بی جے پی ترقی کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی

خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر نے ایک پارلیمانی کمیٹی کو بتایا ہے کہ پہلے بھی سرجیکل اسٹرائک ہوئے ہیں،لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جب سرکار نے عوامی طور پر اس کا خلاصہ کیا ہے۔دراصل یہی صحیح طریقہ ہے۔ پارلیمانی سوالوں کا جواب دینے میں سچائی برتی جانی چاہئے اور پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اپنا بیان دینے میں سچائی برتی جانی چاہئے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ یہ روایت جاری ہے اور خارجہ سکریٹری (جو کہ بھلے ہی موجودہ سرکار کو رپورٹ کررہے ہیں )جرأت کے ساتھ وہی بات کہی جو سچائی ہے۔ سیاسی پارٹیاں جو کہناچاہتی ہیں وہ کہنے کے لئے آزاد ہیں، آخر کار انہیں سیاست کرنی ہے۔یہاں تک کہ برسراقتدار پارٹی بھی اپنی بات کہنے کے لئے آزاد ہے۔جیسے پہلی بار کوئی وزارت قائم کی گئی ہے وغیرہ وغیرہ ۔لیکن اس سے مجھے یقین ہوتا ہے کہ سسٹم کام کررہا ہے۔
اتر پردیش میں انتخابات آرہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بی جے پی فوجی کارروائی کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ راہل گاندھی نے اس پر کچھ کہا تھا، جن کی زبان ٹھیک نہیں تھی۔ وہ کہنایہ چاہتے تھے کہ سرکار فوج کی کارروائی پر سیاست کرنا چاہتی ہے۔ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے تین دن کے بعد یہ کہہ کر اس کی تصدیق کر دی کہ اتر پردیش انتخاب میں سرجیکل اسٹرائک ایشو ہوگا۔دراصل راہل گاندھی اور موہن بھاگوت دونوں ایک ہی بات کہہ رہے ہیں۔ یہ بد قسمتی کی بات ہے۔ مسلح افواج پر اس کا اچھا اثر نہیں پڑے گا۔اس سے بچا جانا چاہئے۔ اگر آپ اسے استعمال کرنا ہی چاہتے ہیں تو بالواسطہ طور سے اسے ہونا چاہئے۔ جس طرح سے ہورہاہے ،کم سے کم ویسا تو بالکل ہی نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ووٹر اب ہوشیار ہو گیا ہے ، وہ جانتا ہے کہ فوج ایسا ادارہ ہے جو کسی بھی پارٹی کی سرکار رہے، اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ سرجیکل اسٹرائک سے بہت زیادہ سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکتاہے۔
اسی طرح سے رام مندر کا ایشو ایسا ایشو ہے جو ہر انتخاب سے پہلے کھڑا ہو جاتاہے۔ بی جے پی یہ وعدہ کررہی ہے کہ وہ رام مندر بنائے گی۔حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ قانونی طور پر یہ ممکن نہیں ہے، جب تک سپریم کورٹ اس پر آخری فیصلہ نہ دے دے۔ لیکن جہاں تک سیاست کا سوال ہے تو رام مندر ایک ایسا ایشو ہے جو کہ ہندوئوں کو متحد کرتا ہے اور ایک جنون پیدا کرتا ہے۔لیکن بی جے پی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ ترقی کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی۔ اگر وہ’ سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے نعرے کے ساتھ قائم رہتی ہے تو اسے زیادہ فائدہ ہوگا،لیکن بد قسمتی سے ترقی کی اپنی خاص رفتار ہوتی ہے۔ ڈھائی سال کا وقت نکل چکا ہے۔ ذاتی طور پر وزیر اعظم کی اچھی کوشش کے باوجود بھی چیزوں کے بہتر ہونے میں وقت لگے گا۔
بیشک انتخابات آتے ہیں اور آئیں گے۔اتر پردیش اسمبلی انتخابات ان کے لئے اہم ہیں۔ بہار ہارنے کے بعد اگر وہ اتر پردیش بھی ہار جاتے ہیں تو2019ان کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ بیشک اکھلیش یادو ترقی کی بات کررہے ہیں اور اپنے دور حکومت کے اعدادو شماری جاری کررہے ہیں،لیکن میںنہیں سمجھتا کہ عام آدمی ان سب باتوں سے بہت زیادہ متاثر ہوگا۔ عام آدمی کے لئے زندگی گزارنے کا خرچ ایک ایشو ہے۔ اتر پردیش میں لاء اینڈ آرڈر ٹھیک نہیں ہے جو اکھلیش کے خلاف جائے گا،لیکن بی جے پی وہ پارٹی نہیں ہے جو اس کا فائدہ اٹھائے گی کیونکہ اگر مسلمان مایاوتی کے ساتھ چلے گئے، تو بی جے پی کو زیادہ لڑائی لڑنی پڑے گی۔
ایک اور ایشو جو سامنے آیاہے وہ یہ ہے کہ پاکستانی فنکاروں کو یہاں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ،لوگوں کو ان کا بائیکاٹ کرنا چاہئے اور ان کی فلموں پر پابندی لگا دینی چاہئے۔ مہاراشٹر میں ایم این ایس لاء اینڈ آرڈر کے مسئلے پیدا کررہی ہے۔ یہ سب بدقسمتی کی بات ہے۔ سرکار کو انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ منسٹری کے ذریعہ ایک صاف رخ اپنانا چاہئے کہ اگر پاکستان کے فنکاروں کو یہاں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو سب سے پہلے ان کا ویزا رد کیا جانا چاہئے۔ اسی طرح آپ پاسکتان کرکٹ ٹیم کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتے اور عوام سے کہتے ہیں کہ انہیں پاکستان کے کرکٹ میچوں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟پاکستانی اداکار یہاں آئے،انہوں نے فلموں میں کردار ادا کیا، پیسہ لیا اور اپنے ملک کو لوٹ گئے۔ اب جن غریب ہندوستانی پروڈیو سروں نے اپنا پیسہ لگایا ہے، ان سے آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ فلم ریلیز نہیں کریں یا لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ان فلموں کا بائیکاٹ کریں۔ یہ بہت غیر مناسب بات ہے۔ سرکار کو اس سلسلے میں ایک فیصلہ لینا چاہئے۔ ایک حالت پیدا کرنااور پھر بعد میں اس حالت سے بھاگنا صرف پروڈیوسروں کو مشکل میں ڈالنا ہے۔ یہ کہہ کر کہ پاکستانی فنکاروں کی فلمیں دیکھناملک سے محبت نہیں ہے، آپ سنیما دیکھنے والوں کو تذبذب میں ڈال رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ چیزوں کو طول دینا ہے۔ فن کو اس سے الگ رکھنا چاہئے ۔بہر حال آپ یہ رخ اپنا سکتے ہیں کہ پاکستانی فنکاروں کے لئے کوئی ویزا نہیں جاری ہوگا تو اس کے بعد کوئی مسئلہ ہی نہیں رہے گا۔
سیاسی حالات تو روزانہ بدلتے ہیں،سرحد پر حالات روزانہ بدلتے ہیں۔کسی فلم پر ایک یا دو سال کی مدت میں کام پورا ہوتا ہے، ایسے میں ان سیاسی اور سرحدی حالات کو اس سے کیسے جوڑا جاسکتاہے۔ مجھے لگتا ہے کہ سرکارکو اپنی سمجھ کا استعمال کرتے ہوئے اس ایشو پر اپنا موقف لینا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *