یکساں سول کوڈ ایک بار پھرموضوع بحث

آزادی کے بعد مرکز میں مختلف حکومتوں کے وقت یکساں سول کوڈ کا ایشو اٹھتا رہا ہے اور دبتا بھی رہا ہے۔جب بھی یہ ایشو گرم ہوا ہے،ہر ایک حکومت کی طرف سے اسے یہ کہہ کر ٹھنڈا کردیا گیا ہے کہ یہ تمام فریقین کے اتفاق رائے اور انہیں اعتماد میں لے کر ہی نافذ ہوگا۔ اس بار بھی جب یہ ایشو اٹھا ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ بالآخر اس ایشو سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔ اس تجزیئے میں انہی باتوںکوسمیٹا گیاہے
وسیم احمد
p-1تقریباً تین دہائی پہلے 1986 میں شاہ بانو معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا۔تب سے لے کر اب تک طلاق کے مسئلے کو لے کر اخباروں، چینلوں ، سماجی محفلوں اور تنظیموں سے کر لے کر ملک کی مختلف عدالتوں میں یہ مسئلہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔کبھی یہ شدت اختیار کرلیتا ہے تو کبھی دب جاتا ہے۔ادھر کچھ دنوں سے اس بحث نے شدت اختیار کرلی ہے اور کچھ چینلوں پر باضابطہ اس پر گرما گرم بحث ہورہی ہے ۔اس مسئلے کو لے کر جو سب سے اہم پہلو ہے، وہ یہ ہے کہ اب تک یہ معاملہ عدالت اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے درمیان کاتھا ،لیکن اس مرتبہ اس معاملے کی ایک فریق بالواسطہ یا بلا واسطہ مرکزی حکومت بھی بن گئی ہے۔
دراصل کئی مسلم خواتین کی طرف سے یہ مقدمہ دائر کیا گیا تھاکہ تین طلاق اور تعدد ازدواج نے ان کی زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے، لہٰذا عدالت مردوں کے اس ختیار کو ختم کرکے اس کی تاریک زندگی میں روشنی لائے۔چونکہ یہ تمام مقدمات ریاست کے خلاف دائر کئے گئے تھے اس لئے عدالت نے حسب دستور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہی مرکزی حکومت کو بھی اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔
عدالت کی ہدایت کے مطابق مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنا موقف گزشتہ ماہ ہی پیش کردیا تھا جس میں تین طلاق اور تعدد ازدواج کے جواز کی وکالت کی گئی ہے اور کہا گیاہے کہ یہ معاملہ کلی طور پر مذہبی نوعیت کا ہے جس میں فیصلہ کرنے کا حق آئین ہند کے تحت مسلم پرسنل لاء بورڈ کو حاصل ہے اور اس میں حکومت یا عدالت کی طرف سے کسی بھی طرح کی مداخلت کی گنجائش نہیں ہے(مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اس حلف نامے اور متن کو ’چوتھی دنیا‘ نے ( شمارہ نمبر19ستمبر سے 25 ستمبر 2016) پوری تفصیل کے ساتھ چھاپا تھا۔
البتہ مرکزی حکومت نے اپنا موقف حلف نامہ کی شکل میں گزشتہ ہفتہ عدالت کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس کا موقف مسلم پرسنل لاء کے بالکل برعکس ہے۔اس حلف نامہ میں حکومت نے کہا ہے کہ کوئی بھی عمل جس سے خواتین سماجی، مالی یا جذباتی طور پر خطرے میں پڑتی ہیں یا مردوں کی خواہشات کی زد میں آتی ہیں تو ہ آئین کے آرٹیکل 14 اور آرٹیکل 15 جس میں مساوات کی ضمانت دی گئی ہے، کے مطابق نہیں ہے۔ان مسائل کو مرکز نے ذاتی آزادی سے جوڑ کر 29صفحات کے حلف نامہ میں کہا ہے کہ جنسی امتیاز اور خواتین کے وقار پر کوئی سودے بازی اور سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔مرکز نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے دائر حالیہ حلف نامے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاق، نکاح ، حلالہ اور تعدد ازدواج کو مذہب کا ضروری حصہ نہیں سمجھاجاسکتا ۔
حکومت کے اس موقف کے بعد تو گویا ہر طرف ہنگامہ برپا ہے۔ کوئی مودی سرکار کو کوس رہا ہے تو کوئی مودی سرکار کی حمایت میں کھڑا ہے اور عورتوں کے حقوق کا ترجمان بنا ہوا ہے۔چینلوں پر اور تنظیموں کی پریس کانفرنسوں ، سماجی کارکنوں خاص طور پر آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈ کی طرف سے اس بات کا دعویٰ کیا جارہا ہے کہ مسلم معاشرے میں تین طلاق اور تعدد ازدواج کے رواج نے مسلم خواتین کو سب سے زیادہ بربریت کا شکار بنادیا ہے۔دوسرا فریق اس مسئلے کو اچھالنے کے پیچھے سیاسی کھیل بتا رہا ہے۔
حکومت کے سپریم کورٹ کے سامنے اپنا موقف رکھنے کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ کے لئے یہ مسئلہ مزید حساس ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں 11 اکتوبر کو نئی دہلی کے ہوٹل ریور ویو میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیر اہتمام تمام مکتبہ فکر اور تنظیموں کے دانشوروں نے بیٹھ کر غور و فکر کیا کہ اس حساس مسئلے کا حل کیا ہو اور اس سلسلے میں پریس کلب آف انڈیا میں منعقد ہنگامی و پُر ہجوم پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حکومت کے حلف نامہ کی مخالفت کی جائے گی اور لاء کمیشن آف انڈیا کے سوال نامے کا بائیکاٹ ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ بورڈ نے بھی ایک حلف نامہ جاری کیا اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ اسے بھر کر مسلم پرسنل لاء بورڈ اور لاء کمیشن کو بھیجیں۔
بہر کیف مرکز کے اس حلف نامے پر ملک کے علماء کرام کے مواقف کو پیش کرنے سے پہلے ہم انگریزی اخبار ’’ ٹائمز آف انڈیا‘‘ کے ماہ اگست میں شائع ایک سروے کا ایک جائزہ لیتے ہیں جو کہ 2011 کی مردم شماری سے اخذ ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ طلاق و علاحدگی کااوسط مسلم سماج میں (جہاں طلاق ثلاثہ اور تعددد ازدواج کا رواج رائج ہے ) زیادہ ہے یا دیگر مذاہب کے ماننے والے معاشرے میں۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسلمانوں میں فی ہزار طلاق شدہ عورتوں کی تعداد پانچ سے بھی کم ہے۔حالانکہ اس خاکے میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کا اوسط ہندوؤں سے زیادہ ہے،مگر اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ہندو سماج میں طلاق دیناایک مشکل ترین عمل ہے ،جس کی وجہ سے مرد بڑی تعداد میں طلاق کے بجائے عورت سے علاحدگی اختیار کرکے اسے بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں جبکہ مسلمانوں میں طلاق دے کر علاحدگی اختیار کی جاتی ہے تاکہ وہ آزاد ہوکر اپنی مرضی کی زندگی گزار سکے۔ پھر بھی شور ہے تو مسلمانوں کے تین طلاق اور تعدد ازدواج کا ۔
یہاں پر ایک سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ جب 2011 کی مردم شماری کے مطابق مذہبی بنیاد پر طلاق کے اوسط کا باضابطہ اجرا ابھی ہوا ہی نہیں ہے تو پھر مسلمانوں میں طلاق کے اوسط کی معلومات کیسے عام ہوگئی؟ ایسا لگتا ہے کہ طلاق کے اس ایک پہلو کو قبل از وقت اخبار کے ذریعہ اجاگر کر کے کسی خاص منشا کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔حالانکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک سے زیادہ شادیوں اور طلاق کا ررواج مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوئوں میں زیادہ ہے اور اس بات کی وضاحت 2011 کی مرم شماری کی رپورٹ میں ہوچکی ہے۔ان کے قول کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کچھ اخباروں میں مسلم سماج میں طلاق کا اوسط زیادہ کرکے بتانے کے پیچھے طلاق ثلاثہ کے خلاف ماحول تیار کرنا ہے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ مختلف مکتبہ فکر کے علماء و سماجی کارکنوں نے حکومت کے اس حلف نامے کو یکساں سول کوڈ کی طرف بڑھتا قدم اور مسلم پرسنل لاء میں مداخلت سے تعبیر کیا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو مرکزی حکومت نے جو حلف نامہ داخل کیا ہے ، اس میں مذہبی روایت کو نظر انداز کرکے سماجی مساوات کی بنیاد پر طلاق ثلاثہ اور تعدد ازدواج کی مخالفت کی ہے جو کہ ملک کے عدالتی فیصلے کے بھی خلاف ہے ۔ابھی کچھ ماہ قبل کرناٹک کے ہائی کورٹ میں ایک ایسے نوجوان کا معاملہ آیا جس کی شادی 1992 میں ہوئی تھی ،اس نوجوان کی بیوی اپنے شوہر پر دبائو بنارہی تھی کہ وہ اپنی ماں سے علاحدہ رہے۔یہ نوجوان اپنی ماں کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔معاملہ عدالت تک پہنچا۔اس معاملے کا فیصلہ تینوں عدالتوں یعنی نچلی عدالت پھر کرناٹک ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس انل آر دوے اور جسٹس ایل ناگیشور رائو کے بینچ نے جو فیصلے سنائے ، وہ اس نوجوان کے حق میں تھے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھاکہ بھارت میں ہندو خاندانوں میں اور نہ ہی ہندو روایت میں یہ ہے کہ کوئی بھی بیٹا اپنی بیوی کے کہنے پر شادی کے بعد بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ دے۔اس روایت کو بنیاد بناکر سپریم کورٹ نے اس نوجوان کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کی اجازت دے دی۔
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے ہندو روایت اور خاندانی رواج کو بنیاد بنا کر بیوی کو طلاق دینے کی اجازت دی جو کہ ایک اچھی بات ہے،لیکن معاملہجب مسلم معاشرے میں تعدد ازدواج یا تین طلاق کا آیا تو یہاں رواج و روایت کو نظر انداز کرکے سماجی مساوات کو دلیل بنایا گیا اور صدیوں سے رائج روایت کی مخالفت کی گئی۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تعدد ازدواج یا طلاق ثلاثہ کا تعلق عقیدے سے ہے اور عقیدے کے معاملے میں عدالتیں یا حکومت کی دخل اندازی نہیں ہونی چاہئے،یہی ہمارا آئین کہتا ہے،جس طرح سے جین مذہب کے اچاریہ جو کہ مونی کہلاتے ہیں وہ ننگے رہتے ہیں جبکہ ان کے سامنے عورتیں اور مرد سبھی جاتے ہیں،مگر اس کے خلاف کبھی کوئی عدالت یا حکومت ایکشن نہیں لیتی ہے کیونکہ عریاں رہنے کا تعلق عقیدے اور روایت سے ہے ۔بالکل اسی طرح تعدد ازدواج، طلاق ثلاثہ یا حلالہ کا تعلق عقیدے اور روایت سے ہے لہٰذا حکومت یا عدالت کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے ۔مرکز کے اس رویے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی طرف قدم بڑھا رہی ہے جوکہ ہمارے جمہوری اور سیکولر ملک کے لئے کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔
باکس:فوٹو کے ساتھ
علماء اور دانشوروں کی آراء
جید عالم دین مولانا ارشد مدنی کے علاوہ دیگر کئی علماء کرام اس شبہ کا اظہار کررہے ہیں کہ مودی حکومت ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنا چاہتی ہے ،مولانا مدنی کا الزام ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کا خفیہ ایجنڈہ اب کھل کر سامنے آنے لگا ہے اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار کرنے کے لئے حکومت نے ملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کے پرسنل لاء میں مداخلت کرتے ہوئے تین طلاق اور تعدد ازدواج کے خلاف اپنی رائے ظاہر کی ہے۔آل انڈیا ویلفیئر پارٹی کے جنرل سکریٹری قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کے ایجنڈے کامن سول کوڈ کے نفاذ کی سمت میں ایک قدم ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ شریعت پر عمل کرنا سیکولر ازم کے خلاف کیسے ہوسکتا ہے جس کاآئین نے حق دیاہے اور دلائل بیان کئے گئے ہیں ۔خود سپریم کورٹ کے کئی فیصلے مسلم پرسنل لاء کی حمایت میں آ ئے ہیں،پرسنل لاء میں سول ریفارم کے نام پر تبدیلی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابو القاسم نعمانی کا کہنا ہے کہ سماجی اصلاحات کے نام پر مسلم پرسنل لامیں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس کا صاف مطلب ہے کہ یہ مسلمانوں کا آئینی حق ہے‘۔وقف دارلعلوم دیوبند کے سرپرست مولانا سالم قاسمی کہتے ہیں کہ ’مرکزی حکومت کی مذہبی معاملات میں مداخلت مسلمانوں کے استحقاق پر حملہ اور ہندوستانی روایات کے خلاف ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن کریم، حدیث اور شریعت پر کسی قسم کی بحث قبول نہیں کی جائے گی، مسلمانوں کو اس کا حق حاصل ہے کہ وہ اسلامی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی گزارے‘۔مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مولانا اصغر امام مہدی سلفی کا کہنا ہے کہ آئین میں تمام مذہب کو مکمل آزادی دی گئی ہے پھر اس پر قدغن لگانا مسلمانوں کے ساتھ تعصب ہے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اس کیلئے سب سے زیادہ ذمہ دار خود آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے۔مولانا نے کہاکہ ایک طبقہ اپنے مسلک کی ترجمانی کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کا اسے مسلک بتاتاہے۔آل انڈیا مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد کہتے ہیں کہ ’یہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف لیجانے کا ایجنڈا اور آئین کی بالادستی کے خلاف ہے ،عدالت کا کام فیصلہ سناناہے آئین بنانا نہیں،اس معاملے میں کچھ ہماری بھی کوتاہیاں ہیں لیکن عدالت کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، اسے ہمارا معاشرہ خود طے کرے گا‘۔بریلی مکتبہ فکر کے مشہور عالم اور اعلیٰحضرت کے پوتے مولانا توقیر رضا خاں کہتے ہیں کہ ’ مرکزی حکومت کا حلف نامہ اور تین طلاق کو ختم کرنے کی سفارش مذہبی امور میں واضح مداخلت ہے ،آئین میں تمام مذہب کے پیروکاروں کو مکمل آزادی دی گئی ہے ،پھر حکومت اور عدالت کو کوئی حق نہیں پہنچتاکہ وہ مسلمانوں کے معاملے میں کسی طرح کی مداخلت کرے،انہوں نے کہاکہ حکومت کا حلف نامہ مسلم پرسنل لاء میں واضح مداخلت ہے ‘۔ کل ہند علماء ومشائخ بورڈ کے رکن مفتی مولانا رئیس اشرفی نے طلاق ثلاثہ اورایک سے زائد شادیوں سے متعلق مرکزی حکومت کے موقف پر شدید برہمی کااظہارکیاہے۔ان کا کہنا ہے کہ تین طلاق یا پھر ایک سے زائد شادیوں کے بارے میں حکومت ہمدردی نہیں رکھتی بلکہ مسلم خواتین کے ساتھ ظلم کررہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *