موجودہ وقت میں بی جے پی کی زیر قیادت ریاستوں جیسے گجرات، مہاراشٹر ، مدھیہ پردیش، ہریانہ، چھتس گڑھ، گوا اور ہماچل پردیش ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ دیگر ریاستیں جیسے اڑیسہ، آندھرا پردیش ، تلنگانہ ، اترپردیش اور بہار ہیں، جن میں دلت کو ہراساں کئے جانے کے معاملے قومی شرح (فی لاکھ دلت آبادی پر)سے زیادہ ہیں۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں اور دیگر ریاستوں میں دلتوں پر مذکورہ رپورٹ کے مطابق وقوع پذیر جرائم کی صورت حال مندرجہ ذیل ہے۔اس جائزہ میں یہ سب کچھ منکشف کیا گیا ہے

دلتوں پر 2015 میں ہونے کل جرائم کی تعداد 42,003 ہے جو کہ اس سے پہلے سال 2014 کی تعداد 47,064 سے کم ہے، لیکن 2013 میں ہوئے واقعات کی تعداد 39,408 سے تقریباً p-55,500 زیادہ ہے۔ اسی طرح 2015 میں فی لاکھ دلت آبادی پر ہونے والے جرائم کی قومی شرح 22.3 ہے جو کہ اس سے پہلے 2014 میں ہونے والے جرائم 23.4 سے کم ہے، لیکن 2013 کے 19.6 سے 2.7 زیادہ ہے۔ اس سے صاف ہوجاتاہے کہ سال 2015 میں کل وقوع پذیر ہونے والے جرائم میں گزشتہ سال کی بہ نست کچھ کمی آئی ہے، لیکن یہ تعداد 2013 کے مقابلے کافی بڑھ گئی ہے۔یہ اضافہ زیادہ تر بی جے پی کے زیرا نتظام ریاستوں میں زیادہ جرائم ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔
دلتوں پر 2015میں ہونے والے واقعات میں سے اتر پردیش میں 8358 ، راجستھان میں 6998 ، بہار میں 6438 ، آندھرا پردیش میں 4415 ، مدھیہ پردیش میں 4188، اڑیسہ میں 2305 ، مہاراشٹر میں 1816،تمل ناڈو میں 1782 ،گجرات میں 1046 ، چھتیس گڑھ میں1028 ،اور جھارکھنڈ میں 752 واقعات ہوئے ہیں۔ اس طرح 22.3 کی قومی شرح کے مقابلے راجستھان میں 57.2 ،آندھرا پردیش میں 52.3 ، گوا میں 51.1 ، بہار میں 38.9 ، مدھیہ پردیش میں 36.9 ، اڑیسہ میں 32.1، چھتیس گڑھ میں 31.4، تلنگانہ میں 30.9 ،گجرات میں 25.7 ، کیرل میں 24.7، اترپردیش میں 20.2واقعات ہوئے ہیں۔ان اعدادو شمار سے واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی کی زیر حکومت ریاستوں میں راجستھان ، مدھیہ پردیش، گجرات ، چھتیس گڑھ ، گوا اور دیگر ریاستیں جیسے آندھرا پردیش ، بہار، اڑیسہ ،تلنگانہ، کیرل اور اتر پردیش میں دلتوں کو ہراساں کئے جانے والے واقعات کا اوسط قومی شرح سے کافی زیادہ ہے۔
قتل
2015 میں دلتوں کیقتل کے 707 واقعات ہوئے تھے اور قومی اوسط 0.4 تھا۔ ان میں سے مدھیہ پردیش میں 80، راجستھان میں 71، بہار میں 78 ، مہاراشٹر میں 42 ، اڑیسہ میں 21 ، گجرات میں 17 ، تمل ناڈو میں 48، تلنگانہ میں 17 ، ہریانہ میں 22 ، آندھرا پردیش میں 23 اور اتر پردیش میں 204 واقعات ہوئے تھے۔قتل کے جرائم کا قومی اوسط 0.4 تھا،لیکن بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں مدھیہ پردیش میں 0.7 ، راجستھان میں 0.6 ، جھارکھنڈ میں 0.5 ، بہار میں 0.5، اتر پردیش میں 0.5 ، ہریانہ میں 0.4 اور گجرات میں 0.4تھا ۔ان اعدادو شمار سے صاف ہوجاتا ہے کہ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں مدھیہ پردیش اور راجستھان میں دلتوں کے قتل کا اوسط قومی شرح سے کافی زیادہ رہا ہے۔
عصمت دری
2015 میں دلت عورتوں کی عصمت دری کے قومی سطح پر کل معاملے 2326 تھے اور قومی شرح 1.2 تھی۔ ان میں سے مدھیہ پردیش میں 460، اتر پردیش میں 444 ،راجستھان میں 318 ، مہاراشٹر میں 238، اڑیسہ میں 129، ہریانہ میں 107 ،تلنگانہ میں 107 ، آندھرا پردیش میں 104، کیرل میں 99، چھتیس گڑھ میں 81، گجرات میں 65، تمل ناڈو میں 43 اور بہار میں 42 رہے۔
عصمت دری کی قومی شرح 1.2 تھی جبکہ اس کے مقابلے مدھیہ پردیش میں 14.1 ، کیرل میں 3.3، راجستھان میں 2.6، چھتیس گڑھ میں 2.5، ہریانہ میں 2.1، تلنگانہ میں 2.0، مہاراشٹر میں 1.8 ، اڑیسہ میں 1.8 ، گجرات میں 1.6 اور آندھرا پردیش میں 1.2فیصد اوسط رہا۔ ان اعدادو شمار سے بھی صاف ہے کہ دلت خواتین پر عصمت دری کے معاملے میں مدھیہ پردیش، راجستھان ، چھتیس گڑھ، ہریانہ، مہاراشٹر اور گجرات میں جرائم کا اوسط قومی شرح سے کافی زیادہ رہا ہے۔
دلت خواتین کو بہکانا
2015 میں قومی سطح پر اس معاملے میں 2800 جرائم وقوع پذیر ہوئے اور قومی شرح 1.4 رہی۔ ان میں سے مدھیہ پردیش میں 777، اتر پردیش میں 756 ، مہاراشٹر میں 353، آندھرا پردیش میں 153 ، اڑیسہ میں 155 ، ہریانہ میں 109 ، راجستھان میں 107 ، کرناٹک میں 60 اور گجرات میں 51 تھے۔اس طرح کے جرائم کی قومی شرح 1.4 تھی جبکہ یہ مدھیہ پردیش 6.9 ، مہاراشٹر میں 2.7 ،ہریانہ میں 2.1 ،کیرل میں 2.2، اڑیسہ میں 2.2 ، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں 1.8، اترپردیش میں 1.8 کا اوسط رہا۔ ان اعدادو شمار سے بھی صاف ہوجاتا ہے کہ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں مدھیہ پردیش، مہاراشٹر ، ہریانہ میں دلت خواتین کو جھانسہ دینے اور بہکانے کے واقعات کا اوسط قومی شرح سے کافی زیادہ رہا ہے۔
دلت خواتین کا اغوا
2015 میں اس طرح کے کل 687 جرائم ہوئے اور قومی شرح 0.3 رہی۔ اس طرح کے معاملے اتر پردیش میں 415 ، راجستھان میں 62 ، مدھیہ پردیش میں 43 ، گجرات میں 37 ، مہاراشٹر میں 34، ہریانہ میں 29 ، اڑیسہ میں 22 اور آندھرا پردیش میں 10 تھے۔اس کا ریاستی سطح پر اوسط اتر پردیش میں 1.0 ،گجرات میں 0.9، راجستھان میں 0.5، مدھیہ پردیش میں 0.4، مہاراشٹر اور اڑیسہ میں 0.3 رہا۔اس تجزیہ سے بھی صاف ہوجاتا ہے کہ جرائم میں بھی اترپردیش، گجرات، راجستھان ، مدھیہ پردیش کا اوسط قومی شرح سے کافی اوپر رہا۔
دلت خواتین کا شادی کے لئے اغوا
2015 میں پورے ملک میں اس طرح کے 455معاملات ہوئے اور قومی شرح 0.2 رہی۔ ان میں اتر پردیش میں 338، راجستھان میں 28، گجرات میں 20، مدھیہ پردیش میں 18، مہاراشٹر میں 18، اور مدھیہ پردیش میں 18واقعات ہوئے ۔اس کا ریاستی سطح پر اوسط اتر پردیش میں 0.8، گجرات میں 0.5، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں 0.2 رہا۔ اس سے بھی صاف ہے کہ اس طرح کے جرائم میں بھی اتر پردیش کے بعد راجستھان اور گجرات کا اوسط قومی شرح سے زیادہ ہے۔
آگ زنی
2015 میں آگ زنی کے 179واقعات ہوئے اور قومی اوسط 0.1 رہا۔ اس میں سے چھتیس گڑھ میں 43، اتر پردیش میں 30، مدھیہ پردیش میں 21، راجستھان میں 21، تمل ناڈو میں 14، اڑیسہ میں 15، اور مہاراشٹر میں 11 واقعات ہوئے۔ اوسط کے نقطہ نظر سے چھتیس گڑھ میں 0.3 ، مدھیہ پردیش میں 0.2، راجستھان میں 0.2 ، گجرات میں 0.2 کا اوسط رہا۔ اس سے بھی صاف ہوجاتا ہے کہ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان اور گجرات میں آگ زنی کے واقعات کا اوسط قومی شرح سے زیادہ رہا۔
ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ کے جرائم
اس ایکٹ کے تحت 2015 میں کل 6005 جرائم درج ہوئے اور قومی اوسط 3.0رہا۔ان میں سے مدھیہ پردیش میں ایک، مہاراشٹر میں 290، ہماچل پردیش میں 74، گجرات میں 190، ہریانہ میں 19، اڑیسہ میں ایک، راجستھان میں 92، اور تلنگانہ میں 358واقعات درج کئے گئے۔ ان جرائم کے تحت بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں کم تعداد کی وجہ ان ریاستوں میں اس طرح کے جرائم کا کم ہونا نہیں ،بلکہ اس ایکٹ کا استعمال نہ کیا جانا ہے۔
ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کا استعمال نہ کیا جانا
مذکورہ رپورٹ میں دیئے گئے اعدادو شمار سے یہ حقیقت بھی ابھر کر سامنے آئی ہے کہ تقریباً سبھی بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ کا استعمال نہیں کیاجارہا ہے جس کی وجہ سے دلتوں پر مظالم کے معاملوں میں نہ تو کوئی معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی قصورواروں کو سخت سزا ۔ان ریاستوں میں 6009 آئی پی سی جرائم کے معاملوں میں اس ایکٹ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ ریاستی سطح پر صورت حال یہ ہے کہ آندھرا پردیش میں 2050، راجستھان میں 1040 ، چھتیس گڑھ میں 790، مدھیہ پردیش میں 638، اڑیسہ میں 482، تلنگانہ میں 357، ہریانہ میں 322، کرناٹک میں 131واقعات ہوئے۔ ان اعدادو شمار کے تجزیہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں راجستھان، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، ہریانہ کے علاوہ آندھرا پردیش ، تلنگانہ ، اڑیسہ اور کرناٹک میں ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے جو کہ ان ریاستوں کے دلتوں کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی اور دھوکہ ہے۔
درج فہرست ذاتوں پر بربریت
2015 میں اس طبقے پر 10914 جرائم واقع ہوئے اور اس کی قومی شرح 10.5 رہی جو کہ 2014 کے مقابلے کل جرائم 11,415 اور قومی اوسط 11.0 سے تو کچھ کم ہے، لیکن 2013 کے 6,793 جرائم اور قومی شرح 6.5 سے کافی زیادہ ہے۔
2015 کے جرائم میں سے راجستھان میں3207، مدھیہ پردیش میں 1531،چھتیس گڑھ میں 1518، اڑیسہ میں 1307، آندھرا پردیش میں 719، تلنگانہ میں 698، مہاراشٹر میں 483، گجرات میں 256، اور جھارکھنڈ میں 269 جرائم واقع ہوئے۔ ان کی ریاستی سطح پر شرح یہ ہے کہ راجستھان میں 34.7 ، آندھرا پردیش میں 27.3، تلنگانہ میں 21.2، چھتیس گڑھ میں 19.4، چھتیس گڑھ اور اڑیسہ میں 14.5 ہے جو کہ قومی شرح سے کافی زیادہ ہے۔
مذکورہ رپورٹ کے مطابق 2015 میں درج فہرست ذاتوں پر اس سال کل 10914،جرائم واقع ہوئے اور جرائم کی قومی شرح 10.5 رہی۔ ان میں سے راجستھان میں 3207، مدھیہ پردیش میں 1531، چھتیس گڑھ میں 1518، اڑیسہ میں 1387، آندھرا پردیش میں 719، تلنگانہ میں 698، جرائم ہوئے ۔ ریاستی شرح کے اعتبار سے کیرل میں 36.3، راجستھان میں 34.7 ، آندھرا پردیش میں 27.3، تلنگانہ میں 21.2، چھتیس گڑھ میں 19.4، اڑیسہ میں 14.5، مدھیہ پردیش میں 10.0 کا اوسط رہا۔ ان اعدادو شمار سے صاف ہے کہ کیرل ، اڑیسہ ، آندھرا پردیش اور تلنگانہ کو چھوڑ کر بقیہ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں جیسے راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں جرائم کا اوسط قومی شرح سے کافی زیادہ ہے۔
قتل
2015 میں درج فہرست ذاتوں کے خلاف قتل کے 144 جرائم ہوئے جن میں سے مدھیہ پردیش میں 50، راجستھان میں 22 ،اڑیسہ میں 14، گجرات میں 13، مہاراشٹر میں 11 واقعات ہوئے۔ اس سے بھی صاف ہے کہ اس طبقے کے بی جے پی کی ریاستی حکومتوں میں قتل کے معاملات زیادہ ہوئے۔
عصمت دری
مذکورہ عرصے میں پورے ملک میں درج فہرست ذاتوں کی خواتین پر عصمت دری کے کل 952 واقعات ہوئے اور اس کی قومی شرح 0.9 رہی۔ ان میں سے مدھیہ پردیش میں 359، چھتیس گڑھ میں 138، مہاراشٹر میں 99، اڑیسہ میں 94، راجستھان میں 80 ،کیرل میں 47، گجرات اور تلنگانہ میں 44 اور آندھرا پردیش میں 21 جرائم ہوئے۔ اوسط کے نقطہ نظر سے کیرل میں 9.7 ، مدھیہ پردیش میں 2.3، چھتیس گڑھ میں 1.8، تلنگانہ میں 1.3، اڑیسہ میں 1.0، مہاراشٹر میں 0.9، کا اوسط رہا۔ اس تجزیہ سے صاف ہوجاتا ہے کہکیرل کو چھوڑ کر بقیہ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں عصمت دری کا اوسط قومی شرح سے کافی زیادہ رہا ہے۔
خواتین پر حملے
2015 میں درج فہرست ذاتوں پر اس طرح کے 818 جرائم ہوئے اور قومی شرح 0.8 رہی۔ ان میں سے مدھیہ پردیش میں 378، مہاراشٹر میں 146، چھتیس گڑھ میں 86، اڑیسہ میں 65، تلنگانہ میں 32، اور آندھرا پردیش میں 29 جرائم ہوئے۔ اوسط کے نقطہ نظر سے کیرل میں 3.9، مدھیہ پردیش میں 2.5، مہاراشٹر میں 1.4، چھتیس گڑھ اور اور آندھرا پردیش میں 1.1، تلنگانہ میں 1.0، رہا۔ ان اعدادو شمار سے بھی صاف ہوجاتا ہے کہ کیرل کو چھوڑ کر بقیہ تمام بی جے پی کی ریاستوں میں اس طبقے پر سب سے زیادہ جرائم ہوئے ہیں۔
ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کے تحت جرائم
2015 میں پورے ملک میں درج فہرست ذاتوں پر قتل کے سلسلے میں اس ایکٹ کے تحت 6275 جرائم درج ہوئے۔ ان میں سے راجستھان میں 1409، مدھیہ پردیش میں 1358، اڑیسہ میں 691، مہاراشٹر میں 481، تلنگانہ اور کرناٹک میں 386 ، چھتیس گڑھ میں 373، آندھرا پردیش میں 362، اور گجرات میں 248 ، کیرل میں 165، واقعات ہوئے۔ اوسط کے نقطہ نظر سے کیرل میں 34.0، راجستھان میں 15.3، آندھرا پردیش میں 13.8، تلنگانہ میں 11.7، مدھیہ پردیش میں 8.9، اڑیسہ میں 7.2کا رہا۔ اس تجزیہ سے بھی صاف ہوجاتاہے کہ کیرل کو چھوڑ کر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں جرائم میں بھی دیگر ریاستوں سے آگے ہیں۔
ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کا نافذ نہ کیا جانا
2015 کے دوران درج فہرست ذات کے خلاف آئی پی سی کے 4203 معاملے رہے ہیں جن میں اس ایکٹ کا استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ ان میں سے راجستھان میں 1746،چھتیس گڑھ میں 816، اڑیسہ میں 696، آندھرا پردیش میں 352،تلنگانہ میں 302 اور مدھیہ پردیش میں 171 واقعات ہوئے۔ اوسط کے نقطہ نظر سے راجستھان میں 18.9 ، آندھرا پردیش میں 13.4 ، چھتیس گڑھ میں 10.4، تلنگانہ میں 9.2 ، اڑیسہ میں 7.3، رہا ۔ ان اعدادو شمار سے بھی صاف ہوجاتا ہے کہ آندھرا پردیش تلنگانہ اور اڑیسہ کو چھوڑ کر بقیہ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کو نافذ نہ کرنے کا اوسط کافی زیادہ ہے۔
عدالت سے سزا کا اوسط
2015 کے دلت ہراساں کئے جانے کے معاملوں میں عدالت کے ذریعہ سٹلمنٹ کے مطابق اس سال 17012 معاملوں کا ازالہ کیا گیا جن میں سے صرف 4702 معاملوں میں ہی سزا ہوئی اور 12310 معاملوں میں ملزمین کو قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا ۔ اس طرح سزا ہونے کا اوسط صرف 27.6 فیصد رہا۔ اسی طرح مذکورہ عرصے میں عدالت کے ذریعہ درج فہرست ذاتوں کے 4894 معاملوں کا ازالہ کیاگیاجن میں سے صرف 1349 معاملوں میں سزا ہوئی اور 3545 معاملوں میں ملزم رہاہو گئے۔ اس سلسلے میں بھی سزا کا اوسط صرف 27.6 رہا ۔ان اعدادو شمار سے یہ صاف ہو جاتاہے کہ درج فہرست ذات ؍ درج فہرست قبائل کو ہراساں کئے جانے کے معاملوں میں انصاف دلانے کے لئے سرکاروں کی کیا روایت ہے؟
2015 کے درج فہرست ذات ؍درج فہرست قبائل پر بربریت کے معاملوں کے اعدادو شمار کے تجزیہ سے یہ صاف ہوجاتا ہے کہ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں جیسے گجرات، مہاراشٹر، راجستھان ، چھتیس گڑھ اور ہریانہ میں ان طبقوں پر بربریت کے معاملے آندھرا پردیش، اڑیسہ، تلنگانہ،کرناٹک کو چھوڑ کر بہت زیادہ ہیں۔ ان ریاستوں میں نہ تو ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے اور نہ ہی قصورواروں کو سزا دلانے کے لئے مؤثر کارروائی کی جارہی ہے۔ ان ریاستوں میں 2013 کے مقابلے میں بربریت کے معاملوں میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی معروف ہے کہ سرکاری اعدادو شمار میں دکھائے گئے جرائم حقیقی اعدادو شمار کا ایک چھوٹا حصہ ہوتے ہیں، کل واقع ہوئے جرائم تو اس سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ مودی سرکار نے ایک طرف تو ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم کرنے کا دکھاوا کیا ہے ،وہیں دوسری طرف اس ایکٹ کو بی جے پی کی ریاستیں اور کچھ دیگر ریاستوں میں لاگو ہی نہیں کیا جارہا ہے۔ گجرات کا دلت اشتعال اسی کا نتیجہ ہے۔ ایسی صورت میں دلتوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور دلت لیڈروں اور بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستی حکومتوں اور دیگر ریاستی سرکاروں کے خلاف ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے تحریک چلانی چاہئے۔
(مضمون نگار سابق آئی پی ایس آفیسر ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *